پنڈی کی لال حویلی اور اِس کا ’’بقراطِ عصر‘‘مکین۔۔۔!
18 فروری 2019 2019-02-18

قیامِ پاکستان سے قبل ہندوسرمایہ دار دھن راج سہگل کی اپنی پسندیدہ رقاصہ مدھن بائی کی رہائش کے لیے راولپنڈی شہر کے تقریباً وسط میں شہر کے مرکزی مقامات فوارہ چوک (راجہ بازار)سے جانبِ شمال مشرق اور کمیٹی چوک سے جانبِ شمال مغرب تقریباً یکساں فاصلے پر بو ہڑ بازار کے شمال مغربی کونے میں تعمیر کردہ تین منزلہ خوبصورت اور پُرشکو ہ عمارت کی وجہ شہرت قیامِ پاکستان اور فوراً بعد کے سالوں میں اِس کی وجہ تعمیر ، اِس کا مرکزی محل وقوع ، اِس کا طرز تعمیر، اِس کا سُرخ رنگ اور اِس کا نام لال حویلی جو بھی ہو۔ پچھلے تقریباً 45-50برسوں سے اِس کی وجہ شہرت موجودہ وفاقی وزیر ریلوے اور ماضی کے "فرزندراولپنڈی "شیخ رشید احمد ہیں کہ وہ یہیں پل بڑھ کر پروان چڑھے ، یہی سے اُن کی سیاست کا آغاز ہوا اوریہیں اُنہوں نے اپنا پبلک سیکرٹریٹ اور عوام بالخصوص اپنے حلقے کے لوگوں سے رابطے کا مرکز قائم کر رکھا ہے۔ لال حویلی کی وجہ شہر ت اگر شیخ رشید احمد ہیں تو یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایک لحاظ سے لال حویلی بھی شیخ رشید احمد کی وجہ شہرت ہے کہ پچھلی صدی کی نوے کی دہائی میں محترمہ بینظیر بھٹو کی وزارتِ عظمٰی کے دُوسرے دور غالباً1994ء میں لال حویلی سے کلاشنکوف برآمد کر کے شیخ رشید احمد کو ناجائز اور ممنوعہ اسلحہ رکھنے کے جُرم میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت قید کی سزا سُنائی گی ۔شیخ رشید احمد کو قید کی سزا جائز طور پر ملی تھی یاجھوٹے الزامات میں ناجائز طور پر دی گئی تھی اِس سے قطع نظر اتنا ضرور ہوا کہ شیخ رشید احمد کو ایک سبق مِل گیا اور وہ پیپلز پارٹی کی چئیر پرسن محترمہ بینظیر بھٹو کی ذات پر رکاکت بھرے اندازمیں جو تنقید کرتے رہتے تھے اور اُن کی نیجی زندگی پر بازاری زُبان میں جملے کسنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے اِس سے بڑی حد تک باز آگئے لیکن زُبان کو جو چسکہ پڑا ہو اُس سے مُکمل چھُٹکارا پانا آسان نہیں ہوتا ۔ شیخ رشید احمد کا اب بھی اپنے مخالفین کو رکاکت بھرے انداز میں ہدفِ تنقید بنانا ختم نہیں ہوا تاہم اِس میں وہ گھن گرج نہیں رہی جو نوے کی دہائی کے برسوں میں اُن کے اندازِ تخاطب میں ہوا کرتی تھی۔اِسے حالات کی ستم گِری یا زمانے کی سِتم ظریفی ہی کہا جا سکتا ہے کہ اب شیخ رشید احمد ہر تنقید کا نشانہ جائز و ناجائز تنقید کا نشانہ اُن کے سابقہ مربی ، مہربان اور ولی شریف برادران میاں محمد نواز شریف اور میاں شہباز شریف ہیں۔

