حقیقت پسندی کا تقاضا۔۔۔۔!
18 جنوری 2020 2020-01-18

خیال تو تھا کہ سیاست سے ہٹ کر کسی اور موضوع پر لکھوں گا ۔ سچی بات ہے کہ ایک دو پیراگراف یا ایک چوتھائی ، تہائی کالم لکھ بھی دیا تھا کہ اتوار کے روزنامہ ـ"نئی بات" میں مکرم و محترم جناب عطا ء الرحمان اور محترم نجم ولی خان کے علی الترتیب "الوداع میاں صاحب الوداع" اور "شہباز شریف کو گالی کیوں؟" کے عنوانات سے چھپنے والے انتہائی پر اثر، خوب صورت، مبنی برحقیقت اور کسی حد تک رومان پرور کالم یا د آئے تو ارادہ بن گیا کہ ان کالموں میں بیان کردہ خیالات ، جذبات و احساسات اور زمینی حقائق کے بارے میں کچھ تبصرہ آرائی یا خامہ فرسائی ہونی چاہیے۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ محترم و مکرم جناب عطا ء الرحمان نے اپنے کالم میں اپنے جن جذبات و احساسات اور بین السطور جس موقف کا اظہار کیا ہے اس سے مجھے اتفاق ہے ۔ اس کے ساتھ انھوں نے ذاتی حیثیت سے اپنے بارے میں جو تصریح کی ہے اور میاں محمد نواز شریف سے اپنے خصوصی لگائو اور ان کے حق میں مسلسل لکھی جانی والی اپنی تحریروں کا جواز پیش کیا ہے اور کسی بھی ماورائے آئین اقدام کی حمایت نہ کرنے کی ان سے اُمیدیں وابستہ کرنے کا جوذکر کیا ہے ، میں محترم عطاء الرحمان صاحب کا عرصہ دراز سے مستقل قاری ہونے کے ناطے گواہی دونگا کہ یہ سب کچھ بھی مبنی برحقیقت ہے۔کہنا یہ ہے کہ جناب عطا ء الرحمان نے اپنے کالم "الوداع میاں صاحب الوداع" میں جو کچھ لکھا ہے یقینا وہ ان کے دل کی آواز ہے۔ اسی طرح محترم نجم ولی خان نے "شہباز شریف کو گالی کیوں؟" والے اپنے کالم میں میاں شہباز شریف کی صفائی اور اپنے برادر اکبر اور قائد میاں محمد نواز شریف سے ان کی وفاداری بشرط استواری اور جانثاری کا جو تذکرہ کیا ہے اس کو بھی میں کچھ ایسا غلط نہیں سمجھتا کہ زمینی حقائق و شواہد ہی اس کی تصدیق نہیں کرتے بلکہ نجم ولی خان جیسے محترم، سینئر اور ثقہ اخبار نویس سے کسی غیر مستند یا فرضی اور خیالی بات کی توقع نہیں کی جا سکتی ۔

