پولیس کی کریکٹر بلڈنگ ضروری ہے
18 جنوری 2020 2020-01-18

گزشتہ ہفتے پنجاب پولیس میں دو واقعات ایسے رونما ہوئے ہیں کہ ہمیں ان کی گہرائی میں جانے کی ضرورت ہے۔ ایک واقعہ لاہور میں ہوا جہاں ایک پولیس اہلکار نے ایک سینئر پولیس افسر پر چاقو سے حملہ کر کے انہیں زخمی کر دیا،دوسرا واقعہ میں ایس ایس پی ابرار نیکوکارا نے راولپنڈی میں اپنے دفتر میں سرکاری پستول سے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ یہ دونوں واقعات جن کی تفصیلات دستیاب نہیں ہیں انتہائی افسوسناک ہیں اور پولیس فورس کے اندر پائی جانے والی نادیدہ بے چینی فرسٹریشن اور عدم تحفظ کی عکاسی کرتے ہیں۔

اپنی تمام تر ظاہری دلکشی اور دلفریبی کے باوجود پولیس کی نوکری موجودہ حالات میں ایک مشکل ترین ییشہ ہے جہاں انہیں ہر وقت کثیر جہتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس میں سب سے پہلے تو عوامی تنقید بلکہ غیض و غصب کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ دوسری طرف فورسز ممبران کو محکمانہ سزاؤں کا بھی سامنا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ ہر سطح پر سیاسی مداخلت ان کے کام میں رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔ علاوہ ازیں وسائل اور بجٹ کی قلت سے پیدا ہونے والے ڈیفالٹ بھی افرادی قوت کی ناقص کارکردگی کے کھاتے میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ دہشت گردی اور سکیورٹی چیلنجز سے لڑنے کے لیے فوج کے مقابلے میں پولیس انفراسٹرکچر نہ ہونے کے برابر ہے مگر اس کے باوجود پولیس نے ہر موقع پر جانوں کے نذرانے پیش کیے مگر بدقسمتی سے ساہیوال واقعہ یا اس طرح کے دیگر واقعات کی وجہ سے پولیس کے شہداء کا خون اپنے زندہ ساتھیوں کے گناہوں کا کفارہ نہیں بن سکا اور پولیس کا امیج عوام کی نظر میں خاصا متنازعہ رہا ہے۔

میں نے اپنی زندگی کا بہترین حصہ بحرین پولیس میں یونیفارم میں گزارا ہے۔ ایک دفعہ بحرین میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر ریسرچ کی گئی اس میں دو باتیں سامنے آئیں۔ پہلی بات یہ تھی کہ خودکشی کرنے والوں کی زیادہ تعداد غیر مسلم تھی جو انڈیا اور دیگر ایشیائی ممالک سے وہاں ملازمت کے لیے جاتے تھے۔ دوسری بات یہ تھی کہ خود کشی کرنے والوں کی اکثریت وہاں تجرد کی زندگی گزارتے تھے یعنی اپنے بیوی بچوں کے بغیر رہ رہے ہوتے تھے۔ اس طرح وہ ذہنی دباؤ کا مقابلہ نہیں کر پاتے تھے۔ مذہب پر پختہ یقین انسان کو اپنی جان کی حفاظت کا سبق دیتا ہے اور مشکل سے مشکل وقت میں بھی حالات سے لڑنے اور ڈٹے رہنے کا حوصلہ دیتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے WHO کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں ہر 40 سیکنڈ بعد ایک شخص خودکشی کرتاہے۔ 79فیصد خودکشی کرنے والوں کا تعلق نچلے یا درمیانے طبقے سے ہوتا ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کی وجوہات معاشی ہوتی ہیں۔ زیادہ تر خودکشیاں بغیر وارننگ کے ہوتی ہیں اگر کوئی بندہ یہ اعلان کرتا ہے کہ اس کا فلاں مطالبہ پورا نہ ہوا تو وہ خودکشی کر لے گا تو اس کا صاف مطلب وہ خودکشی نہیں کرنا چاہتا ہے۔ خودکشی زیادہ تر جذباتی اور فوری فیصلہ ہوتا ہے۔