شیخ رشید احمد کا تازہ فرمان ہے کہ میاں برادران کو کوئی این آر او نہیں ملے گا اوروہ کڑے احتساب کا ایسا نشانہ بننے والے ہیں کہ اُن کی چیخیں لال حویلی تک سُنائی دیں گی۔میاں برادران کو این آر او ملتا ہے یا نہیں یہ وقت ہی بتائے گا ہم واپس لال حویلی کی طرف آتے ہیں۔اِسے شیخ رشید احمد کا مسکن ہونے کے علاوہ اپنے سُرخ رنگ ، اپنے طرزِ تعمیر، لکڑی کے خوبصورت کام اورمرکزی محل وقوع کی بناء پر یقیناًمُنفرد مُقام حاصل ہے۔ لال حویلی جیسے اُوپر کہا گیا ہے بوہڑ بازار کے مغربی کونے میں بنی ہوئی ہے۔ اِس کے مغرب میں اُردو بازار ہے جِس کے جنوب میں آگے بڑھیں تو کلاں بازار ، پھر آگے کمیٹی چوک کو فوارہ چوک سے ملانے والی اقبال روڈ اور اِس کے ساتھ باڑہ مارکیٹ اور لیاقت مارکیٹ کے پُر ہجوم علاقے ہیں تو شمال مغرب میں پُرانا قلعہ کا قدیم اور تاریخی علاقہ اور شمال اور شمال مشرق میں صرافہ بازار ،کسیرا بازاراور بھابڑابازار کے پنڈی کے قدیمی محلے اور بازار مشرق میں آگے مری روڈ تک پھیلے ہوئے ہیں۔ اِن بازاروں میں سُناروں اور جیولرز کی دُکانوں کے علاوہ کپڑے،عروسی ملبوسات ،کتابوں ،سٹیشنری آئیٹمز ،برتنوں اور کھانے پینے کی اشیاء کے چھوٹے

بڑے ہوٹلوں اورڈھابوں کے علاوہ گوشت اور دوسری اشیائے خُورونوش کی دکانوں پر روزانہ لاکھوں کروڑوں روپے کا کاروبار ہی نہیں ہوتا ہے ہر وقت گاہکوں اور گُزرنے والوں کا اتنا ہجوم ہوتا ہے کہ کھوے سے کھوا چھِل رہا ہوتا ہے ۔ اِس ماحول اور فضا میں پل بھر کر پروان چڑھنے والا کچھ اوربنے یا نہ بنے اُسے اِس طرح کے ماحول اور فضا میں گھُل مِل جانے اورعام لوگوں سے میل جول رکھنے میں بہرکیف کوئی دشواری پیش نہیں آتی ۔ لال حویلی کے مکین وفاقی وزیرِ ریلوے شیخ رشید احمد کی کئی عشروں سے بطور ممبر قومی اسمبلی کامیابی کا جائزہ لیا جائے تو اِس میں لال حویلی سے جُڑے مخصوص ماحول اور فضا کا یقیناًعمل دخل ہے کہ جس سے جنابِ شیخ کے عوامی رنگ کو تقویت مِلی ہے۔شیخ رشید احمد کا یہ معمول اُن کے عوامی نمائندے ہونے کا ثبوت مہیا کرتا ہے کہ وہ شب بسری کہیں بھی کریں وہ صبح ناشتے کے وقت اکثرلال حویلی کے گرِدونواح کے گُنجان آباد محلوں اور بازاروں کے تھڑوں ، کھانے کے ڈھابوں اور ہجاموں کے گرم حماموں پر حاضری دے کر عام لوگوں اوراپنے وٹروں سے رابطوں کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

