انسانی ترقی کا انڈکس اور تشدد رویے
18 دسمبر 2019 2019-12-18

لاہور کے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالونی (پی آئی سی) میں ہمارے چند سو وکلاء نے جو کچھ کیا اسے شرم ناک، افسوسناک اور پرلے درجے کی حماقت ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹرز اور وکلاء نے جو کچھ ایک دوسرے کے ساتھ کیا وہ ہمارے سماج میں موجود طاقت کے بے دریغ استعمال کے مضبوط کلچر کا ایک اظہار ہے۔ وکلاء اور ڈاکٹر زکے درمیان یہ ثابت کرنے کا مقابلہ جاری ہے کہ ان دونوں پڑھے لکھے گروہوں میں کون زیادہ طاقتور ہے۔ وکلاء نے اپنی طاقت دکھانے کے لیے دل کے ایک بڑے ہسپتال کا انتخاب کیا اور ہسپتال میں موجود مریضوں اور ڈاکٹروں پر اپنی طاقت کی خوب دھاک بٹھائی۔ یہ ایک انتہائی غیر اخلاقی، غیر قانونی اور غیر انسانی رویے کا اظہار تھا جس کی شدید الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے۔ وکلاء نے پہلے ہسپتال پر حملہ کیا اور اس کے بعد معذرت کرنے اور معافی مانگنے کی بجائے اپنے اس عمل کا دفاع شروع کر دیا جو کہ ایک افسوس ناک عمل ہے۔ چند سو وکلاء نے تمام وکلاء برادری کے سرشرم سے جھکا دیئے ہیں۔ وکلاء نے اسی پر تشدد رویے اور بیمار ذہنیت کا مظاہرہ کیا جو ہمارے سماج میں سرائیت کر چکا ہے۔ ہر طاقتور فرد گروہ اور ادارہ اپنے سے کمزور پر طاقت آزمانے کو جائز اور دوست سمجھتا ہے۔ بدقسمتی سے ہماری ریاست طاقتوروں کا تحفظ کرتی ہے اور کمزوروں کو طاقتوروں کے رحم و خرم پر چھوڑ دیتی ہے۔ قانون کی حکمرانی اور جمہوری قدروں اور رویوں کی عدم موجودگی میں طاقتور گروہ اپنی حکمرانی قائم کر لیتے ہیں۔ قانون کا سب پر اطلاق نہ ہونے سے چند طاقتور افراد گروہ اور ادارے خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتے ہیں۔ جب آئین کی کوئی وقعت نہ ہو اور قانون صرف کمزوروں کے لیے ہو تو پھر اسی قسم کی ثقافت اور روایات جنم لیتی اور پروان چڑھتی ہیں۔ اس معاملے میں اگر وکلاء قصور وار ہیں تو آئے روز ڈاکٹرز بھی اپنی طاقت اور برتری کا مظاہرہ ہسپتالوں میں کرتے رہتے ہیں۔ اگر وکلاء گروہی طاقت کا اکثر و بیشتر مظاہرہ کرتے رہتے ہیں تو ڈاکٹرز میں بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اسی قسم کے احساس برتری میں مبتلا ہیں اور اس کا عملی اظہار کرتے رہتے ہیں۔ ہم ایک ایسا سماج بن چکے ہیں جس میں گروہی طاقت کا استعمال اب معمول بن چکا ہے۔ سماج میں بہت سارے گروہ اپنے آپ کو قانون اور ضابطوں سے بالاتر اور مبرا خیال کرتے ہیں۔ حکمران طبقات اور اشرافیہ نے ایسی روایات کو جنم دیا ہے اور انہیں پروان چڑھایا ہے جن کے نتیجے میں قانون کی حکمرانی اور آئین کی برتری کا تصور بری طرح متاثر ہو چکا ہے۔ عام حالات میں سماج پر غالب سوچ، نظریات، روایات اور خیالات حکمران طبقات کے ہی ہوتے ہیں۔ ہم نے خود کو انسانوں کے ایک ایسے جنگل میں تبدیل کر لیا ہے۔ جہاں پر جس کی لاٹھی اسی کی بھینس کے اصول کی حکمرانی ہے۔ ہم اخلاقی پستی کی نچلی ترین سطح تک پہنچ چکے ہیں۔

