اور ڈھاکہ ڈوب گیا ۔۔۔!
18 دسمبر 2019 (00:16) 2019-12-18

میجر جنرل رحیم جو چاند پور سے آتے ہوئے نرائن گنج کے پاس زخمی ہو گئے تھے، سی ایم ایچ ڈھاکہ میں ابتدائی علاج کے بعد جنرل فرمان کے گھر آرام فرما رہے تھے۔ اس روز دسمبر کی 12تاریخ تھی۔ بھرپور جنگ شروع ہوئے نودن ہو گئے تھے۔ جنرل فرمان اگرچہ جنرل رحیم کی خبرگیری کرنے اُن کے کمرے میں گئے تھے، مگر حالات کے پیش نظر موضوع لامحالہ جنگ کی طرف منتقل ہوگیا۔ جنرل رحیم نے حتمی طور پر کہا کہ اب جنگ بندی کے بغیر چارہ نہیں۔ جنرل فرمان اُن کے منہ سے یہ کلمات سُن کر حیران ہوئے کیونکہ جنرل رحیم ہمیشہ بھارت سے طویل جنگ کی بات کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اس کو مزہ چکھا کر رہیں گے۔

جنرل فرمان نے کہا ”بس دانے مُک گئے .... اتنی جلدی!“ جنرل رحیم نے اپنی رائے پھر دُہرائی اور کہا، اس بارے میں بلاتاخیر قدم اُٹھانا چاہیے۔

ابھی یہ باتیں ہورہی تھیں کہ جنرل نیازی اور جنرل جمشید اس ”زخمی جرنیل“ کی عیادت کے لیے تشریف لے آئے۔ جنرل رحیم نے جنرل نیازی سے بھی کہا کہ جنگ بندی کے لیے تاخیر ہورہی ہے مگر جنرل نیازی خاموش رہے (اُس وقت تک ابھی بیرونی امداد کا شوشہ ختم نہیں ہوا تھا) جنرل فرمان انہیں وہیں چھوڑ کر اپنے کمرے میں چلے گئے۔

تھوڑی دیر بعد جنرل نیازی، جنرل فرمان کے پاس آئے اور کہنے لگے ”تو پھر راولپنڈی تار بھیج دو نا!“ اس کا مطلب یہ تھا کہ جنرل نیازی نے حسب معمول جنرل رحیم کا مشورہ قبول کرلیا تھا۔ اب وہ چاہتے تھے کہ جنگ بندی والی تجویز صدر پاکستان کو گورنر ہاﺅس سے بھیجی جائے کیونکہ جنرل فرمان کا خیال تھا کہ اس موضوع پر سگنل ایسٹرن کمانڈ ہیڈکوارٹر سے جانا چاہیے۔ جنرل نیازی نے اصرار کرتے ہوئے کہا ”راﺅ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ سگنل یہاں سے جائے یا وہاں سے، میں دراصل ایک ضروری کام کے لیے کہیں جا رہا ہوں، سگنل تم یہیں سے بھجوا دینا“۔ اس سے پیشتر کہ جنرل فرمان ہاں یا نہ کرتے، چیف سیکرٹری مظفر حسن تشریف لے آئے۔ انہوں نے جنرل نیازی کا جملہ سنتے ہی کہا ”آپ ٹھیک کہتے ہیں سر! سگنل یہیں (گورنرہاﺅس) سے جا سکتا ہے“۔ یوں یہ معاملہ رفع ہو گیا۔

جنرل فرمان جنگ بندی کی تجویز کی مخالفت نہیں کر رہے تھے۔ دراصل اُن کا بنیادی اختلاف اس بات پر تھا کہ اس کا محرک کون بنے۔ وہ خود اس سلسلے میں پہل نہیں کرنا چاہتے تھے کیونکہ ان کے پہلے سگنل پر راولپنڈی میں ناخوشگوار ردعمل ہوا تھا۔

جنرل نیازی ”ضروری کام“ کا بہانہ کر کے چلے گئے اور جنگ بندی سے متعلق تاریخی تار کا ڈرافٹ چیف سیکرٹری مظفر حسن نے تیار کیا۔ جنرل فرمان یہ مسودہ لے کر گورنر کے پاس چلے گئے جنہوں نے اس کی منظوری دے دی۔ اسی شام (12دسمبر) کو یہ تار یحییٰ خان کو روانہ کر دیا گیا۔ اس تار میں انسانی جانوں کا بے جا ضیاع روکنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی درخواست کی گئی۔

گورنر اور اُن کے رُفقاءاس تار کے جواب کا انتظار کرنے لگے۔ اگلی رات اور اگلا دن گزر گیا، لیکن راولپنڈی سے کوئی نامہ وپیام نہ آیا۔ شاید صدر پاکستان اپنی گوناگوں مصروفیات سے اس کاغذ کے پُرزے کے لیے وقت نہ نکال سکے حتیٰ کہ 14دسمبر آگیا۔ اس روز گورنمنٹ ہاو¿س میں ایک اعلیٰ سطحی کانفرنس منعقد ہو رہی تھی۔ سوا گیارہ بجے کے قریب اچانک بھارت کے مگ 21 طیارے گورنر ہاﺅس پر نمودار ہوئے اور گولہ باری کر کے گزر گئے۔ گورنمنٹ ہاﺅس کے ”مرکزی ایوان“ کی چھت اُڑ گئی۔ بجری اور اینٹوں کا ملبہ نیچے آرہا۔ ہال میں پڑا ہوا شیشے کا ایک ڈبہ (Case) چُور چُور ہو گیا۔ اس میں تیرنے والی سُرخ رنگ کی زیبائشی مچھلیاں گرم گرم ملبے پر تڑپنے لگیں۔ گورنر مالک لپک کر اپنی پناہ گاہ کی طرف چلے گئے جہاں انہوں نے جلدی جلدی اپنا استعفیٰ لکھا اور جیب میں ڈال لیا۔

گورنر، اُن کی کابینہ کے وزراءاور اعلیٰ سرکاری ملازمین (جو مغربی پاکستان سے تعلق رکھتے تھے) ہوٹل انٹرکانٹی نینٹل منتقل ہو گئے جسے انٹرنیشنل ریڈکراس نے ”غیرجانبدار علاقہ“ بنا رکھا تھا۔ ان ”پناہ گزینوں“ میں صوبے کے چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، صوبائی سیکرٹری، ڈھاکہ کے کمشنر اور چند دوسرے افسر شامل تھے۔ ”غیرجانبدار علاقے“ میں داخلہ حاصل کرنے کے لیے انہوں نے تحریری طور پر ریڈکراس کو یقین دلایا کہ ہمارا متحارب ملکوں میں سے کسی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ (اس کے بغیر وہ اس پناہ گاہ میں نہیں آسکتے تھے)۔

14دسمبر حکومت مشرقی پاکستان کا آخری دن تھا۔ اس روز گورنمنٹ ہاﺅس کا ملبہ کیا، بکھرا خود حکومت کا شیرازہ بکھر گیا۔

بنگلہ دیش کی پیدائش ایک ایسے بچے کی ولادت تھی جسے ماں کا پیٹ چاک کر کے نکالا گیا ہو۔ بھارت یہ آپریشن کر رہا تھا۔ اب اس میں صرف یہ مرحلہ تھا کہ کب مُرجھائے ہوئے جنرل نیازی اور کھلائے ہوئے پاکستانی دستوں سے ہتھیار ڈلوائے جائیں۔ ادھر جنرل نیازی بھی اب غیرملکی امداد سے نااُمید ہو چکے تھے۔ انہوں نے اب حقائق کو اُن کے صحیح پس منظر میں دیکھنا شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے صدرمملکت کو .... جو کمانڈرانچیف بھی تھے .... سچی سچی رپورٹ بھیج کر ہدایات کا انتظار کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے 13دسمبر اور 14دسمبر کی درمیانی رات کو میرے سامنے جنرل حمید (چیف آف سٹاف آرمی) کو ٹیلی فون پر کہا ”سر! میں نے صدر کو کچھ تجاویز بھیجی ہیں، مہربانی کر کے ان پر جلدی کارروائی کروا دیں“۔ انہوں نے کہا ”اچھا“۔