شیخ رشید احمد اِس مقام تک کیسے پہنچے ، وہ فرزندِ راولپنڈی ہونے کے دعویدارکیسے بنے اور ایک زمانے میں فرزندِ پاکستان ہونے کے خواب کیسے دیکھتے رہے اور اب میڈیا میں اُنہیں لال حویلی کے "بُقراط عصر " کا لقب کیسے حاصل ہوا میں اِ س بارے میں اپنے ذہن کے نہاں خانے میں موجود بھُولی بسری یادوں کو کریدتا ہوں تو شیخ رشید احمد کے حوالے سے کچھ واقعات اُبھر کر سامنے آتے ہیں۔یہ دسمبر 1968ء کی آخری تاریخ تھی یا جنوری1969ء کا پہلا یا دوسرا دِن تھا کہ شیخ رشید احمد کو میں نے پہلی بار دیکھا ہی نہیں روات جی ٹی روڈ لاری اڈا پر صدر ایوب خان کی حکومت کے خلاف اُن کی رٹی رٹائی پُر جوش تقریر بھی سُنی ۔صدر ایوب خان کی حکومت کے خلاف مُظاہروں ،جلسے جلوسوں اور ہنگاموں کی بناء پر تعلیمی ادارے بند تھے ۔ میں اور میرے ایک اتنہائی محترم دوست عوامی احتجاج کی کیفیت جاننے کے لیے جی ٹی روڈ پر روات لاری اڈا پر پہنچے ہوئے تھے۔شیخ رشید احمد جِن کی اُس وقت مسیں بھی پُری طرح نہیں بھیگی تھیں اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ وہاںآگئے۔لاری اڈا ہونے کی وجہ سے چھوٹا سا ہجوم بن گیا۔ ہماری خواہش تھی کہ شیخ رشید احمد تقریر کریں ۔وہ اُس وقت گورنمنٹ پولی ٹیکنیکل اِنسٹیٹیوٹ راولپنڈی کی سٹوڈنٹس یونین کے جنرل سیکرٹری تھے۔یہ انسٹیٹیوٹ راولپنڈی گولڑہ موڑ سے آگے پشاور روڈ پر ایک وسیع رقبے میں قائم تھا ۔یہاں میٹرک پاس سٹوڈنٹس کو مختلف ٹیکنیکل ڈپلومہ کورسز میں داخلہ دیا جاتا تھایہاں سٹودنٹس کے مظاہرے اورہنگامے روز مرہ کا معمول تھا ۔ اِس بناء پر بعد میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق کے دور میں پچھلی صدی کی اسی کی دہائی میں اِسے بند کر دیا گیا اور اب پچھلے کئی عشروں سے اِس کی جگہ پر آرمی کا الیکٹریکل ،مکینیکل اینڈ انجنیرنگ کالج قائم ہے۔بات خیر شیخ رشید احمد کی ہورہی تھی ۔وہ تقریر کرنے سے ہچکچا رہے تھے کہ قریب ہی پولیس کے کچھ لوگ کھڑے تھے ۔ہم نے اُنہیں حوصلہ دیا اور وہاں اڈے پر کھڑی مورس ٹیکسی کار کی چھت پر چڑھا دیا ۔اُنہوں نے جھجکتے جھجکتے تقریر کر ہی ڈالی۔

شیخ رشید احمد سٹوڈنٹس پالیٹکس میں کیسے آگے بڑھے اِس کی تفصیل بیان کرنے کا یہاں موقع نہیں تاہم وہ پولی ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ سے شاید ڈپلومہ حاصل کیے بغیر گارڈن کالج میں آگئے ۔اب ذولفقار علی بھٹو کا دورِ حکومت شروع ہو چُ کا تھا اورکالجوں میں سٹوڈنٹس کے ہنگاموں اور کلاسز کے بائیکاٹ کاسلسلہ بھی کچھ زور پکڑ چکا تھا۔شیخ رشید احمد کو یہ فضا اور ماحول بہت راس آیا اور جلد ہی اُن کا شُمار پنڈی کے اہم سٹوڈنٹس لیڈروں میں ہونے لگا اِ سطرح اُن کے بھٹو مخالف سیاسی جماعتوں کے اہم رہنماؤں جن میں گُجرات سے تعلق رکھنے والے مُسلم لیگ کے رہنما چوہدری ظہور الٰہی نمایاں تھے سے اُن کے روابط قائم ہوئے ۔جنہوں نے اُن کی سرپرستی ہی نہیں کی بلکہ بھٹو حکومت کے خلاف آئے روز کی ہنگامہ آرائی کے صلے میں اُن کا "حقِ خدمت بھی"مُقرر کردیا ۔شیخ رشید احمد کا یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کے جنوری 1977ء میں وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو نے مُلک میں عام انتخابات کا اعلان کیا تو بھٹو کی مخالف نو سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں پیپلز پارٹی کا مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان قومی اتحاد کی تشکیل کی ۔شیخ رشید احمد پنڈی میں اِس اتحاد کے جلسوں میں ایک مقبول مُقرر کے طور لیے جانے لگے ۔ مُجھے یاد پڑتا ہے کہ پنڈی شہر کے حلقہ سے قومی اتحاد کے اہم رہنماء ائیر مارشل (ر)اصغر خان مرحوم پیپلز پارٹی کے اُمید وار سید اصغر علی شاہ مرحوم جو وسیع روابط رکھنے والی مقبول عوامی شخصیت تھے کے مدِ مقابل تھے۔قومی اسمبلی کے انتخابات کے لیے مُقررہ تاریخ 07مارچ 1977ء سے دو روز قبل ائیر مارشل اصغر خان کی انتخابی مہم کا آخری جلوس پنڈی شہر کی سڑکوں مری روڈ ، لیاقت روڈ،فوارہ چوک،راجہ بازار، جامع مسجد روڈ اور بنی سے ہو کر کمیٹی چوک کی طرف رواں دواں تھاتو شیخ رشید احمد اِس جلوس کی مرکزی گاڑی میں کھڑے ہو کر جلوس کے سارے راستے میں "راشا ،راشا۔۔۔۔ اصغر خان راشا"کے نعرے لگواتے رہے ۔ شیخ رشید احمد نعرہ باز کے درجے سے بُلند ہو کر قومی سطح کے لیڈ ر کیسے بنے اِس کے لیے ماضی میں کُچھ مزید جھانکناہوگا۔