ہم آج جہاں کھڑے ہیں اگر اس حالت تک پہنچنے میں کسی چیز نے سب سے زیادہ اہم کردار ادا کیا ہے تو وہ ہے انسانی ترقی کو نظر انداز کرنا۔ ہم نے کبھی بھی انسانی ترقی کے پہلو کو اہمیت نہیں دی۔ یہی وجہ ہے کہ ایٹمی قوت ہوتے ہوئے اور دفاعی اعتبار سے مضبوط ترین ممالک میں شمار ہونے کے باوجود ہم 2019ء میں بھی انسانی ترقی کے اعتبار سے 189 ممالک کی فہرست میں 152 ویں نمبرپر موجود ہیں۔ انسانی ترقی کے تمام تر دعووں کے باوجود انسانی ترقی کے انڈکس میں ہم آخری ممالک میں شامل ہیں جو کہ یقینا قابل فخر بات نہیں ہے۔ ہم نے انسانی ترقی کو اس حد تک نظر انداز کیا ہے اب ہم جنوبی ایشیا میں بھی سب سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ انڈیا، بنگلہ دیش اور یہاں تک کہ نیپال بھی انسانی ترقی کی فہرست میں ہم سے بہتر ہے۔ ہمارے حکمران اعداد و شمار اور اپنے مفادات کے کھیل میں اس قدر مگن اور محو ہیں کہ انہیں انسانی ترقی پر دھیان دینے کا وقت ہی نہیں مل پایا۔ انسانی ترقی دراصل کبھی بھی ہمارے پالیسی سازوں اور فیصلہ سازوں کی ترجیح نہیں رہی۔ وہ تو بس معاشی اعداد و شمار کو درست کرنے اور اپنے اندرونی اور بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے میں اس قدر مشغول رہے کہ ان کا دھیان انسانوں کی ترقی پر گیا ہی نہیں۔ حکمرانوں کی دولت کے انبار جمع کرنے کی ہوس ہی پوری نہیں ہوئی کہ وہ عام لوگوں کے بارے میں سوچتے۔ ان کی بہتری کے لیے اقدامات کرتے۔ انسانی ترقی کا انڈکس ہمیں ہرسال یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم یہ جان سکیں کہ ہم نے انسانی ترقی کے لئے کیا اقدامات اٹھائے ہیں۔ اس میں بہتری آئی ہے یا صورت حال خراب ہوئی ہے۔ یہ انڈکس مساوات، برابری، غربت، تعلیم، صحت، بنیادی سروسز کی فراہمی، بچوں کی شرح اموات، اوسط عمر اور جنسی برابری جیسے اعشاریوں کی بنیاد پر مرتب کیا جاتا ہے۔ ہمارے فیصلہ سازوں، پالیسی سازوں، سیاسی رہنمائوں، میڈیا اور تھنکس ٹینکس اور ماہرین کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہے کہ ہم اس سال کی رپورٹ پر غور کریں۔ اس پر بحث ہو اور ہم سرجوڑ کر بیٹھیں کہ ہم پچھلے سال 151ویں نمبر پر تھے جبکہ اس سال ایک درجے تنزلی کے بعد کیسے 152ویں نمبر پر چلے گئے۔ ہمارے ٹی وی اینکرز اور تجزیہ نگاروں کے پاس اس طرح کے سنجیدہ موضوعات پر بات کرنے کے لئے وقت ہی نہیں ہے۔ ہمیں اس سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا کہ ہم انسانی ترقی کے میدان میں اپنے خطے کے ممالک سے بھی پیچھے رہ گئے ہیں۔ ہم بچوں کی تعلیم، اوسط عمر اور مجموعی قومی آمدن کے لحاظ سے بھی جنوبی ایشیاء میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ خواتین کے حوالے سے تو دنیا کے چند ایک ممالک ہی ہم سے پیچھے رہ گئے ہیں۔ خواتین کے حقوق، معاشی و سماجی حالات اور جنسی برابری کے حوالے سے پاکستان کا شمار بدترین ممالک میں کیا جاتا ہے۔ تعلیم اور موت میں عدم مساوات کے حوالے سے بھی ہم جنوبی ایشیاء میں پیچھے ہیں۔ کبھی ہمیں ایشیائی ٹائیگر بننے کا شوق تھا۔ ہم خود کو ایشیاء میں ایک بڑی معاشی طاقت بنانا چاہتے تھے۔ اب ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمارا سفر کس سمت میں جاری ہے اس کا اندازہ انسانی ترقی کے انڈ کس اور رپورٹ سے لگایا جا سکتا ہے۔ ہم نے موٹرویز بنا لیں، ہم نے جدید ترین ہتھیار، جہاز اور میزائل بنا لئے۔ ہم نے کئی شعبوں میں ترقی کی ہے مگر ہم آج تک عالمی معیار کی ایک بھی یونیورسٹی نہیںبنا سکے جس میں ہماری حکمران اشرافیہ کے بچے پڑھ سکیں۔ ہم ایک بھی ایسا جدید ہسپتال نہیںبنا سکے جہاں پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص اور علاج ہو سکے۔ انسانی ترقی کے بغیر ترقی کے محض خواب ہی دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان کی عملی تعبیر پانا مشکل ہوتا ہے۔ ہماری اپنی ترجیحات کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ انسانی ترقی کو اپنی پالیسیوں اور ترجیحات کا محور اور مرکز بنانے کی ضرورت ہے۔


ای پیپر