جمہوریت کے ساتھ ایک اور تجربہ
18 فروری 2019 2019-02-18

نئی صدی کے دوران ایک ایسا رجحان بڑھا ہے جو بظاہر عوامی لگتا ہے لیکن اپنے جوہر میں جمہوری نہیں۔ نوآبادآبادیاتی خواہ جدید نوآبادیاتی نظام میں جب عوامی تحریکیں چلتی تھی، تب دنیا میں اسطرح سے جمہوریت نہیں تھی، سرد جنگ کی وجہ سے ان تحریکوں کی اور بھی اہمیت بڑھ جاتی تھی۔ لیکن نئی صدی میں داخل ہونے تک بیشتر ممالک میں جمہوریت کسی نہ کسی شکل میں آچکی تھی۔ اور ان ممالک میں انتخابات ہونے لگے تھے۔اگرچہ جمہوریت اور پاپولرزام دونوں عوام میں قبولیت کی دعویدار ہیں ایک حد ایسالگتا بھی ہے۔ تاہم ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ پاپولرزم تحریک ہے اور جمہوریت ایک نظام ہے۔ گزشتہ دو عشروں کے دوران مختلف ممالک میں اس پاپولر رجحان نے آئینی اداروں اور خود آئینی جمہوریت پر مضر اثرات چھوڑے ہیں۔ پاپولسٹ قیادت کی حکومتوں کی پالیسیاں منتخب اداروں کو مضبوط کرنے کے بجائے ان کو کمزور کر رہی ہیں۔

پاکستان میں جمہوریت کے ساتھ مختلف تجربے کئے جاتے رہے ہیں۔ جس میں بنیادی جمہوریت ، غیر جماعتی جہموریت ،کنٹرولڈ جمہوریت ، وغیرہ وغیرہ۔ اب ایک نیا تجربہ کیا جارہا ہے۔ موجودہ سیٹ اپ کو بھی پاپولسٹ سیٹ اپ میں شمار کیا جاتا ہے۔ تھائلینڈ، بنگلادیش اور ترکی میں رونما ہونے والے واقعات کی وجہ سے پاکستان سے خاصی مماثلت رکھتے ہیں، دنیا بھر میں جمہوریت کی صورتحال پر نظر رکھنے والے اداروں کی تحقیق سے لگتا ہے کہ ان ممالک میں انتخابات تو ہوئے ہیں لیکن جمہوریت کمزور ہوئی ہے۔ سمجھا جارہا تھا کہ میانمار اور کمبوڈیا میں جمہوریت جڑیں پکڑ رہی ہے ۔ لیکن عملا ایسا نہیں ہوا۔کمبوڈیا میں ایک پارٹی کی حکومت کی طرف معاملہ چلا گیا ہے۔ پولینڈ اور فلپائین میں بھی جمہوریت کو مضبوط سجھا جارہا تھا۔لیکن وہاں عوامی مقبولیت کے نعرے نے آمرانہ رجحانات بڑھا دیئے ہیں۔ اگرچہ جمہوریت کاکلی طورر پر زوال نہیں ہوا تاہم سخت خطرے میں ضرور ہے ۔ یہ وہ دو ممالک ہیں جہاں حکومت ججز کو گھر بھیج چکی ہے۔ تقریبا اسی طرح سے جیسے جنرل مشرف نے کیا تھا۔ میڈیا کو ڈرایا جارہا ہے۔

ٹونی بلیئر انسٹی ٹیوٹ آف گلوبل چینج کے ایک مطالعہ کے مطابق’’ مقبول ‘‘ قیادت جب منتخب ہو کر آتی ہے تو وہ غیر مقبول منتخب حکومت سے دگنی مدت تک اقتدار میں رہتی ہے۔ لہٰذا ایسی حکومت کو وقت مل جاتا ہے کہ وہ جمہوریت کو مزیدنقصان پہنچا سکے۔ یہ بھی دیکھنے میںآیا ہے کہ ایسے مقبول لیڈر اپنے انتظامی اختیارات بڑھا دیتے ہیں۔ اور منتخب اداروں کو کسی حساب میں نہیں لاتے۔

