بھارت کا مکروہ چہرہ (قسط 2 ) 
18 دسمبر 2020 2020-12-18

بھارت کی پاکستان دشمنی ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ برہمن سامراج، مسلمانوں کے الگ وطن کے تصور کے ہی خلاف تھا۔ آج تک بھارتی ذہنیت نے پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا۔ اس کے بس میں ہو تو وہ (خدانخواستہ) پاکستان کے وجود ہی کو ختم کر ڈالے۔ یہ تو پاکستانی قوم اور اس کے راہنماوں کی دانشمندی تھی کہ انہوں نے بھارتی ایٹمی پروگرام کے ساتھ ساتھ خود بھی ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی۔ آج یہی صلاحیت ہمارے دفاع کی سب سے بڑی ضمانت ہے اور اسی کی وجہ سے بھارت ہمارے خلاف کسی بڑی مہم جوئی کا حوصلہ نہیں کرتا۔

لیکن ہم یہ حقیقت کیوں بھلا دیتے ہیں کہ بھارت کو وہی کچھ کرنا چاہیے جو ایک دشمن دوسرے دشمن سے کرتا ہے۔ ہمیں اس سے خیر سگالی یا کسی بھی طرح کی ہمدردی کی توقع ہی کیوں ہوتی ہے؟ اگر یورپی یونین ڈس انفولیب کی طرف سے پاکستان دشمن پروپیگنڈے کے نیٹ ورک کا انکشاف نہ بھی ہوتا تو کیا ہم نہیں جانتے کہ بھارت ہمارے بارے میں کس طرح کے مکروہ عزائم رکھتا ہے اور دنیا کو کیوں کر ہمارے خلاف بھڑکاتا رہتا ہے؟ دنیا کے ممالک میں پھیلے ہوئے اس کے سفارتخانوں کی سرگرمیوں کا بڑا ہدف پاکستان مخالف پراپیگنڈا ہی ہوتا ہے۔ مجھے برطانیہ میں ایک طویل عرصہ گزارنے والے سینئر پروفیسر نے بتایا کہ بھارتی ہائی کمیشن نے کس طرح پاکستانی تعلیمی اداروں کے بارے میں تمام خبروں کا ریکارڈ جمع کر رکھا تھا کہ اتنے پاکستانی ادارے جعلی ہیں۔ یہ رپورٹیں وہ برطانوی میڈیا اور یونیورسٹیوں کو مسلسل فراہم کرتے رہتے تھے۔ یہی حال پاکستان میں جمہوریت، پریس کی آزادی ، بنیادی انسانی حقوق، مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بھارت دشمنی کا واویلا اپنی جگہ ، ہم کیا کر رہے ہیں؟ کیا ہمارے سفارتخانے بھی اتنے ہی فعال ہیں۔ کیا وہ بھی بھارت میں ہندو مسلم فسادات کے حوالے سے دنیا کو آگاہ کر رہے ہیں؟ کیا وہ بھی بتا رہے ہیں کہ مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں پر کیا گذر رہی ہے؟ کیا وہ بھی دنیا کے سامنے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر نے کیلئے کشمیریوں پر سات دہائیوں سے ٹوٹنے والے مظالم کا ریکارڈ دنیا کے سامنے رکھ رہے ہیں؟ کیا وہاں بھی ایسے ڈیسک بنے ہوئے ہیں جو بھارت کے ہاں ہونے والی زیادتیوں اور انسانی حقوق کی پامالی کا پورا ریکارڈ رکھ رہے ہوں اور پھر دنیا کے سامنے بھی لا رہے ہوں؟ عمومی تاثر تو یہ ہے کہ ہمارے سفارت خانے دراصل مہمان داری کے دفاتر بن کر رہ گئے ہیں جن کا کام سال ہا سال سے یہ ہے کہ وہ پاکستان سے آنے والے وزراءاور وی۔آئی۔ پیز کے پروٹوکول میں کوئی کمی نہ آنے دیں ۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اقلیتوں کے حوالے سے پاکستان کا ریکارڈ، بھارت سے بہت بہتر ہے۔ مذہبی آزادی بھی بھارت سے کہیں زیادہ ہے لیکن حال ہی میں اقوام متحدہ نے دس ایسے ممالک کی فہرست جاری کی ہے جہاں امریکی وزیر خارجہ کے بقول مذہبی آزادیاں کچلی جا رہی ہیں اور مذہبی آزادی کے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔

