Praise of Allah, Naat, Manqabat and mystical words are a journey in the same direction
کیپشن:   فائل فوٹو
18 فروری 2021 (11:34) 2021-02-18

حمد، نعت، منقبت اور عارفانہ کلامو ایک ہی سمت کا سفر ہے۔ زائر حرم کے لیے مکہ اور مدینہ دو الگ شہر نہیں و زائر محبت کے لیے مدینہ اور نجف کبھی جدا نہیں۔ اقبالؒ ایسے مردِ خود آگاہ و خدا مست نے مدینہ و نجف کو ہم آہنگ لکھا ہے۔

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ

سرمہ ہے مری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف

توحید، رسالت اور ولایت باہم ہم مشرب و معارف ہیں۔ ولایت رسالت کا تعارف ہے اور رسالت توحید کا! خلق کے شعور کو توحید کی خوشبو تک رسائی رسالت کے واسطے سے حاصل ہوتی ہے اور پیغامِ رسالت کی معنویت و معرفت اسے ولایت کے وسیلے سے ملتی ہے۔ کچھ اچنبھا نہیں کہ ایک عارفِ حق کے کلام میں حمد ، نعت ، منقبت کی خوشبواس طرح باہم گھل مل جاتی ہے کہ بسا اوقات ان خوشبوؤں کی لپٹوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا ایک عامی کے لیے دشوار ہو جاتا ہے۔

ایک عارف کو جب عبدالقادرؒ کی معرفت ملتی ہے تو اس کے بیان کی شدتِ تاثیر سے سننے والے کو ”ھوالقادر“ کے اوصاف کا گمان ہونے لگتا ہے۔ جس ذات کے عبد کی شان یہ ہے اس عبد کے معبود کی شان کیا ہوگی؟اس خیال پر پہرہ دیا جائے تو منقبت پر حمد کا گمان نہ ہوگا۔ اسی طرح منقبت اور نعت کے درمیان فرق ہے۔ منقبت میں یہ دھیان رہے کہ جس بارگاہ کے غلاموں کی یہ شان ہے ‘ اس بارگاہِ حسن و جمال کا اپنا عالم کیاہوگا۔ جس کے بردوں کے بردے کا یہ حال ہے کہ وہ صاحبانِ حال ہیں‘ وہ صاحب کس قدر صاحبِ کمال ہوں گے۔ کوئی زمین اپنے آسمان کو نہیں پہنچ سکتی ہے۔ چاند اپنے سورج سے منور تو ہے لیکن کوئی چاند اپنے سورج کی جگہ نہیں لے سکتا۔ سورج کے ذمے بے شمار زمینوں کو بقہ نورو نکہت بنانے کا کام ہے .... اور یہ کام جاری و ساری ہے۔ کلیہ یہ ہے کہ کوئی مربوب اپنے رب کو بائی پاس نہیں کر سکتا۔

حمد صرف تعریف نہیں حمد اس تعریف کو کہیں گے جس میں معرفتِ حق شاملِ حال ہوتی ہے۔ محبت کے سوز اور معرفت کے ساز کے بغیر تسبیح و تقدیس بیان کرنا فرشتوں کا کام ہے۔ خالقِ انسان نے بارِ امانت انسان کے سپرد کیا ہے یہ بارِ امانت محبت اور معرفت کے سوا اور کیا ہے!! اس امانت کا متحمل کوئی مَلَک ٹھہرا ‘نہ کوئی حور و پری ، اور نہ جنات ہی سے کسی کو یہ بارِلطیف اٹھانے کا یاراہوا۔

بس یہی نادان آگے بڑھا اور معصومیت میں اپنے قد اور اپنی حد سے کہیں آگے کا سودا کر لیا۔ انسان ازل سے سودائی ٹھہرا محبت کا سودا کر بیٹھا!! معرفت کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس کی ذات کی تعریف کرے گا، محض صفات و تصرفات کا بیان اسے مطمئن نہ کر سکے گا۔ اِس کے پاس اُس ذات کی منشا و مشیت کا علم ہوگا۔

یہ حریمِ لامکاں کا رازداں ہو گا۔ قاعدے کلیے سے کہیں آگے نکل کر یہ مقامِ قرب میں پہنچے گا۔ یہاں تک کہ خود کو پہچان لے گا....، اس کا خود کو پہچاننا ہی خدا کو پہچاننا سمجھا جائے گا۔ ہم یہ مان اور گمان کر سکتے ہیں کہ” من تو شدم تو من شدی“ کے بعد ہی ”من عرف نفسہ فقد عرف ربہ“ کی تفہیم ممکن ہے۔

اُس نے خود کہا ‘میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں“ یہاں گمان میں”گ“ زاید ہے جس طرح حقیقت  بشر میں بشریت زاید ہے۔ بشریت زائل ہو تو نورانیت کھلے مقامِ حق منکشف ہو۔ گویا حضرتِ انسان کا حمد کہنا، معرفت خود بھی ہے اور معرفت خدا بھی!!

