تھی تمنا کہ آباد ہو شہرِ جاں!!!
18 دسمبر 2019 2019-12-18

معزز قارئین!

یہ ایک انتہائی افسوسناک حقیقت ہے کہ آج کے پڑھے لِکھے اور ترقی یافتہ دور میں بھی ہمارا شُمار دُنیا بھر کے معدودے چند اُن معاشروں میں ہوتا ہے کہ جن کے افراد کا تعلیم بھی کُچھ نہیں بِگاڑ سکی۔ اِس کی مختلف وجوہات میں سے ایک بُنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارا سارا زور اپنے بچوں کو اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم دِلوانے پر تو ہوتا ہے لیکن ہم اپنی اعلیٰ اقدار اور روایات کے مطابق اُن کی مُسلسل تربیت اور درست سمت میں رہنمائی سے ہمیشہ لا تعلقی کا رویہ اپنائے رکھتے ہیں۔

ہم لوگ نہ جانے کب سے مِن حیث اُلقوم اس مُجرمانہ کوتاہی کا تواتر سے ارتکاب کرتے چلے جا رہے ہیں۔ ہم سدا ہی سے اِس حقیقت سے آنکھیں چُراتے رہے ہیں کہ ہمارے بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ اُن کی بہترین تربیت بھی بطور والدین ہمارے بُنیادی فرائض میں شامل ہے۔

حقیقت تو یہ ہے کہ تعلیم اور تربیت کا تو سدا سے ہی چولی دامن کا ساتھ ہے اور اِن دونوں میں سے کوئی بھی ایک دوسری کے بغیر اُدھوری اور غیر موثر سمجھی جاتی ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں یُوں سُمجھ لیجیئے وہ تربیت جو بغیر کسی باقاعدہ نِظامِ تعلیم کے دی جائے غالباً اتنی غیر موثر نہیں ہوتی جتنی وہ تعلیم جس کا انتظام لازمی تربیت کے بغیر کیا جائے مُضر اور نُقصان دہ ہو سکتی ہے۔

اپنے بچوں کو تعلیم دِلوانے کے ضمن میں ہماری اوّلین ترجیح عموماً یہی ہوتی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو صرف اور صرف وہی تعلیم دِلوائیں کہ جو بعد ازاں اُن کے لیے روزگار کے حُصول میں مُمد و معاون ہو سکے۔ کسی بھی شعبہ تعلیم کا انتخاب کرتے وقت ہماری یہی ترجیح اور پھِر اِس ترجیح کو ہر صورت عملی جامہ پہنانے کی غرض سے شبانہ روز کی جانے والی تگ و دَو میں ہم یہ بات سرے سے بھُول ہی جاتے ہیں کہ ایسا کرنے سے ہم اپنے بچوں کی بہترین تربیت کرنے کے بُنیادی فرض سے مُسلسل رُوگردانی کا اِرتکاب کر رہے ہیں۔

ہماری اپنے بچوں کی بُنیادی اور مُناسب تربیت کے سلسلے میں مُسلسل برتی جانے والی اِس مُجرمانہ کوتاہی کے نتائج کتنے بھیانک اور تباہ کُن ہو سکتے ہیں اِس کی ایک نہایت موزوں ترین مثال ہمارے دو انتہائی پڑھے لِکھے طبقات یعنی ہماری وکلاء برادری اور ہمارے ڈاکٹر بھائیوں کے مابین حال ہی رُونما ہونے والے پُر تشدّد واقعات سے دی جا سکتی ہے۔

سوال یہ نہیں کہ پہل کس طرف سے ہوئی یا اخلاقی دیوالیہ پَن کی انتہا کس جانب سے کی گئی؟ سوال یہ ہے کہ ایک طبقہ کے چند ایک عاقبت نا اندیش افراد کی جانب سے پہلے کی گئی زیادتی کا فوری اور ذاتی حیثیت میں بدلہ چُکانے کی بجائے اپنی جائز شکایت کے ازالے کے لیے متعلقہ اِدارے یا اِداروں سے رجوع کرنے کی بجائے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی ضرورت ہی کیوں محسوس کی گئی؟

سوال یہ بھی ہے کہ جب بالآخر اِن دونوں مذکورہ طبقات کے دو مُتحارب گروہوں کے درمیاں صُلح بھی کروا دی گئی تھی تو پھر اس صُلح نامے کا پاس رکھنے کی بجائے ایک مُتحارب گروہ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں دوسرے گروہ کے افراد کا مزے لے لے کر تمسخر اُڑانے اور نہایت قابلِ مُذمت قسم کی پوائنٹ اسکورنگ کرنے کی بھی آخر کیا تُک بنتی تھی۔

