ایسے منصفانہ فیصلے کون کرے گا
18 جنوری 2019 2019-01-18

ایک مرتبہ قبیلہ بنی مخزوم کی ایک عورت فاطمہ بنت اسود نے چوری کی۔ یہ خاندان چوںکہ قریش میں عزت اور وجاہت کا حامل تھا، اس لیے لوگ چاہتے تھے کہ وہ عورت سزا سے بچ جائے اور معاملہ کسی طرح ختم ہوجائے۔ حضرت اسامہ بن زیدؓ جو رسول اکرم کے منظور نظر تھے۔ لوگوں نے ان سے کہا کہ آپ اس معاملے میں رسول اکرم سے معافی کی سفارش کیجیے۔ انہوں نے حضور اکرم سے معافی کی درخواست کی۔ آپ نے ناراض ہو کر فرمایا: ” بنی اسرائیل اسی وجہ سے تباہ ہوگئے کہ وہ غرباءپر بلا تامل حد جاری کردیتے تھے اور امراءسے درگزر کرتے تھے، (یہ تو فاطمہ بنت اسود ہے) قسم ہے رب عظیم کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اگر (بالفرض) فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتیں تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ ڈالتا۔ (صحیح بخاری)

یہ ہے انصاف کی اہمیت جو اس حدیث سے ا±جاگر ہوتی ہے ،ہاں انصاف سے یاد آیا کہ ایک ایسا ملک بھی ہے جہاں حکومت تو جمہوری تھی پر راج ایک قاضی نے کیا۔ قاضی صاحب اپنے آپ کو لوگوں کا مسیحا اور ریفامر سمجھتے تھے۔ تھے تو وہ قاضی مگر انداز، چال ڈھال اور باتیں سیاستدانوں والی لگتی تھیں، قاضی صاحب نے تعلیم ،انسانی حقوق اور صحت کو لیکر اتنے سوموٹو لئے کہ تھوڑے ہی دنوں میں عوام میں اتنے مقبول ہو گئے کہ لوگوں کے گھروں میں کوئی ناچاقی بھی ہوتی تو وہ قاضی صاحب کی عدالت میں پہنچ جاتے۔قا ضی صاحب نے اپنے دور میں بہت سے تاریخی فیصلے بھی کئے۔قاضی صاحب کے قابلِ ستائش فیصلوں میں سے ایک فیصلہ اپنے ملک کے سکولوں میں بچوں کی فیسیں کم کروانا بھی ہے جس نے قاضی صاحب کو عوام میں ہیرو بنا دیا۔قاضی صاحب نے ایک تقریب میں کہا کہ جوڈیشل ایکٹوازم کی بنیاد انسانیت کی بہتری کیلئے رکھی، کسی کے کام میں مداخلت نہیں کی۔مجھے قاضی صاحب کی نیت پر کوئی شک نہیں پر اس جوڈیشل ایکٹوزم کی وجہ سے ایک ٹرین نو ماہ بند رہی اور اس ملک کی نازک معیشت پر ہزاروں ارب کا قرض چڑھ گیا ۔

