کوالالمپور سمٹ: پاکستان کا سفارتی یوٹرن
18 دسمبر 2019 2019-12-18

ملائیشیا کے دارالحکومت کوالالمپور میں ہونے والی سربراہ کانفرنس میں دنیا کے 52 ممالک سے 450 اسکالرز حصہ بنے رہے ہیں اس کانفرنس کا کلیدی موضوع نیشنل سکیورٹی میں ترقی کا کردار ہے جس میں قومی ثقافتی شناخت، فوڈ سکیورٹی دنیا بھر میں مسلمانوں کا مختلف ممالک سے اخراج اور اسلام کے خلاف پراپیگنڈا کی یلغار جیسے سیاسی موضوعات کے علاوہ ماہرین جدید مسائل، ٹیکنالوجی، ٹریڈ، انٹرنیٹ، گورننس، سکیورٹی اور سوشل میڈیا پر بھی مقالہ جات پیش کیے جا رہے ہیں۔

یہ ایک دلچسپ امر ہے کہ اس کے انعقاد میں ملائیشیا، ترکی، پاکستان ، انڈونیشیا اور قطر شامل تھے اور اس میں سعودی عرب کو شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ مسلمان ممالک کی نمائندہ تنظیم او آئی سی جس کا ہیڈ کوارٹر سعودی شہر ریاض میں واقعہ ہے وہ مکمل طور پر سعودی عرب کے زیر اثر ہے۔ یہ تنظیم کشمیر ،فلسطین، برما، عراق، لیبیا، شام، افغانستان الغرض کسی بھی مسلم تنازع پر آج تک کوئی واضح مؤقف اختیار کرنے سے قاصر رہی ہے۔ 1990ء کی دہائی میں ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کہا کرتے تھے کہ او آئی سی کا مطلب ہے "Ooh, I see" ان کا مؤقف تھا کہ OIC ناکام ہو چکی ہے۔ مہاتیر محمد کی عمر اس وقت 94 سال ہے جن کو عوام نے ریٹائرمنٹ واپس لینے پر مجبور کیا اور عام انتخابات میں وہ بھاری اکثریت سے ایک دفعہ پھر ملائیشیا کے وزیراعظم ہیں۔ گزشتہ سال اقوام متحدہ کے اجلاس کے سائیڈ لائن پر مہاتیر محمد اور ترک صدر طیب اردوان نے فیصلہ کیا کہ او آئی سی کی جگہ پر مسلمان ممالک کی ایک حقیقی نمائندہ تنظیم بنانی چاہیے تا کہ کشمیر اور فلسطین اور روہنگیا مسلمانوں کی حمایت کی جا سکے۔ وزیراعظم عمران خان نے ان کو اپنی مکمل حمایت کا یقین دلایا اور اس پر کام شروع کر دیا گیا۔ مہاتیر محمد کو یقین تھا کہ اس وقت مسلمان ممالک میں ترکی اور پاکستان دو اہم ترین فوجی طاقتیں ہیں جنہیں دنیا بھر میں دفاعی صلاحیت کی وجہ سے معتبر درجہ حاصل ہے۔ ان کا خیال تھا کہ جب ترکی اور پاکستان دونوں ان کے مؤقف کی تائید کر رہے ہیں تو کسی طرح کی رکاوٹ کا سوال ہی پیدا ہی نہیں ہوتا۔

مہاتیر محمد کے لیے ایک اور پلس پوائنٹ یہ تھا کہ مڈل ایسٹ کا ایک اہم عرب ملک قطر خلیج تعاون کونسل سے نکالے جانے کے بعد ان کے ساتھ ہے جس سے یہ تاثر ملے گا کہ نئی تنظیم میں عرب بھی شامل ہ یں اس موقع پر سعودی عرب نے اپنی سفارتی حکمت عملی کو حرکت میں لا کر قطر اور پاکستان کو ملائیشیا کی حمایت سے روکنے کا منصوبہ بنایا تا کہ مہاتیر کو ناکام بنایا جا سکے اور او آئی سی کی نمائندہ حیثیت برقرار رہے۔ پہلے تو سعودی عرب نے قطر کے ساتھ صلح کرنے کا اشارہ دیا اور امیر قطر شیخ تمیم بن حماد الثانی کو جی سی سی کے سالانہ اجلاس منعقدہ ریاض میں شرکت کی دعوت دی مگر انہوں نے معذرت کر لی۔ قطر ملائیشیا کی حمایت میں اپنے مؤقف پر ڈٹ گیا ہے۔