پانچ جولائی 1977ء کو آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے مُلک میں مارشل لاء نافذ کر کے عنانِ حکومت سنبھالی تو کُچھ سال بعد مُلک میں بلدیاتی اِداروں کے اتخابات کرائے جانے لگے ۔شیخ رشید احمد لال حویلی کے اپنے مخصوص عوامی پس منظر کی بناء پر جلد ہی پنڈی کی بلدیاتی سیاست میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوگئے جس نے بعد میں عام انتخابات میں بطور ممبر قومی اسمبلی اُن کی جیت میں اہم کردار ادا کیا۔فروری 1985ء میں مُلک میں غیر جماعتی بُنیادوں پر عام انتخابات کا ڈول ڈالا گیا تو شیخ رشید احمد اپنے مدِ مقابل جفادری اُمیدواروں کو شکست دے کر پنڈی شہر سے قومی اسمبلی کی نشست پر کامیاب رہے ۔قومی اسمبلی کے انتخاب میں کامیابی کے بعد ان کی گُڈی خُوب چڑھی ہوئی تھی اور اُنہوں نے ارشاد فرمایا کہ میری نظریں تختِ لاہور پر ہیں جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ دو دِن بعد ہونے والے صوبائی اسمبلی کے انتخابات جن میں وہ پنڈی کی صوبائی اسمبلی کی ایک نشست پر انتخاب لڑ رہے تھے کامیابی حاصل کر کے پنجاب کا وزیر اعلیٰ بننے کی دوڑ میں شامل ہو جائیں گے لیکن شومئی قسمت کہ صوبائی اسمبلی کے انتخابات میں اُنہیں اپنے مدِ مقابل اُمیدوار چوہدری مُشتاق حُسین مرحوم کے ہاتھوں شکست کی ہزیمت سہنی پڑی ۔ ازاں بعد وہ پنڈی کی سیاست میں آج تک اپنا مقام بنانے میں کامیاب رہے ہیں تو اِس میں بلاشبہ مُسلم لیگ کے قائد میاں محمد نواز شریف کا بڑا ہاتھ ہے کہ وہ اُنہیں اپنا ایک وفا دار اور جانثار ساتھی سمجھ کر اُن کی سر پرستی کرتے رہے لیکن 2002ء کے بعد شیخ رشید احمد کے راستے( مُسلم لیگ ن) اور میاں محمد نواز شریف سے ایسے جُدا ہوئے کہ اب شیخ رشید احمد کو میاں نواز شریف کو ہدفِ تنقید بنائے بغیر چین نہیں آتا ۔ اِس میں شاید اُنہیں اپنے موجودہ مربی وزیراعظم عمران خان جوایک زمانے میں اُنہیں اپنا چپڑاسی رکھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے کی خُوشنودی کا بھی خیال رکھنا پڑرہا ہے۔


ای پیپر