اگلے دن یحییٰ خاں نے گورنر اور جنرل نیازی کو جنگ بندی اور لوگوں کے جانی تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حکم دے دیا۔ جنرل نیازی کے نام جنرل یحییٰ نے لکھا:

”گورنر کا پیغام مجھے مل گیا ہے، آپ نے نہایت کٹھن حالات میں نہایت دلیرانہ جنگ لڑی ہے۔ قوم کو آپ پر فخر ہے۔ دُنیا آپ کی تعریف کر رہی ہے۔ جہاں تک انسان کے بس میں ہے میں نے مسئلے کا قابل قبول حل تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اب آپ ایسے مرحلے میں ہیں جہاں نہ مزید مزاحمت ممکن ہے اور نہ اس مزاحمت سے کوئی سودمند مقصد حاصل ہو سکتا ہے بلکہ اس سے مزید جان ومال کا نقصان ہو گا۔ آپ کو ان حالات میں مسلح افواج، مغربی پاکستان کے رہنے والوں اور دوسرے وفادار لوگوں کی سلامتی کے لیے ہرممکن کوشش کرنی چاہیے۔ میں نے اس اثناءمیں اقوام متحدہ سے درخواست کی ہے وہ ہندوستان سے مشرقی پاکستان میں جنگ بند کرنے کو کہے اور اس سے ہماری مسلح افواج کے علاوہ ان تمام لوگوں کے تحفظ کی ضمانت مانگے جو شرپسندوں کی معاندانہ سرگرمیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں“۔

مذکورہ بالا تار راولپنڈی سے 14دسمبر کو ساڑھے تین بجے سہ پہر نکلا اور مشرقی پاکستان کے وقت کے مطابق ساڑھے پانچ بجے شام ڈھاکہ پہنچا۔ صدر کے اس تار کا منشا کیا تھا؟ کیا یہ جنرل نیازی کے لیے ہتھیار ڈالنے کا حکم تھا یا اس تار کے باوجود وہ اگر چاہتے تو مزاحمت جاری رکھ سکتے تھے؟ میں اپنی طرف سے اس کی تشریح کرنے کی بجائے قارئین کرام پر چھوڑتا ہوں کہ وہ اس سے خود نتیجہ اخذ کریں۔

جنرل نیازی نے اُسی شام جنگ بندی کے لیے اقدامات کا آغاز کر دیا۔ انہوں نے پہلے روسی اور چینی سفارتی نمائندوں کے ذریعے بھارتی کمانڈر انچیف سے رابطہ کرنے کا سوچا مگر بالآخر ڈھاکہ میں مقیم امریکی قونصل جنرل مسٹر سپیوک (Spivack) سے ملنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے جنرل فرمان سے کہا کہ تم گورنمنٹ ہاﺅس میں ہونے کی وجہ سے سفارتی نمائندوں سے ملتے رہتے ہو، میرے ساتھ چلو۔ جنرل فرمان تھوڑی سی ہچکچاہٹ کے بعد ان کے ہمراہ ہو لیے۔ جب یہ دونوں اس کے پاس پہنچے تو جنرل فرمان انتظارگاہ میں بیٹھ گئے اور جنرل نیازی اندر مسٹر سپیوک کو رام کرنے لگے۔ جھٹ پٹ دوستی پیدا کرنے کے لیے جنرل نیازی جو ہتھکنڈے استعمال کر رہے تھے، اُن کی بازگشت باہر بھی سنائی دے رہی تھی۔ جب جنرل نیازی کو یقین ہو گیا کہ وہ امریکی قونصل جنرل سے دوستی پکی کر چکے ہیں تو انہوں نے مطلب کی بات کہی جس کا جواب اس نے نہایت سردکاروباری لہجے میں یہ دیا ”میں آپ کی طرف سے جنگ بندی کے لیے بھارت سے مذاکرات نہیں کر سکتا۔ اگر آپ چاہیں تو آپ کی طرف سے پیغام بھجوا سکتا ہوں“۔

اب جنرل فرمان کو بلایا گیا کہ وہ بھارتی فوج کے چیف آف سٹاف جنرل (بعدازاں فیلڈمارشل) مانک شا کے نام ایک پیغام لکھیں۔ ایک لیڈی سیکرٹری کو بلوا کر جنرل فرمان نے ایک صفحے کا ”نوٹ“ لکھوا دیا جس میں بعض تحفظات کی شرط کے ساتھ جنگ بندی کی پیشکش کی گئی تھی۔ شرائط یہ تھیں (الف) مسلح افواج کا تحفظ (ب) مکتی باہنی کی انتقامی سرگرمیوں سے وفادار شہریوں کا تحفظ اور (ج) بیماروں اور زخمیوں کا تحفظ۔

مسودہ تیار ہو گیا تو مسٹر سپیوک نے کہا کہ یہ بیس منٹ میں پہنچ جائے گا، آپ جا سکتے ہیں۔ جنرل نیازی اپنے اے ڈی سی کیپٹن نیازی کو وہاں چھوڑ کر جنرل فرمان کے ساتھ واپس آگئے۔ کیپٹن نیازی رات دس بجے تک وہاں بیٹھے رہے مگر کچھ نہ ہوا۔ انہوں نے پوچھنا چاہا تو حکم ہوا کہ تم چلے جاﺅ، رات کو سونے سے پہلے فون کر کے پوچھ لینا۔

درحقیقت مسٹرسپیوک نے پیغام جنرل مانک شا کو بھیجنے کی بجائے اپنی حکومت کو واشنگٹن روانہ کر دیا تھا جہاں امریکی حکومت کسی قسم کی کارروائی کرنے سے پہلے جنرل یحییٰ خاں سے مشورہ کرنا چاہتی تھی۔ یحییٰ خاں اس رات اتنے مصروف تھے کہ امریکیوں کو ہاتھ نہ آسکے۔ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ انہوں نے 3 دسمبر ہی سے مشرقی پاکستان میں دلچسپی لینا بند کر دی تھی۔ انہوں نے دفتر آنا بھی ترک کردیا تھا، عموماً ان کا ملٹری سیکرٹری نقشے پر جنگ کی تازہ ترین صورتحال لگا کر ان کے پاس لے جاتا، جس پر وہ کبھی کبھی نگاہ غلط انداز ڈال لیتے تھے۔ سُنا ہے ایک دفعہ انہوں نے مشکل جنگی حالت دیکھ کر اتنا کہا تھا ”میں مشرقی پاکستان کے لیے کر بھی کیا سکتا ہوں“۔

جنرل مانک شا کا جواب 15دسمبر کو ملا۔ انہوں نے جنگ بندی کی پیشکش قبول کرلی تھی اور مطلوبہ تحفظات کی بھی ضمانت دے دی تھی، ”بشرطیکہ“ پاکستانی فوج ہتھیار ڈال دے .... اس کے ساتھ ہی اس نے ریڈیائی لہروں کی نشاندہی بھی کر دی جن پر کلکتہ میں بھارتی ایسٹرن کمانڈ ہیڈکوارٹر سے رابطہ قائم کیا جاسکتا تھا۔

مانک شاہ کا پیغام راولپنڈی بھیج دیا گیا۔ وہاں سے شام تک 15دسمبر جواب آگیا جس میں مِن جملہ دیگر باتوں کے یہ کہا گیا تھا کہ: ”میں مشورہ دیتا ہوں کہ آپ ان شرائط پر جنگ بندی قبول کر لیں کیونکہ یہ آپ کی ضروریات کو پورا کرتی ہیں، البتہ یہ یاد رکھیں کہ اس سمجھوتے کی حیثیت دو مقامی کمانڈروں کے باہمی بندوبست کی سی ہو گی۔ اگر یہ سمجھوتہ ان کوششوں سے متصادم ہوا جو ہم بین الاقوامی سطح پر کر رہے ہیں تو اس کو کالعدم سمجھا جائے گا“۔

