کلیپ، انسانیت کی خدمت میں مصروف!
18 جنوری 2020 2020-01-18

اس وقت ریاست معیشت کے ہاتھوں پریشان دکھائی دیتی ہے۔ حکمران قومی خزانہ بھرنے کے لیے آئے روز پسے ہوئے عوام پر نئے نئے ٹیکس عائد کر رہے ہیں جس سے لوگوں میں سراسیمگی کی لہر دوڑ گئی ہے انہیں زندگی کے لوازمات حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کرنا پڑ رہی ہے مگر تب بھی وہ پوری طرح کامیاب نہیں ہو پا رہے۔ تعلیم ہو یا صحت ان دونوں کا حصول ان کے لیے انتہائی دشوار ہو چکا ہے۔ مہنگائی کا اژدھا ہے کہ پھن پھیلائے کھڑا ہے۔ حکومت اسے بھگانے کے لیے ضروری اقدامات نہیں کر رہی اس کی انتظامی مشینری ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہے ا س کا کہنا ہے کہ وہ مافیاز کے آگے بے بس ہے بیورو کریسی کا حوصلہ پست ہونا اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ حکومتی خواب چکنا چور ہو چکے ہیں وہ جو کرنا چاہ رہی تھی یا اسے جو کرنا چاہیے تھا اس کی راہ مسدود کی جا چکی ہے۔ بدعنوان عناصر اسے قدم قدم پر روک رہے ہیں جو اس کے اندر بھی موجود ہیں اور باہر بھی لہٰذا ایک ایسی کیفیت جنم لے چکی ہے جو بے حد اذیت ناک اور ہولناک ہے۔ جرائم کی شرح میں اضافہ ہو چکا ہے چوریاں ڈکیتیاں اور رشوت خوری نے پورے نظام اور سماج کو گویا مفلوج کر کے رکھ دیا ہے مگر اہل اقتدار اور اہل اختیار قطعی پشیمان نہیں اور نہ ہی انہیں کوئی احساس ہے کہ کل یہ صورت حال ان کو بھی پریشان کر سکتی ہے جسے وہ شاید برداشت نہ کر سکیں گے کہ حالات کی آندھیاں کچھ اس رفتار سے چلیں گی کہ ان کے قدم اکھڑ جائیں گے اور وہ سنبھلنا بھی چاہیں گے تو نہیں سنبھل پائیں گے کیونکہ نفسیات کا اصول ہے جس کا ذکر میں گاہے گاہے کرتا رہتا ہوں کہ کبھی بھی ایک جیسی صورت حال نہیں رہتی آپ اگر مٹھی کو بند کرتے ہیں تو وہ کچھ دیر بھی کھلنا شروع ہو جاتی ہے۔ عرض کرنے کا مقصد اس وقت نفسانفسی کا دور ہے ہر کوئی اپنے بارے میں ہی سوچ رہا ہے اپنے لیے ہی جی رہا ہے جبکہ انسان دوسروں کے لیے جیتے ہیں دوسروں کو سکھ پہنچانے کا سوچ رہے ہیں۔ مغربی معاشروں میں یہ جذبہ بڑی حد تک موجود ہے لہٰذا وہ اپنے لوگوں کے لیے کچھ نہ کچھ کرتے ہیں جہاں کہیں انسانیت سسکتی ہے تڑپتی ہے وہ اس کے لیے راحت کا سامان مہیا کرنے چل پڑتے ہیں! جی ہاں وطن عزیز میں بھی غیر ملکی این جی اوز کام کر رہی ہیں جو انسانیت کی خدمت کے لیے مصروف عمل ہیں اور وہ خاموشی سے پاکستان کے لوگوں کی زندگیوں کو سہل اور آسان بنا رہی ہیں وہ نہیں چاہتیں کہ ان کی تشہیر ہو انہیں

الیکٹرانک میڈیا اپنا وقت دے کہ انہیں دکھی انسانیت کے زخموں پر مرہم رکھنا ہے اور بس، لہٰذا دیکھا جا سکتا ہے کہ کہیں نہ کہیں اس جذبے سے سرشار لوگ اس نیکی کے عمل میں شریک ہیں ان میں سے ایک ڈاکٹر غلام قادر فیاض بھی ہیں پر وقار شخصیت کے مالک ڈاکٹر غلام قادر ایک عاجزی پسند انسان ہیں ان کی گفتگو سے یہ بات واضح ہوتی ہے وہ ایک سیدھے سادھے طبیب ہیں وہ جو کہتے ہیں کرتے ہیں ان کا ظاہر باطن ایک ہے۔ ملنساری، دیانت داری اور اپنائیت ان کا خاصا ہے۔ پیارے دوست مفتی ضیاء الحق نقشبندی کی وساطت سے ان کے ہسپتال کلیپ (CLAPP) میں ملاقات ہوئی مقصد اس ملاقات کا یہی تھا کہ وہ اس مایوس کن دور میں لوگوں کو زندگی کی خوشیاں کس طرح بانٹ رہے ہیں لہٰذا دن کے پہلے پہر ان کے پاس پہنچے تو ان سے مل کر ایک نئی زندگی کا احساس ہوا۔ وہ بتا رہے تھے کہ ملک کے اندر قریباً پونے تین لاکھ سے زائد بچے بڑے ان نقائص کا شکار ہیں کہ پانچ سو پچاس بچوں میں ایک بچے کا ہونٹ، تالو یا پھر دونوں کٹے ہوئے ہیں۔ ان بچوں کی بڑی تعداد غذا ٹھیک طرح سے معدے میں نہ اترنے کی بنا پر زندگی کی بازی ہار جاتی ہے جو بچ جاتی ہے وہ بھی آسودہ حال نہیں ہوتی۔ وہ سماجی سطح پر بھی دوسروں کی تضحیک کا نشانہ بنتی ہے یوں غالب اکثریت احساس کمتری کا شکار رہتی ہے۔ دنیا بھر میں ہر تیسرے منٹ کے بعد ایسا بچہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کا ہونٹ یا تالو کٹا ہوتا ہے ہر برس ایک لاکھ پچھتہر ہزار سے زائد ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جبکہ پاکستان میں ہر برس نو ہزار سے زائد ایسے بچے جنم لیتے ہیں جن کا پیدائشی طور سے ہونٹ یا تالو کٹا ہوتا ہے اس خوف ناک مرض کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دس ایسے بچوں میں سے ایک بچہ اپنی پہلی سالگرہ منانے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ وطن عزیز میں ستر ہزار کے قریب لوگ بغیر سرجری کے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

