چور ہے کون۔۔۔؟
18 جنوری 2019 2019-01-18

ایک میراثی چوری کرنے کے لئے شیخ کے گھر پہنچا۔ شیخ صاحب گھر کے صحن میں لیٹے ہوئے تھے۔ چور نے اپنی چادر زمین پر بچھائی اور خود کمرے سے سامان لینے چلا گیا۔ شیخ صاحب نے اس کی چادر اٹھا کر چھپا لی اور پھر سوتا بن گیا۔۔۔ چور آیا تو اس نے دیکھا، چادر ہی غائب ہے ۔۔۔اس نے اپنی قمیص اتار کر بچھائی اور پھر اندر سے سامان لینے گیا۔ شیخ صاحب نے قمیص بھی اٹھا کر چھپا لی۔ چور باہر آیا تو قمیص بھی غائب پائی۔۔۔اب کی بار اس نے بیش بہا حوصلہ کرتے ہوئے اپنی آخری ملکیت دھوتی بھی اتار کر بچھا دی اور ایک بار پھر اندر سامان لینے چلا گیا۔۔۔ شیخ صاحب نے دھوتی بھی اٹھا لی۔ اب جب وہ باہر آیا تو دھوتی بھی غائب تھی۔ چور بنیان پہنے انتہائی مراثگی کی حالت میں پریشان کھڑا تھا کہ شیخ صاحب نے اٹھ کر چور چور کا شور مچا دیا۔۔۔ چور نے انتہائی بے چار گی سے تاریخی سوال کیا:’’او ظالمو! اجے وی میں ای چور آں‘‘۔۔۔ ڈالر پچاس فی صد مہنگا ہوا۔ مہنگائی کی دیوی آسمانوں کو چھونے لگی اور عوام پھر بھی اسی دیوی کے چرنوں میں بیٹھ گئی۔ چور نواز شریف، شہباز شریف اور آصف علی زرداری کو کہا گیا اور سابقہ حکومتوں کو اس جواز کا مورد ٹھہرایا گیا۔ عوام پر بے شمار ٹیکسز تھوپے گئے۔ گیس کی قیمتوں میں حد درجہ اضافہ ہوا۔ ملک میں بجلی نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔ ادویات مزید 15 فیصد مہنگی کر دی گئیں تاکہ غریب عوام بغیر ادویات کے مر جائیں۔ بجلی نہ ہونے کے سبب انڈسٹریز تباہ ہونے کے درپے ہیں اور بیروز گاری کا جادو سر چڑھ کے بولنے لگا ہے ۔ اشیائے خورو نوش دسترس سے باہر ہونے لگی ہیں۔ کاروبار تنزلی کی طرف محو سفر ہیں۔ اسٹاک ایکسچینج کا رجحان آئے روز مندے کی طرف ہے ۔ معیشت کا پنکچر پہیہ جوں کی چال چلنے پر آمادہ ہے ۔ تمام ادارے سابقہ ادوار کی مثال پیش کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ کوئی انویسٹر حالات کی غیر یقینی صورت کے سبب انوسٹمنٹ کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ سچی بات تو یہ ہے کہ یہاں پر کچھ نہیں بدلا۔۔۔ یہاں پر کچھ نہیں بدلا۔۔۔ اور نہ عوام کی تقدیر بدلتی ہوئی نظر آ رہی ہے اور نہ ہی ملک کی تقدیر پروان چڑھتی دکھائی دے رہی ہے ۔ قارئین آئیے میں آپ کو سعودی کے بارے میں 22 ایسی معلومات دوں جو ہمارے ملک میں نہیں ہیں۔ -1 یہاں پانی مہنگا اور تیل سستا ہے ۔ -2 یہاں کے راستوں کی معلومات مردوں سے زیادہ عورتوں کو ہے اور یہاں پر مکمل خریداری عورتیں ہی کرتی ہیں مگر پردے میں رہ کر۔-3 یہاں کی آبادی 4 کروڑ ہے اور کاریں 9 کروڑ سے بھی زیادہ ہیں۔ -4 مکہ شہر کا کوڑا شہر سے 70km دور پہاڑیوں میں دبایا جاتا ہے ۔ -5 یہاں کا زم زم پورے سال اور پوری دنیا میں جاتا ہے اور یہاں بھی پورے مکہ اور پورے سعودی میں استعمال ہوتا ہے اور آج تک کبھی کم نہیں ہوا!-6 صرف مکہ میں ایک دن میں 3 لاکھ مرغ کی کھپت ہوتی ہے !-7 مکہ کے اندر کبھی باہمی جھگڑا نہیں ہوتا ہے !-8 سعودی میں تقریباً 30 لاکھ بھارتی 18 لاکھ پاکستانی 16 لاکھ بنگلہ دیشی 4 لاکھ مصری 1 لاکھ یمنی اور 3 ملین دیگر ممالک کے لوگ کام کرتے