جنرل نیازی اور جنرل مانک شا کے درمیان یہ فیصلہ ہوا کہ جنگ بندی کی تفصیلات طے کرنے کے لیے عارضی طور پر 15دسمبر کی شام پانچ بجے سے لے کر اگلے روز 9 بجے تک ”سیزفائر“ کیا جائے .... بعد میں اس مدت کو 16دسمبر 3 بجے سہ پہر تک بڑھا دیا گیا۔

جنرل حمید نے جنرل نیازی کو جنگ بندی کا جو ”مشورہ دیا تھا“، موصوف نے اسے ”منظوری“ سمجھ لیا اور اپنے چیف آف سٹاف بریگیڈیئر باقر صدیقی کو حکم دے دیا کہ وہ تمام ماتحت جرنیلوں اور بریگیڈیئروں کو جنگ بندی کی ہدایات دے دیں۔ تمام سیکٹر کمانڈروں کو ایک صفحے کا جو مراسلہ بھیجا اس میں ان کی شجاعت اور پامردی کی تعریف کرنے کے بعد کہا گیا کہ وہ لڑائی اب بند کردیں اور اس سلسلے میں اپنے مدمقابل بھارتی کمانڈر سے رابطہ قائم کریں۔ اس ہدایت نامے میں سرنڈر (Surrender) کا لفظ کہیں نہیں تھا، صرف آخر میں ایک جملہ یہ تھا ”بدقسمتی سے اس اہتمام میں ہتھیار ڈال دینا بھی شامل ہے“۔

مذکورہ سگنل 15اور 16دسمبر کے درمیان نصف شب کے لگ بھگ جاری ہوا۔ اسے بھیجنے کے بعد آرمی ایوی ایشن کے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل لیاقت بخاری کو بلا کر حکم دیا گیا کہ وہ اپنے ہیلی کاپٹر راتوں رات اکیاب (برما) لے جانے کی تیاری کریں۔ ان ہیلی کاپٹروں کو نصف درجن نرسوں (جو 11دسمبر کو جنرل نیازی سے سی ایم ایچ ڈھاکہ میں ملی تھیں) کے علاوہ اُن 28 فوجی کنبوں کو بھی لے جانا تھا جو اب تک ڈھاکہ میں پڑے تھے۔ کرنل بخاری نے یہ احکامات بڑے تحمل سے سُنے اور فوراً بجاآوری کا وعدہ کیا۔ ان کے چہرے پر پریشانی کے کوئی آثار نہ تھے۔ ان کو میں نے آج بھی اتنا ہی حوصلہ مند پایا جتنا انہیں مارچ 1971ءکے ہنگاموں یا سیلاب کے دوران امدادی کاموں میں دیکھا تھا۔

یہ ہیلی کاپٹر ایسٹرن کمانڈ ہیڈکوارٹر اور مختلف سیکٹروں کے درمیان دوران جنگ رابطے کا واحد ذریعہ تھے۔ انہوں نے نہایت نازک حالات میں مختلف علاقوں میں گولہ بارود، ہتھیار اور فوجی دستے پہنچائے تھے۔ ان کی داستان شجاعت رقم کرنے کے لیے ایک الگ دفتر چاہیے۔

دو ہیلی کاپٹر سحری سے پہلے پہلے نکل گئے مگر تیسرا کسی فنی خرابی کی وجہ سے اُڑ نہ سکا۔ وہ اگلے روز دن چڑھے گیا۔ ان ہیلی کاپٹروں میں فوجی کنبوں کے علاوہ جنرل رحیم بھی اہم سرکاری دستاویزات سمیت چلے گئے مگر وہ بدقسمت نرسیں وہیں کی وہیں رہ گئیں۔ ان کو لانے کی ذمہ داری جن افسروں کو سونپی گئی تھی ان کا کہنا ہے کہ آخری وقت بھی وہ اپنی چھوٹی چھوٹی چیزیں سنبھالنے لگیں، کسی کو اپنا نیا جوتا نہیں مل رہا تھا اور کسی کو جراب ہاتھ نہیں آرہی تھی۔ اس طرح کے ”لالچ“ میں انہیں دیر ہو گئی اور ہیلی کاپٹر زیادہ دیر انتظار نہ کرسکے۔ اس کے برعکس یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ ان افسروں کو خود جلدی تھی کہ وہ نرسوں کو لاتے لاتے ہیلی کاپٹروں سے کہیں رہ نہ جائیں (وہ واقعی ان ہیلی کاپٹروں میں برما چلے گئے)۔

جو لوگ ان ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ڈھاکہ سے نکل گئے، وہ برما میں چند روز قیام کرنے کے بعد بخیروعافیت کراچی پہنچ گئے۔

ادھر ڈھاکہ میں تاریخی ساعت لمحہ بہ لمحہ قریب آرہی تھی۔ دُشمن تنگیل سے ہوتا ہوا ٹونگی کے قریب آپہنچا جہاں ہمارے ٹینکوں نے اُس پر فائر کر کے اُسے روک دیا۔ اس فائر سے دُشمن کو اندازہ ہو گیا کہ سیدھا ٹونگی ڈھاکہ روڈ پر بڑھتے ہوئے چھاﺅنی میں جا داخل ہونا مناسب ہیں۔ اُس نے مکتی باہنی کی مدد سے ایک اور راستہ تلاش کرلیا جو مغربی جانب ہوتا ہوا مانک گنج کے پاس سے ڈھاکہ شہر کو آتا تھا۔ اس طرف کھلنا فیم والے کرنل فضل حمید اور اُن کی نیم عسکری نفری لگی ہوئی تھی۔ جب انہیں پتہ چلا کہ دُشمن کا رُخ اُن کی طرف ہے تو وہ فوراً بِدک کر واپس ڈھاکہ آگئے۔ اُن کے ہٹنے سے دُشمن کا راستہ صاف ہو گیا اور وہ شہر کی طرف بڑھنے لگا۔

بریگیڈیئر بشیر کو جو ڈھاکہ شہر کے محافظ تھے، اس کی اطلاع 15دسمبر کی شام کو ملی۔ انہوں نے سول آرمڈ فورسز کی مٹھی بھر نفری جمع کر کے میجر سلامت کی سرکردگی میں شہر سے باہر ”میرپور پُل“ پر بھیج دی جو رات ہی کو اپنی پوزیشن پر پہنچ گئی۔ دُشمن اب بھی مکتی باہنی کی سابقہ اطلاع پر تکیہ کیے بیٹھا تھا کہ میرپور پُل خالی پڑا ہے لہٰذا وہ بے دھڑک آگے بڑھ رہا تھا۔ اچانک میجر سلامت کی نفری نے اُس پر فائر کردیا جس سے دُشمن چند جانیں قربان کر کے پیچھے ہٹ گیا۔ اس کی دو جیپیں ہمارے ہاتھ آئیں۔

آگے آگے آتے ہوئے جو بھارتی دستہ چوٹ کھا کر پسپا ہو گیا تھا، وہ اس چھاتہ بردار پلٹن کا حصہ تھا جو چند روز پہلے تنگیل کے قریب اُتاری گئی تھی۔ اس کے پیچھے جنرل ناگرا آرہا تھا جو اب بھارت کے 101 Communication Zone کی کمان کر رہا تھا۔ وہ میرپور پُل کے پاس آکر رُک گیا۔ وہاں سے اُس نے لیفٹیننٹ جنرل نیازی کو ایک مختصر خط لکھا جس میں درج تھا:

”پیارے عبداللہ!

