توازن ہوتو رشتے اور تعلق خوب جمتے ہیں
18 فروری 2019 2019-02-18

لوگ سمجھتے ہیں کہ پاک سعودی تعلق کسی تجارتی لین دین یا مفادات کا شاخسانہ ہے جو دو معتدل قیادتوں کے ملاپ کا ذریعہ بن رہا ہے ۔ لیکن میری ناقص رائے میں یہ تجارتی مفادات سے زیادہ ذہنی ہم آہنگی اور سوچ میں توازن کا نتیجہ ہے جس کا ثمر نسلوں نے کھانا ہے ۔ ایک طرف عمران خان ہیں جن کے تعلیمی دور سے کرکٹ اور کرکٹ کیرئیر سے سیاست کی نئی جہتوں کے سفر سے سبھی واقف ہیں ۔ تو دوسری جانب نوجوان سعودی لیڈر شہزادہ محمدبن سلمان ہیں جن کی اعتدال پسندی ، بدعنوانی کے خلاف اقدامات ، راست گوئی ، جدت پسندی اور آگے بڑھنے کی لگن پر سعودی فدا ہیں ۔ دونوں قیادتیں مختلف لباس اور قومیتوں کی عکاس تو ہوسکتی ہیں لیکن دونوں کی سوچ کے زاویے یکسر ایک جیسے ہیں ۔ دونوں کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں ، دونوں مسلم امہ کو اعتدال کا درس دیتے ہیں ، ایک ریاست مدینہ کا خواب دیکھتا ہے تو دوسرا ریاست مدینہ کا والی ہے ۔دونوں بنیادی انسانی حقوق کے علمبردار ہیں اور دونوں ہی سپر پاورز کے عالمی تسلط اور جبر کے خلاف ہیں ۔ جب اتنی ساری قدریں مشترک ہوں تو کوئی انہیں طویل المدتی ملاپ سے کیسے روک سکتا ہے ۔ شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان ، دونوں ممالک کے لئے خوشیوں کی نوید لایا ہے۔ ہمارے اردگرد موجود بہت سے صحافتی حلقے اس شاندار تعلق کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔ ان کی تنقید اپنی جگہ لیکن ایسے صحافتی ملک کا نقطہ نظر بھارت ، ایران اور افغانستان کا نیریٹو تو ہوسکتا ہے لیکن پاکستان کا نہیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان بدل رہا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی اب بہتری کی جانب گامزن ہے ۔ اور پاکستان سعودیہ کی طرح ایک ویلفئیر اسٹیٹ کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ سعودی عرب جانتا ہے کہ بہترین سکیورٹی اور سفارت کے لئے پاکستان سے تعلق ناگزیر ہے ، جبکہ پاکستان کو پتہ ہے کہ سعودیہ جیسے رئیس دوست کا ساتھ ہی پاکستان کے وسیع تر مفاد میں بہتر ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان کا پاکستان اور پاکستانیوں نے جم کر استقبال کیا ۔ اربوں روپے کے معاہدوں کی یاداشتوں پر دستخط ہوئے اور خیر سگالی کے جذبات کا تبادلہ بھی ہوا۔ پاکستانی ہونے کے ناتے ہم اپنے وزیر اعظم یعنی عمران خان کی شخصیت سے تو واقف ہی ہیں لیکن سعودی شہزادے سے متعلق شاید زیادہ نہ جانتے ہوں ، چلیں پہلے ان کی زندگی کا مختصر جائزہ لیتے ہیں ، کہتے ہیں کہ کچھ لوگ اپنا نصیب لے کر آتے ہیں ، لیکن کچھ کو بناناپڑتا ہے ۔ اور شہزادہ محمد بن سلمان کا کیس باقی سب سے مختلف ہے ۔۔۔۔ کون جانتا تھا ۔۔کہ اکتیس اگست انیس سو پچاسی کو جدہ میں شاہ سلیمان کی تیسری اہلیہ ۔۔ فہدہ بنت فلاح بن حیثلین۔۔ کی کوکھ سے جنم لینے والا شہزادہ دیگر شہزادوں کی صفوں کو چیرتا ہوا سیدھا مسند ولی عہد پر براجمان ہوگا اور اپنی ’کامیابیوں‘ کے جھنڈے گاڑتا چلا جائے گا ۔۔ ۔۔ سرزمین آل سعود کے دراز قد ولی عہد محمد بن سلمان کا شمار دنیا کی ایسی شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے کم عمری میں بڑے بڑے عہدے اپنے نام کر لئے تھے۔ وزارت دفاع اور نائب وزارت عظمی جیسے عہدوں پر اتنی کم عمری میں کام کرنا بڑوں بڑوں کی خواہش ہی رہ جاتا ہے ۔ محمد بن سلمان اپنی جوانی کی شروعات ہی میں بڑے بڑے معرکے مارنے کا عزم رکھتے تھے ، اپنے بھائیوں میں سب سے بڑے ہونے کی وجہ سے محمد بن سلمان کو دیگر بھائیوں کی نسبت شاہ سلمان کا زیادہ پیار بھی ملا اور تعلیم کے لئے کھلی چھوٹ بھی۔۔ کنگ سعود یونیورسٹی سے قانون کے شعبے میں فارغ التحصیل ہونے کے بعد محمد بن سلمان کی تمام تر نظریں امور داخلہ ، خارجہ اور معیشت کی جانب تھیں اور شاید یہی وجہ تھی جو انہیں بار بار مغرب لے جاتی اور یوں وہ بین الاقوامی معیشت اور فری اکانومی کے نظریات سے متعلق زیادہ توجہ سے معلومات حاصل کرتے ۔۔ پندرہ دسمبر دوہزار نو کو اپنے والد شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے مشیر خاص کی حیثیت سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کرنے والے محمدبن سلمان اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے شاہ سلمان کے زیادہ سے زیادہ قریب ہوئے اور پلک جھپکتے ہی مختلف عہدوں کو اپنی مٹھی میں کرلیا ۔۔ دریں اثنا شاہِ عرب ۔۔ شاہ عبدالعزیز بن سعود مرحوم کے دس بیٹوں میں سے شاہ بننے والے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو اپنے بھتیجوں اور بیٹوں کی لمبی لائن میں سے کسی نہ کسی کو اقتدار کی طاقت کے قریب لانا تھا سو ان کے بھائی نائف بن عبدالعزیز کے صاحبزادے شہزادہ محمد بن نائف سے زیادہ بہترین انتخاب ان کی نظر میں کوئی اور ہو نہیں سکتا تھا ۔۔ انتیس اپریل دوہزار پندرہ کو شہزادہ محمد بن نائف جوکہ سعودی عرب کے وزیرداخلہ کے ساتھ ساتھ نائب وزیر اعظم بھی رہ چکے تھے ، باقاعدہ ولی عہد کے عہدے سے نوا ز دئیے گئے ۔۔ اسے مصلحت کہئے یا حقیقت پسندی ، شاہ سلیمان کے لئے اپنے بھائی کے بیٹے کو ولی عہد مقرر کرنا اس لئے بھی ضروری تھا کیونکہ محمد بن نائف امریکی تھنک ٹینک اور پینٹاگون کے نزدیک تھے اور امریکیوں کی نظر میں۔۔ گڈ مین فار امریکہ ۔۔ تصور کئے جاتے تھے۔۔ دو سال تک محمد بن نائف سعودی عرب کے داخلی اور خارجی معاملات پر بدرجہ اتم حاوی رہے اور سعودیہ میں ہی مصروف رہے ۔۔ جبکہ شاہ سلمان کے مشیر خاص اور صاحبزادے محمد بن سلمان کی تمام تر نظریں اپنے اقتدار کی راہ میں حائل اگلے شخص محمد بن نائف پر تھیں ۔۔ محمد بن سلمان کو پتہ تھا کہ لوہا لوہے کو کاٹتا ہے سو انہوں نے امریکہ میں موجود بڑی طاقتوں سے اپنے روابط استوار کرنا شروع کر دئیے ۔۔ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد محمد بن سلمان کے لئے اچھا موقع تھا کہ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد۔۔ جارڈ کشنر Jared Kushnerسے میل ملاپ بڑھاتے اور پھر ویسا ہی ہوا ، محمد بن نائف کی جگہ کم ہوتی گئی اور محمد بن سلمان جگہ بناتے گئے ۔۰۲مئی۷۱۰۲ ؁ء کو ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب اور اسرائیل کا پہلا دورہ کیا جس میں ان کا شاندار استقبال کیا گیا ، ٹرمپ انتظامیہ کو سعودی عرب میں امت مسلمہ پر حکمرانی کرنے کے لئے ایک نوجوان اور جری قیادت کی ضرورت تھی جو وقت آنے پر کھل کے ان کے کام بھی آ سکتی اور ان کے اشاروں پر چل بھی سکتی ۔۔ قصہ مختصر ٹرمپ ، ان کی بیٹی اور داماد جارڈ کشنر کے لئے محمد بن سلمان سے بہتر چوائس سعودیہ کے لئے نہیں تھی ، شاہ سلمان کو فرمان سنا دیا گیا اور یوں ۱۲جون ۷۱۰۲ ؁ کو محمد بن نائف کو ان کے عہدے ہٹا دیا گیا اور ساتھ ہی محمد بن سلمان کو ولی عہد بنانے کا فرمان بھی سنا دیا گیا۔۔ بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی اس ساری کہانی میں دنیا کی پچاس امیر ترین شخصیات کی فہرست میں شامل شہزادہ الولید بن طلال کا تذکرہ اس لئے ضروری ہے کیونکہ ولید بن طلال وہ شخصیت ہیں جنہوں نے کاروباری اتار چڑھاو کے دوران ٹرمپ کو خاصا ٹف ٹائم دیا تھا اور ان کی املاک کو ماضی میں خریدتے بھی رہے ہیں ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی انتخابی مہم کے دوران ولید بن طلال نے اپنے کاروباری حریف کو سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا اور بارہا کہا کہ وہ الیکشن جیتنا تو درکنار جیت کے قریب بھی نہیں بھٹک سکتے ۔سواپنے کاروباری اور سوشل میڈیائی حریف کو مزا چکھانے کے لئے ڈونلڈ ٹرمپ نے محمد بن سلمان کو بدعنوان شہزادوں کے خلاف کریک ڈاون کا عندیہ دیا جسے سعودی عرب کے نوزائیدہ ولی عہد نے حکم نامہ سمجھتے ہوئے قبول کیا اور یوں 4 اور 5 نومبر 2017ء کو مشرق وسطی کے منظر نامے پر اس وقت بھونچال دیکھنے کو ملا جب شہزادہ ولید بن طلال سمیت اڑتیس افراد کو کرپشن کے جرم میں

گرفتار کرنے کا حکم نامہ جاری کیا گیا ۔ اس ساری کارروائی کے پیچھے شہزادہ محمد بن سلمان تھے جن کی طاقت دن بہ دن بڑھتی جا رہی تھی اور پو ری دنیا کو اس بات کا اندازہ کہ محمد بن سلمان کی طاقت کی پیچھے در اصل امریکہ کا ہاتھ ہے اس وقت ہوا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹوئیٹ کے ذریعے محمد بن سلمان کے اقدامات کی تعریف کی ، اسی دن شہزادہ منصور بن مقرن پانچ دیگر ساتھیوں سمیت ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہوئے جبکہ اس سے اگلے روز کرپشن کے خلاف کریک ڈاون میں گرفتاری میں مزاحمت پر شاہ فہد کے بیٹے شاہ عبدالعزیز بھی جاں بحق ہو ئے ۔۔ لبنانی وزیر اعظم سعد الحریری کا استعفیٰ بھی اسی روز سامنے آیا تھا جس پر حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے دعوی کیا تھا کہ یہ استعفیٰ محض سعودی عرب کے دباو کی وجہ سے دیا گیا ۔ الغرض محمد بن سلمان نے اپنی قابلیت ، جدت پسندی اور اعتدال کا لوہا ہرجگہ منوایا ، اپنے کارڈز کو درست استعمال کیا اور وقت آنے پر جن پر تکیہ کیا ہوا تھا انہیں آنکھیں بھی دکھائیں ۔ جمال خشوگی کے قتل کے معاملے پر ڈونلڈ ٹرمپ سے براہ راست الجھنا پڑا تو دیر نہیں کی ۔ اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لئے سعودی شہزادوں کو جیل کی ہوا کھلانا پڑی تو مستعد رہے۔

بدلتے وقت کے ساتھ سفارتی پالیسی تبدیل کرنا پڑی تو کرکے دکھائی ۔ یہاں تک کہ شہزادہ محمد بن سلمان کی بطور ولی عہد نامزدگی سے تین دن قبل اسرائیل کے مشہور اخبار ہیرٹز Haaretz نے دعوی کیا تھا کہ اسرائیل اور سعودیہ کے درمیان اقتصادی تعاون پر گفتگو شروع ہو چکی ہے ۔ ہیریٹز۔۔ نے برطانوی اخبار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ اسرائیل اور سعودیہ کے درمیان تجارتی سرگرمیوں کا آغاز اسرائیلی ائیرلائن ایل آلElAALکی سعودی فضائی حدود میں پروازوں سے ہو سکتا ہے ۔۔جو بعدازاں تجارتی سرگرمیوں سے کسی حد تک درست ثابت ہوا۔ اسرائیل اور سعودیہ کے تعلقات کو زہر قاتل سمجھاجاتا تھا لیکن شہزادہ محمد بن سلمان نے عالمی سطح پر اپنی قابلیت منوانے کے لئے یہ بھی کر دکھایا ۔کچھ ایسی ہی تبدیلی لگا کر ہمارے وزیر اعظم بھی اقتدار میں آئے ہیں ۔ عمران خان کی تبدیلی بھی دھیرے دھیرے پروان چڑھ رہی ہے ۔ اب دنیا کے افق پر اسٹریٹیجک سطح پر تین ممالک ایسے ہیں جن کی بقا ء اور ارتقاء کو کوئی سپر پاور نظر انداز نہیں کرسکتی تھی۔ چین ، سعودی عرب اور پاکستان ۔ دنیا بھر میں ممالک کے اتحاد کی صف بندیاں بدل رہی ہیں ۔ نئی صف بندیوں میں یہ تنیوں ملک طویل المدتی اتحادی ہیں ۔ چین کے مفادات اپنی جگہ لیکن پاکستان اور سعودیہ کی دو عظیم قیادتوں کا گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر اسلام آباد کی سڑکوں پر جلوہ گر ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے ۔ کہ معاملہ تجارت اور سرمایہ کاری سے کہیں زیادہ سفارت کاری اور سفارت کاری سے کہیں زیادہ ذہنی ہم آہنگی کا ہے ۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ جدت کی حدت اورحدت کی شدت۔۔ دوبڑے لیڈر ز کے ذریعے دو انتہائی اہم برادر ممالک کو قریب لائی ہے۔یہ امت مسلمہ کے لئے بڑی کامیابی ہے جب کہ مسلم دشمن قوتوں کے لئے کھلا چیلنج ۔۔اسلام آباد سے پوری دنیا کو جاری کئے جانے والا مناظر امت مسلمہ کے لئے انتہائی دلکش ہیں لیکن دیکھنا یہ ہوگا کہ سفارتی تعلقات کی اس اننگز میں تابڑ توڑ چھکے مارنے والے ’خان ‘سفارتی میچ میں دوسرے ممالک پر برتری کیسے اور کتنے عرصے تک قائم رکھ پاتے ہیں ۔


ای پیپر