جونیئر اتحادیوں کے مطالبات اور زمینی حقائق
18 جنوری 2020 2020-01-18

پارلیمنٹ میں ہونے والی قانون سازی کے بعدسیاسی حالات میں اچانک تبدیلی رونما ہوئی ۔مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی کے ساتھ حکومتی رویے میں تبدیلی کے بعد حکمراں اتحاد میں شامل جونیئر شراکت دار اپنا حصہ مانگ رہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ حکومت نے غیروں کو منالیالیکن اپنے بھی روٹھنے لگے ہیں۔ ایم کیو ایم نے پہلکاری کی اور اس کے نمائندے خالد مقبول صدیقی نے وزارت سے استعفے کا اعلان کیا، جمعرات کو یہ استعفیٰ وزیراعظم کو بھیج دیا گیا ہے۔ مخلوط حکومت میں اتحاد کی بڑی علامت قاف لیگ کے تحفظات بھی سامنے آرہے ہیں۔ قاف لیگ پنجاب کے اہم حلقہ انتخاب میں حکمران جماعت کی معاون رہی ہے۔ بلوچستان عوامی پارٹی کے اراکین نے بھی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ یہ تینوں جماعتیں مقتدرا حلقوں سے اتنی قریب ہیں کہ اپنے طور پر حکومت کی مخالفت کا فیصلہ یا اظہار نہیں کر سکتیں۔ مخلوط حکومت میں 5 چھوٹی جماعتیں شامل ہیں۔ ایم کیو ایم پاکستان، جی ڈی اے، بی این پی مینگل اور بلوچستان عوامی پارٹی کی قومی اسبملی میں مجموعی 19 نشستیں ہیں۔ان تمام کا مطالبات کا لب لباب یہ ہے کہ تحریک انصاف نے اپنے وعدے پورے نہیں کئے۔ حکومت کے لئے خطرے کی گھنٹی اس وجہ سے ہے کہ یہ سب ایک ہی وقت ناراضگی کا اظہار کر رہی ہیں جبکہ جونیئر پارٹنرز کی اسمبلی میں ممبران کی تعدادحکومت گرانے کے لئے مطلوبہ تعداد سے دگنی ہے۔

تحریک انصاف نے ان اتحادیوں سے مذاکرات شروع کردیئے ہیں۔ حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ اتحادیوں کے شکوے شکایات اپنے حلقہ ہائے انتخاب سے متعلق ہیں۔ جہاں وہ ترقیاتی منصوبوں کے لئے فنڈز چاہتے ہیں۔

حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں وزیراعلیٰ پنجاب سردا ر عثمان بزدار، وزیر دفاع پرویز خٹک، تحریک انصاف کے سینئر رہنما جہانگیر ترین اور وزیراعظم کے مشیر ارباب شہزاد کی مسلم لیگ (ق) کے رہنمائوں سے اہم ملاقات ہوئی۔ ق لیگ نے وزارتوں میں مکمل اختیار اور ترقیاتی فنڈز دینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ایک ہفتہ میں مطالبات پر عملدرآمد نہ ہواتو دھماکہ ہوگا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے ا موراور ورکنگ ریلیشن شپ کو مزید بہتر بنانے کیلئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیاگیااور عوام کی فلاح و بہبود کیلئے ورکنگ ریلیشن شپ کو مزید بہتر بنانے پر اتفاق کیا گیا۔

گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) بھی وفاقی حکومت سے ناراض ہو گئی۔ سندھ میں حکومت کے لئے جی ڈی اے کوئی بہت زیادہ اہم نہیں۔ کیونکہ جی ڈی اے کو سندھ میں نہ عوامی سطح پر حمایت حاصل ہے اور نہ

قومی اسمبلی میںجی ڈی اے کی زیادہ نمائندگی ہے۔ تاہم ایک سیاسی حیثیت ضرور ہے۔ نومبر میں پیر پگارا نے کہا تھا کہ جی ڈی اے حکومت سے ناراض ہے۔ اور حکومت کا ساتھ دینے پر نظر ثانی کرنے جارہی ہے۔سندھ کے لوگوں کو حکومت نے مایوس کیا ہے۔ اب ترجمان جی ڈی اے کا کہنا ہے کہ ہمارے تحفظات ابھی تک برقرار ہیں، ہم بھی حکومت سے ناراض ہیں۔ ہم حکومت کی طرف سے وعدے پورے ہونے کا چند دن اور انتظار کریں گے۔ مزید کہنا ہے کہ ہم نے سندھ کے لیے ترقیاتی منصوبے اور نوجوانوں کے لیے روزگار مانگا ہے۔ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی سربراہی میں جی ڈی اے کے وفد نے جہانگیر ترین کی سربراہی میں ملنے والی حکومتی ٹیم سے شکوہ کیا کہ ترقیاتی فنڈز دیے جارہے ہیں اور نہ ہی سندھ کے حوالے سے کیے گئے فیصلوں پر اعتماد میں لیا جاتا ہے۔ گریند ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) کو ترقیاتی فنڈز جلد دینے اور سندھ سے متعلق فیصلوں پر اعتماد میں لینے کی یقین دہانی کرا دی۔جہانگیر ترین کا کہنا ہے کہ حکومت اور جی ڈی اے میں اب کوئی معاملہ حل طلب نہیں رہ گیا، جی ڈی اے پہلے بھی حکومت کا اہم حصہ تھی اور آئندہ بھی ہماری اتحادی رہے گی۔