میں میرپور پُل پر ہوں، اپنا نمائندہ بھیج دو“۔

جنرل نیازی کو یہ رقعہ کوئی 9بجے صبح (16دسمبر) ملا جبکہ میجر جنرل جمشید، میجر جنرل فرمان اور ریئرایڈمرل شریف اُن کے پاس تھے۔ جنرل فرمان اب بھی اس بات پر اڑے ہوئے تھے کہ ہم نے جنگ بندی کے مذاکرات کے لیے کلکتہ پیغام بھیجا ہوا ہے وہاں سے ان کا کوئی نمائندہ آکر ہم سے بات کرے گا۔ جنرل نیازی نے جب انہیں جنرل ناگرا کی چٹ دکھائی تو انہوں نے کہا ”کیا وہ بھارت کی یک رُکنی مذاکراتی ٹیم ہے“ جنرل نیازی نے کوئی جواب نہ دیا .... دراصل اب ان موشگافیوں کا وقت نہیں تھا، اب مسئلہ یہ تھا کہ وہ ڈھاکہ کی دہلیز پر آبیٹھا ہے تو اُسے خوش آمدید کہنا ہے یا مدافعت کرنا ہے؟ جواب کا انحصار اس بات پر تھا کہ مدافعت کی سکت باقی ہے بھی یا نہیں؟ چنانچہ جنرل فرمان نے پوچھا ”کیا کچھ ریزرو فوج باقی ہے؟“

جنرل نیازی خاموش رہے۔ ریئرایڈمرل شریف نے اس انگریزی سوال کا پنجابی میں ترجمہ کرتے ہوئے کہا ”کُجھ پلے ہے؟“ جنرل نیازی نے ڈھاکہ کے محافظ جنرل جمشید کی طرف دیکھا جنہوں نے نفی میں سرہلادیا۔ اس پر جنرل فرمان اور ایڈمرل شریف یک زبان ہو کر بولے ”اگر یہ کیفیت ہے تو جاﺅ اور جو وہ کہتا ہے، کرو“۔

جنرل نیازی نے جنرل ناگرا کے استقبال کے لیے میجر جنرل جمشید کو بھیج دیا۔ وہ سیدھے میرپور پُل پر پہنچے۔ انہوں نے سب سے پہلے میجر سلامت سے کہا ”وہ ”سیزفائر“ کے آداب کا خیال رکھے لہٰذا میجر سلامت اور اُن کے سپاہیوں نے لبلی سے اپنی اُنگلیاں ہٹالیں اور میجر جنرل ناگرا ایک گولی فائر کیے بغیر ڈھاکہ میں داخل ہو گیا۔ اس کے ساتھ مٹھی بھر بھارتی فوج اور ڈھیر ساری فاتحانہ نخوت تھی مثلاً یہ ڈھاکہ کا اختتام تھا۔ اگرچہ اسے دفن کرنے کی رسوم ابھی باقی تھیں، ڈھاکہ یوں چپ چاپ سو گیا جیسے اچانک حرکت قلب بند ہو گئی ہو۔ وہاں کوئی ہاﺅہو نہ ہوئی، کوئی مارکٹائی نہ ہوئی۔ سنگاپور، پیرس یا برلن کے سقوط کی کوئی کہانی نہ دُہرائی گئی .... دیکھتے ہی دیکھتے ڈھاکہ غلامی میں ڈوب گیا۔

اسی اثناءمیں ایسٹرن کمانڈ کے ”ٹیک ہیڈکوارٹر“ کو سمیٹ لیا گیا۔ دیواروں پر سے جنگی نقشے اُتار لیے گئے۔ وہاں پڑے ہوئے ٹیلی فونوں کی روح قبض کرلی گئی۔ بھارتی فاتحوں کا استقبال کرنے کے لیے ایسٹرن کمانڈ کے پُرانے ہیڈکوارٹر کو جھاڑا پونچھا گیا کیونکہ بریگیڈیئر باقر صدیقی کے بقول ”وہاں ہمارا فرنیچر عمدہ تھا“۔ ملحقہ آفیسرز میس میں مہمانوں کے لیے لنچ کا اہتمام کیا گیا۔ ان سب انتظامات کے روح رواں بریگیڈیئر صدیقی تھے جو انتظامی امور میں خصوصی مہارت رکھتے تھے۔

سہ پہر کو بریگیڈیئر صدیقی اپنے بھارتی مدمقابل یعنی (بھارتی ایسٹرن کمانڈ کے چیف آف سٹاف) میجر جنرل جیکب کو لینے ایئرپورٹ تشریف لے گئے۔ اسی اثناءمیں جنرل نیازی اپنے ”مہمان“ میجر جنرل ناگرا کی تواضع لطیفوں سے کرتے رہے۔ میں ان لطیفوں کو دُہرا کر اس المناک کہانی کو غلیظ نہیں کرنا چاہتا۔

میجر جنرل جیکب اپنے ساتھ ایک دستاویز لائے جسے سقوط کی دستاویز (Instrument Surrender) کہا جاتا ہے۔ جنرل نیازی اسے ”جنگ بندی کا مسودہ“ کہنا پسند کرتے تھے۔

جیکب نے یہ کاغذات باقر صدیقی کو دیئے جنہوں نے جنرل فرمان کے سامنے رکھ دیئے۔ جنرل فرمان نے کہا ”یہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کی مشترکہ کمان کیا چیز ہے، ہم اسے تسلیم نہیں کرتے“۔ اس پر میجر جنرل جیکب نے کہا ”یہ دستاویز ایسے ہی تیارشدہ دہلی سے آئی ہے“ یعنی مجھے اس میں ردوبدل کا اختیار نہیں)۔ انڈین ملٹری انٹیلی جنس کے کرنل کھیرا پاس ہی کھڑے تھے، انہوں نے لقمہ دیا ”یہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ ہے، جہاں تک آپ کا تعلق ہے آپ صرف انڈین آرمی کے سامنے ہتھیار ڈال سکتے ہیں“۔ جنرل فرمان نے یہ کاغذات جنرل نیازی کے سامنے سرکا دیئے اور کہا ”یہ کمانڈر پر منحصر ہے کہ وہ اسے منظور یا نامنظور کرے“۔ جنرل نیازی خاموش رہے، اس خاموشی کو مکمل رضا سمجھاگیا۔

تھوڑی دیر بعد لیفٹیننٹ جنرل نیازی بھارتی ایسٹرن کمانڈ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ کو لینے ڈھاکہ ایئرپورٹ گئے۔ بھارتی کمانڈر اپنی فتح کی خوشی میں اپنی شریمتی کو بھی ساتھ لایا تھا جونہی یہ میاں بیوی ہیلی کاپٹر سے اُترے، بنگالی مردوں اور عورتوں نے اس ”نجات دہندہ“ اور اس کی بیوی کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ ان کو پھولوں کے ہار پہنائے، انہیں گلے لگایا، بوسے دیے اور تشکربھرے جذبات سے انہیں خوش آمدید کہا۔ جنرل نیازی نے بڑھ کر فوجی انداز میں سلیوٹ کیا، پھر ہاتھ ملایا۔ یہ نہایت دلدوز منظر تھا۔ فاتح اور مفتوح، بنگالیوں کی موجودگی میں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے تھے۔ ان کے دلوں میں ایک کے لیے انتہائی نفرت اور انتقام کے جذبات تھے اور دوسرے کے لیے احسان مندی اور تشکر کے۔ ان جذبات کو پڑھنے کے لیے کسی چشم بینا کی ضرورت نہ تھی۔ بنگالیوں کا انگ انگ یہی صدا دے رہا تھا۔

جنرل نیازی اور جنرل اروڑہ وہاں سے سیدھے رمناریس گراﺅنڈ (جسے سہروردی گراﺅنڈ بھی کہتے ہیں) گئے جہاں سرعام جنرل نیازی سے ہتھیار ڈلوانے کی تقریب منعقد ہونی تھی۔ یہ وہی جگہ تھی جہاں 7مارچ کو مجیب الرحمن نے ”بنگلہ دیش کا یک طرفہ اعلان آزادی“ کرنا تھا مگر آخری وقت وہ ایسا نہ کرپائے تھے۔ آج یہاں دوسری طرح کا اعلان آزادی ہونے والا تھا جس کا نظارہ کرنے کے لیے لاکھوں بنگالی موجود تھے۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ جنرل نیازی کی تذلیل کا منظر دیکھنے کے لیے سارا شہر اُمڈ آیا ہے۔

مجمع کو بھارتی سپاہیوں نے روک رکھا تھا۔ تقریب کے لیے تھوڑی سی جگہ خالی تھی جہاں ایک چھوٹی سی میز پر بیٹھ کر لاکھوں بنگالیوں کے سامنے جنرل نیازی نے سقوط مشرقی پاکستان کی دستاویز پر دستخط کیے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنا ریوالور نکال کر اروڑہ کو پیش کر دیا اور یوں سقوط ڈھاکہ پر آخری مہر ثبت کردی۔ اس موقع پر جنرل اروڑہ نے پاکستانی سپاہیوں کی ایک گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا جو اس بات کی علامت تھا کہ وہ ہی ”گارڈ“ ہیں اور وہی ”آنر“ کے مستحق!