سچی بات ہے محترم عطاء الرحمان اور جناب نجم ولی خان کے یہ کالم اور ان میں بیان کردہ خیالات ، جذبات و احساسات اور حقائق اپنی جگہ اہم ہیں۔ میرے لیے کچھ کچھ مسئلہ یہ ہے کہ میںاس کیفیت کو پوری طرح گرفت میں لانا اپنے لیے آسان نہیںسمجھتا جس کیفیت میں محترم عطاء الرحمان نے میاں محمد نواز شریف سے اپنے لگائو اور ان سے توقعات اور اُمیدیں باندھنے کو بیان کیا ہے۔ ایک طرف آپ کے ذاتی جذبات و احساسات ہیں ، آپ کی اُمیدیں اور توقعات ہیں ، کچھ بلند مقاصد، آدرش اور نصب العین ہیں جنہیں آپ نے حرز جاں بنا رکھا اور چاہتے ہیں کہ کوئی ہو جو ان کو پورا کرے۔ پھر ایک شخصیت جس کے بارے میں آپ نرم گوشہ رکھتے ہیں کہ اس کے انداز فکر و عمل میں ایک معروضی اور ٹھوس تبدیلی آچکی ہے ، آپ اس سے توقعات اور اُمیدیں وابستہ کر لیتے ہیں کہ وہ شخصیت ان مقاصد اور نصب العین کو جنھیں آپ نے حرز جاں بنا رکھا ہے کوپورا کرنے کے لیے میدان عمل میں آچکی ہے ۔ آپ کچھ خوش فہمی ، کچھ خوش گمانی اور کچھ کچھ ٹھوس حقائق کی بنیاد پر اُس شخصیت کو اپنا ممدوح اور محبوب گردانتے ہوئے اس کے ہر کہے ، اس کے ہر نعرے ، اس کے ہر دعوے کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی حمایت، اس کی تائید اور اس کی تعریف و تحسین کی راہ کو اس طرح اپناتے اور اپنا بناتے ہیں کہ اس ضمن میں کسی مخالفانہ رائے کی پرواہ بھی نہیں کرتے ۔ پھر آپ کو اپنے اس طرز عمل پر ڈٹے رہنے کے لیے مزید حوصلہ ملتا ہے کہ آپ کی وہ محبوب شخصیت اپنے عمل اور اقدامات سے اپنے نعروں، دعوئوں اور وعدوں کو پورا کرنے کے لیے مخلص نظر آتی ہے اور اس ضمن اسے جن مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان سے نہ گھبراتے ہوئے بھی اپنے نصب العین کے حصول کے موقف پر قائم رہتی ہے۔ اس طرح وہ شخصیت آپ کو مزید عزیز و محبوب سجھائی دینے لگتی ہے۔ وقت گزرتا ہے یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ مسائل اور مشکلات کا سامنا اور اپنے نصب العین اور دعوئوں سے وابستگی اور پیچھے نہ ہٹنے کے عزائم ساتھ ساتھ سامنے آتے رہتے ہیں۔ پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ وہ نصب العین ، وہ دعوے ، وہ نعرے ، وہ اُمیدیں ، وہ تمنائیں، وہ قربانیاں، وہ مصائب اور بلند آدرش دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور آپ کی وہ محبوب اور ممدوح شخصیت اپنے وفاداروں ، اپنے جانثاروں ، اپنے حامیوں، اپنے غم گساروں، اپنے مداحین ، اپنے لواحقین اور اپنے یمین و یسار اور وابستگان کی اُمیدوں اور آرزئوں کے بر خلاف اپنے بلند آہنگ دعوئوں ، نعروں اور نصب العین سے دستبردار ہوتی نظر آتی ہے تو پھر جناب عطاء الرحمان جیسی محترم اور قابل قدر شخصیت کو "الوداع میاں صاحب الوداع"جیسی رومان پرور اور کسی حد تک دل سوختہ تحریریں لکھنی پڑ جاتی ہیں۔