ڈاکٹر غلام قادر فیاض بتا رہے تھے کہ کلیپ ایسے دیگر ادارے اس طرح کے پیدائشی نقائص کے ساتھ پیدا ہونے والے بچوں کی مدد کرتے ہیں۔ کلیپ سے متعلق انہوں نے بتایا کہ اس ادارے کا آغاز دو ہزار تین فیصل آباد سے ہوا اور اب لاہور میں انسانی خدمت میں مصروف ہے۔ فیصل آباد میں جب انہوں نے کلیپ کی بنیاد رکھی تو اس وقت تین آپریشن تھیٹر تھے یہ علاج حساسیت کے اعتبار سے بہت مہنگا ہے لہٰذا غریب لوگ اسے نہیں کرا سکتے۔ وہ بتا رہے تھے عبدالستار ایدھی مرحوم نے انہیں پچاس لاکھ روپے دیئے تھے جس سے انہوں نے لاہور میں کلیپ ہسپتال کی تعمیر کی انہوں نے بتایا کہ سوئٹزر لینڈ کی بین الاوقوامی تنظیم کی سربراہ ڈورس شائڈر اور جرمنی میں بچوں کی تنظیم کے سربراہ گرہارڈ میئر دو ہزار پندرہ سے ان کے کام کو تسلیم کر چکے ہیں۔ امریکہ اور کینیڈا کے ارکان بھی ان کی خدمات کا اعتراف کر چکے ہیں ۔ ڈاکٹر غلام قادر فیاض ڈاکٹر کی ایک ٹیم بھی تیار کر چکے ہیں جس کی تعداد بتیس ہے۔ جو سندھ، خیبر پختونخوا آزاد کشمیر کے علاوہ افغانستان میں بھی اپنی خدمات سر انجام دے چکی ہے۔ یہ ادارہ مستقبل میں اندھے پن ، جلد کا سکڑجانا، ٹیڑھے پاؤں اور سوراخ کے امراض کا بھی مفت علاج کرے گا۔

ڈاکٹر غلام قادر فیاض ایسے لوگوں کی موجودگی میں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ ابھی ہمارا معاشرے میں زندگی کی رمق باقی ہے وہ مکمل طور سے بے حس نہیں ہوا لہٰذا حکومتیں اگر اپنے عوام کی خدمت کرنے سے قاصر بھی رہتی ہیں تو فلاح انسانی کی ایسی تنظیمیں ان کے دکھ بانٹنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔لہٰذا جو مایوسی آج تیزی سے پھیل رہی ہے اس میں کمی واقعی آتی جائے گی لہٰذا عرض ہے تو اتنی کہ خدمت خلق میں مصروف ان لوگوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اہل قلم آگے آئیں اور ان کے ساتھ مل کر انسانیت کی خدمت کریں۔ انہیں تعاون کی اشد ضرورت ہے مگر سوال یہ ہے حکومتوں کو نہیں چاہیے کہ وہ فلاحی و رفاہی اداروں کی مشکلات کو دیکھیں اور انہیں دور کریں کیونکہ یہ مریضوں سے کچھ نہیں لیتے یہ انہیں پریشان بھی نہیں کرتے ان کی عزت نفس بھی مجروح نہیں کرتے اور پر وقار انداز سے ان کے رستے رخموں کو مندمل کرتے ہیں لہٰذا یہ ادارے اور ان میں متحرک افراد انتہائی قابل احترام و عزت ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنے ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہونے کے لیے ان لوگوں اوراداروں کی بڑھ چڑھ کر مدد کرے کیونکہ اگر ان کے شہریوں کو کسی بھی طرح سے کچھ سہولتیں مل رہی ہیں تو انہیں بھی اس کا کریڈٹ مل سکتا ہے ان کی لاتعلقی سے عوام یہ تاثر لینے میں حق بجانب ہوں گے کہ انہیں ان کی کوئی فکر نہیں لہٰذا یہ بد دلی مجموعی طور سے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

حرف آخر یہ کہ کلیپ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے سیاسی و صحافتی تنظیموں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تا کہ خدمت انسانی کے اس کارواں میں نیا جوش اور جذبہ پیدا ہو سکے۔


ای پیپر