مودی کا متنازعہ قانون انتہا پسندانہ عزائم کا عکاس
18 دسمبر 2019 2019-12-18

حکومت نے بھارت کے متنازع قوانین کے خلاف دنیابھر میں اپنے وفودبھیجنے کا فیصلہ کیاہے پارلیمانی وفود میں سینیٹرزاور سابق سفارتکار وں کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے ، جبکہ قومی اسمبلی میں بھارتی شہریت قوانین کے خلاف حکومت اور اپوزیشن نے مل کر ایک قراردادکو متفقہ طورپر منظور بھی کیاہے،ہم دیکھ رہے ہیں کہ شہریت ترمیمی ایکٹ کے تحت بھارت کے شہر آسام کے بیس لاکھ مسلمانوں سمیت دیگر شہروں کے مسلمانوں کی شہریت کے خاتمے کی مذمت اس وقت پاکستان سمیت پوری دنیا میں ہی کی جاری ہے،کیونکہ اب یہ ہر ایک پر واضح ہوچکاہے کہ ایک طرف تو انڈیاسیکولرازم کا پرچار کرتاہے تودوسری جانب مذہب کی بنیاد پر لوگوں کی تقسیم کررہاہے ، مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر کی آگ کو اب پورے بھارت میں پھیلادیاہے ،بھارت میں ہونے والے فسادات کی آگ اب دہلی تک جاپہنچی ہے جبکہ کولکتہ ،لکھنو ،علی گڑھ،بنارس،حیدرآباد دکن ،میوسمیت بھارت کے دیگر مسلم علاقوں میںپرتشددمظاہروں کا عمل جاری ہے،لوگ مودی گردی کے خلاف سخت غصے میں دکھائی دیتے ہیں آپے سے باہر مظاہرین نے چند گھنٹوں کے اندر اندر کئی ریلوئے اسٹیشن ،پانچ سے زائد ٹرینوں اور پندرہ سے زائد بسوں کو آگ لگادی ہے علاوہ ازیں پولیس اور مظاہرین کے درمیان ان جھڑپوں میں کئی افرادجانوں سے بھی چلے گئے ہیں،بھارت میں موجود جولوگ مقبوضہ کشمیر کے معاملے میں اب تک خاموش رہے ہیںوہ اس متنازع شہریت بل کے بعد اپنی اپنی خاموشی کو توڑ رہے ہیں کیونکہ جہاں مظاہرین اس متنازع بل کے خلاف نعرے بازی کررہے ہیں وہ مقبوضہ وادی میں اسیر مسلمانوں کے حق میں بھی بول رہے ہیں ،اور اس عمل میں مسلمانوں کے ساتھ ہندو،سکھ اور عیسائی مل کر مودی سرکار کے خلاف سڑکوں پر موجود ہیں جبکہ ہندوستان کی یونیورسٹیوں اور تعلیمی اداروں کے طلباوطالبات بھی سراپااحتجاج ہے ،مسلمانوں سے نفرت کے شوق میں مبتلابھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے بھارت کو کئی حصوںمیں بانٹ دیاہے اورایسا لگتاہے کہ بھارت اب ٹکڑے ٹکڑے ہونے جارہاہے کیونکہ بھارتی لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ ہندومذہب کی آڑ میںاور اس متنازع بل کی وجہ سے دوسرے ملکوں کے لوگ بھارت میں آکر رہنا شروع کردیں اور بدلے میں ان مسلمانوں کو بے دخل کردیا جائے جو کئی دہائیوں سے بھارت کی فلاح وبہبود میں اپنا کرداراداکررہے ہیں، علاوہ ازیںشہریت کے اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ان باتوں کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے جو اس کے ساتھ مودی حکومت ہندوستان میں کررہی ہے ،ایسے بہت شہر جن کے نام مسلم ہیں یعنی ہندوستان میں موجود وہ تمام شہر جن کے نام اسلامی ہیں ان کو تبدیل کرکے ہندوانہ ناموں کو رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے جو سراسر اسلام دشمنی سے ہٹ کر ایک گھٹیا سوچ کی عکاسی کرتاہے، ان تمام باتوں کے علاوہ آر ایس ایس کے شدت پسند لوگ مودی کے حکم پر مسلمانوں کے علاقوں پر حملے کررہے ہیںجس سے کئی مسلم علاقوں میں ہونے والے پرتشدد واقعات میں مسلمانوں کی شہادتوں کی اطلاعات ہیں ،جبکہ ان ہلاکتوں میں یہ جوازبنایا جارہاہے کہ مرنے والے مسلمان کے پاس سے گائے کا گوشت نکلا ہے یا پھر اس نے گائے کا گوشت کھایا ہے،اس طرح کے الزامات کے زریعے تقسیم ہندوستان سے قبل کے بسنے والے مسلمانوں پر ان کی زندگیوں کودوبھر کیا جارہاہے، اس پراحتجاج کو روکنے کے لیے مودی سرکار نے جارحیت کا سہارا لیا ہواہے جس پر بھی ان کو بھرپور مزاحمت کا سامناہے ،پولیس اور بے جے پی کے غنڈوں کی وحشیانہ کارروائی اب کھل کر سامنے آچکی ہے ،مقبوضہ کشمیر کے بعدبھارتی حکومت کا ہراٹھتا ہواقدم اب مسلمانوں کی نسل کشی کی جانب بڑھ رہاہے،بھارت میں موجود اقلیتوں پر زبردستی ہندوازم کو مسلط کیا جارہاہے ،ہندوستان کی شناخت کو صرف ہندوانڈیاکے