حبس کے موسم میں مثبت خبریں!
18 جنوری 2019 2019-01-18

تصویر کے کئی رخ ہوتے ہیں ، بات سیاق و سباق کے ساتھ ہی اچھی لگتی ہے ورنہ آدھی گواہی کے ساتھ پورا آنسو مگرمچھ کا ہو تب بھی سلطنت ہلانے کی طاقت رکھتا ہے ۔ اس میں دو رائے نہیں کہ ہم ڈس انفارمیشن کے ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہونے والی ایک پوسٹ ، کمنٹ یا الزام حقیقت سے زیادہ خوفناک ثابت ہوتا ہے ۔ معلومات کے بے شمار تیز تر ذرائع کے باوجود ہمیں سچ باقاعدہ تلاش کرنا پڑتا ہے اور اکثر سچ تک پہنچتے پہنچتے اس کی اہمیت یا طاقت نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے ۔ یہاں کسی پر کوئی الزام لگا دیا جائے تومتاثرہ شخص صفائیاں دیتے دیتے ہی تھک جاتا ہے لیکن الزام تراشی پر مبنی پوسٹ پھیلتی چلی جاتی ہے ۔ ان حالات میں چند ہفتے قبل ’’ مثبت خبر‘‘ کے ایک بیانیہ نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی تھی ۔ اب کافی حد تک اس بیانیہ کے حوالے سے لکھی گئی طنزیہ پوسٹوں کی گردتھم چکی ہے لیکن دانش کدہ میں بیٹھنے والوں کو سوچ کے نئے زاویے ضرور مل گئے ہیں ۔ سوال اٹھنے لگے ہیں کہ کیا مثبت خبر کا تعلق صحافت سے نہیں ہوتا یا پھر ہم بحیثیت قوم مجموعی طور پر منفی سوچوں کے حصار میں ہیں ۔

یاد آتا ہے ان دنوں درویش ایک نجی چینل پر کرائم شوز کے سکرپٹ لکھا کرتا تھا ۔ رمضان المبارک کے آغاز میں فیصلہ کیا گیا کہ جرائم کی داستانوں پر مبنی وہ پروگرام جو پہلے ہفتے میں دو دن چلتا تھا اب ہر روز افطاری کے وقت چلایا جائے گا ۔ ان دنوں مجھے پہلی بار خیال آیا کہ کیا اب ہمارے یہاں ریٹنگ کا مطلب دکھ درد اور مایوسی پھیلاناہی رہ گیا ہے ۔ کیا اب اسی پروگرام کو ریٹنگ کے پیمانے پر اونچا استھان میسر آئے گا جو دکھ ، درد ، آہیں ، چیخیں اور قتل و غارت کے سہارے کمزور دلوں اور جذبات سے کھیلنے پر قادر ہو گا؟ اس کے بعد میں نے ایک بار پھر نئے سرے سے کمیونٹی جرنلزم کا مطالعہ کیا ۔ صحافت کے نئے در وا ہوئے تو احساس ہوا کہ صحافت کا بنیادی مقصد تو کمیونٹی کی خدمت اور عوام کے مسائل کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے حل کی جانب سفر طے کرنا ہے ۔ ہمارے یہاں البتہ ریٹنگ کا معیار الگ ہے ۔ ہم ہر اس چیز کو ریٹنگ کا حصہ قرار دیتے ہیں جو دیکھی گئی ہو ۔ ایسا کوئی پیمانہ یہاں بنایا ہی نہیں گیا جس کی بنیاد پر طے پائے کہ دیکھے گئے پروگرامز میں سے کیا پسند کیا گیا اور کسے

برا سمجھا گیا ۔ بہرحال مثبت خبر کے بیانیہ کے بعد درویش نے فیصلہ کیا کہ ایک نظر اپنے ارد گرد موجود مثبت خبروں کے حوالے سے بھی جائزہ لیا جائے۔

ایک عرصہ سے کرائم آبزرور کے طور پر یہ بات محسوس کر رہا ہوں کہ ہمارے یہاں جرائم پر مبنی خبروں کو تو اچھالا جاتا ہے لیکن جرائم کے بعد مجرموں کی گرفتاری یا قانونی کاروائی کو اتنی اہمیت نہیں دی جاتی ،کمیونٹی جرنلزم میں البتہ اس کے برعکس ہوتا ہے ۔تاحال بہت سے میڈیا چینلز کا بنیادی مقصد کمیونٹی کی مدد سے زیادہ ریٹنگ گیم کی دوڑ میں شامل ہو کر سب کچھ چلا دینا ہی ہے ۔ بہت کم ادارے ایسے ہیں جو صحت مندانہ صحافت کو فروغ دیتے ہیں اور ان کا مقصد پاکستان کی ترقی ہے ۔ اس میں دو رائے نہیں کہ مسائل کی نشاندہی کرنا میڈیا کا بنیادی کام ہی نہیں فرض بھی ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ مسائل اور گندگی میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔

