رانا ثنا اللہ کی گاڑی کی واپسی پر عدالت کافیصلہ محفوظ
18 جنوری 2020 (18:31) 2020-01-18

لاہور: انسداد منشیات کی خصوصی عدالت نے سابق وزیر قانون رانا ثنا اللہ کی اے این ایف حکام سے گاڑی کی واپسی اور شہریاد آفریدی کی فوٹیجز عدالت میں پیش کرنے سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت 8 فروری تک ملتوی کر دی۔

تفصیلات کے مطابق انسداد منشیات کی عدالت کے جج شاکر حسن نے رانا ثنا اللہ کیخلاف مقدمے پر سماعت کی تو سابق صوبائی وزیر کے وکیل فرہاد علی شاہ نے نشاندہی کی کہ اے این ایف نے 2 صفحات پر مشتمل چالان کی نقول فراہم کیں اور ابھی تک چالان کے مکمل دستاویزات فراہم نہیں کئے گئے۔وکیل نے یہ ابھی استدعا کی کہ چالان کے تمام دستاویزات اور وہ فوٹیج فراہم کی جائیں جس کا دعوی وفاقی وزیر نے کیا تھا۔

 وکیل نے مزید کہا کہ پاکستان اور اے این ایف کی تاریخ میں پہلی بار ڈی جی اور وفاقی وزیر شہریار آفریدی نے بیٹھ کر رانا ثنااللہ کی گرفتاری پر میڈیا ٹاک کی، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ رانا ثنااللہ کے انٹرنیشنل ڈرگ فروخت کرنے والوں کے ساتھ تعلقات ہیں، رانا ثنا اللہ کا قواعد و ضوابط کے مطابق چالان تاحال دائر نہیں کیا گیا۔اے این ایف کے وکیل نے واضح کیا کہ چالان سے متعلقہ تمام دستاویزات فراہم کر دیئے گئے اور دعوی کیا کہ سابق وزیر کے وکلا تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں۔

اے این ایف کے وکیل نے نشاندہی کی کہ اگر کوئی میڈیا پر بیان دے دیتا ہے تو پراسکیوشن اس کا ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے کی پابند نہیں ہے۔پراسکیوٹر اے این ایف نے عدالت کو بتایا کہ رانا ثنا اللہ کے وکلا تاخیری حربے استعمال کر رہے ہیں، کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے۔ جس پر فاضل جج شاکر حسن نے اے این ایف پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کیسے کروں ؟


ای پیپر