گرم کپڑے مہنگے، جان کی قیمت سستی
18 جنوری 2020 2020-01-18

یہاں گرم کپڑے مہنگے ہیں

اور جان کی قیمت سستی ہے

یہاں بے ایمانی کے ڈیرے

ایمان کی قیمت سستی ہے

یہاں خواب بہت ہی مہنگے اور

ارمان کی قیمت سستی ہے

یہاں چھت کا ملنا مشکل

قبرستان کی قیمت سستی ہے

یہ بات بالکل سچ ہے اور ہمارے حکمران بھی تو ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں کہ عوام کو سکون صرف قبر میں مل سکتا ہے۔ اسی سکون کی تلاش میں کراچی میں ایک باپ نے موت کو گلے لگا لیا، لیکن وہ جاتے جاتے معاشرے کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرگیا۔

کوئی زیادہ بڑی خواہش نہیں تھی اس کی بیٹی کی اور بہت زیادہ خواب بھی نہیں تھے اس باپ کے!

بس اس کی بیٹی اسے بار بار کہہ رہی تھی۔

بابا سردی بہت زیادہ ہے مجھے بھی گرم کپڑے لے کر دے دیں نا!

تین ماہ سے بیٹی اصرار کر رہی ہے اور باپ چپ چاپ سن رہا ہے کیوں کہ نہ تو اس کے پاس اتنے وسائل ہیں اور نہ ہی اپنی بیٹی کو جھوٹا دلاسہ دینے کے لیے کوئی الفاظ!

اس شدید ذہنی دبائو میں جب وہ باپ کچھ نہ کرسکا تو اس نے یہی سوچا کہ شائد قبر میں ہی اس کو سکون ملے گا اور اس کشمکش سے چھٹکارا بھی! اس لیے اس نے زندگی کو موت پر ترجیح دی اور خود کو آگ لگا لی۔ میر حسن کراچی کا رہائشی تھا اس کے گھر والے اسے ہسپتال بھی لے کر گئے لیکن وہ جانبر نہ ہوسکا۔ اس نے خود کو اپنی بیٹی کا مجرم سمجھتے ہوئے موت کو گلے لگا لیا۔ یہ باپ کی محبت بھی کتنی عجیب ہوتی ہے نا!

وہ کتنا مجبور ہو گا کہ اپنی بیٹی کو جھوٹا دلاسہ تک دینے کا حوصلہ کھو بیٹھا تھا اس کی بیٹی کی ایک ضرورت نے اس کو اتنا مجبور کر دیا کہ اس نے موت کوگلے لگانا آسان سمجھا!

یہ واقعہ جتنی بار پڑھا دل سے ایک ہی دعا نکلی۔

یااللہ! جب کوئی بیٹی اپنے باپ سے فرمائش کرے تو اس کی جیب خالی نہ ہو آمین

خودکشی کرنے سے پہلے مجبور باپ نے وزیراعظم عمران خان کے نام ایک خط بھی لکھا جس میں اپنی غربت کا ذکر کرتے ہوئے اپنے اہل خانہ کے لئے گھر اور روزگار کی اپیل کی ہے۔

میر حسن تو چلا گیا لیکن اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ گیا!

کیا غریب اپنے بچوں کی ایک ادنیٰ سی خواہش بھی پوری نہیں کر سکتا؟

کیا اس ٹھٹھرتے موسم میں غریب کے بچوں کوکبھی گرم کپڑے نصیب نہیں ہوں گے؟

کیا کبھی اس ملک میں عام آدمی کے لیے زندگی صرف ایک سزا ہی بن کر رہ جائے گی؟

اگر ہم اس واقعہ کے ذمہ داروں کو تعین کریں تو سب سے پہلا قصور ریاست کا ہے جس کا کام ہی عوام کی فلاح ہے پھر وہ حکمران جو ایوانوں میں بیٹھ کر صرف اپنے خزانے بھرتے ہیں یا پھر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالتے ہیں!

ذمہ دار تو اس کے ساتھ ساتھ اپوزیشن بھی ہے کیونکہ یہ لوگ اپنے لیڈروں کو بچانے کے لیے تو یک زبان ہو جاتے ہیں مگر عوام کی فلاح کے لیے کبھی ان کو آواز بلند کرتے نہیں دیکھا!

ابھی ایکسٹینشن کے مسئلے پر بھی پورا ایوان متحد نظر آیا مگر یہاں عوام جو روز بروز غربت مہنگائی، بے روز گاری سے تنگ آکر موت کو گلے لگا رہے ہیں ان کے لیے ان ایوانوں سے ایک بھی صدا بلند ہوتی نظر نہیں آئی۔

میر حسن کی خودکشی ایک استعارہ ہے،ایک علامت ہے کہ ہمیں یہ سوچ لینا چاہیے کہ ہمارے مسئلوں کا حل صرف قبر میں ہے!

اب مجبوروں کو ایک آسرا مل چکا ہے کہ وہ ان تمام پریشانیوں سے چھٹکارے کیلیے خودکشی کا راستہ اپنائیں!