جب سعودی عرب نے کھیل اپنے ہاتھ سے نکلتے دیکھا تو پاکستان کو ملائیشیا کانفرنس میں شرکت سے روکنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ اس کے لیے بجائے اس کے کہ بیک چینل ڈپلومیسی اختیار کرتے اور سعودی وزیر خارجہ کو پاکستان بھیجتے سعودی کنگ سلمان نے وزیراعظم عمران خان کو ہنگامی دورے پر سعودی عرب بلا لیا جہاں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے عمران خان کو اس بات پر اضی کر لیا کہ وہ مہاتیر محمد کی کانفرنس کا بائیکاٹ کریں بالآخر سعودیہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا اور عمران خان نے ملائیشیا جانے کا ارادہ ملتوی کر دیا اور پاکستان نے بیان دے دیا کہ وزیراعظم عمران خان کی بجائے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ سعودی عرب نے اس پر بھی اعتراض کیا اور چند گھنٹے بعد پاکستان نے مکمل طور پر سعودیہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے شاہ محمود کا ملائیشیا جانے کا پروگرام بھی منسوخ کر دیا۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اتنے خوش ہوئے کہ وہ عمران خان کو چھوڑنے خود ایئر پورٹ تک ان کی گاڑی چلاتے ہوئے آئے اور الوداع کیا۔ مہاتیر محمد کا ایک آزاد مسلم امہ کی نمائندہ تنظیم بنانے کا خواب خطرے میں پڑ چکا ہے۔ سعودی عرب اپنے مقصد میں کامیاب ہو چکا ہے۔

مہاتیر محمد اور طیب اردوان امت مسلمہ کے دو اہم ترین مسلمان لیڈر ہیں دونوں غیر عرب ہیں اس وقت مسلم امہ کی قیادت کے سوال پر عرب اور غیر عرب کا سوال کھڑا کر دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ایران سعودی تنازع کے پیچھے بھی یہی سوچ کار فرما ہے۔ سعودی عرب کو خطرہ ہے کہ اگر ملائیشیا، ترکی اور پاکستان مل کر ایک پلیٹ فارم بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو عربوں کی حیثیت ختم ہو جائے گی اور عرب بادشاہتیں قائم نہیں رہ سکیں گی۔ دوسری طرف مہاتیر محمد کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنے بیمار اور ضعیف العمر والد کنگ سلمان کی وفات پر کسی وقت بھی سعودی عرب کا بادشاہ بن سکتا ہے جس سے عرب دنیا کے لیے بہت بڑا بحران پیدا ہو جائے گا۔

محمد بن سلمان کو یمن کے ساتھ جنگ اور ہزاروں مسلمانوں کے قتل ناحق کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اسرائیل کے ساتھ خفیہ اور خاموش معاہدوں کے ذریعے فلسطینی کاز کو ناقابل تلافی نقصان کا ذمہ دار بھی انہی کو سمجھا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں سعودی صحافی جمال خشوجی کے قتل کا الزام بھی سعودی ولی عہد پر ہے۔ جس سے وہ ابھی تک مشکل سے نہیں نکل سکے۔ خدشہ یہ ہے کہ محمد بن سلمان اپنے 95 سالہ والد کے بعد جیسے ہی جانشین بنیں گے سعودی عرب اور پوری مسلم دنیا میں ایک بہت بڑا بحران پیدا ہو جائے گا جس کے سدباب کے لیے کوالالمپور سمٹ منعقد کر کے ایک متوازی نمائندہ تنظیم بنانے کا راستہ اختیار کیا گیا تھا۔

اس وقت صورت حال یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان سے سوئٹزر لینڈ میں ترک صدر طیب اردوان نے ملاقات کی ہے اور انہیں اپنے وعدے وفا کرنے پر اصرار کیا ہے۔ دوسری طرف اطلاعات میں ہے کہ مہاتیر محمد نے عمران خان کو فون کیا ہے اور اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ہے لیکن پاکستان اپنے معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے سعودی عرب کو ناراض کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ شاید عمران خان کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ جس مہاتیر محمد کو ہروقت idealise کرتے اور اپنی تقریروں میں انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں وہ 94 سال کی عمر میں بھی اتنے متحرک ہوں گے کہ اتنا بڑا عالمی پلیٹ فارم کھڑا کر دیں جب عملی تائید یا حمایت کا وقت آیا تو عمران خان کو سعودی امداد کی یاد تڑپانے لگی۔ اگر یہی کرنا تھا تو پہلے ہی مہاتیر اور طیب اردوان کے ساتھ اتنے بڑے بڑے عہدو پیمان باندھنے کی کیا ضرورت تھی۔ سفارتکاری میں یوٹرن کی گنجائش نہیں ہوتی اسی وجہ سے تو آج تک ایران پاکستان پر بھروسہ نہیں کرتا اور نہ ہی سعودی ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی قبول کرنے پر آمادہ ہے۔ اس فیصلے سے کشمیر اور فلسطین کی کاز براہ راست منسلک ہے۔ پاکستان کی یہ سفارتی پسپائی آنے والے وقت میں مزید اہمیت اختیار کر جائے گی۔ البتہ یہ ثابت ہو گیا کہ پاکستان میں کوئی بھی حکومت ہو سعودی عرب کی اہمیت سے انکار یا فرار ناممکن ہے۔


ای پیپر