اس تقریب کے بعد ہم قانونی طور پر جنگی قیدی بن کر جنرل اروڑہ کے زیرکمان آگئے مگر ڈھاکہ میں ابھی بھارتی فوج اتنی ناکافی تھی کہ ”قیدیوں“ کو مکتی باہنی کی انتقامی کارروائیوں سے بچا نہیں سکتی تھی، چنانچہ بھارت نے اجازت دے دی کہ پاکستانی قیدی تاحکم ثانی اپنے چھوٹے ہتھیار ذاتی تحفظ کے لیے اپنے پاس رکھیں۔ یہ ہتھیار 19دسمبر تک ہمارے پاس رہے۔ معقول تعداد میں بھارتی سپاہیوں کے پہنچنے کے بعد ڈھاکہ گیریژن کے جوانوں سے ہتھیار لیے گئے۔ افسروں سے ہتھیار ڈلوانے کے لیے ڈھاکہ چھاﺅنی کے ”گاف کورس“ میں 19دسمبر کو 11بجے صبح ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں جنرل فرمان، ریئرایڈمرل شریف اور جنرل جمشید سمیت سب افسروں نے ہتھیار ڈالے۔ میں بھی اس جم ندامت میں شامل تھا۔

ڈھاکہ سے باہر باقی مقامات پر کمانڈروں نے اپنے مدمقابل سے طے شدہ پروگرام کے مطابق 16سے 20 دسمبر کے درمیان ہتھیار ڈالے۔آل انڈیا ریڈیو نے 14دسمبر ہی سے ہماری شکست کی خبریں نشر کرنی شروع کر دی تھیں جس کی وجہ سے ڈھاکہ اور دوسرے مقامات پر غیربنگالیوں میں خوف وہراس پھیل گیا تھا۔ اُن میں سے اکثر لوگوں نے اپنا گھربار چھوڑ کر چھاﺅنیوں کا رُخ کرلیا تھا۔ انہوں نے اب بھی اپنے مقدر کو پاکستانی فوج کے مقدر سے وابستہ کرنے کو ترجیح دی۔ ان میں سے ہزارہا لوگوں کو مکتی باہنی نے راستے ہی میں موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ میں نے اس سلسلے میں مکتی باہنی کے مظالم کے ایسے واقعات سنے ہیں کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ واقعات اتنے کثیر اور گمبھیر ہیں کہ ان کا یہاں احاطہ کرنا ممکن نہیں۔

ہندوستانیوں کے پاس بے چاروں کی نگہداشت کے لیے کوئی وقت نہ تھا۔ ان کی نگاہ مال غنیمت پر تھی جسے وہ دھڑادھڑ ٹرکوں، بسوں اور ریل گاڑیوں کے ذریعے بھارت لے جارہے تھے۔ اس میں ہمارا جنگی سازوسامان، خوراک کے ذخائر، صنعتی مصنوعات، مشینری حتیٰ کہ گھریلو استعمال کی چیزیں مثلاً فریج، قالین اور ٹیلی ویژن سیٹ وغیرہ شامل تھے۔ نومولود بنگلہ دیش کا اتنا خون چوسا گیا کہ جب وہ آزادی کا سانس لینے کے قابل ہوا تو وہ محض ایک ڈھانچہ رہ گیا تھا۔ اس کا احساس بنگالیوں کو ایک سال بعد ہوا۔

جب بھارت کو ”مال غنیمت“ سے فرصت ملی تو اس نے جنگی قیدیوں کو ہندوستان بھیجنا شروع کیا۔ یہ سلسلہ دسمبر 1971ءسے جنوری 1972ءتک جاری رہا۔ جنگی قیدیوں میں اہم شخصیات (وی آئی پی) جنرل نیازی، جنرل فرمان، جنرل جمشید، ریئرایڈمرل شریف اور ایئرکموڈور انعام الحق تھے جنہیں ایک باربردار طیارے کے ذریعے 20 دسمبر کو کلکتہ بھیج دیا گیا۔ میں بھی ان کے ہمراہ تھا۔

ڈھاکہ ایئرپورٹ کو میں نے آخری بار 20 دسمبر کی سہ پہر کو دیکھا۔ اب یہ اس ایئرپورٹ سے قطعاً مختلف تھا جس پر میں نے جنوری 1970ءکو پہلی بار قدم رکھا تھا۔ ایک واضح تبدیلی یہ تھی کہ اب یہاں خاکی وردی کی بجائے سبزوردی نظر آرہی تھی۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ ان دو سالوں میں بنگالیوں نے صرف آقا بدلے ہیں۔ بنگالی مرد اور لڑکے اب بھی ہوائی اڈے کی بیرونی دیوار پر بیٹھے تھے جنہیں بھارتی سپاہی کتوں کی طرح دھتکار رہے تھے۔ میں جب پہلی مرتبہ یہاں پہنچا تھا تو سورج چمک رہا تھا۔ اب ایک ایسی رات پڑنے کو تھی جس کی سحر .... کم از کم .... مجھے نظر نہیں آرہی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ ڈھاکہ ڈوب چکا ہے .... آخری بار....!!

بھارتی طیارہ ہمیں کلکتہ لے آیا جہاں ہمیں ایک تاریخی عمارت فورٹ ولیم میں رکھا گیا۔ یہاں ہم اکٹھے تھے اور ایک دوسرے سے مل لیتے تھے۔ فرصت کے ان ایام میں میں نے جنرل نیازی سے انٹرویو کیا تاکہ سقوط ڈھاکہ کے متعلق ان کے تاثرات حاصل کر سکوں۔ ان دنوں ابھی زخم تازہ تھے۔ حمودالرحمن کمیشن کا نام ونشان تک نہ تھا۔ جنرل نیازی نے اپنا ”دفاع“ پیش کرنے کے لیے ابھی حقائق کو توڑنا موڑنا بھی شروع نہیں کیا تھا۔ وہ مجھ سے آزادانہ گفتگو کرتے رہے۔ ان کے ضمیر پر کسی قسم کا بوجھ نہیں تھا۔ وہ اپنے آپ کو سارے المیے سے بری الذمہ سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ سقوط مشرقی پاکستان کا ذمہ دار جنرل یحییٰ خاں ہے۔

سوال: کیا آپ نے جنرل یحییٰ یا جنرل حمید کو کبھی صاف صاف بتایا تھا کہ آپ کو جو وسائل دیئے گئے ہیں وہ مشرقی پاکستان کے دفاع کے لیے ناکافی ہیں؟

جواب: کیا وہ سویلین ہیں؟ کیا انہیں نہیں معلوم کہ اندرونی اور بیرونی خطرات سے مشرقی پاکستان کو بچانے کے لیے تین انفینٹری ڈویژن ناکافی ہیں؟

سوال: مگر یہ الزام تو ہمیشہ آپ ہی پر رہے گا کہ آپ مشرقی پاکستان کا دفاع نہ کرسکے۔ اگر کم وسائل کے پیش نظر آپ کے خیال میں دفاعی قلعوں والی سٹرٹیجی بہترین حکمت عملی تھی تو کیا وجہ ہے کہ آپ نے ڈھاکہ میں دفاعی قلعہ نہ بنایا جہاں فوج کی ایک کمپنی بھی نہ تھی؟

جواب: یہ سب راولپنڈی والوں کا قصور ہے۔ انہوں نے مجھے نومبر کے وسط میں آٹھ پلٹنیں بھیجنے کا وعدہ کیا تھا مگر صرف پانچ بھیجیں۔ میں باقی تین کا انتظار کرتا رہا کہ وہ آئیں تو انہیں ڈھاکہ کے دفاع کے لیے استعمال کروں گا۔