سوچی سمجھی یا منصوبہ بندی کے تحت کی جانے والی خودکشی میں ڈپریشن، بیماری کی تکلیف یا نا امیدی جیسے عناصر پائے جاتے ہیں۔

ہمارا موضوع چونکہ پولیس کے اندر پائی جانے والی بے چینی ہے۔ پنجاب پولیس کے ایک سینئر افسر اور پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے سربراہ اکبر ناصر خان کہتے ہیں کہ ہمیں اپنے سسٹم کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ابرارنیکوکارا کوئی پہلا افسر نہیں جس نے یہ کیا اس سے پہلے شہزاد بھوپال، سہیل ٹیپو ، جہانزیب کاکڑ جیسے ہونہار افسر تھے جنہوں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگیوں کے چراغ گل کر دیئے۔ یہ ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ ہم کب تک اتنے قیمتی افسروں سے محروم ہوتے رہیں گے۔ اکبر ناصر خان کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ ہمارے بہت سے افسران نوکری چھوڑ کر امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا یا دیگر ملکوں کی طرف نقل مکانی کر جاتے ہیں۔ آخر اس کی کیا وجوہات ہیں ہمیں سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا۔

ایڈیشنل اے آئی جی (آپریشنز) انعام غنی صاحب نے بتایا کہ پولیس کی نوکری میں جاب سٹریس کافی زیادہ ہے۔ ہفتہ وار چھٹی کا بھی باقاعدہ سسٹم نہیں ہے۔ پولیس پرسنل کی motivation اور نفسیاتی کونسلنگ کی ضرورت ہے مگر اس وقت ہمارے پاس ماہرین نفسیات 6 یا 7 ہیں جو ناکافی ہیں ۔ پنجاب پولیس نے وزیراعلیٰ کو کہا ہے کہ کم از کم تمام اضلاع میں ایک ماہر نفسیات تعینات کیا جائے ۔ اس وقت پنجاب میں 36 اضلاع ہیں۔ انعام غنی کا کہنا تھا کہ پولیس ٹریننگ کے دوران انہیں stress management کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس میں induction کے وقت امیدار کا نفسیاتی طبی معائنہ ہونا چاہیے۔ جیسا کہ فوج میں بھرتی ہوتے وقت ہوتا ہے۔ اس سے امیدار کا پروفائل سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ایڈیشنل اے آئی جی کا کہنا تھا کہ آئی جی پنجاب جناب شعیب دستگیر صاحب کی زیر نگرانی پولیس میں ریفارم کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے سختی سے ہدایات جاری کی ہیں کہ فورس کا مورال بلند کیا جائے اور پولیس کا امیج بہتر بنایا جائے۔ نچلی سطح پر ہفتے میں ایک دن چھٹی پر عمل درآمد کروا دیا گیا ہے۔ مین پاور کی قلت دور کرنے کے لیے لاہور میں 1000 اور راولپنڈی میں 600 اضافی نفری مہیا کی گئی ہے باقی اضلاع کو بھی دیکھا جا رہا ہے۔

یہ ایک ضمنی حقیقت ہے کہ مقابلے کے امتحان میں کامیابی حاصل کرنے والے امیدواروں میں سب سے زیادہ نمبر لینے والے پولیس کے لیے چنے جاتے ہیں۔ جن لوگوں کا IQ لیول بہت زیادہ ہوتا ہے انہیں پیشہ ورانہ زندگی میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کیونکہ یہ perfectionist ہوتے ہیں۔ اپنے کام اور فرائض کو مثالی سطح پر پرفارم کرنے کی کوشش میں جب انہیں کامیابی نہیں ملتی تو یہ مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ ایسے افراد کو ابتدائی طور پر کونسلنگ مہیا کی جائے یا پولیس کے اندر نفسیاتی صحت کی نگہداشت کے لیے periadic cheek کا اہتمام ہو تو اس کا سدباب کیا جا سکتا ہے۔ پولیسنگ بہت ٹف کام ہے جو لوگ target oriented ہوتے ہیں وہ اس میں چل نہیں پاتے کیونکہ یہاں ٹارگٹ اتنے زیادہ ہیں کہ ان کو پورا کرنا ممکن نہیں ہوا۔ یہ ٹارگٹ تب پورا ہوگا جب آپ سوسائٹی میں زیرو کرائم ریٹ حاصل کر لیں جو ممکن نہیں۔