پاکستان میں اپوزیشن مختلف اندیشوں اور خدشات کا اظہار کررہی ہے۔ کبھی لگتا ہے صوبوں اور وفاق کے درمیاں توازن پید اکرنے والی اٹھارویں ترمیم ختم کی جارہی ہے۔ کبھی یہ کہ مالی وسائل میں صوبوں کا حصہ کم کیا جارہا ہے۔ یہ بھی اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ ملک میں صدارتی نظام نافذ کیا جارہا ہے۔

گزشتہ ڈیڑھ دو عشروں کی سیاسی تبدیلیوں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے ممالک جہاں آمرانہ رجحان رکھنے والی پاپولسٹ قیادت حکومت میں آئی ہے، اس نے وہاں جمہوری اداروں اور آزادیوں پر کسی آمر کے مقابلے میں زیادہ وار کیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اس قیادت کو عوام کی حمایت حاصل ہوتی ہے۔ جبکہ ایک فوجی آمر کو عوام کی حمایت حاصل نہیں ہوتی،

پاپولسٹ قیادت اس وجہ سے ابھرتی ہے کہ روایتی سیاسی جماعتیں پھر وہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں ، نئے پیدا ہونے والے مسائل کو حل نہیں کرپارہی ہوتی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ نئے پیدا ہونے والے طبقات کو اپنی صفوں اور اسی لحاظ سے حکومت میں جگہ نہیں دے رہی ہیں۔ دوسری طرف عوامی مسائل خواہ مطلوبہ اصلاحات لانے سے بھی غافل رہتی ہیں جس کی وجہ سے عوام جمہوری اداروں سے ماویس ہو کر جذباتی نعروں میں جلدی آکر پاپولسٹ تحریکوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔ پھر ہوتا یہ ہے کہ ایسی حکومتوں اور سیاسی پارٹیوں کو سیاسی متبادل پروگرام کے بجائے انتظامی یا پالیسی کے فیصلوں پر دبوچ لیتی ہیں۔ پاکستان میں نواز لیگ کی حکومت کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ تحریک انصاف کے پاس کوئی متبادل پروگرام نہیں تھا۔ اور نہ ہی اس کی چاروں صوبوں میں مضبوط تنظیم کاری تھی۔ لیکن کرپشن اور دھاندلی کے الزام پر نواز لیگ کو دوڑا دوڑا کے مار دیا۔ اور اب اس کی جگہ پر حکومت میں ہے۔ اکثر صورتوں میں پاپولسٹ ملک کے آئینی اداروں سے اندر

سیاسی نظام کی تبدیلی کا باعث بنتی ہیں۔ اس مقصد کے لئے عوام کی مقبول خواہشات کو ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ فلپائن اور تھائلینڈ میں تختہ الٹنے کی صورتحال پیدا ہوئی جہاں پاپولسٹ کو حکومت سے نکال دیا گیا اور ترکی میں پاپولسٹ کو خطرہ پیدا ہوا۔ وینزولا کی پاپولسٹ اپوزیشن نے فوج کوسیاست میں زیادہ رول دیا جس سے جمہوریت کو دھچکا پہنچا۔

تحریک انصاف اب تک تین معاملات پر عوام کی توجہ دلائے ہوئے ہے۔ اول یہ کہ ملک شدید مالی بحران کا شکار ہے۔ بحران کی وجہ سبسیڈیز دینا اور مبینہ کرپشن ہے۔ سبسیڈیز کا مطلب ہے وہ سہولیات اور مالی فوائد جو حکومت خرچ پر عوام کو دی گئی،تحریک انصاف اب یہ حکمت عملی بنا رہی ہے کہ یہ تمام سبسیڈیز ختم کردی جائیں گی۔ نتیجے میں گیس، بجلی، اور زرعی پیداوار اشیاء مہنگی ہو جائیں گی۔ یہ حکومت کا اعلان اور فیصلہ ہے۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ ملک کو صنعتی نہیں بنایا گیا۔ زراعت میں سائنسی انداز اختیار نہیں کیا گیا۔یہ سب کچھ نہ کرنے کے پیچھے سیاسی محرکات تھے۔ مجموعی پیداوار نہ بڑھنے اور پائدار خطوط پر ترقی نہ ہونے کی وجہ سے مختلف طبقات اور صوبوں کے آپس میں جھگڑے شروع ہو گئے۔اگر معیشت صحیح خطوط پر استوار کی جاتی تو پیداوار زیادہ ہوتی۔ نتہجۃ ہر ایک کو حصہ ملتا۔ ظاہر ہے کہ جب وسائل اور پیداوار کم ہوگی تو حصہ پتی پر جھگڑے ہونگے۔