سوال: لیکن 3 دسمبر کو جب آپ پر واضح ہو گیا کہ اب مزید نفری آنی ناممکن ہے تو آپ نے کیوں نہ اپنے وسائل میں سے کچھ جمعیت ڈھاکہ کے لیے مخصوص کرلی؟

جواب: دراصل اس وقت حالات ایسے ہو گئے تھے کہ کسی محاذ سے ایک کمپنی بھی نکالنا مشکل تھا۔

سوال: جو تھوڑے بہت وسائل آپ کے پاس ڈھاکہ میں موجود تھے، اگر آپ اُن کو بھی صحیح طور پر استعمال کرتے تو جنگ کچھ دن اور جاری رہ سکتی تھی۔

جواب: مگر اس کا کیا فائدہ ہوتا؟ ڈھاکہ کی اینٹ سے اینٹ بج جاتی، گلیوں میں لاشوں کے انبار لگ جاتے، نالیاں اٹ جاتیں، شہری زندگی مفلوج ہو کر رہ جاتی۔ لاشوں کے گلنے سڑنے سے طاعون اور دوسری بیماریاں پھوٹ پڑتیں۔ اس کے باوجود انجام وہی ہوتا! میں نوے ہزار بیواﺅں اور لاکھوں یتیموں کا سامنا کرنے کی بجائے نوے ہزار قیدی واپس لے جانا بہتر سمجھتا ہوں۔

سوال: اگرچہ انجام وہی ہوتا مگر تاریخ مختلف ہوتی۔ اس سے پاکستان کی عسکری تاریخ میں سنہرا باب لکھا جاتا، آئندہ دُشمن کو ہماری طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھنے کی جرا¿ت نہ ہوتی۔

جنرل نیازی خاموش رہے!

٭٭٭

ڈیک

۰۰۰

box

جنرل نیازی کی ہچکیاں

ڈھاکہ کی طبیعت پر سب سے زیادہ اثر دو چیزوں کا تھا، ایک یہ کہ مشرقی پاکستان کے مختلف سیکٹروں میں جنگ کے رنگ کیا ہیں اور دوسری یہ کہ مغربی پاکستان کے محاذ پر صورتحال کیا ہے۔ آپ کو یاد ہو گا کہ لڑائی کے دوسرے دن جب یہ اُڑتی سی خبر ڈھاکہ پہنچی تھی کہ امرتسر فتح ہو چکا ہے اور فیروزپور چند گھنٹوں کی بات ہے تو جنرل نیازی اپنے زیرزمین کمرے میں بیٹھے چمک اُٹھے تھے اور خوشی میں پہلوانوں کی طرح ڈنٹر پیلنے لگے تھے مگر7 دسمبر تک کئی سیکٹروں میں ہمیں شکست ہو چکی تھی۔ 9 ڈویژن کے علاقے میں دونوں دفاعی قلعے .... جیسور اور جنیدہ .... دُشمن کے قبضے میں جا چکے تھے۔ 16ڈویژن میں جی اوسی کے بال بال بچ نکلنے کے بعد پتہ چلا کہ ڈویژن کی اہم سپلائی لائن (L of C) رنگ پور/ بوگرہ روڈ کٹ چکی ہے۔ 14ڈویژن میں جنرل قاضی اور اُن کے بریگیڈیئر سعداللہ سرحدی علاقے خالی کر کے دریائے میگھنا کے کنارے پہنچ چکے تھے اور نیچے جنوب مشرق میں جنرل رحیم کے ڈویژن (29ہنگامی ڈویژن) کے پیٹ میں فینی اور کومیلا کے درمیان چھرا گھونپا جاچکا تھا۔

اسی شام (7دسمبر) جنرل نیازی کو گورنر اے۔ ایم۔ مالک نے گورنرہاﺅس بلایا تاکہ وہ اُن سے جنگ کی اصل صورتحال معلوم کرسکیں۔ اس ملاقات کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ گورنر کو متضاد خبریں مل رہی تھیں۔ ایک طرف ایسٹرن کمانڈ ہیڈکوارٹر سے جنم لینے والی خبریں بتا رہی تھیں کہ ہر محاذ پر ہماری فوجیں بہادری سے لڑتے ہوئے دُشمن کے دانت کھٹے کر رہی ہیں اور دوسری طرف مختلف ضلعوں اور سب ڈویژنوں (تحصیلوں) سے سول انتظامیہ کو افسر واویلا کررہے تھے کہ بھارتی فوجیں بڑھ رہی ہیں، ہمارے دفاعی انتظامات مسمار ہورہے ہیں، ذاتی املاک اور جانوں کا نقصان ہورہا ہے۔ یہ خبریں سُن کر جنرل فرمان نے گورنر کو مشورہ دیا تھا کہ وہ جنرل نیازی کو گورنر ہاﺅس میں بلا کر صحیح صورتحال معلوم کریں کیونکہ اگر وہ ایسٹرن کمانڈ ہیڈکوارٹر گئے تو وہاں جنرل نیازی اپنے سٹاف افسران کے سامنے حقیقت حال کا اعتراف کرنے سے ہچکچائیں گے۔

جنرل نیازی 7دسمبر کی شام کو گورنرہاﺅس پہنچے تو عجب تذبذب میں تھے۔ ایک طرف اُن کا جرنیلی چہرہ تھا جس پر وہ بہادری کا نقاب اوڑھے ہوئے تھے۔ دوسری طرف اصل جنگی صورتحال تھی جو ان کی نالائقی اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت تھی۔ کیا وہ ایک سویلین گورنر کے سامنے جنگ کے چوتھے دن ہی اپنی بے بسی کا اعتراف کرلیں یا حسب معمول مزید کچھ عرصے تک اپنا بھرم قائم رکھیں۔ یہ ملاقات گورنر ہاﺅس کے ایک آراستہ اور پُرسکون کمرے میں ہوئی۔ اس میں گورنر اور جنرل کے علاوہ دو اور سینئر افسر بھی موجود تھے۔ ان میں سے ایک نے مجھے بتایا کہ شروع میں خاموشی طاری رہی۔ سب جنرل نیازی کا منہ دیکھتے رہے۔ پھر گورنر مالک نے آہستہ آہستہ گفتگو کا آغاز کیا جس کا لُب لباب یہ تھا کہ حالات کبھی ایک سے نہیں رہتے۔ زندگی دُھوپ چھاﺅں ہے، کبھی اچھے دن آجاتے ہیں اور کبھی بُرے۔ جرنیلوں کو بھی کئی نشیب وفراز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی فتح کی روشنی سے ان کا چہرہ دمکنے لگتا ہے اور کبھی شکست کے سائے ان کی شہرت کو کجلا دیتے ہیں۔ گورنر مالک نے ابھی آخری جملہ کہا ہی تھا کہ جنرل نیازی کا چوڑا چکلا جسم یکایک کپکپانے لگا اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ انہوں نے دونوں ہاتھوں سے اپنے چہرے کو ڈھانپ لیا اور بچوں کی طرح سسکیاں بھرنے لگے۔ گورنر نے اپنا بزرگانہ اور مشفقانہ ہاتھ بڑھا کر جنرل نیازی کے کندھے پر رکھا اور تسلی دیتے ہوئے کہا ”جنرل صاحب گھبرایئے مت! ایک کمانڈر کی زندگی میں کٹھن دن آہی جاتے ہیں، آپ ہمت نہ ہاریں اللہ عظیم ہے“۔

جس وقت جنرل نیازی بِلک رہے تھے، گورنر ہاﺅس کا ایک بنگالی بیرا چائے کا خوان اٹھائے کمرے میں داخل ہوا۔ اسے فوراً ایک افسر نے جھاڑ پلا کر واپس کر دیا۔ اس نے باہر آکر اپنے ساتھیوں کو بتایا ”اندر صاحب لوگ رو رہے ہیں“۔ یہ بات گورنر کے پنجابی ملٹری سیکرٹری نے سنی تو اس نے ڈانٹ کر انہیں چپ کروا دیا۔