ان دس ممالک میں سعودی عرب، ایران، اور چین جیسے ممالک کے علاوہ پاکستان بھی شامل ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ بھارت کا اس میں کوئی ذکر نہیں۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت مذہب کی بنیاد پر اپنی اقلیتوں پر مظالم ڈھا رہا ہے، ان کی عبادت گاہیں جلا رہا ہے، انہیں قتل کر رہا ہے لیکن اسے اس فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔ قریشی صاحب کا احتجاج بجا ہے۔ اس میں یقینا پاکستان کے خلاف امتیازی سلوک اور تعصب کا عمل دخل ضرور ہے لیکن خود ہم نے بھارتی مظالم کو آشکار کرنے کیلئے کتنی کوشش کی؟۔ کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا سلسلہ تو برسوں سے جاری تھا لیکن اب اس نے مقبوضہ کشمیر کے جداگانہ تشخص کو بھی ختم کر کے اسے ہڑپ کر لیا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہ تھی۔ اگر ہم سفارتی سطح پر پوری طرح فعال ہوتے تو دنیا میں ہلچل مچا دیتے لیکن حالت یہ ہے کہ ہم اقوام متحدہ میں مرضی کی قرارداد لانے کیلئے بھی ارکان کا مطلوبہ تعداد حاصل نہ کر سکے۔ اور تو اور وہ اسلامی ممالک بھی ہمارے ساتھ کھڑے نہ ہوئے جن سے ہمارے بہت پرانے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات تھے۔ اس کا گلہ بھارت سے کیا جائے یا ہماری اپنی کوتاہی اور بے حکمتی کا بھی کوئی کردار ہے۔

کیا ہمیں اندازہ ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی کس طرح ہمیں تنہا کر رہی ہے۔ بڑی طاقتوں کو تو جانے دیں، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک بھی ہم سے دور ہو رہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات نے پاکستان کیلئے ہر قسم کے ویزوں پر پابندی لگا دی ہے۔ جن مزدوروں اور محنت کشوں نے پاکستان سے جانا تھا اب وہ بھارت سے بھرتی ہو رہے ہیں۔ سعودی عرب نے نہ صرف ہمارے پاس رکھے دو ارب ڈالر واپس لے لئے ہیں بلکہ خبر ہے کہ ہمیں اس رقم پر اچھا خاصا سود بھی ادا کر نا پڑا ہے۔ گزشتہ ہفتے بھارتی فوج کے سربراہ جنرل ناراوان نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا چھ روزہ دورہ کیا۔ یہ کسی بھی بھارتی آرمی جرنیل کا اپنی نوعیت کا پہلا دورہ تھا۔ بھارت کے ساتھ دوستوں کی اس قربت اور ہماری دوری میں کیا ہمارا اپنا بھی کوئی قصور ہے یا نہیں۔ ہم مانیں یا نہ مانیں، چین کے ساتھ بھی پہلے جیسی گرم جوشی دکھائی نہیں دیتی۔

اور اگر پچاس ہزار سے زیادہ جانوں کی قربانی دینے اور دہشت گردی کا سب سے زیادہ نشانہ بننے کے باوجود ہم فاٹف کی گرے لسٹ میں پڑے ہیں اور ہمیں آئے دن طرح طرح کے قانون بنانا پڑ رہے ہیں تو کیا یہ سب کچھ بھارت کا کیا دھرا ہے یا اس میں ہماری اپنی کچھ کمزوریوں کا عمل دخل بھی ہے؟ اور دنیا اگر پریس کی آزادی کے حوالے سے ہمیں نشانہ بنا رہی ہے تو کیا اس کا الزام بھی ہم کسی دشمن پر لگا دیں یا ہمیں اپنے گھر کی خبر لینے کی ضرورت ہے؟ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی تازہ تریں رپورٹ میں پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جہاں صحافت اور صحافیوں کو شدید خطرات ہیں۔ افسوس کا مقام ہم بھارت اور افغانستان سے بھی نیچے ہیں۔

ہمارے ایک وزیر کے غیر محتاط بیان کی وجہ سے پی ۔آئی۔اے کو یورپی ممالک اور کئی دوسرے ملکوں سے بندش کا سامنا ہے۔ کیا اس کا الزام بھی ہم دشمنوں پر لگا دیں۔ لاتعداد دوسری کمزوریاں ہیں جن کا تعلق ہماری اپنی ناقص پالیسیوں سے ہے لیکن اس کا کیا علاج کہ خود احتسابی ہمارا مزاج ہی نہیں اور اصلاح احوال ہماری ترجیحات میں سے نہیں ۔


ای پیپر