اس ملک میں ایک دائیں بازو کی جماعت نے ایک بڑے شہر کے باسیوں کے لئے ایک ٹرین کا منصوبہ بنایا اور اس پر کام شروع کروا دیا مگر قاضی صاحب کی ماتحت عدلیہ نے اس پر تا حکم ثانی کام رکوا دیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس ملک کی نازک معیشت پر ہزاروں ارب کا قرض چڑھ گیا۔آج وہ ٹرین گلے میں پھنسی وہ ہڈی بن گئی ہے کہ نہ نگل سکتے ہیں اور نہ ہی پھنک سکتے ہیں۔ ماتحت قاضی صاحب نے ہو سکتا ہے تب اپنی فہم و فراست اور قانون کے مطابق فیصلہ دیا ہو مگر ایک عام آدمی کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ کیوں اس ملک اور اس کی معیشت پر اربوں کا بوجھ ڈالا گیا جب بعد میں ا±سی ٹرین کو عوام کے لئے تحفہ قرار دینا تھا۔ اگر نو ماہ کا تعطل نہ ہوتا تو آج وہ ٹرین شہر میں فراٹے بھر رہی ہوتی اور کچھ نہ کچھ حکومتی خزانے میں بھی جا رہا ہوتا۔ اب اس کی تعمیر نوزایئدہ حکومت کے لئے باقاعدہ ایک بوجھ ہے اور جن حالات میں ملکی معیشت گزر رہی ہے ٹرین چلانا کسی چیلنج سے کم بھی نہیں۔ مجھے قاضی صاحب کی نیت پر کوئی شک نہیں انھوں نے انسانیت کی بہتری کے لئے بہت سے اقدام کئے مگر ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کی غریب کی جھونپڑی کو گرا دیا اور امیر وں کے محلات اور کوٹھیوں کو ریگولارائز کروانے کا حکم صادر کر دیا۔ مجھے قاضی صاحب پر پورا یقین ہے کہ انھوں نے دانستہ کوئی غلطی نہیں کی انھوں نے جو بھی فیصلے کئے وہ عوام اور اس ملک کے وسیع تر مفاد میں کئے۔ چاہے وہ ا±س ملک کی آبادی کے لحاظ سے بڑے شہر میں بلند عمارتوں کی تعمیر ہو یا ا±س ملک کے دارالحکومت میں ایک بلندو بالا ہوٹل کا معاملہ۔ میرے قاضی نے پہلے بلند وبالا عمارتوں پر پابندی لگا دی اور پھر جب انھیں احساس ہوا کہ لوگ تو اس طرح بھوکے مر جائیں گے تو قاضی کے دل میں غریب مستری، مزدور اور راج کے درد کا احساس ہواتو اُنہوں نے بلند وبالا عمارتوں پر سے پابندی ا±ٹھا لی۔ دوسرا دارالحکومت میں ہوٹل کی تعمیر پر اتنا منصفانہ فیصلہ دیا کہ بڑے سے بڑا ناقد بھی میرے قاضی صاحب کو داد دئیے بغیر نہ رہ سکا۔ کہ سات ارب قسطوں میں جمع کرواو¿ اور تعمیر جاری رکھو کیونکہ اس پر غریب لوگوں کا اتنا پیسہ لگ چکا تھا اور اس کی تعمیر کو روکنا سراسر انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور ا±س غریب پارٹی کی دل آزاری تھی جس نے اپنی ساری زندگی جمع پونجی اس ہوٹل کی تعمیر پہ لگا دی۔ 2018 کی ایک رپورٹ کے مطابق ا±س ملک کی عدالتوں میں اٹھارہ لاکھ سے زائد کیسز فیصلوں کے منتظر ہیں مگر قاضی صاحب نے ا±س مسئلے پر توجہ دی جو ا±س ملک میں آنے والی نسلوں کو درپیش ہے وہ ہے پانی اور ڈیم کی تعمیر۔ گو کہ دائیں بازو کی جماعت اپنے دور حکومت میں ڈیم کی تعمیر کے لئیے فنڈز بھی مختص کر چکی تھی اور اس کا ٹھیکہ بھی ایک کنسٹرکشن کمپنی کودے چکی تھی مگر اس ڈیم کی تعمیر پر حقیقی عمل درآمد قاضی صاحب نے کروایا اور اس کی تعمیر کے لیئے جو رقم درکار تھی ا±س کے لئیے ملک اور دنیا بھر میں سے کروڑوں کیا اربوں کی رقم جمع کر کے ڈیم فنڈ میں ڈالی اور قاضی صاحب نے یہ عہد کیا کہ بعد از ملازمت بھی اس ڈیم فنڈ اور اس کی تعمیر پہ پہرا دیں گے کیونکہ یہ ہمارے ملک کی بقا اور آنے والی نسلوں کی آبیاری کا مسئلہ ہے اور رہی بات انصاف ملنے کی وہ تو روز محشر ہونا ہی ہے۔

کوئی مانے نہ مانے مگر پورا یقین ہے کہ ا±س ملک کے قاضی کی نیت صاف تھی وہ اپنے ملک کی آنے والی نسلوں کے لئے حقیقت میں کچھ کرنا چاہتے تھے۔ تاریخ میں یہ بھی یاد رکھا جائے گا کہ قاضی صاحب نے اس ملک کے ایک رئیل اسٹیٹ ٹائیکون سے کس طرح ایک ہزار ارب مانگ لئے ۔ارے رشوت نہیں وہ ایک ہزار ارب ڈیم کے لئے مانگ رہے تھے اور ساتھ یہ آفر بھی کی وہ خود ا±س شوری کا حصہ بن کر ا±س رئیل اسٹیٹ ٹائیکون کو کلین چٹ دیدیں گے جو ا±س کے خلاف مقدمات س±ن رہی تھی۔ بعد میں تاریخ نے یہ دن بھی رقم ہو گیا کہ قاضی کی عدالت میں وہ ٹائیکون اس آفر پر صرف مسکراتے رہے اور بعد میں چسم فلک نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ ا±س بڑی رئیل اسٹیٹ ائمپائر کے اکاو¿نٹ بھی ڈی فریز ہوگے اور ا±س نے پھر سے کام کرنا شروع کر دیا جن کے بارے میں قاضی صاحب کی عدالت میں جانے والے باخبر لوگ بتاتے تھے کہ "یہ تو گیﺅ رے" کیونکہ قاضی صاحب ا±س تعمیراتی کمپنی کے مالک کو غریبوں کی زمینوں پر قبضہ کرنے والا سمجھتے تھے اور ا±ن کے اکاو¿نٹس منجمد کردئیے تھے اور قاضی صاحب نے لوگوں اور کمپنی دونوں کو پیسے لینے اور دینے سے منع کر دیا۔ مگرپھر سب کچھ اچانک بدل گیا جب ناجائز راتوں رات جائز ہو گیا۔