یوں گورنر مالک کو جنگی صورتحال کا ایسا اندازہ ہوا جو مو¿ثر سے مو¿ثر الفاظ میں بھی پیش نہیں کیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے جنرل نیازی کی اشک شوئی کے بعد کہا ”میرا خیال ہے مجھے اس خراب صورتحال سے صدر کو مطلع کر دینا چاہیے تاکہ وہ جنگ بندی کا اہتمام کر سکیں“۔ جنرل نیازی کا سرابھی تک چھاتی کی طرف لٹکا ہوا تھا۔ انہوں نے سر اُوپر اُٹھائے بغیر ہولے سے کہا ”میں تعمیل کروں گا“ چنانچہ گورنر نے صورتحال پر مبنی ایک تار صدر یحییٰ خان کو روانہ کر دیا۔

جنرل نیازی واپس اپنے ہیڈکوارٹر میں آئے تو دروازے بند کر کے اپنے کمرے میں بیٹھ رہے۔ اگلی تین راتیں اور تین دن انہوں نے اسی ذہنی کیفیت میں گزارے۔ مجھے اس وقت اس بات کا اندازہ نہ تھا کہ ان پر کیا بیت رہی ہے۔ میں حسب معمول 8 اور 9 دسمبر کی رات کو ان کے کمرے میں گیا۔ انہوں نے کہنیاں اپنی میز پر گاڑ رکھی تھیں اور سر دونوں ہاتھوں کے پیالے میں رکھا ہوا تھا۔ باہر سے آنے والے کو چہرہ صاف دکھائی نہیں دیتا تھا اس لیے میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ اس وقت واقعی رو رہے تھے البتہ ان کی ذہنی کیفیت کا اندازہ اس جملے سے ہوتا ہے جو انہوں نے اس موقع پر مجھ سے کہا۔ انہوں نے فرمایا ”سالک! شکر کرو کہ تم آج جرنیل نہیں ہو“۔ اس سے بیشک ان کے گہرے کرب کا احساس ہوتا تھا۔ وہ مجھے بے بس لگے۔ میں وہاں سے چلا آیا لیکن ساری رات ان کے الفاظ میرے کانوں میں گونجتے رہے، مجھے ان پر بہت ترس آیا۔

7دسمبر سے 9 دسمبر تک تین دن جنرل نیازی پر بھاری گزرے۔ اس عرصے میں ان کے تقریباً سبھی ڈویژن اپنی ”سالمیت“ اور تنظیمی یگانگت کھو بیٹھے تھے۔ بہت سے علاقوں میں ان کی فوجیں ان دفاعی لائنوں سے بہت پیچھے ہٹ چکی تھیں جن کے متعلق کہا جاتا تھا کہ ان سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہیں انگریزی میں Line of No Penetration کہا جاتا تھا۔ مزید مایوسی کی وجہ یہ تھی کہ مغربی پاکستان محاذ پر بھی پیش قدمی کے امکانات خٹم ہو گئے تھے جہاں غیرمعمولی فتوحات حاصل کرنے کی توقع تھی کیونکہ ”مشرقی پاکستان کا دفاع مغربی پاکستان سے ہونا تھا“۔

قدرتی طور پر اس عرصے میں جنرل نیازی کی شوخی اور لطیفہ گوئی ہرن ہو چکی تھی۔ وہ اپنے کمرے سے بہت کم نکلتے اور عموماً تخلیے کو ترجیح دیتے لیکن جب بھی نظر آتے، بجھے بجھے سے لگتے۔ ان کی طبیعت میں شوخی کی بجائے چڑچڑاپن آچکا تھا۔ ان کی آنکھیں ان کی بے خوابی کی غمازی کرتی تھیں۔ ذمہ داریوں کا بھاری بوجھ ان کے چہرے کے سبھی خدوخال میں جھلک رہا تھا۔

اسی اثناءمیں آل انڈیا ریڈیو اور دوسرے غیرملکی نشری ادارے ہماری پسپائی کی خبریں بڑھا چڑھا کر پیش کررہے تھے۔ اس پر مزید المیہ یہ تھا کہ ہمارے بنگالی بھائی ریڈیو پاکستان کی بجائے ان غیرملکی اداروں کو زیادہ قابل اعتماد سمجھتے تھے۔ انہی دنوں بی بی سی نے اعلان کیا کہ جنرل نیازی اپنی فوج کو چھوڑ کر مغربی پاکستان بھاگ گئے ہیں۔ اس ”نشریے“ سے جنرل نیازی بہت جُزبُز ہوئے اور 10دسمبر کو اچانک ڈھاکہ انٹرکانٹی نینٹل میں جادھمکے۔ ہوٹل کی لابی میں جو شخص بھی ان کے سامنے آیا انہوں نے جھلا کر کہا ”بی بی سی والا کدھر ہے، میں اس کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں ابھی تک مشرقی پاکستان میں موجود ہوں اور میں اپنے سپاہیوں کو چھوڑ کر نہیں جاتا“۔ وہ ہوا میں یہ اعلان کر کے ایسٹرن کمانڈ ہیڈکوارٹر آگئے۔

جنرل نیازی جسمانی طور پر ڈھاکہ میں موجود تو تھے مگر ان کی موجودگی سے جنگی صورتحال پر کوئی خوشگوار اثر نہیں پڑرہا تھا اور نہ ڈھاکہ میں رہنے والوں (خاص کر غیرملکی شہریوں) کو اعتماد تھا کہ جب تک جنرل نیازی موجود ہیں اُن کی جانیں محفوظ ہیں۔ پنجابیوں، پٹھانوں اور بہاریوں کے لیے تو کوئی راہ فرار تھی نہیں، وہ بے چارے تو اپنے اپنے گھروں میں دُبکے ”وقتِ آخر“ کا انتظار کرتے رہے لیکن غیرملکیوں نے اس ڈوبتے جہاز سے باہر نکلنے کا فیصلہ کرلیا۔ انہیں نکالنے کے لیے 8دسمبر کا اقوام متحدہ نے طیاروں کا بندوبست کیا لیکن ڈھاکہ ایئرپورٹ کا ”رن وے“ ناقابل استعمال ہونے کی وجہ سے وہ نہ جاسکے۔ آئندہ چند روز میں وہ پرواز کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

بے یقینی اور عدم تحفظ کا احساس صرف سویلین آبادی تک محدود نہ تھا، اس کا اثر دفاعی حلقوں میں بھی ہوچکا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ دو فوجی افسر جن کے کندھوں پر آدھ آدھ پاﺅ پیتل چمک رہا تھا، یکے بعد دیگرے میرے پاس آئے اور کہنے لگے ”تمہیں جنرل نیازی کا قُرب حاصل ہے تم اُسے کیوں نہیں کہتے کہ حقیقت پسندی سے کام لے، ورنہ ہم سب کتوں کی موت مر جائیں گے“۔ میں نے کہہ کر ان سے معذرت کرلی کہ ”پبلک ریلیشنز آفیسر کا یہ کام نہیں، وہ جنگی معاملات میں کمانڈر کے فیصلوں پر اثر ڈالنے کی کوشش کرے“۔

میں نے جنرل نیازی سے اس موضوع پر بات نہ کی البتہ 8اور 9دسمبر کی درمیانی رات کو جب جنرل فرمان علی مجھے ایسٹرن کمانڈ ہیڈکوارٹر سے باہر مل گئے تو میں نے تذکرہ ان افسروں کے احساسات اُن تک پہنچائے۔ انہوں نے جواباً کہا ”گورنر بھی اس بارے میں فکرمند ہیں، مگر جنرل نیازی کا اپنا زاویہ نگاہ ہے۔ بہرکیف! ہم اس سلسلے میں کچھ کریں گے“۔ اگلے دن گورنر نے صدرپاکستان کو ایک تار دیا جس میں صورتحال کا ذکر کرنے کے بعد کہا گیا ”میں ایک مرتبہ پھر آپ پر زور دوں گا کہ آپ جنگ بندی اور سیاسی تصفیے پر غور کریں“۔ جنرل یحییٰ خان نے 7دسمبر والے تار کی طرح اس تار کو بھی نظرانداز کردیا۔ غالباً اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ مشرقی پاکستان کی جنگی صورتحال کے مالک ومختار تو جنرل نیازی تھے جو متواتر اپنی اور اپنی سپاہ کی اعلیٰ دفاعی صلاحیتوں کی رپورٹیں بھیج رہے تھے۔ ڈاکٹر ملک گورنر سہی مگر جنگی حالات کے بارے میں ان کی رائے کیا اہمیت رکھتی ہے؟

