وزیراعظم ،کابینہ اور قومی اسمبلی !
18 جنوری 2020 2020-01-18

اپنے محترم بھائی رﺅف کلاسرا صاحب کی فیس بُک پر ایک تحریر میں پڑھ رہا تھا جس میں انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے اُس کردار کو سراہا ہے کہ وہ کابینہ کے اجلاس بڑی باقاعدگی سے شرکت کرتے ہیں جبکہ اُن کے مقابلے میں نوازشریف جب وزیراعظم تھے وہ کابینہ کے اجلاس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے تھے، کیونکہ اُنہوں نے سارے اختیارات اپنے پاس رکھے ہوئے تھے اور حتمی فیصلہ اُنہی کا ہوتا تھا، ....ہمارے موجودہ وزیراعظم نے بھی تقریباً سارے اختیارات اپنے پاس ہی رکھے ہوئے ہیں، اور حتمی فیصلہ بھی اُنہی کا ہوتا ہے البتہ کابینہ سے مشاورت وہ ضرور کرتے ہیں کیونکہ اُنہیں یقین ہوتا ہے کسی وزیر نے کوئی اچھا مشورہ تو دینا نہیں، اجلاس منعقد کرنے کی خانہ پُری کرنے میں کیا حرج ہے؟۔ میری جرا¿ت تو نہیں میں اپنے سینئر اور پسندیدہ ترین اینکر اور قلم کار، جو انتہائی درد دل رکھنے والے انسان بھی ہیں، کی کسی بات سے اختلاف کروں یا اُس پر سوالات اُٹھاﺅں، مگر ہم نے چونکہ سچ بات کرنا اُن جیسے چند قلم کاروں سے ہی سیکھا ہے تو میں بڑے ادب سے اُن سے پوچھنا چاہتا ہوں ”ہمارے محترم وزیراعظم تھوک کے حساب سے کابینہ کے جواجلاس بلاتے ہیں اُن کا عوام کو اور اِس ملک کو پچھلے ڈیڑھ برس میں فائدہ کیا ہوا ہے؟۔ جو گندگی ہر شعبے میں بڑھتی جارہی ہے اُس حساب سے تو وہ نواز شریف بہتر تھا جو ایسی گندگی وفاقی کابینہ کے اجلاس بُلائے بغیر ہی ڈال لیا کرتا تھا۔ اُوپر سے وفاقی کابینہ کے اکثر ارکان تقریباً اُتنے ہی نااہل ہیں جتنے خیر سے وزیراعظم خود ہیں چنانچہ کابینہ کے اجلاسوں میں خوب گزرتی ہوگی جو مل بیٹھتے ہوں گے دیوانے اور دیوانیاں کئی، اُن میں کچھ ”دیوانے خاص“ بھی ہیں جو کابینہ کے اجلاسوں کے علاوہ بھی جب چاہیں وزیراعظم سے مل بلکہ گھل مِل جاتے ہیں، .... کچھ محکے شاید ابھی تک وزیراعظم نے اپنے پاس ہی رکھے ہوئے ہیں، اُنہیں چاہیے وہ محکمے پی ٹی آئی کے کچھ اہل ممبران اسمبلی کے سپرد کرکے اپنے حکومت کے لیے تھوڑی بہت نیک نامی کمانے کی ہلکی سی کوشش کرکے دیکھ لیں، ورنہ بدنامی تو وہ کماہی رہے ہیں ،وہ محکمے اگر اُنہوں نے موجودہ وزراءمیں سے کسی کے سپرد کیے تو وہ اُسی طرح سپرد خاک ہو جائیں گے جس طرح کئی محکمے اب تک ہوچکے ہیں، پھر محترم وزیراعظم کی حالت بھی مجھ ایسی ہو جائے۔ بہت سال پہلے میں نے نئی گاڑی خریدی تو ڈرائیونگ میں ناتجربہ کاری کے باعث گاڑی روزانہ کہیں نہ کہیں ٹھوک دیتا تھا جس سے گاڑی کے کسی نہ کسی حصے پر روزانہ ڈینٹ پڑ جاتا، ....بیگم نے کہا آپ ڈرائیور رکھ لیں۔ میں نے اُس کی ہدایت پر عمل کیا اور اگلے ہی روز ڈرائیور رکھ لیا، ڈرائیور صاحب نے یہ کیا پہلے ہی روز گاڑی بیک کرتے ہوئے ایک کھمبے میں مار دی جس سے گاڑی پر ایک اور اچھا خاصا ڈینٹ پڑ گیا، میں نے ڈرائیور کو بلایا، ایک روز کی تنخواہ اُس کے ہاتھ میں تھمائی اور اُس سے کہا ”یہ کام تو میں خود بھی کرلیتا تھا“ ،....چنانچہ وزیراعظم کو چاہیے کچھ محکمے اگر بچے ہوئے ہیںوہ اپنے ”آقاﺅں“ سے بے شک اجازت لے کر پی ٹی آئی کے کچھ اہل، پڑھے لکھے نوجوانوں کے سپرد کردیں، یہ محکمے اگر موجودہ وزراءکو ہی اضافی طورپر دیئے گئے تو ایک ہی روز بعد ممکن ہے محترم وزیراعظم کو بھی اُن سے یہ کہنا پڑ جائے ”حضور یہ کام تو میں خود بھی کرلیتا تھا“ ....کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے موجودہ حکومت کا جب عرصہ اقتدار پورا ہوگا وزیراعظم کے پاس اپنی کارکردگی بتانے کے لیے سوائے اِس کے کچھ نہیں ہوگا ” ہم نے کابینہ کے اجلاس بڑی باقاعدگی سے منعقد کیے، حالانکہ اس سے بھی زیادہ ضروری ہے اُس ” قابلِ قدر قومی اسمبلی“ کے اجلاس میں وہ باقاعدگی سے شریک ہوں جس نے حال ہی میں آرمی ایکٹ میں ترمیم کرکے جمہوریت کی ایسی ” خدمت“ کی ہے جس کی دنیا میں کہیں مثال نہیں ملتی، محترم خان صاحب نے وزیراعظم بننے کے بعد قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا ”وہ اسمبلی کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کیا کریں گے“۔ ایک ”یوٹرن“ اُنہوں نے اس حوالے سے بھی لے لیا، یوٹرن سے یاد آیا کل میں اپنے بیٹے راحیل بٹ کے ساتھ جیل روڈ سے گزر رہا تھا، وہ ڈرائیونگ کررہا تھا، میں نے اُس سے کہا ”بیٹا یہاں سے یوٹرن لے لو“، وہ کہنے لگا ” بابا میں راحیل بٹ ہوں عمران خان نہیں ہوں“ ....”بچے واقعی غیر سیاسی ہوتے ہیں“ ،....ممکن ہے وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں قومی اسمبلی کے ہراجلاس میں شرکت کا وعدہ اس لیے کرلیا ہو اس وقت اُنہیں پورا یقین ہوگا وہ پچھلی تمام حکومتوں اور حکمرانوں سے بہترکارکردگی کا مظاہرہ کریں گے، پر اب ڈیڑھ برس گزر جانے کے بعد ان کے پاس کارکردگی بتانے کے لیے فی الحال کچھ نہیں، ظاہر ہے ستر برسوں خصوصاً گزشتہ پچیس تیس برسوں کا گند صاف کرنے کے لیے ڈیڑھ برس بڑا کم ہے، اس گندکو صاف کرنے کے