نعت کا حال جدا ہے یہ مقامِ ہوش ہے، یہاں جذب قابلِ گرفت ہے۔ یہاں ہوش سے بے گانگی حدِ ادب ہے۔”لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام“کے مصداق یہاں سَر رکھنے کی جا نہیں!! وہ حسن ازل جو توحید کے پردے میں غیب تھا‘ یہاں جلوے کی صورت میں موجود ہے۔

وہ طہارت و پاکیزگی کہاں سے لائی جائے جو اس بارگاہ میں حاضری کے لیے ایسے ہی ضروری ہے جیسے نماز سے پہلے وضو!! بے شک نماز میں حاضری کے لیے جگہ کا پاک ہونا شرط ہے یہاں حضوری کے لیے دل کا پاک ہوناواجب ٹھہرا۔ وجود کی طہارت کارِ آسان ہے، قلب کی طہارت کارِ دشوار!! سچ پوچھیں تویہ وجود بھی اپنی ہیئت ِ اصلی میں پاکیزگی سے دُور ہے، اِس کی پاکیزگی ایک کلمے سے مستعار لی گئی ہے، اس کی نیت میں اگرکلمہ باقی ہے تو یہ پاک ہے، کلمے سے دُوری اسے پاکیزگی سے دُور کر دیتی ہے!! یہاں علم کام آتا ہے ‘نہ کوئی کمال و کسب اور حسب و نسب! یہاں جنیدَ و بایزیدؒ ایسے اولیائے کبار سانس روکے کھڑے ہیں:

ادب گاہیست زیرِ آسمان از عرش نازک تر

نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا

( آسمان کے نیچے یہ بارگاہِ ادب ایسی ہے جو عرش سے بھی نازک تر ہے، یہاں تو حضرت جنیدؒ اور حضرت بایزید بسطامیؒ ایسی ہستیاں بھی سانس روک کر آتی ہیں) حضرت جنید صحو کے امام ہیں اور جنابِ بایزید بسطامیؒ اہلِ سکر کے میرکارواں ہیں۔ مراد یہ ہے کہ یہاں صحو اور سکر دونوں ایک صف میں باادب کھڑے نظر آتے ہیں۔ باخدا.... وہ خدا نہیں مگر خدا سے جدا بھی نہیں.... نعت اور حمد میں لطیف فرق کو واضح کرتے ہوئے حضرت واصف علی واصفؒایک نعت میں کہتے ہیں:

نعت کی ایک تعریف یہ ہے کہ ایسی تعریفِ رسول ہے ‘ جس میں مبالغہ کیا جائے.... لیکن عملی طور پر اس میں مبالغہ ہوتا نہیںایسا ممکن نہیں.... یعنی انسان جہاں تک بھی سوچ سکتا ہے‘ مبالغے کی حد تک جہاں تک بھی جاسکتا ہے‘ مقامِ مصطفی اُس کے حدِ گمان سے ورا ہوگا۔ نعت میں کبھی غلو نہیں ہوتا‘ یہ مقامِ عُلو ہے!!اُن کی شان میں کبھی غلو نہیںہوتا کیونکہ ان کا نامِ نامی ہی سب سے زیادہ تعریف کیا گیا ہے۔

منقبت غلامانِ نبی کی شان کا بیان ہے۔” ولی را ولی می شناسد“ کے مصداق عارف ہی کسی عارف کی معرفت کا مقام اور حال بیان کر سکتا ہے۔ کوئی منظر اصل میں دیکھنے والا کا اپنا منظرِ خیال ہوتا ہے۔ عام طور پر ہوتا یہی ہے کہ دوسرے کا حال بیان کرنے والا دراصل اپنا حال بیان کر رہا ہوتا ہے۔ اس کی کلاسیکل مثال ہمیں” کشف المحجوب “میں نظر آتی ہے‘ جہاں حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ نے کسی بھی موضوع پر اپنے پیشرو بزرگوں کے اقوال درج کرنے کے بعد اُس کے معانی کی وہ پرتیں کھولتے چلے جاتے ہیں کہ شعورِ انسانی دنگ رہ جاتا ہے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے وہ دیگر اولیاءکے معارف میں اپنا درجہ

¿ معرفت کھول دیتے ہیں۔

عارفانہ کلام.... معرفت خود کا بیان ہے.... یہاں من و تو کی بحث ختم شد!!


ای پیپر