بات محترم عطاء الرحمان صاحب کے کالم میں میاں محمد نواز شریف کے بارے میں ان کے جذبات و احساسات اور خیالات کے اظہار سے چلی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میاں محمد نواز شریف جن کی ابتدائی پرداخت اور نگہداشت فوجی آمریت کے ہاتھوں ہوئی اور ایک آدھ عشرہ وہ مقتدر حلقوں کے زیر دست اور زیر احسان رہے جب انھوں نے مقتدر ریاستی اداروں اور شخصیات جسے عرفِ عام میں اسٹیبلشمنٹ کا نام دیا جاتا ہے کہ ہاتھوں یرغمال بننے کی بجائے سویلین بالادستی اور آئین و قانون کے مطابق اُمورمملکت چلانے کی بتدریج راہ اختیار کی تو انہیں بہت سارے ایسے لوگوں کی حمایت اور تائید بھی حاصل ہوئی جو دل و جان سے ملک میں سویلین بالادستی اور آئین و قانون کی حکمرانی کے قائل تھے۔ ان کا خیال تھا کہ میاں محمد نواز شریف کی صورت میں انہیں پاکستان جیسے فوجی بالا دستی کا پس منظر رکھنے والے ملک میں سویلین بالا دستی کا ایک سمبل Symbol مل گیا ہے۔ یہ صورت حال جو پچھلی صدی کے آخری عشرے کے ابتدائی برسوں میں سامنے آئی تھی بتدریج آگے بڑھی اور وقت گزرنے کے ساتھ اس میں جو اتار اور چڑھائو آئے اور میاں محمد نواز شریف کوسویلین بالادستی کے اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کی وجہ سے جن مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہ سب ہمارے سامنے کی باتیں ہیں۔ان میں ڈرامائی موڑ اس وقت آیا جب جولائی 2017ء میں سپریم کورٹ نے میاں محمد نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دے دیا اور میاں محمد نواز شریف ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بلند کرکے سامنے آگئے ۔ووٹ کی عزت کا یہ نعرہ بتدریج ٹکرائو کی سیاست کا انداز اختیار کرنے لگا تو میاں محمد نواز شریف کے بھائی اور پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف مفاہمتی سیاست اور مقتدر حلقوں سے ٹکرائو سے بچنے کی راہ اختیار کرنے کے موید بن کر سامنے آگئے اس طرح مسلم لیگ ن کے اندر ایک دوسرے سے کسی حد تک متضاد اور متوازی موقف سامنے آنے کی وجہ سے ایک طرح کی کشمکش شروع ہوگئی ۔ یہاں تفصیل میں جانے کا موقع نہیں اور نہ ہی یہ بیان کرنے کا موقع کہ کس نے کیا کیا ۔ضروری بات یہ تھی کہ مسلم لیگی قیادت سر جوڑ کر بیٹھتی اور سنجیدگی سے صورت حال پر غور کرتے ہوئے جائزہ لیتی کہ کونسا موقف اور انداز فکر و نظر اس کے مفاد میں ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسا کچھ نہ ہو سکا بلکہ پارٹی میں بعض مخصوص حلقوں جن میںسے کچھ کو میاں محمد نواز شریف اور محترمہ مریم نواز کی آشیر باد اور حمایت حاصل تھی انھوں نے میاں شہباز شریف کے مفاہمتی اندازہ سیاست کو اس طرح پیش کیا جیسے وہ اپنے بھائی اور قائد سے غداری یا بے وفائی کا ارتکاب کررہے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پارٹی کی صفوں میں بداعتمادی کی فضا پیدا ہوئی۔

اس سیاق و سباق اور پس منظر اور پیش منظر میں جب ایک اہم معاملہ جس کا تعلق آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے تھا اور جس کے بارے میں عمران خان کی حکومت چند ماہ پہلے فیصلہ کرکے نوٹیفیکیشن بھی جاری کر چکی تھی سامنے آیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اس کے لیے پارلیمنٹ سے قانون سازی لازمی بن گئی تھی ۔تو مسلم لیگ ن نے قانون سازی کے حوالے سے اتفاق رائے کا جو موقف اخیتار کیا اسے اس کے سویلین بالادستی کے موقف کے منافی سمجھ کر مسلم لیگ ن کے مخالفین کی طرف سے ہی تنقید کا نشانہ نہ بننا پڑا بلکہ مسلم لیگی قیادت کو اپنے حامیوں اور اپنے وابستگان کی طرف سے بھی سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔دیکھا جائے تو اس موقع پر تنقید کا کوئی جواز نہیں بنتا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا فیصلہ حکومت نے چار ماہ پہلے کر لیا تھا اگر تنقید یا اس کی مخالف کرنی تھی تو وہی وقت اس کے لیے موزوں تھا۔ حقیقت پسندی کا تقاضہ یہی تھا کہ اس موقع پر جب سروسز ایکٹ میں ترمیم کا بل پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میںمنظوری کے لیے یکے بعد دیگر ے پیش ہوا تو مسلم لیگ ن کے لیے اس کے حق میں ووٹ دینا یا اتفاق رائے کا اظہار کرنا ہی بہتر آپشن تھا ورنہ مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت جس کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کی مسلح افواج سے ایک طرح کی پرخاش رکھتی ہے اسے مقتدر حلقوں کی طرف سے مزید مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا جو مسلم لیگ کی آئندہ کی سیاست کے لیے کوئی خوش آئند امر نہ ہوتا۔


ای پیپر