ہیں سوچو اللہ یہاں سے کتنے لوگوں کے گھر چلا رہا ہے اور یہاں کبھی مذہب پر جھگڑا نہیں ہوا۔ -9 صرف مکہ میں 70 لاکھ AC استعمال ہوتے ہیں۔-10 یہاں کھجور کے سوا کوئی فصل نہیں نکلتی پھر بھی دنیا کی ہر چیز پھل سبزی وغیرہ ملتی ہے اور بے موسم یہاں پر بکتی ہے !-11 یہاں مکہ میں 200 کوالٹی کی کھجور بکتی ہے اور ایک ایسی کھجور بھی ہے جس میں ہڈی یا ہڑکِل ہی نہیں!-12 مکہ کے اندر کوئی بھی چیز لوکل یا ڈپلیکیٹ نہیں بکتی یہاں تک کے دوائی بھی!-13 پورے سعودی عرب میں کوئی دریا یا تالاب نہیں ہے پھر بھی یہاں پانی کی کوئی کمی نہیں ہے !-14 مکہ میں کوئی پاور لائن باہر نہیں تمام زمین کے اندر ہی ہے !-15 پورے مکہ میں کوئی نالہ یا نالی نہیں ہے ! -16 دنیا کا بہترین کپڑا یہاں بکتا ہے جبکہ بنتا نہیں!-17یہاں کی حکومت ہر پڑھنے والے بچے کو 600 سے 800 ریال ماہانہ دیتی ہے ۔ -18 یہاں دھوکا نام کی کوئی چیز ہی نہیں۔-19 یہاں ترقیاتی کام کے لیے جو پیسہ حکومت سے ملتا ہے وہ پورا کا پورا خرچ کیا جاتا ہے ۔-20 یہاں سرسوں کے تیل کی کوئی اوقات نہیں پر بکتا تو ہے یہاں سورج مکھی اور مکئی (مکئی/ککڑی) کا تیل کھایا جاتا ہے ۔-21 یہاں ہریالی نہیں درخت پودے نہ ہونے کے برابر ہیں پہاڑ خشک اور سیاہ ہیں مگر سانس لینے میں کوئی تکلیف نہیں یہاں یہ سائنسی ریسرچ فیل ہے ۔ -22 یہاں ہر چیز باہر سے منگوائی جاتی ہے پھر بھی مہنگائی نہیں ہوتی۔

کیا کوئی ایسا رول ایسا آئین ہمارے ملک میں ہے جس کے تحت زندگی بسر کی جائے اور زندگی کی ضروریات بآسانی دستیاب ہوں۔ بقول خواجہ حیدر علی آتش

بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جو چیرا تو اک قطرۂ خون نکلا