منفی خبروں میں جرائم کی خبریں خاصی اہمیت رکھتی ہیں ۔ ہیجان خیزی کے لئے کرائم کی خبروں کا سہارا لینا معمول کی بات ہے لیکن کرائم مانیٹر کرنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ گزشتہ چند روز میں پنجاب پولیس کو بہت سی کامیابیاں ملی ہیں ۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ صوبے میں کوئی جرم نہیں ہو رہا بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ پولیس ملزمان کو انتہائی کم وقت میں گرفتار کرنے میں کامیاب ہو رہی ہے ۔اگلے روز آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی نے صوبے کے تمام آر پی اوز اور ڈی پی اوز کے ساتھ ویڈیو لنک کانفرنس کے دوران تمام اضلاع کی رپورٹ لی اور افسران کو ہدایات جاری کیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب وہ روزانہ کی بنیاد پر کرائم رپورٹ خود مانیٹر کریں گے ۔ میرے خیال میں یہ انتہائی اچھا فیصلہ ہے ۔ جب پولیس کا سربراہ خود کرائم کی صورت حال مانیٹر کرتے ہوئے افسران کو ہدایات دے تو صورت حال بدل جاتی ہے ۔ اس سے قبل بھی آئی جی پنجاب نے متعدد ایسے فیصلے کیے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پولیس کے مسائل سے لے کر صوبے کے سکیورٹی امور کو گراؤنڈ لیول تک بخوبی جانتے ہیں ۔

مثبت خبروں میں ایسی مثبت خبریں بھی ہے جنہوں نے کئی والدین کی آنکھیں ٹھنڈی کیں اور لاکھوں کو خوف اور وسوسے کی دلدل سے باہر نکال دیا ہے ۔ گزشتہ چند دنوں کے ریکارڈ کے جائزہ سے معلوم ہوا کہ لاہور پولیس نے خاص طور پر اغوا شدہ بچوں کی باحفاظت بازیابی اور ملزمان کی فوری گرفتاری کو یقینی بنایا ہے اور اب تک متعدد بچے بازیاب کر کے ان کے والدین کے حوالے کئے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک تفصیلی کالم ڈی پی او ٹوبہ ٹیک سنگھ، صادق علی پر الگ سے بنتا ہے جنہوں نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت بچے اغوا کرنے والا ایک پوراگینگ ٹریپ کر کے گرفتار کیاجبکہ اس پلاننگ میں ایک صحافی اور عام شہری بھی پولیس کے معاون بنے ۔ جہاں تک لاہور کی بات ہے تو یہاں گلشن اقبال پارک سے اغوا ہونے والے پانچ سالہ بچے کو تین دن میں بازیاب کروا لیا گیا جس میں لاہور پولیس اور خصوصا ڈولفن فورس کا اہم کردار تھا ۔اسی طرح چند روز قبل نواں کوٹ کے علاقہ سے اغوا ہونے والی نومود بچی کو تین ماہ میں بازیاب کر کے ملزمہ نازیہ اکرم کو شہر کے ایک اور ہسپتال سے گرفتار کر لیا گیا جس کی وجہ سے ہسپتالوں سے بچے اغوا ہونے کی وارداتوں میں نمایاں کمی آئی ۔اس کیس میں پولیس نے تین ماہ تک تحقیقات کیں اور ملزمہ کا تعاقب کیاجس کے بعد اسے گرفتار کرنے میں کامیاب ہو گئی ۔ اسی طرح چوہنگ سے 15 سالہ بچی مینہ بی بی کو بھی سیف سٹی کیمروں کی مدد سے 7 روز مین بازیاب کر کے اس کے والدین کے حوالے کیا گیا جبکہ جوہر ٹاؤن سے ڈولفن فورس نے اور بھائی کوٹ سے سندر پولیس نے ایک ایک مغوی بچہ بازیاب کروایا ۔ یہ تمام مثبت اور حوصلہ افزا خبریں جنوری یعنی اسی ماہ کی ہیں۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ آئی جی پنجاب کی سٹریٹیجی کامیاب نظر آتی ہے اور وہ تیزی سے کرائم کنٹرول ٹاسک پورے کر رہے ہیں ۔ دوسری جانبتیزی سے ملزمان کی گرفتاری سے واجح ہوتا ہے کہ سی سی پی او لاہوربی اے ناصر ، ڈی آئی جی آپریشنز لاہور وقاص نذیر، ڈی آئی جی انویسٹی گیشنز لاہورانعام وحید سمیت ڈولفن فورس اور سیف سٹی اتھارٹی کے درمیان بہترین کمیونی کیشن کا سلسلہ قائم ہے ۔

یقین مانیئے یہ محض اینگلنگ کی گیم ہے ورنہ ہمارے ارد گرد منفی خبریں کم اور مثبت کام زیادہ ہیں ۔ ہم یہ تو کہہ دیتے ہیں کہ یہاں مسجد کے واٹر کولر کے ساتھ موجود گلاس کو بھی زنجیر سے باندھا جاتا ہے لیکن یہ نہیں بتاتے کہ وہ واٹر کولر بھی کسی شخص نے لوگوں کی سہولت کے لئے فی سبیل اللہ لگوایا ہوتا ہے۔مجرم ہر ملک اور کمیونٹی میں ہوتے ہیں لیکن اگر سوچ کا زاویہ بدل کر دیکھیں تو احساس ہوتا ہے کہ بحیثیت قوم ہم مجرم نہیں ہیں۔


ای پیپر