مبینہ کرپشن میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی اور لوٹی ہوئی رقومات واپس لانے کا سوال نعرے اور بات کی حد تک تو صحیح ہے۔ہو یہ رہا ہے کہ مبینہ کرپشن میں ملوث افراد کو دوڑایا جا رہا ہے، اور انہیں راستے سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ احتساب کے ساتھ سیاست ہو رہی ہے۔ یہ ذہن میں رہے کہ اگر کرپشن کی گئی ہے تو بھی یہ رقم اتنی جلدی اور آسانی سے نہیں وصول ہوسکتی۔ بعض حلقوں کا یہ بھی خیال ہے کہ حکومت کے پاس کرنے کے لئے اور کچھ نہیں ہے، لہٰذا عوام کو دکھانے کے لئے یہ سرگرمی کی جارہی ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے بھی ضروری ہے بحران گردشی قرضے کی طرح گھومتا رہے۔ کسی ایک جگہ رک نہ پائے۔ اگر رک گیا تو بحران پھٹ جائے گا۔ لہٰذا سیاسی بیان بازی اور گرما گرمی زیادہ نظر آتی ہے۔

جب سیاسی اپوزیشن اور سول سوسائٹی موثرحکمت عملیاں نہیں بناتی جو پاپولسٹ کے لئے جمہوری اداروں اور کلچر کو کچلنامشکل کردیں، وہاں پاپولسٹ اور مضبوط شخصیات نے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔پاپولسٹ قیادت کی حکومت کی ایک خصوصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ اس کے خلاف اپوزیشن کو متحد کرنا آسان نہیں ہوتا۔جیسا کہ اپوزیشن کہہ رہی ہے، اور حکومتی حلقوں سے بھی بعض اشارے مل رہے ہیں حکومت پورے سیاسی نظام کو تبدیل کرنے جارہی ہے۔ لیکن اپوزیشن کی جانب سے موثر انداز میں مشترکہ اس حکومتی تحرک کے خلاف موقف سامنے نہیں آیا موجودہ اپوزیشن میں نواز لیگ اور پیپلزپارٹی دو بڑی جماعتیں ہیں۔ وہ بعض اوقات کٹھی ہو جاتی ہیں اور پھر دوسرے لمحے الگ الگ کھڑی ہو جاتی ہیں۔ یوں یہ جماعتیں موقع پرستی اور مصلحت پسندی کا شکار ہو جاتی ہیں۔یہ جماعتیں مشترکہ طور پر حکومت کی مخالفت کرنے یا نظام کو تبدیل کرنے کی حکومتی کوشش کو روکنے کے لئے سامنے نہیں آرہی ہیں۔ اپوزیشن کی صورتحال تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ان تمام ممالک میں ہے جہاں پاپولسٹ حکومتیں ہیں اپوزیشن کے اندر تقسیم کی صورت میں حکومت ہی فائدے میں رہتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ ممالک جہاں آمرانہ جھکاؤ رکھنے والی پاپولسٹ قیادت کی حکومت جمہوری بنیادوں کو ہلا دیتی ہیں وہاں جمہوریت کی تعمیرنو مشکل کام ہے۔