لیے شاید اُتنا ہی عرصہ درکار ہے جتنے عرصے میں یہ گند پڑا ہے، مگر لوگ ڈیڑھ برس بعد ہی اتنے بے صبرے ہوگئے ہیں اور وزیراعظم خان صاحب سے حساب مانگنا شروع کردیا ہے تو اس میں قصورلوگوں کا نہیں خود خان صاحب کا ہے جو محض اقتدار کے حصول کے لیے لوگوں سے جھوٹ بولتے رہے” وہ سودنوں میں سارا گند صاف کردیں گے“۔اب اُنہوں نے اور اُن کی ”قابل قدر ٹیم“ نے اپنی نااہلی کے باعث خود ڈیڑھ برس میں اتنا گند ڈال دیا ہے آج اگر ان کی سمت درست ہو جائے وہ منافقت بند کردیں، جھوٹ کی لعنت سے نجات حاصل کرلیں اورمانگے تانگے کے وزیروں کے بجائے پی ٹی آئی کے اصل چہروں کو سامنے لے کر آئیں، اِس کے باوجود اگلے ساڑھے تین برسوں میں وہ اپنا ہی ڈیڑھ برس کا گند صاف کرلیں یہ بڑی بات ہوگی، ....جہاں تک اسمبلی کے اجلاسوں میں ان کی عدم شرکت کا معاملہ ہے وہ سمجھتے ہیں وہ صرف عزت کروانے کے لیے ہی پیدا ہوئے ہیں“ ظاہر ہے اسمبلی کے اجلاسوں میں وہ شریک ہوں گے تو اپوزیشن کئی حوالوں سے اُن کی مٹی پلید کرے گی۔میڈیا پہلے ہی کررہا ہے تو رہی سہی عزت بچانے کے لیے قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت نہ کرنے کا ان کا فیصلہ کم ازکم ان کے نزدیک درست ہی ہے، ویسے اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت نہ کرنا ان کی پرانی بگڑی ہوئی عادتوں میں سے ایک عادت ہے، وہ جب وزیراعظم نہیں تھے، صرف رُکن اسمبلی تھے تب بھی اسمبلی کے اجلاسوں میں بہت کم شریک ہوتے تھے، البتہ بطورممبر قومی اسمبلی جو معاوضہ اور تنخواہ وغیرہ بغیر کسی کارکردگی کے یا بغیر کام کے وہ وصول کرتے تھے وہ یقیناً شوکت خانم کو ہی دے دیتے ہوں گے، ہم نے کون سا اُن سے اس بات کا ثبوت مانگنا ہے، ویسے میں سوچ رہا تھاہمارے بے شمار لوگ یہ نہیں دیکھتے زکوٰة یا عطیات کی صورت میں جو رقم وہ دے رہے ہیں انہوں نے کیسے کمائی ہے؟ ، ہمارے علماءکو دیگرجائزناجائز کاموں سے فرصت ملے وہ اس حوالے سے کھل کر لوگوں کو بتائیں حرام کی کمائی یا غلط طریقوں سے ہونے والی کمائی سے صدقات یا زکوٰة وغیرہ دینا جائز ہے ؟ اور کیا یہ قبول ہو جاتے ہیں ؟،....ویسے کبھی کبھی مجھے حیرت ہوتی ہے محترم وزیراعظم کابینہ کے اتنے اجلاس کس لیے منعقد کرتے ہیں ؟۔ ہر اجلاس کے بعد فردوس عاشق اعوان میڈیا کے سامنے آکر کابینہ کے فیصلوں سے آگاہ کرتی ہےں، ایک اجلاس صرف یہ جائزہ لینے کے لیے منعقد ہونا چاہیے جو فیصلے کابینہ کے اجلاسوں میں ہوتے ہیں ان پر عمل کتنا ہوتا ہے؟ اور وہ ملکی مفاد میں کتنا ہوتے ہیں؟۔ جہاں تک مجھے یاد ہے آرمی ایکٹ میں ترمیم کا فیصلہ بھی کابینہ ہی کے ایک اجلاس میں ہوا تھا۔


ای پیپر