اس کے ذمہ دار ہم بھی ہیں جو خود تو پیٹ بھر کر کھا لیتے ہیں لیکن کبھی یہ نہیں سوچتے کہ ہمارا پڑوسی کس حال میں ہے، ہم میں سے وہ بااثر لوگ جو استطاعت رکھتے ہیں وہ صرف ایک وقت کی ہوٹلنگ چھوڑ کر کسی غریب کی سردی کا مداوا کرسکتے ہیں!

باقی اگر کوئی حکمران یہ سمجھ رہا ہے کہ میر حسن کی خودکشی ایک معمولی واقعہ ہے تو وہ بھول رہے ہیں کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔

اس سال پاکستان میں سردی کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔

کئی بڑے شہروں کراچی لاہور وغیرہ میں گیس کی قلت نے اس موسم کو اور بھی سنگین کر دیا ہے تو چھوٹے علاقوں کی تو بات ہی نہ پوچھیں، اگر پہاڑی علاقوں کی بات کریں توپاکستان اور اس کے زیرِانتظام کشمیر میں سردی کی حالیہ لہر کے دوران برفباری، بارشوں اور برفانی تودے گرنے سے مرنے والوں کی تعداد 100 تک پہنچ گئی ہے۔حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں لیکن شدید موسم کی وجہ سے ان کارروائیوں میں مشکلات درپیش ہیں۔ برفباری کا موسم ہمیں ویڈیوز یا تصاویر کی حد تک تو بہت مسحور کر دیتا ہے لیکن جو لوگ اس صورتحال سے دوچار ہیں ان کے تو ہاتھ بھی اتنے جم چکے ہیں کہ وہ دعا کے لیے اٹھا نہیں سکتے۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے کئی علاقے شدید برفباری کی لپیٹ میں ہیں۔ رابطہ سڑکیں بند ہونے سے ان کے پاس اشیائے خور ونوش کی بھی قلت پائی جاتی ہے۔ ہم لوگ شائد ان کی مشکلات کا اندازہ بھی نہیں کر سکتے جن کا نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے جو موت سے بچنے کے لیے ایک ٹھکانہ چھوڑ کر دوسری جگہ جاتے ہیں تو موت وہاں بھی ان کو آلیتی ہے۔ کبھی ان لوگوں کی اذیت کو محسوس کریں جنہیں موسم کی شدت برداشت کرتے کرتے ایک انجانے خوف کا بھی سامنا ہوتا ہے کہ ابھی کہیں سے کوئی تودہ گرے گا اور وہ اس میں دفن ہو جائیں گے!

یہ قدرتی آفت نہیں تو کیا ہے؟ محکمہ موسمیات نے تو بہت پہلے خبر دار کردیا تھا کہ اس سال معمول سے زیادہ برف باری ہوگی تو پھر اس کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟ کیا واقعی ہم ایک ایسے ملک کے باسی ہیں جہاں ہماری جان و مال، عزت آبرو ہر چیز بے وقعت ہے!

جہاں ہمارا کوئی پرسان حال نہیں!

کیا یہ ذلت ہمارا مقدر ہے یا پھر ہم نے اس کو خود اپنے لیے چنا ہے؟

اس موقع پر حکمرانوں کا کام ان مشکلات کا ازالہ کرنا ہے ، شفقت اور ہمدردی کے چند الفاظ بھی قوموں کو حوصلہ دے جاتے ہیں۔گرتی ہوئی قومیں بھی اپنے حکمرانوں کے اعتماد اور حوصلے کی بنیاد پر کھڑی ہوجاتی ہیں۔ لیکن یہاں تو قوم کو صرف ایک ہی راستہ دکھایا گیا ہے

کہ صرف قبر میں سکون ملے گا ۔ اللہ کے بندو اپنے رب سے رجوع کرو۔ اس کے بتائے ہوئے دین کی پیروی کرو۔ ہمارے بڑوں نے تو پیٹ پر دو دو پتھر باندھ کر نہ صرف جنگیں لڑی تھیں بلکہ جیتی بھی تھیں۔ خود بھی سکون پایا عوا م کو بھی دیا ۔ تو چلو آئو مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں بس اسی میں سکون ہے مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک۔

یاد رکھیں دن رات، گرمی سردی، بارش، برفباری ان سب پر صرف ایک ہی ذات قادر ہے ہمیں ان مشکلات سے نکلنا ہے تو اسی کی طرف رجوع کرنا ہوگا ، ہماری زندگی موت رزق سب کا انتظام اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن جب ہم اس کی نافرمانی کرتے ہیں اور مسلمان ہوتے ہوئے بھی اس کا حق ادا نہیں کرتے تو پھر اللہ بھی ایسے لوگوں کی مدد نہیں فرماتا۔ ابھی بھی وقت ہے، اپنی ذات کے بت توڑیں،اللہ کے آگے جھک جائیں، قرآن وسنت کا راستہ اپنائیں اور دوسروں کے درد کو اپنا سمجھتے ہوئے اس کا مداوا کریں تاکہ کوئی باپ خود کشی پر مجبور نہ ہو!


ای پیپر