آج کے دور میں جمہوریت کا مطلب صرف انتخابات نہیں ۔ کسی حکومت کے جمہوری ہونے کی کسوٹی یہ نہیں کہ انتخابات جیت کر حکومت بنا لے۔ جمہوری حکومتیں لوگوں کی مدد کرتی ہیں کہ ایسے قاعدے قانون بنائے جائیں جس پر سب عمل کریں، اور انہیں اپنی زندگیوں اور کام میں ان کی حیثیت تسلیم کی جاتی ہو۔ آمرانہ حکومتیں اس کے برعکس جو انہیں اچھا لگتا ہے وہ کرتی ہیں۔ اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ عوام کے سامنے کتنی جوابدہ ہے، جمہوری اداروں کی مضبوطی اور ان کو فیصلہ سازی میں شامل کرنے میں کیا اقدامات کئے گئے ہیں۔اظہار رائے کی آزادی اور میڈیا کو کتنی آزادی ہے؟ اس ضمن میں رکاوٹیں تو نہیں۔ اظہار رائے اور میڈیا کی آزادی شفافیت کے علاوہ صرف چیک اینڈ بیلنس ہی نہیں بلکہ سماج میں موجودد تنوع کی عکاسی کرتی ہے۔ یہ بھی کہ اقلیتوں اور پسماندہ علاقوں کو مرکزی دھارے میں لیا جارہا ہے کہ نہیں؟ ملکی معیشت کا پہیہ کن وسائل سے چلایا جارہا ہے ؟ آخری سوال معیشت کے بارے میں ہے۔ لیکن عملا یہ سوال اولیت رکھتا ہے اور باقی تمام سوالات پر بھاری ہے۔ امریکہ جمہوریت کے چیمپیئن اور مثالی جمہوریت کے طور پر سمجھا جاتا تھا وہ اس اپنے روایتی کردار سے پیچھے ہٹا۔ امریکہ میں سیاسی حقوق اور شہری آزادیاں زوال پزیر ہیں۔ ٹرمپ ’’پہلے امریکہ‘‘ کے نعرے کے ساتھ آیا۔

’’پاکستان مقروض ہے، معیشت تباہ ہے ‘‘ کے بیانیہ نے یہ جواز پیدا کیا ہے کہ کہیں سے بھی پیسے حاصل کیا جائے۔اگر ملکی تاریخ پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ پچاس کے عشرے میں بھی یہ بتایا گیا تھا اور بعد میں پاکستان امریکی اتحاد میں چلا گیا تھا۔ ضیاء الحق کے دور میں بھی اس عذر پر ہم افغان جنگ کا حصہ بنے۔ بعد میں مشرف دور میں امریکہ کی دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ کے بھی پارٹنر ہوئے۔آج تمام جواز اور وجوہات ایسی بنا دی گئی ہیں کہ ایک بار پھرہم کسی علاقائی حکمت عملی یا اتحاد کا حصہ بنیں۔ اپنی مالی ضروریات وہاں سے پوری کریں۔ اس صورت میں ملک میں جمہوریت ، آزادیاں اور منتخب اداروں کی فیصلہ سازی اتنی ہی ہوجائے گی جتنے پیسے دینے والے اجازت دیں گے۔

جب تک ایسی حکومتیں ملک کے آئینی اور سیاسی نظام کے دائرے میں رہ کر کام کرتی ہیں تب تک وہ مکمل طور پر جمہوریت کو اکھاڑ کر پھینک نہ سکتیں۔سب سے پہلے اپوزیشن کے اندر کی تقسیم اور اختلافات کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ ممالک جہاں جمہوریت کو خطرہ ہے۔پاپولسٹ حکومتوں کی جانب سے پہنچنے والے نقصانات کو کم کرنے کے لئے شہری بعض دیگر اقدامات بھی اٹھا سکتے ہیں۔ وہ مقامی قیادت تیار کر سکتے ہیں شہروں اور دیگر علاقوں کو آمرانہ اور غیر جمہوری اقدامات کے خلاف کھڑا کر سکتے ہیں۔ قانون کو مقامی خواہ ملکی سطح کی عدالتوں میں استعمال کر کے انتظامیہ کے اقدامات کو روک سکتے ہیں۔


ای پیپر