پلوامہ حملہ کی سازش
18 فروری 2019 2019-02-18

جوں جوں بھارت میں اتخابی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں سیاسی فضا پراگندہ ہوتی جا رہی ہے اپوزیشن کا وسیع تر اتحاد معرضِ وجود میں آگیا ہے اتحاد کے زیرِ اہتمام کولکتہ میں بڑی ریلی منعقد ہوچکی ہے جس میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کے رہنماؤں نے بھرپور شرکت کی اِس ریلی میں شرکا کی تعداد اپوزیشن اتحادپندرہ لاکھ افراد کی شرکت کا دعویٰ کرتا ہے لیکن شرکا کی تعداد کم بھی ہو تو اِس امر میں شائبہ نہیں کہ ریلی خاصی کامیاب رہی لوگ جوق در جوق شامل ہوئے اور مختلف جماعتوں کے رہنماؤں اور نمائندوں کا خطاب بھی توجہ سے سنا آزاد ذرائع ریلی کے شرکا کی تعداد کسی صورت دس لاکھ سے کم تصور نہیں کرتے جس سے بھارت میں حکمران جماعت بی جے پی کی پتلی حالت عیاں ہوتی ہے بھارتی سیاست کے نبض شناس عام کہنے لگے ہیں کہ آمدہ انتخاب میں ناقص کارکردگی کی بنا پر مودی کا جادو اثر نہیں دکھا سکے گابلکہ اتحادی حکومت کے امکانات بڑھ رہے ہیں جس سے بی جے پی خاصی پریشان ہے اور انتخاب جیتنے کے لیے موثرچالوں کی تلاش میں ہے بابری مسجد کی جگہ پر رام مندرکی تعمیر کا وعدہ ایفا نہیں ہوسکا ۔

راجھستان ،چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش سمیت کئی ریاستوں میں بی جے پی کو بُری طرح شکست ہوچکی ہے پہلے بھی پاک بھارت تناؤ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوتا رہا ہے اب بھی کوئی اور چارہ نہ پاکر حکمران جماعت نے کانگرس کی طرح اسی حربے پر تکیہ کر لیا ہے پلوامہ حملہ ممبئی دھماکوں کی طرح سوچا سمجھا منصوبہ لگتا ہے گزشتہ انتخابات سے قبل اڑی سیکٹر میں دہشت گردی کاوقعہ ہوا جس کا زمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا گیا جب انتہا پسند ہندؤں کا جادوسر چڑھ کر بول رہا ہواور بپن راوت جیسا آرمی چیف بھی انتہا پسندوں کے پروگراموں میں شامل ہوتا ہوتب ایسے واقعات کی منصوبہ بندی مشکل نہیں رہتی لیکن خطے کی دو ایٹمی طاقتوں میں ٹکراؤ کی صورتحال پیدا کرکے بی جے پی نے امن کو داؤ پر لگانے کی کوشش کی ہے جو مفاد پرستی کی گھٹیا ترین چال ہے۔

جب کوئی واقعہ ہوتا ہے تو ذمہ دارانہ طرزِ عمل یہ ہے کہ اچھی طرح چھان بین کی جائے اور ذمہ دار کا تعین کرتے وقت کوئی پہلو تشنہ نہ چھوڑا جائے لیکن بھارتی قیادت کو شاید زمہ دارانہ طرزِعمل سے کوئی سروکار نہیں اسی لیے ہر واقعہ کے پیچھے اُسے پاکستان کا ہاتھ نظر آتا ہے پلوامہ حملہ کے چند منٹ بعد ہی پاکستان کو ذمہ دار کہنا ثابت کرتا ہے کہ بی جے پی آج بھی مسلم اور پاکستان دشمنی کو فروغ دیکر کامیابی کا زینہ طے کرنا چاہتی ا ہے لیکن ایساسوچتے یہ بھول جاتی ہے کہ اب 1971 والا پاکستان نہیں لیکن بھارت میں برسوں سے جاری درجنوں علحدگی پسند عناصر پاک فوج کی مدد کر سکتے ہیں اوراگر جنگ کا ماحول بنتا ہے تو پاکستان میں علحدگی پسندوں کی اُسے اعانت نہیں مل سکتی ۔

جدید ہتھیاروں سے لیس مضبوط پاک فوج نہ صر ف وطن کا دفاع کرنے کی طاقت رکھتی ہے بلکہ بھارت کی حربی قوت کو تہ بالا کرنے کی پوزیشن میں ہے اگرہزاروں میل دور سے امریکہ چین سے عداوت کی بنا پر بھارت کی پشت پناہی کررہا ہے تو چین بھی پاکستان کی طرفدار ی سے دستکش نہیں ہوسکتا امریکہ بھارت گٹھ جوڑ خطے میں جنگ کا ماحول تو پیدا کرسکتا ہے لیکن کامیابی کے سبھی تخمینے پاکستان کے حق میں ہیں اسی لیے مودی کی للکار امن پسندپاکستان کا کچھ بگاڑنے کی پوزیشن میں نہیں۔