موجودہ حکومت کو سیاست کرنے ، سیاست میں آنے، اور عوام کی تقدیر بدلنے کا بہت خیال تھا مگر جب وہ عملی میدان میں پورے سازو سامان کے ساتھ اترے تو ان کا یہ شور صرف اور صرف وہم اور زعم میں بدل گیا۔ میں اس بات پر بالکل متفق ہوں کہ ملک گھمبیر مسائل میں گھرا تھا۔ کرپشن بھی ہوئی ہو گی، منی لانڈرنگ بھی ہوئی ہو گی، ملکی خزانہ بھی لوٹا گیا ہو گا ، سوئس اکاؤنٹ بھی کھلے ہوں گے مگر عوام کے ساتھ ایسا کھلواڑ نہیں ہوا تھا ۔ کسان کو کچھ حوصلہ تھا، کھاد سستی رہی تھی، پٹرول ڈیزل دسترس میں رہا تھا۔ملکی تاریخ میں آلو کبھی چار روپے کلو نہیں بکے ہوں گے۔ انڈسٹری بہتری کی طرف رواں دواں تھی۔ پولیس اور ہسپتالوں کی حالت بھی بہتر ہو رہی تھی۔ لوگوں کے کاروبار بھی چل نکلے تھے مگر موجودہ حکومت کو حکومت کرنے کی جلدی تھی۔ یہ سیاسی اور عوامی صورت حال سے نا آشنا تھے۔ ان کے پاس فیکس اور فگر نہیں تھے۔ یہ سیاسی زمینی حقائق سے ناواقف تھے۔ انہوں نے ہوم ورک نہیں کیا تھا۔ یہ فقط اپنے نعروں اور دعوؤں کو ہی اپنی سیاست سمجھتے رہے۔ وزیر اعظم ہاؤس کی بھینسیں بیچنا، گاڑیاں نیلام کرنا، گورنر ہاؤس کو عوام کے لیے کھولنا اور منی بجٹ پیش کرنا سیاست اور حکومت کرنا نہیں ہے ۔ چور کو چور اور کرپٹ کو کرپٹ کہنا بھی سیاست اور بہادری نہیں ہے ۔ جزا اور سزا تو عدالتوں کے پاس ہے ۔ حکومت کرنا صرف اور صرف یہی ہے کہ عوام کو بلند معیار زندگی مہیا کیا جائے ان کو ریلیف دیا جائے۔ آئین اور قانون کو بالا دستی حاصل ہو۔ہر ادارے اور ڈیپارٹمنٹ کے آئین کی پابندی ہو۔ عوامی رویے میں ٹھہراؤ اور بہتری ہو۔ لاقانونیت پر سزا اور جرمانہ ہو۔ ملک کے ساتھ محبت اور مخلص پن کی شدت ہو۔ ملکی ، قومی اور عوامی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیحات ہوں۔ اداروں میں ڈسپلن، ایمانداری، ذمہ داری کا قاعدہ کلیہ ہو۔ دولت اور جائیداد کی حدود و قیود ہوں۔ ٹیکسز کے نظام میں باقاعدگی اور بہتری ہو۔ نظام تعلیم میں جدت ہو۔ تعلیمی پرائیویٹ سیکٹرز کی حدود قیود ہوں۔ ٹریفک سکولز ہوں۔ گاڑیوں کا سالانہ معائنہ ہو۔ اشیائے خوردونوش کی فروخت اور معیار پر سخت قانون لاگو ہوں۔ ادویات سستی اور معیاری ہوں۔ جعلی ادویات کی فروخت اور پروڈکشن کے متعلق سخت سے سخت سزا اور جرمانہ ہو۔ کسانوں کے لیے بہترین پالیسی ہو۔ کسان خوشحال ہو گا تو ملک بذات خود خوشحال ہو جائے گا ۔ قارئین ان تمام پہلوؤں کو نظر انداز کر کے ان سے بے اطمینانی برت کے یا پہلو تہی کر کے کوئی بھی حکمران اچھا اور سچا حکمران نہیں بن سکتا اور نہ ہی ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے ۔ ان سیاستدانوں کا دل سیاست اورکرسی کے دھڑکتا ہے ۔ عوام کے لیے ان کے دل میں صرف ایک خون کا قطرہ ہی ہو سکتا ہے اور مجھے تو آج تک سمجھ نہیں آئی کہ چور کو ن ہے ۔۔۔؟نواز شریف چور ہے ، شہباز شریف چور ہے ، آصف زرداری چور ہے یا پھر موجودہ حکومت عوام کے ساتھ مقدروں کے ساتھ چوری کر رہی ہے ۔


ای پیپر