طورپر پیش کیا جارہاہے اس ضمن میں یہ واضح پیغامات عام کیے جارہے ہیں کہ ہندوستان کے شہری چاہے وہ کسی بھی مذہب سے کیوں نہ تعلق رکھتے ہو انہیں ہندوکلچر ان کی پوجاپاٹ اوررسومات سے منسلک ہونا پڑیگا، اس سلسلے میں جہاں کہیں اس معاملے کے خلاف آوازاٹھتی ہے اسے فوری طورپر دبادیا جاتاہے یا پھر ہمیشہ کے لیے خاموش کردیا جاتاہے ،اس طرح ہندوستان میں موجود مسلمانوں کے ماضی اور مستقبل کے حکمرانوں کو بھارتی میڈیا ایک منفی انداز میں پیش کرکے ان کے خلاف نفرت پھیلارہی ہے ، مسلم لیڈروں سمیت جو بھی اس بل کی مخالفت کرتاہے اسے غدارقراردیدیا جاتاہے ،یہ تو ہم جان ہی چکے ہیں کہ اس شہریت کے مسئلے سے قبل مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کی علیحدہ حیثیت کوختم کرکے اپنی فیڈرل حکومت کے ماتحت کرچکی ہے اور اس طرح کشمیری مسلمانوں کوایک سو تیس دن سے زائد کے عرصے سے ان کے گھروں میں قید کیاہواہے اور اس وادی کی بھی بنیادی وجہ یہ ہی ہے کہ مقبوضہ وادی میں بھی مسلمانوں کی اکثریت موجود ہے جس کی وجہ سے بھارتی پارلیمنٹ کے زریعے نئے انتظامی فیصلے کرکے مسلمانوں کی اکثریت کی نسل کشی کی جارہی ہے، اس طرح ان چند مہینوں میں مودی سرکار کے دل میں مسلمانوں سے بغض اور نفرت کو واضح طورپر پوری دنیا نے دیکھا اور محسوس کیا ہے، اندرون کھاتے جہاں واضح طورپر مسلمانوں پر ظلم کی داستانیں رقم ہورہی ہے وہاں بھارت میں مسلمانوں کو سرکاری نوکریوں سے بھی بے دخل کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہے جبکہ سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ بھارتی نوکریوں کے حوالے اخبارات میں آنے والے ٹینڈرز میں مسلمانوں کی بھرتیوں پر پابندی دکھائی جارہی ہے یا پھر مسلمانوں کی تقرریوں کو محدودکیا جارہاہے ،اس سارے عمل سے یوں لگتاہے کہ مودی کی حکومت اس بہیمانہ سوچ اودلیل کے ساتھ کچھ عرصے اورقائم رہی تووہاں کے مسلمانوں کی نسل کشی کا عمل بھی واضح ہوجائے گا کہ کیونکہ اس قسم کے تین چار عوامل ایسے ہیں جن کے رونما ہونے کے بعد نسل کشی جیسے معاملات کا شروع ہونا ایک واضح ثبوت ہوتاہے، مودی سرکارکی مسلمانوں کی طرف غیرمنصفانہ رویے سے قائداعظم محمد علی جناح کی سوچ درست ثابت ہورہی ہے۔کیونکہ وہ 1947سے پہلے کے سیاسی تجربے کی بنیاد پر پہلے ہی اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ ایک آزاد ہندوستان میں مسلمانوں کا تشخص اور ان کے حقوق پامال ہونگے اور اسی سلسلے میں انہوں نے مسلمانوں کے حقوق اور ان کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک پاکستان بنانے کا مطالبہ کیا تھا،اور آج کئی دہائیوں بعد ہندوستان میں وہ خطرات اب مکمل طوپر واضح ہوچکے ہیں ،جس خدشے کو قائداعظم محمد علی جناح نے بہت عرصے قبل محسوس کرلیا تھا،آج بھارت کے چپے چپے پرانسانوں کا سمندر سراپااحتجاج ہے متنازع بل پر جو لوگ اپنااحتجاج ریکاررڈ کروارہے ہیں میڈیا کو ان کی کوریج کرنے اوردکھانے سے روکا جارہاہے صحافیوں کے کیمرے چھینیں جارہے ہیں،ہندوستان کا دانشورطبقہ ہو یا فلمی دنیا سے وابستہ لوگ سبھی اس عمل پر مودی سرکار کو برا بھلا کہہ رہے ہیں ،آج کشمیر میں زندگی کو سلب کرنے کا معاملہ ہو یا پھر ہندوستان میں مسلم اکثریت کی شہریت کو دیوار سے لگانے کی بات ہو ان تمام معاملات پر مودی سرکار کو دنیا بھر میں سخت تنقید کا نشانہ بنایا جارہاہے ،اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عمران خان اور اس کی حکومت کے پاس جو ممکنہ راستہ ہے وہ اختیارکیا جارہاہے حکومت کی جانب سے ہر محاز پر بھرپور کوششوں کا عمل جاری ہے مگر مقبوضہ دادی اوربھارت میں ہونے والے مسلمانوں پر ظلم وستم کے خلاف دنیا کو اپنی خاموشی توڑنا ہوگی مذمتی بیان سے نکل کر عملی اقدامات کی جانب آناہوگا،،ہمیں تو پہلے ہی معلوم تھا کہ ہندوستان کے جمہوری اور سیکولرازم چہرے کے پیچھے ایک شیطان چھپا بیٹھاہے مگراب یہ بات دنیا بھر میں بھی عیاں ہوچکی ہے ۔آپ کی فیڈ بیک کا انتظار رہے گا۔


ای پیپر