بے موسمی تربوز اور اداکارہ ’’میرا‘‘ کی خواہش ۔۔۔؟
18 جنوری 2019 2019-01-18

میرے کم عمر بیٹے نے صبح سویرے مجھے اخبار تھماتے ہوئے حیران کر دیا کیونکہ وہ مجھے سب سے اہم ’’خبر‘‘ دکھا رہا تھا ۔۔۔ میں نے محسوس کیا کہ آج کی اخبار کی سب سے ’’اہم خبر‘‘ یہی ہے ۔۔۔ جس کے سارے پہلو ہی خوش آئند ہیں جو ہمارے حوصلے بلند کرنے کا باعث بھی بنی ۔۔۔؟ !! میں آپ کو تنبیہ کرنا چاہتا ہوں کہ اس خبر کو ’’خبر‘‘ ہی سمجھا جائے لطیفہ یا چٹکلا ہر گز نہ سمجھیں ورنہ میں آئندہ آپ کو ’’اچھی اچھی‘‘ خبریں سنانے سے گریز کروں گا ۔۔۔؟

خبر آپ بھی ملاحظہ کریں ۔۔۔

’’انگلش میرا پسندیدہ مضمون ہے استانی ہوتی تو بچوں کو انگریزی پڑھاتی ۔۔۔ اداکارہ میرا ‘‘۔۔۔

آپ بھی خبر سن کے ۔۔۔ خوش ہوئے ۔۔۔؟؟!!!

آپ لوگ اداکارہ ’’ میرا ‘‘ کو جس اینگل سے دیکھتے ہیں میں اُنہیں اُس ’’اینگل‘‘ سے بھی دیکھتا ہوں لیکن کبھی کبھی میں اُنہیں دوسرے انداز میں بھی تکتا ہوں ۔۔۔ اداکارہ ’’ میرا ‘‘ کا ’’اِنگلش‘‘ مسئلہ نہیں ہم سب کا مسئلہ ہے ۔۔۔ انگلش Language میں ہر چیز یا کہہ لیں ہر کام کرنے سے پہلے سوچتا ہوں ۔۔۔ اس کا انگلش میں کیا مطلب ہوگا ۔۔۔ کل میں تربوز کھانے لگا ۔۔۔ تربوز اس موسم میں نہیں ہوتا لیکن آجکل دسمبر میں وہ ہوتا ہے جسے دسمبر میں نہیں ہونا چاہیے۔ جون میں وہ ہوتی ہے جیسے جون میں نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔ یہ سب سائنس کے کمالات ہیں ۔۔۔!! (بہت سی دوسری چیزیں بھی نہیں ہونی چاہئیں جہاں جہاں وہ پائی جاتی ہیں)۔۔۔

ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ کل میں تربوز کھا رہا تھا تو سوچ رہا تھا کہ ’’ بے موسمی تربوز ‘‘ کو انگریزی میں کیا کہا جائے ۔۔۔؟؟ میں نے غور کیا تو تربوز پے آ کے میری انگریزی ختم ہو گئی ۔۔۔ ’’ بے موسمی ‘‘ ۔۔۔؟!! بچپن میں ہم جب کبھی ’’قیمے والا نان‘‘ کی ایجاد سے پہلے’’ بیسن والی نان‘‘ کھاتے تو مقامی زبان میں اُسے ’’ مِسی روٹی‘‘ کہتے تھے میں نے سوچا کہ ’’ مِسی روٹی‘‘ کو انگلش میں کیا کہتے ہوں گے ۔۔۔؟!!

Bread ۔۔۔ روٹی ۔۔۔ ختم ہو گئی میری انگلش ۔۔۔ اگر میں ٹیلی ویژن اینکر ہوتا تو میں اداکارہ ’’ میرا ‘‘ کا انٹرویو کرتا ۔۔۔ ’’ایک دن ’’ میرا ‘‘ کے ساتھ‘‘ ۔۔۔ پہلے تو پروگرام کے نام پر ہی شدید طوفان کھڑا ہوجاتا ۔۔۔ فیس بک پر مزمل صدیقی ابھی عنوان پر ہی ستارہ امین کو مل سے پوچھے بغیر ہی بحث چھیڑا دیتا کہ حا فظ مظفر محسن نے ۔۔۔ ’’ ایک دن ’’ میرا ‘‘ کے ساتھ‘‘ میں کیا کیا پوچھا ۔۔۔ کیا کیا ۔۔۔ کیا ۔۔۔؟؟ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ وہ پروگرام بھی اچھا خاصہ مزے دار ہوتا ۔۔۔ جیسا کہ ایسے پروگرام ہوتے ہیں لیکن ۔۔۔ جہاں تک ’’ اردو انگلش‘‘ بول چال کی بات ہے تو کتنامزہ آتا۔ جب ’’ میرا ‘‘ کی انگلش بھی ہر موڑ پر ختم ہو جاتی ہے اور میں بھی ۔۔۔ انگلش کے آگے ہاتھ جوڑے کھڑا ہوتا ۔۔۔؟�آٰایک دن بچوں نے ضد کی دادی اماں تو فوت ہو چکی ہیں ہمیں کہانی کون سنائے گا ۔۔۔؟؟