کشمیر میں بھارت کا ظلم و جبر کسی سے پوشیدہ نہیں بچے ،بوڑھے اور جوان بھارتی فوج کی گولیوں کا نشانہ بن رہے ہیں اورہر گھر سے جنازے نکل رہے ہیں ایسی صورت میں بھارت یا بھارتی فوج سے کون اُلفت کے عہد و پیمان کرے گا؟جو فوج پیلٹ گنوں سے نئی نسل کو اندھا کررہی ہو توکون ایسی فوج کو پھولوں کے ہار پہنائے گا ؟ بہتر یہ ہے کہ مودی اور بپن راوت جیسے انتہا پسند اپنے طرزِ عمل پر نظر ثانی کریں اور بزور طاقت کشمیریوں کو قید کرنے کی بجائے وعدے کے مطابق حقِ خود ارادیت دیں تاکہ خطے سے جنگ کے بادل چھٹ سکیں اگر بھارت ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتا تو جنوبی ایشیا سے غربت کا خاتمہ ممکن نہیں ترقی امن سے ہوتی ہے۔

بھارت نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ پاکستان کے لیے مشکل صورتحال پیدا کی اب بھی عالمی عدالتِ انصاف میں اٹھارہ فروری کو کلبھوشن کیس کی سماعت ہورہی ہے اسی لیے بھارتی مزاج آشنا یہ شبہ ظاہر کررہے ہیں کہ پلوامہ حملہ بھارت کی اپنی ہی کارستانی ہے تاکہ پاکستان پر دباؤ بڑھایا جائے اور اُسے جاسوس کے کیس کی پیروی سے دستکش کیا جا سکے پاکستان توسرحدوں پر امن کی کوشش کررہا ہے جس کے لیے کرتار پور راہداری کھولنے کا فیصلہ کیا لیکن آج تک بھارت نے کوئی ایسا اقدام نہیں کیا جس سے اُس کی امن پسندی ظاہر ہوتی ہو بلکہ بنگلہ دیش کے قیام کی سازش کی اب بھی پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جیش محمد پر الزامات لگانے والے بھارتی زعما کیا اِ س سوال کا جواب دے سکتے ہیں کہ مہاتماگاندھی،اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی ہلاکت میں کن مسلمانوں کا ہاتھ ہے لاکھوں سکھوں،مسلمانوں اوردلتوں کی جانوں سے کھلواڑ کرنے والے کون ہیں ؟

حملہ آور کے بارے بھارتی بیانیہ بھی ہضم ہونے والا نہیں پلوامہ میں سیکورٹی فورسز پر حملے کا زمہ داربیس سالہ عادل احمد ڈار کوکہا جا رہا ہے جس کے بارے اُس کے والد غلام حسین ڈار کا کہنا ہے کہ تین سال قبل سکول سے آتے ہوئے اُسے بھارتی فوجیوں نے تشدد کا نشانہ بنایا اور شرمناک سلوک کیا جس کی وجہ سے وہ ہر بھارتی فوجی سے نفرت کرنے لگا سکول چھوڑ کر مزدور ی کی طرف دھیان کیا اور پھر گزشتہ اُنیس مارچ کو کام پر گیا تو لاپتہ ہو گیا تلاش کے باوجود نہ ملا گمشدگی کی رپٹ بھی درج کرائی لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا والدہ فہمیدہ کا بھی ایسا ہی کہنا تھا ۔ جس طرح 2016میں پتھراؤ کا جھوٹا الزام لگا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا عین ممکن ہے فوج نے کسی الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہو اور ڈرامے میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے معصوم کو بھارتی فوج نے قربان کردیا ہو کیونکہ اُس سے ہر غیر انسانی سلوک کی توقع کی جا سکتی ہے ایسے حالات میں جب پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری آرہی ہے سعودی ولی عہد شہزادہ سلیمان کی آمد سے اربوں ڈالر کی متوقع سرمایہ کاری سے بھارت خوش نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ تو ہمیشہ پاکستان کو تنہا کرنا کی پالیسی پر عمل پیرا ہے پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو اُسے کیسے گوارہ ہو سکتا ہے امریکہ طالبان مزاکرات بھی اسلام آباد میں ہوں ایسے حالات میں حملے کے فوائد پاکستان نہیں بھارت کوملتے ہیں اور بھارتی اپنے مفاد کے لیے کسی حد تک بھی جا سکتے ہیں ۔

حالات خواہ کچھ بھی ہوں پاکستان کو چوکس اور تیار رہنا چاہیے اور بھارتی دھمکیوں کو سنجیدہ لیکر دوست ممالک کو اعتماد میں لیا جائے بھارت امن کی نہیں صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے بہتر ہے سیاسی قیادت باہمی اختلاف بھلا کر یک زبان ہو تاکہ بھارت کو مہم جوئی کی جرات نہ ہو سکے موسٹ فیورٹ نیشن کا درجہ ختم کرنے میں اُسی کا نقصان ہے کیونکہ پاکستانی برآمدات سے بھارتی مصنوعات دو گنا ہیں اس لیے گھبرانے کی ضرورت نہیں آبی جارحیت کو عالمی سطح پر اُجاگر کیا جائے فوجی اور سیاسی قیادت متحد ہو کر بھارت کے بارے پالیسی بنائے اور کشمیر کا مقدمہ زوردار اندازمیں لڑے تبھی ہندو بنیاہوش کے ناخن لے گا۔


ای پیپر