حکومت کا اتحادیوں کو منانے کا مشن جاری رکھتے ہوئے حکومتی ٹیم نے ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی کی قیادت میں بی این پی مینگل کے وفد سے اسلام آباد میں ملاقات کی اور 6 نکاتی ایجنڈے پر مذاکرات کئے۔ بی این پی مینگل کے وفد نے لاپتہ افراد کی بازیابی، گوادر میں 95 فیصد لیبر اور 50 فیصد اسکلڈ لیبر بلوچستان سے لینے، گودار میں غیر مقامی افراد کے شناختی کارڈ پر گوادر کا مستقل پتہ درج نہ کرنے اور ووٹ کا حق نہ دینے کے مطالبات پیش کیے۔حکومتی ٹیم نے بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل سے آئندہ دو ہفتوں میں مزید 500 لاپتہ افراد بازیاب کرانے کا وعدہ کردیا۔ گوادر میں بلوچ مزدوروں کا بڑا حصہ رکھنے، غیر مقامی افراد کے شناختی کارڈ پر گوادر کا مستقل پتہ نہ لکھنے اور ووٹ کا حق نہ دینے کی شرائط کے حوالے سے قانون سازی کی یقین دہانی بھی کرا دی۔

متحدہ قومی موومنٹ نے ناراضگی کا اظہار تو کیا لیکن اس پارٹی میں اختلافات ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ خالد مقبول صدیقی نے کابینہ سے استعفیٰ دے دیا۔ لیکن وزارت کے دوسرے امیدوار امین الحق حکومت سے رابطے میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسد عمر سے ملاقات میں اپنے تحفظات ان کے سامنے رکھے ہیں، اسد عمرکا پیغام آیا ہے کہ ایم کیو ایم کے تحفظات وزیراعظم تک پہنچا دیے گئے ہیں۔ایک دو روز میں حکومتی ٹیم سے پھر ملاقات ہوگی۔ایم کیو ایم سے الگ ہو کر دوسری پارٹی بنانے والے پی ایس پی کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ پر عامر خان نے قبضہ کر لیا ہے۔ وہ یہ بھی الزامات لگا رہے ہیں کہ میئر کراچی وسیم اختر کو مبینہ کرپشن کے الزامات میں نیب گرفتار کرنے والی تھی لہٰذا پیشگی تحفظ کے لئے ایم کیو ایم پریشر ڈال رہی ہے۔

جونیئر اتحادی چاہتے ہیں کہ ملک میں تبدیل شدہ صورتحال میں سب نے فائدہ اٹھایا ہے۔ انہیں بھی فائدہ ملنا چاہئے۔ وہ اپنے مطالبات اور ان سے کئے گئے وعدوں پر عمل کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیا حکومت کے لئے یہ ممکن ہے ؟ ان کے زیادہ تر مطالبات کا تعلق طرز حکمرانی سے ہے۔ کیونکہ وزیر اعظم عمران خان مشاورت یا اجتماعی فیصلے کرنے کے عادی نہیں۔ وہ اپنی طبیعت اور فیصلوں میں زیادہ مرکزیت پسند ہیں۔ دوسرا اہم معاملہ ترقیاتی فنڈز کی فراہمی ہے۔ وزیراعظم حکومت میں آنے سے پہلے اور بعد میں بارہا کہہ چکے ہیں کہ منتخب نمائندوں کو فنڈز کی فراہمی سیاسی رشوت ہے، اور یہ رقومات درست طور پر استعمال نہیں ہوتی۔ اگر اس بات پریو ٹرن بھی لیتے ہیں، تو خزانہ میں پیسے ہی موجود نہیں۔ مزید یہ کہ اس طرح کے معاملات کی آئی ایم ایف کیسے اجازت دے گی؟ نہیں لگتا کہ جونیئر اتحادیوں کے زیادہ مطالبات عملی طور پر مانے جائیں، ہاں یہ ضرور ہو گا کہ کمیٹیاں بنائی جائیں گی، یقین دہانیاں کرائی جائیں گی، ان مطالبات سے اصولی اتفاق کیا جائے گا۔


ای پیپر