امریکہ کیساتھ دو طرفہ تعلقات کے خواہاں ہیں: شاہ محمود قریشی
18 جنوری 2020 (19:02) 2020-01-18

واشنگٹن:وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ بھارت سرکار کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری ریاستی جبر اور اقلیتوں کو دیوار سے لگانے کی حکومتی پالیسیوں نے پورے جنوبی ایشیاکے خطے کو شدید خطرات سے دو چار کر دیا ہے۔پاکستان امریکہ کے ساتھ مل کر افغانستان کے مسئلے کے سیاسی حل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے پر عزم ہے اور افغانستان میں قیام امن سے حاصل ہونے والے ثمرات سے پورا خطہ مستفید ہو گا ۔

امریکہ میں ایک انٹرویو میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ  پاکستان امریکہ کے ساتھ جامع، طویل المدتی اور کثیر الجہتی شراکت داری پر مبنی دو طرفہ تعلقات کا خواہاں ہے۔ پاکستان خطے میں امن و استحکام کیلئے ،مذاکرات کے ذریعے معاملات کے پرامن حل کا حامی ہے۔خطے میں پائی جانے والی کشیدگی پاکستان کیلئے شدید تشویش کا باعث ہے کیونکہ یہ خطہ کسی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے پاکستان کشیدگی کے خاتمے اور خطے میں قیام_امں کے لیے اپنا تعمیری اور مثبت کردار ادا کرنے کیلئے کوشاں ہے ۔

مخدوم شاہ محمود قریشی نے مطالبہ کیا کہ امریکہ اس انسانی المیے کا نوٹس لیتے ہوئے ،کرفیو کے خاتمے اور کشمیریوں کو ان کا جائز حق حق خود ارادیت دلانے کے لیے بھارت پر دباو ڈالے ۔ فریقین نے امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کی بحالی کو مثبت اور حوصلہ افزا اقدام قرار دیا۔  پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے دو طرفہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے اور اسٹرٹیجک شراکت داری کے ذریعے ان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا خواہاں ہے ۔


ای پیپر