خاص بیانات‘ عام جوابات و تبصرے
18 جنوری 2019 2019-01-18

*...... 6 ماہ میں دوسرا بجٹ وزیرِ خزانہ کا تیسرا یوٹرن ہے: ڈاکٹر نفیسہ شاہ

o ....... ڈاکٹر صاحبہ بھی کیا گننے بیٹھ گئی ہیں ۔ آپ کیا کیا گنیں گی اور کیسے گنیں گی جو چیز حساب کتاب‘ شمار قطار سے ہی باہر ہو بھلا اسے گننا کیسے ممکن ہو سکتا ہے اور ہمارے وزیرِ خزانہ تو پروفیسر احسن اقبال سے بھی بڑے افلاطون ارسطو نکلے جنھوں نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ’’مہنگائی سے غریب متاثر نہیں ہو گا‘‘ وزیر خزانہ جس کپتان کی قیادت میں کام کر رہے ہیں اُن کا فرمانِ ذیشان ہے کہ یو ٹرن لینے سے ہی بندہ بڑا لیڈر بنتا ہے۔

*...... وزیر اعظم چاہیں تو سندھ حکومت گِر جائے گی ‘ فواد چودھری

o ...... کیا کہنے کیا کہنے‘ چشم بدور چشم بدور‘ وزیرِ بیانات نے کیسا خوبصورت بیان چھوڑا ہے۔ اگر جان کی امان پاؤں تو عرض کروں کہ وزیرِ اعظم کا کام حکومت چلانا ہوتا ہے یا حکومتیں گرانا؟ اور سندھ حکومت اگر وزیرِ اعظم کے صرف چاہنے سے ہی گر جائے گی تو پھر ممبران سندھ اسمبلی کس مرض کی دوا ہیں اور کس باغ کی مولی گاجر یں ہیں۔ جناب یہ تو بتلائیں کہ عوام سے ووٹ لے کر سندھ اسمبلی میں جو عوامی نمائندے اور ارکان اسمبلی بنے بیٹھے ہیں وہ کیا وہاں چھولے بیچتے ہیں‘ مرغیاں بیچتے ہیں یا پھر سردیوں کی شاموں میں انڈے گرم انڈے گرم انڈے بیچتے ہیں؟

*....... نواز شریف آج بھی ملک کے مقبول ترین لیڈر ہیں: سینیٹر چودھری تنویر

o ...... سینیٹر چوہدری تنویر خان ہمیشہ معقول مدلل اور قابل قبول بات بولتے ہیں بلا شبہ میاں صاحب آج بھی مقبول ترین لیڈر ہیں اور اس سے آگے کی بات یہ

ہے کہ میاں صاحب کبھی قبول ترین لیڈر بھی رہے ہیں اورآج ان کے درد پچھتاوے ہی یہی ہیں کہ:۔

انورؔ وقت دے اپنے تقاضے ہوندے

شاید اسیں اج یاداں دے قابل نہ رہے

میاں صاحب نا اہل ہونے اور جیل جانے سے کچھ زیادہ ہی مقبول ہو گئے ہیں جس سے زرداری صاحب حسد کی آگ میں جل رہے ہیں۔ موصوف آصف زرداری کبھی پاکستانی صحافت کے پیو دادا مجید نظامی مرحوم کے مردِ حُر تھے اور نیلسن منڈیلا آف پاکستان ہوا کرتے تھے۔ حضرت زرداری ان دنوں تسلسل کے ساتھ فرما رہے ہیں کہ ان مقدمات ‘ ٹرائل اور جیل جانے سے تو میں اور بھی مقبول و مشہور ہو جاؤں گا۔ ایک نواب کا نوابی قسم کا شعر یاد آ رہا ہے کیونکہ سر دار زرداری بھی کسی سے کم نواب نہیں ہیں۔ نواب مصطفی خان شیفتہ کے الفاظ میں:۔

ہم طالبِ شہرت ہیں ہمیں ننگ سے کیا کام

بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا

*...... تمام جائیدادیں سلائی مشینوں کی کمائی سے بنائیں: علیمہ خان

o ...... مادام علیمہ خان صاحبہ کی خدمت میں بصد تکریم و احترام عرض ہے کہ ذہن پہ ذرا زور تو ڈالیں کہ کیا واقعی وہ سلائی مشینیں ہی تھیں یا پھر کوئی خلائی مشینیں یا نوٹ بنانے والی مشینیں تو نہیں تھیں۔؟ کیونکہ اور بھی بڑے لوگ سلائی مشینوں کا کام کرتے ہیں لیکن اتنا کچھ بنتا نہیں ہے جس قدر پراپرٹی پیسہ آپ کا سامنے آ رہا ہے۔

*...... ڈیل والی بات تو ممکن ہی نہیں‘ نہ کسی نے ڈیل مانگی ہے‘ سینیٹر ظفر الحق

o ...... راجہ ظفر الحق چئیرمین مسلم لیگ ن ہیں اور ایوانِ بالا میں اپوزیشن لیڈر بھی ہیں ۔موصوف صاحبان سیاست میں نیک نام اور لائق احترام مانے جاتے ہیں لہٰذا لاج و لحاظ لازم ہے لیکن ڈیل اور NRO کے ضمن میں عرض ہے کہ ساری دال نہ سہی لیکن کچھ تو ضرورکالا ہے:۔

زلفیں ہیں بکھری بکھری ٹیڑھا کان کا بالا ہے

اتناتو سبھی جان گئے کچھ دال میں کالا کالا ہے

*...... ملک مخلص قیادت میں صحیح سمت میں آگے بڑھ رہا ہے: علی محمد خان

o ...... سبحان اللہ‘ قربان جاؤں کیا تاریخی اور سنہری بول بولا ہے نئے پاکستان میں جسے چند ناسمجھ لوگ مسائلستان سمجھتے ہیں اور مہنگائی کا طوفان کہتے ہیں۔ کپتان سے کارکنان تک سارے کام چھوڑ کر اپوزیشن کو گالیاں اور دھمکیاں دینے پہ ایسے لگے ہوئے ہیں جیسے انھیں اور کوئی کام آتا ہی نہیں ہے‘ کوئی زبان چلانے کا طریقہ ہے نہ ایوان چلانے کا سلیقہ اور ملک قرضوں کی گہری دلدل میں پھنسا ہے ۔ معاشی بحران سر چڑھ کر بول رہا ہے بلکہ ٹی وی سکرینوں پہ ننگا ناچ رہا ہے۔

نئے پاکستان میں نئے نرالے ایجنڈے ہیں بس مرغیاں ہیں اور انڈے ہیں۔ بجلی گیس ملتی نہیں اور سرد موسموں میں چولہے ٹھنڈے ہیں۔ روز منی بجٹ آتے ہیں اور ٹیکس بڑھائے جاتے ہیں۔ ادویات مہنگی ہو رہی ہیں اور روزمرہ کے استعمال کی چیزیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ عوام بھوکے مرتے ہیں دو وقت کی روٹی کو ترستے ہیں لیکن اس غربت‘ بھوک‘ بے روزگاری میں بھی گھبرانا بالکل بھی نہیں ہے کیونکہ قیادت مخلص ہے اور ملک صحیح سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔


ای پیپر