ویلنٹائن ڈے اور گجرات کا پبی فاریسٹ پارک !
18 فروری 2021 2021-02-18

چودہ فروری کو ”ویلنٹائن ڈے“ تھا۔ یہ ایک مغربی تہوار ہے جس سے اس برس کورونا نے برکت اٹھا دی۔ اس بار اس مغربی تہوار پر دنیا میں وہ رونقیں دیکھنے میں نہیں آئیں جو اس مغربی تہوار کے موقع پر اب صرف گورے ممالک میں ہی نہیں پاکستان میں بھی اس حد تک دیکھنے کو ملتی ہیں یوں محسوس ہوتا ہے پاکستان کا شمار بھی اب مغربی ممالک میں ہونے لگا ہے.... ویلنٹائن ڈے کو محبت کرنے والوں کا دن یا تہوار قرار دیا جاتا ہے۔ دنیا نے مختلف حوالوں سے اب دن مقرر کر لئے ہیں۔ یوم والدین ، یوم اساتذہ ، یوم معذوراں سمیت کئی (عالمی دن) منائے جاتے ہیں۔ اس طرح محبت کرنے والوں کے لئے بھی ایک دن ”ویلنٹائن ڈے“ کے نام سے منایا جاتا ہے۔ محبت کی مقبولیت کو بہت محدود کر دیا گیا ہے۔ محبت صرف وہی سمجھی جاتی ہے جو ایک لڑکے کو کسی لڑکی سے یا کسی لڑکی کو کسی لڑکے سے ہو جاتی ہے۔ بلکہ اب تو لڑکے کو لڑکے سے اور لڑکی کو لڑکی سے بھی ہو جاتی ہے۔ محبت کی یہ قسم اب زیادہ عام ہوتی جا رہی ہے.... کائنات کی ہر اس شے سے انسان کو محبت ہونی چاہئے جو قدرت نے پیدا کی۔ محبت کو کسی ایک پنجرے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ سب سے زیادہ محبت کے لائق تو اللہ پاک ہے۔ جو فرماتا ہے میں انسان سے ستر ماﺅں سے بڑھ کر محبت کرتا ہوں۔ اس کے بعد سب سے زیادہ محبت کے لائق ہمارے رسول پاک ہیں جن کے ہم امتی ہیں۔ افسوس اس محبت کا حق تو ہم ادا کر نہیں پاتے، اور جو دنیاوی محبتیںہیں خاص طور پرجو محبتیں مخصوص مقاصد کے لئے کی جاتی ہیں انہیں فروغ دینے میں کوئی ہمارا ثانی نہیں ہے.... ایک محبتی شاعر انجم یوسفی کا شعر ہے”رہے گی یاد کسے آپ کی غزل انجم .... یہاں تو لوگ خدا کا کلام بھول گئے.... تو جو اللہ اور رسول پاک سے محبت کا حق ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ وہ اللہ پاک کی بخشی ہوئی نعمتوں اور رشتوں سے محبت کا کیا حق ادا کریں گے؟.... ویلنٹائن ڈے پر میں گوجرانوالہ میں تھا۔ یہاں میرے عزیز چھوٹے بھائیوں عمر بٹ ، عمیر بٹ ، سلمان مبشر ، طیب بٹ ، محسن وحید بٹ اور ولید شیخ نے کچھ محفلوں کا اہتمام کر رکھا تھا۔ میرے اعزاز میں ایک شاندار عشایئے کا اہتمام عزیزم سلمان مبشر نے اپنے خوبصورت گھر پر کیا۔ جس کے آخر میں ”محفل سماع“ بھی تھی۔ یہاں میری ملاقات میرے عزیز بھائی شبیر بٹ سے ہوئی وہ گوجرانوالہ میں اسسٹنٹ کمشنر ہیں۔ ان کا اصل تعارف مگر یہ ہے کہ کمال کے شاعر ہیں اور انسان اس سے بھی بڑھ کر کمال کے ہیں۔ قوال لکی علی نے سماں باندھ دیا۔ انہوں نے نصرت فتح علی خان کے شاگرد ہونے یا ان کے ایک عقیدت مند ہونے کا حق ادا کر دیا۔ میں نے پہلی بار انہیں سنا۔ جی یہ چاہ رہا تھا وقت تھم جائے اور وہ اپنے فن کا مظاہرہ کرتے رہیں۔ وہ مجھے اس لئے بھی اچھے لگے انہوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کرنے سے پہلے میرے کالموں اور میری سوشل لائف کی دل کھول کر تعریف کی۔ سو جواباً ان کی تعریف کرنا اس لئے بھی مجھ پر فرض ہے۔ تعریف اور خوشامد میں فرق ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں تعریف کا رجحان آہستہ آہستہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ خوشامد کا بڑھتا جا رہا ہے۔ خصوصاً ہمارے حکمران تو اس حد خوشامد پسند ہوتے ہیں کسی روز ان کی کوئی خوشامد نہ کرے وہ بار بار اپنی نبض چیک کرتے ہیں وہ کہیں فوت تو نہیں ہو گئے؟۔ ہمارا خیال تھا خان صاحب پاکستان کی تاریخ کے واحد حکمران ہوں گے جو وزیر اعظم بننے کے بعد بھی ویسے ہی خوشامد کو پسند نہیں کریں گے جیسے وزیر اعظم بننے سے پہلے ان کے بارے میں تاثر تھا وہ خوشامد کو پسند نہیں کرتے۔ اب وہ اپنے اس وصف سے بھی محروم ہو گئے ہیں اور ان کے جو مقابل ہیںان کا حال یہ ہے نواز شریف وزیر اعظم کی حیثیت سے علاج کے لئے ایک بار لندن تشریف لے گئے۔ یہ رمضان المبارک کا مہینہ تھا۔ ان کی جماعت کے ایک ایم این اے ان کی عیادت کے لئے لندن پہنچے۔ بوقت عیادت وہ ان سے کہنے لگے”قائد محترم میں آپ کی عیادت کے لئے لندن آنے سے پہلے اپنے ایک پرانے دوست سے ملنے گیا۔ اس نے مجھ سے پوچھا ”تم ہر برس رمضان المبارک میں عمرے پر جاتے ہو، اس بار کیوں نہیں گئے؟“.... میں نے اپنے اس دوست کو جواب دیا ”اس بار میں حج پر جا رہا ہوں“۔ اس نے مجھ سے پوچھا ”رمضان المبارک میں کون سا حج ہوتا ہے؟۔ میں نے اس سے کہا “ پگلے میں اپنے قائد محترم کی عیادت کے لئے جا رہا ہوں ان کی عیادت ان کا دیدار میرے لئے حج ہی ہے“.... قائد محترم کے کمرے میں اس وقت پارٹی کے بہت سے اور رہنما بھی موجود تھے، اس کے بعد سب سے زیادہ عزت اور اہمیت اس ایم این اے کو ملی جو عیادت کو حج سمجھ رہا تھا.... ویلنٹائن کی بات کرتے ہوئے میں پھر ادھر ادھر نکل گیا.... اس بار میرے گوجرانوالہ کے عزیزوں نے ویلنٹائن ڈے پر مجھ سے اتنی محبت کی مجھے اپنی جنس پر شک ہونے لگا۔ انہوں نے گجرات کھاریاں میں واقع محکمہ جنگلات کے ” پبی فاریسٹ پارک“ میں مجھے پھول دینے کے لئے ایک ہائی ٹی کا اہتمام کیا۔ جس میں میرے گجرات کے عزیز چھوٹے بھائیوں عمیر سیٹھی ، خرم چوہدری ، نواب اصغر علی اور ارسلان انصاری بھی شریک ہوئے۔ میرے یہ تمام عزیزاں مجھے جب گلاب دے رہے تھے مجھے اپنی جوانی کے ایام یاد آ گئے۔ مجھے اپنے محلے کی ”گلابو“ یاد آ گئی جو بڑی شوخ بڑی چنچل لڑکی ہوا کرتی تھی۔ جسے ہم اپنی بہن سمجھنے پر اس لئے مجبور تھے والد صاحب کی تربیت اور حکم یہ تھا ، لوگوں کی خصوصاً محلے کی لڑکیوں کو اپنی بہنوں کی طرح دیکھنا اور سمجھنا ہے.... میں نے شاید پہلے بھی لکھا تھا اپنی شادی پر اپنی دلہن کو لے کر میں گھر آیا ، ابو جی سے میں نے پوچھا ”آپ نے ساری زندگی ہمیں یہ درس دیا لوگوں کی بیٹیوں اور بہنوں کو اپنی بہن سمجھنا ہے.... آج میرے لئے کیا حکم ہے؟؟؟.... انہوں نے میری یہ بات سن کر ایک قہقہہ اور پیار سے ایک تھپڑ بھی مجھے لگایا۔ کیا زبردست زمانہ تھا جو ہم نے کھو دیا۔ اب ہمیں یہ احساس ہو رہا ہے جدوجہد ہمیں اپنے ”پرانے پاکستان“ کو واپس لانے کے لئے کرنی چاہئے تھی۔ نئے پاکستان کی جدوجہد میں بہت کچھ ہم نے کھو دیا۔ سب سے زیادہ نقصان ہماری اخلاقی قدروں کو ہوا۔ اس حوالے سے تباہی کے آخری مقام پر ہم پہنچ گئے.... گجرات (کھاریاں) کا پبی فاریسٹ پارک قدرتی حسن کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔ یہاں چھوٹی سی اک جھیل بھی ہے۔ گجرات کے سیاسی و انتظامی کرتا دھرتا اس فاریسٹ پارک پر تھوڑی سے توجہ دیں، تھوڑا سا پیسہ اس پر خرچ کریں یا اسے کامران لاشاری کے سپرد کر دیں، میں یہ بات پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں یہ پاکستان کا ایک بہترین ٹورسٹ پوائنٹ بن سکتا ہے۔ میں اس ضمن میں اپنے محسنوں چوہدری پرویز الٰہی اور برادر عزیز مونس الٰہی سے بھی بات کروں گا.... ایک انتہائی عاجز ، شفیق اور نفیس ڈی پی او گجرات ، اپنے عزیز چھوٹے بھائی عمر سلامت سے بھی میں نے بات کی ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا ہے وہ جلد ہی ڈپٹی کمشنر گجرات کو ساتھ لیکر اس پوائنٹ کو وزت کریں گے.... آر پی او گوجرانوالہ جناب ریاض نذیر گاڑا کی میں دل سے عزت اس لئے کرتا ہوں اپنی بے شمار خصوصیات اور ان گنت خوبیوں کی بنیاد پر وہ واقعی قابل عزیز ہیں۔ ان سے بھی گزارش ہے کمشنر گوجرانوالہ سے بات کریں ، کسی روز دونوں مل کر وہاں چلے جائیں۔ وہاں جا کر یقیناانہیں احساس ہو گا کتنا اہم مقام کتنی محرومیوں کا شکار ہے۔ ان محرومیوں کو اگر دور کر دیا جائے گجرات کیا پورے پاکستان کے لوگوں کے لئے پوائنٹ یہ ایک نعمت اور رحمت سے کم نہیں ہو گا.... پنجاب کے سوئے ہوئے محکمہ جنگلات کو بھی اس حوالے سے میں جگانا چاہتا ہوں۔ مجھے نہیں معلوم پنجاب کے محکمہ جنگلات کے وزیر اور سیکرٹری کون ہیں؟ وہ جو بھی ہیں اس ” پبی فاریسٹ پارک“ کی ویرانیوں کو دیکھ کر ان کی نااہلیوں کا اچھی طرح اندازہ کیا جا سکتا ہے!!


ای پیپر