ذوالفقار چیمہ سابق آئی جی پولیس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب وہ RPO گوجرانوالہ تھے تو وہ جلسہ عام میں ڈویژن کے سارے SHO سے قرآن پر حلف لیتے تھے کہ وہ رشوت نہیں لیں گے۔ اس طرح کا حلف پولیس سے SOPs میں شامل نہیں ہے۔ اس کی بجائے اگر پولیس کے اندر انصاف مذہب خدا کا خوف رول آف لاء اور motivation جیسے موضوعات پر انہیں لیکچرز کا اہتمام کیا جائے اور ان کی کریکٹر بلڈنگ اور Emotional well being کا انتظام کیا جائے تو یہ اس زبردستی کے حلف سے زیادہ کارآمد ہو گا اور پولیس کے رویے میں واضح تبدیلی آئے گی۔

ابرابر نیکوکار ا کی خودکشی کے محرکات کبھی منظر عام پر نہیں آئیں گے مگر دو چیزیں اہم ہیں پہلی بات یہ کہ وہ پولیس ٹریننگ سنٹر راولپنڈی کے سربراہ تھے ان کی Job description وہ فیلڈ ڈیوٹی والی نہیں تھی جہاں وہ کسی ہائی پروفائل کیس کو ڈیل کر رہے ہوں جو ان کے لیے دباؤ کا باعث ہو۔ لہٰذا ظاہری وجہ ڈپریشن ہو سکتی ے۔ مگر اس سے اہم بات یہ ہے کہ اس ذہنی کیفیت کے حامل افسر کو پولیس فورس کی ٹریننگ کی ذمہ داری دیا جانا بذات خود ایک سوالیہ نشان ہے۔ انگریزی کا ایک قدیم محاور ہے کہ when the gold ousts, what will iron do? کہ اگر سونے کو زنگ لگ جائے تو لوہے کا کیا ہو گا۔ مقصد یہ ہے کہ ٹریننگ سے وابستہ افسران کے لیے لازم ہے کہ وہ ہر لحاظ سے آؤٹ سٹینڈنگ ہوں کیونکہ وہ پولیس کی ایک نئی جنریشن کی بنیاد رکھنے جا رہے ہیں جہاں غلطی کی گنجائش ہی نہیں ہے۔

پولیس فورس کے اندر ذہنی افراتفری کی ایک وجہ وہ طوائف الملوکی ہے جس میں گزشتہ ڈیڑھ سال میں 5،6 دفعہ سربراہ کو تبدیل کیا گیا جب آئی جی تبدیل ہوتا ہے تو انقلاب کی یہ لہر نیچے تک جاتی ہے۔ تقرریوں اور تبادلوں کا طوفان آجاتا ہے۔ نئی ہدایات ، نئے قوانین، نئے رولز اور ان پر عمل درآمد کا نیا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور یہ ایکسر سائز جب ڈیڑھ سال میں نصف درجن دفعہ ہو جائے تو غیر یقینی عدم تحفظ اور دیگر منفی اسباب پیدا ہوتے ہیں۔ یہ خالصتاً ایک سیاسی ایشو ہے جس کا تعلق مجموعی گورننس کے معیارکے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ پولیس میں آئے روز Tenure posting کی بات کی جاتی ہے کہ SHO تھانے میں اپنی مقررہ مدت پوری کرے مگر سوال یہ ہے کہ جہاں آئی جی کی اپنی سیٹ Tenure post نہیں رہی تو SHO کا کیا ہو گا۔

پولیس کی 80 فیصد نفری سپاہی سے SHO کی رینکنگ میں آتی ہے اور یہی وہ پولیس ہے جس کا 24 گھنٹے عوام الناس کے ساتھ براہ راست آمنا سامنا ہوتا ہے۔ پولیس ریفارم کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ اس 80 فیصد پر توجہ دی جائے۔ درست سمت میں اٹھایا گیا پہلا قدم نصف کامیابی کی ضمانت ہے۔


ای پیپر