یہ امر بھی اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ اِس مذکورہ ویڈیو کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کی وجہ سے ہی مُخالف گروہ کے سوئے ہوئے جذبات کو ایک بار پھر اشتعال دِلایا گیا اور یقیناً اِسی ویڈیو میں ایک ڈاکٹر صاحب کی مبینہ تقریر نے بہت مشکلوں سے معمول پر لائی گئی صورتِ حال کو دوبارہ بِگاڑنے میں جلتی پر تیل کا کام کیا۔

سوال تو یہ بھی ہے کہ مذکورہ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد مُتاثرہ فریق نے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رجوع کرنے کی بجائے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے اور معاملے کو براہ راست ‘‘سُلجھانے‘‘ کے نام پر متوسط طبقے کی خِدمت میں دِن رات کوشاں شہرِ لاہور کی بہترین علاج گاہ پر ریلی کی شکل میں ہی جا کر ‘‘پُر اَمن احتجاج‘‘ کی ضرورت ہی کیوں محسوس کی گئی؟

سوال تو خیر یہ بھی ہے دونوں اطراف کے بڑوں نے اِن دونوں گروپوں کے درمیاں ہونے والی لڑائی کو باقاعدہ جنگ و جدل کی صورت اختیار کرنے سے بچانے کے لیے اپنا بُنیادی، مُثبت اور بر وقت کردار ادا کیوں نہیں کیا؟ سوال تو یہ بھی ہے موقع پر موجود پولیس اور اَمن اور قانون نافذ کرنے والے دیگر تمام ادارے بھی اپنی آنکھوں کے سامنے کھیلی جانے والی خُون کی اِس ہولی کے باوجود خاموش تماشائی بنے کیوں کھڑے رہے؟

سوال تو یہ بھی ہے کہ مُلک کی خُفیہ ایجنسیوں کی جانب سے پنجاب کی صوبائی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کو اِس مُمکنہ وقوعہ کی ضمن میں جاری کردہ پیشگی اطلاعات کو مَدِ نظر رکھتے ہوئے ضروری ترین اور بر وقت اقدامات کرنے سے آخر گُریز کیوں برتا گیا؟

سوال تو یہ بھی ہے کہ انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں زیرِ علاج معصوم اور بے گُناہ مریضوں کے غُصّے اور انتقام کی آگ میں جلتے چند وحشی اور درندہ صفت عناصر کے ہاتھوں بے موت مارے جانے والوں کا خُونِ ناحق آخر کس کے سر ہے؟

کوئی ہے جو بے موت مارے جانے والے اُن معصوم اور بے گُناہ مریضوں کے یتیم ہونے والے بچوں کے سروں پر دستِ شفقت رکھے؟۔ کوئی ہے کو اِن بے سہارا بچوں کی کفالت کی ذمہ داری کا بیڑا اُٹھائے؟

اب وقت آن پہنچا ہے کہ ریاستِ مدینہ کی تشکیلِ نو کا دعویٰ کرنے والے صرف اور صرف بڑھکیں ہانکنے اور قوم کو سبز باغ دِکھانے کی بجائے اِس ضِمن میں بُنیادی نوعیّت کے حامل چند ضروری اور فوری نوعیت کے اقدامات کا کُچھ نہ کُچھ عملی مُظاہرہ بھی کر کے دِکھائیں۔ ضرورت اِس امر کی ہے ابتدائی طور پر نہ صرف گروہی دہشتگردی کے حالیہ واقعہ کے مُجرموں کو بہر صورت کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے بلکہ اِس بات کو بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یقینی بنایا جائے کہ آئندہ اِس قسم کا کوئی واقعہ کسی بھی صورت دوبارہ رُونما نہ ہو سکے۔

ہماری وزیرِ اعظم پاکستان جناب عمران خان صاحب سے گزارش ہے کہ جتنی جلد مُمکن ہو وہ پاکستان میں بسنے والے تمام طبقات کے لیے یکساں نِصاب اور تعلیم و تربیت کے مُساوی مواقع فراہم کرنے کا گزشتہ عام انتخابات کے دوران قوم کی ساتھ گیا اپنا وعدہ جلد از جلد پُورا کریں تا کہ ہمارے معاشرے کے مُختلف طبقات کے درمیان تعلیم و تربیت کے حوالے سے پائے جانے والے اِس تفاوت کا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو سکے۔


ای پیپر