قاضی صاحب کے راج میں انصاف ہر شخص کی دہلیز پہ پہنچتا تھا۔ قاضی صاحب کی عدالت میں 160 سے زائد میڈیا ورکرز کا کیس جو کہ انھوں نے اس ملک کے سب سے بڑے میڈیا نیٹ ورک (جو وہ کبھی نہ بن سکا)کے خلاف تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر کیا ہوا تھا وہ ایک سال چلا۔ ورکرز ہر پیشی پر ملک کے مختلف شہروں سے عزت ماب کی عدالت میں پیش ہوتے مگر ایک سال بعد بھی وہ آج وہیں کھڑے ہیں جہاں پہلے دن کھڑے تھے۔ زبانی احکامات تو شاید آ گئے مگر تحریری حکم نامہ پتا نہیں کب آے کیوں کہ ا±س ملک میں ز±بانی احکامات پہ تبادلے تو ہوسکتے ہیں پیسے نہیں ملتے۔

کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ قاضی صاحب نے اپنے ملک میں نہ سابقہ حکومتوں کو کام کرنے دیا اور نہ موجودہ حکومت کو کھل کر کھیلنے کا موقع دیا حتی کہ ایک وزیر کو یہ تک کہنا پڑھ گیا کہ عدالتیں انتظامی فیصلوں سے اجتناب کریں۔ دونوں حکومتوں کے وزرا سی خوف میں مبتلا رہے کہ کب قاضی صاحب کا بلاوا آ جائے ۔ وزرا اپنے کام پر توجہ دینے کی بجائے قاضی صاحب سے جان خلاصی کے پلان بناتے رہے۔ ظالم ناقدین قاضی صاحب پر دوہرئے معیار اور انصاف کا الزام بھی لگاتے ہیں کہ ایک ہی ایشو پر ایک پارٹی کے وزرا کو نااہل کرنا اور دوسری پارٹی کے وزرا کو ریلیئف دینا بھی قاضی صاحب کا ہی خاصہ رہا ہے (میں اس بات کو نہیں مانتا کہ قاضی صاحب انصاف کا دوہرا معیار قائم کریں یہ ظالم ناقدین ہیں جو قاضی صاحب پر اتنا بے معنی الزام لگاتے ہیں ) پر ہاں شاید اس کا فیصلہ وقت اور آنے والے حالات ہی کریں گے کہ کون د±رست تھا اور کون غلط۔

قاضی صاحب نے انسانیت کی فلاح کا ہر کام کیا جس حد تک ممکن تھا لوگوں کی مدد کی مگر قاضی صاحب کی ماتحت عدالتوں میں بہت سے سائل انصاف کے لئے بھی ر±لتے رہے۔ کیونکہ قاضی صاحب ا±س ملک کی صوبوں کی گورننس اور ا±ن کے چیف ایگزیکٹو پر اپنا رعب اور دبدبا بنانے میں مصروف تھے۔ قاضی صاحب اتنے انصاف پسند تھے کہ کبھی کسی احتساب کے ادارے اور انتظامیہ کےدوسرے اداروں کو ایک الزام پر لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کی اجازت نہیں دی نہ ہی بقول قاضی صاحب نے خود اپنی عدالت میں کسی کی پگڑی ا±چھالی(قاضی صاحب کی عدالت میں جانے والوں کی رائے اس سے مختلف ہے )۔قاضی صاحب کے قلم میں اتنی طاقت تھی کہ بیک جنبشِ قلم ملک کا حکمران ایک لمحے میں اسیر بن جاتا، قاضی صاحب ا±س ملک کے لئے ایک مسیحا مانے جاتے ہیں جب تک وہ قاضی رہے سب ادارے اپنا اپنا کام کرتے تھے مجال ہے کوئی ہسپتال کام نہ کرے ، کوئی ایس ایچ او کسی بے گناہ کو اندر کرئے کسی امیر کی جرات کہ وہ کسی غریب کا حق کھا جائے۔ اب س±نا ہے کہ وہ قاضی صاحب ریٹائر ہوگئےہیں اور عوام کی انکھوں میں آنسو ہیں (یہ نہیں پتا کہ خوشی کے ہیں یا غم کے) کہ قاضی صاحب کے جانے کے بعد ایسے منصفانہ فیصلے کون کرے گا ۔ قاضی صاحب س±نا ہے کہ بہت بھاری دل اور پ±رنم آنکھوں کے ساتھ رخصت ہوئے ہیں مگر اپنے دورِحکمرانی میں ا±ن کا کیا رعب، دبدبہ اور تمکنت تھی کہ کوئی بڑے سے بڑے اعلیٰ حکومتی عہدیدار سے لیکر کوئی بھی بڑی سے بڑی شخصیت بھی قاضی صاحب کے سامنے نہیں ٹھہرتی تھی، ہر چیز کو فنا ہے اور جہاں میں کسی کو بقا اور دوام حاصل ، ثبات کسی کو حاصل نہیں۔ ثبات، دوام، بقا اور ہمیشہ رہنے والی ذات صرف رب کی ہے۔ اب آنے والے قاضی صاحب کے بارے میں س±نا ہے کہ وہ بہت پروفیشنل قاضی ہیں اور ا±ن سے زیادہ ا±ن کے فیصلے بولتے ہیں ۔


ای پیپر