میں نے عرض کی نانی اماں کو چاہیے کہ وہ یہ ڈیوٹی سر انجام دیں ۔۔۔!!

وہ حیرت اور مایوسی سے بولے ۔۔۔

’’اباّ حضور نانی اماں بھی آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے ’’فوت ہو چکی ہیں‘‘ ۔۔۔؟

’’ہائیں‘‘ ۔۔۔ میں نے سر پکڑ کر ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔ تو ماحول سنجیدہ ہو گیا ۔۔۔

جب میں نے ماحول پر اداسی طاری ہوتے دیکھی تو ہمت کی ۔۔۔ ادھر اُدھر دیکھا ۔۔۔ خود پر سنجیدگی مزید طاری کرتے ہوئے بچوں کو حکم دیا کہ ’’لو بچوں بزرگوں کی عدم دستیابی پر میں آپ کو آج ایک بہت بڑے بادشاہ کی کہانی سناتا ہوں ۔۔۔

’’عمران خان کی ‘‘ سب اِک ساتھ بولے ۔۔۔؟

’’ نہیں بھئی وہ تو PM ہے۔۔۔‘‘

’’پھر نواز شریف کی ‘‘ ۔۔۔ ؟؟ سب گویا ہوئے ۔۔۔؟؟

وہ تو ’’چھٹی‘‘ پر ہیں ۔۔۔ میں نے وضاحت کی ۔۔۔ احتجاج شروع ہوا ۔۔۔

’’ یہ آپ ہمیں چکر دے رہے ہیں اباّ حضور ۔۔۔ سنائیں بڑے بادشاہ کی کہانی ۔۔۔؟!!

ڈرتا کیا ناں کرتا ۔۔۔

پہلے تو سوچا آصف علی زرداری کی کوئی کہانی سناؤں پھر میں نے بچوں کا غصہ دیکھا تو ٹال دیا ۔۔۔ یہ معاملہ بھی ۔۔۔ اور اِک تازہ اچانک دماغ میں آنے والی ۔۔۔ ’’ پچاسی لفظوں ‘‘ کی کہانی سنائی ۔۔۔ کچھ اخبارات میں آجکل ’’سو لفظوں‘‘ کی کہانی جو چھیتی ہے تو ہم پچاسی لفظوں کی کہانی کیوں نہیں سنا سکتے۔۔۔

عرض کیا ۔۔۔

پیارے بچو کسی بہت بڑے ملک کا بہت بڑا بادشاہ تھا ( بچوں نے میرے پیٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یک زبان کہا ۔۔۔ اُس کا پیٹ بھی بڑا سا تھا؟)

میں ناراض ہونے لگا تو سب نے ہاتھ جوڑے میں نے بات شروع کی ۔۔۔ پھر سے

’’پیارے بچوں کسی بہت بڑے ملک کا بہت بڑا بادشاہ تھا اُس کی سات بیٹیاں تھیں ۔۔۔ اُس دور میں چونکہ محکمہ ’’فیملی پلاننگ‘‘ نہ تھا اِس لیئے اگلے سال بادشاہ کے ہاں ایک اور بیٹی پیدا ہو گئی اور بادشاہ کی آٹھ بیٹیاں ہو گئیں ۔۔۔!!

کہانی ختم ۔۔۔

بچوں نے شور مچایا ۔۔۔

میں نے ایک نہ سنی ۔۔۔ آپ بھی چھوڑیں اِس پچاسی الفاظ کی کہانی کو ۔۔۔ میرا یہ شعر ملاحظہ کریں اور ملکی حالات پر غور کریں جہاں فیس بک پر ایک ایسا کلپ چل رہا ہے جس میں رانا ثناء اللہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے نہایت خوش مزاجی سے مل رہے ہیں اور فواد چوہدری نے رانا ثناء اللہ کے دائیں گال پر بوسہ بھی عنائت فرمایا ہے ۔۔۔

میں تنگ کر رہا تھا شرارت میں اُس کو

وہ جنگ کر رہا تھا مجھے کب خبر تھی؟؟


ای پیپر