ایسٹرن کمانڈ نے پہلی مرتبہ 9دسمبر کو صورتحال کی نزاکت کا اقرار کیا اور جی ایچ کیو کے نام ایک پیغام (سگنل) میں کہا:

-1 فضا میں دُشمن کی برتری کے باعث بکھری ہوئی فوج کی صف بندی اور تنظیم نو ممکن نہیں۔ مقامی لوگوں کا رویہ انتہائی مخاصمانہ ہے۔ وہ دُشمن کو ہر ممکن مدد دے رہے ہیں۔ رات کے وقت مکتی باہنی کی چھاپہ مار کارروائیوں کی وجہ سے نقل وحرکت مشکل ہے۔ وہ بھارتی فوج کی رہنمائی کرتے ہوئے اسے ہمارے عقب میں لے آتے ہیں۔ ہوائی اڈا زبردست نقصان کے باعث ناقابل استعمال ہو چکا ہے جس کی وجہ سے گزشتہ تین دنوں میں ہمارے جہاز پرواز نہیں کرسکے اور آئندہ بھی نہیں کرسکیں گے۔

دُشمن کی فضائی کارروائیوں سے ہمارے بھاری ہتھیاروں اور جنگی سامان کو بے حد نقصان پہنچا ہے۔ ہمارے جوان تاحال بڑی جرا¿ت سے لڑ رہے ہیں مگر ان پر تھکان اور دباﺅ کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔ وہ گزشتہ 20 جون سے سو نہیں سکے کیونکہ دُشمن کے جہاز، توپیں اور ٹینک مسلسل گولہ باری کررہے ہیں۔

-3 صورتحال انتہائی نازک ہے مگر ہم اپنی استطاعت کے مطابق لڑتے رہیں گے۔

-4آپ سے درخواست ہے کہ اس علاقے میں دُشمن کے تمام ٹھکانوں پر فضائی حملوں کا اہتمام کریں اور اگر ممکن ہو تو ڈھاکہ کے دفاع کے لیے جہازوں کے ذریعے کمک روانہ کریں۔

جنرل نیازی کے مذکورہ تار (سگنل) نے گورنرمالک کے اندیشے کی تصدیق کردی۔ اب جنرل یحییٰ کے لیے لازم ہو گیا کہ وہ صورتحال کو سنبھالا دینے کے لیے ضروری کارروائی کریں لیکن انہوں نے صرف یہ کیا کہ موقع کی مناسبت سے ضروری اقدامات کرنے کا اختیار گورنر مالک کو سونپ دیا۔ یہ احکام انہوں نے ایک تار کے ذریعے گورنر مالک کو دیئے اور اس کی نقل جنرل نیازی کو بھی بھجوادی۔ اس تار میں کہاگیا:

از: صدر پاکستان

برائے: گورنر مشرقی پاکستان

اطلاع: کمانڈر ایسٹرن کمانڈ

آپ کا پیغام مل گیا اور اس کا مفہوم پوری طرح سمجھ لیا گیا ہے۔ آپ نے جو تجویز مجھے بھیجی ہے میری طرف سے آپ کو اس پر عمل کرنے کی پوری اجازت ہے۔ بین الاقوامی طور پر جو اقدامات ممکن ہیں وہ میں کر رہا ہوں اور کرتا رہوں گا لیکن دونوں صوبوں کے درمیان رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے میں مشرقی پاکستان کے بارے میں فیصلہ آپ کی صوابدید پر چھوڑتا ہوں، آپ جو فیصلہ کریں گے مجھے منظور ہو گا۔ میں جنرل نیازی کو بھی ہدایت کر رہا ہوں کہ وہ آپ کے فیصلے کے مطابق کارروائی کریں۔

اس تار کے بعد ایک اور تار جنرل عبدالحمید کی طرف سے جنرل نیازی کے نام پہنچا۔ انہوں نے مذکورہ صدارتی تار کے بنیادی نکات دُہرانے کے بعد جنرل نیازی کو ہدایت کی کہ وہ جنگ سے متعلق صحیح صورتحال سے گورنر مالک کو باخبر رکھیں تاکہ وہ درست فیصلہ کرسکیں، اسی تار میں جنرل حمید نے یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ سازوسامان بروقت تلف کر دیں تاکہ یہ دُشمن کے ہاتھ نہ لگ جائے۔ جنرل حمید کے تار کا متن یہ تھا:

از: چیف آف سٹاف آرمی

برائے: کمانڈر ایسٹرن کمانڈ

بحوالہ: صدارتی تار بنام گورنر جس کی نقل آپ کو دی گئی ہے۔

صدر نے مشرقی پاکستان کے متعلق فیصلہ گورنر پر چھوڑ دیا ہے جو اس بارے میں آپ سے مشورہ کریں گے کیونکہ کوئی بھی تار صحیح صورتحال کی عکاسی نہیں کرسکتا، اس لیے میرے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا کہ میں آپ پر یہ بات چھوڑ دوں کہ آپ موقع پر موجود ہونے کی وجہ سے کوئی درست فیصلہ کر لیں البتہ ایک بات واضح نظر آتی ہے کہ دُشمن جس کو سازوسامان کی برتری اور مکتی باہنی کی حمایت حاصل ہے، جلد ہی مکمل طور پر مشرقی پاکستان پر حاوی ہو جائے گا۔ درمیانی عرصے میں بھی شہری آبادی اور فوج کا بھاری نقصان ہو رہا ہے۔ ان حالات میں آپ کو دیکھنا ہو گا کہ آپ کب تک جنگ جاری رکھ سکتے ہیں اور کس قیمت پر؟ اس کا حقیقت پسندانہ تجزیہ کر کے آپ گورنر کو اپنا عندیہ بتا دیں تاکہ وہ صدر کی طرف سے سونپے گئے اختیار کے مطابق کوئی فیصلہ کرسکیں اور اگر آپ انتہائی اقدام پر مجبور ہو جائیں تو زیادہ سے زیادہ جنگی سازوسامان تلف کردیں تاکہ یہ دُشمن کے ہاتھ نہ لگنے پائے۔ مجھے باخبر رکھیے گا....

خدا حافظ!

اگرچہ فیصلہ گورنر پر چھوڑ دیا گیا تھا مگر مسئلے کا کوئی آسان حل نظر نہیں آتا تھا جسے وہ منتخب کر لیتے کیونکہ اگر جنرل نیازی جنگ جاری رکھ سکتے تو مذکورہ تاروں کے تبادلے کی ضرورت نہ تھی۔ اگر وہ جی چھوڑ بیٹھے تھے تو گورنر ان کا حوصلہ نہیں بڑھا سکتے تھے لہٰذا گورنر مالک نے ایک ایسا سیاسی تصفیہ تلاش کرنے کی کوشش کی جس کے مطابق مشرقی پاکستان میں اقتدار اس کے منتخب نمائندوں کے حوالے کر کے بھارتی اور پاکستانی فوجوں کے انخلاءکا انتظام کیا جاسکے۔

اس سلسلے میں انہوں نے ڈھاکہ میں موجود اقوام متحدہ کے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل مسٹر پال مارک ہنری سے رابطہ قائم کیا اور جنرل فرمان علی اور چیف سیکرٹری مظفر حسن کی موجودگی میں ایک مراسلہ اس کے سپرد کر دیا، اس کی اطلاع صدر یحییٰ خاں کو بھی کر دی۔ صدر یحییٰ کے نام گورنر کے تاریخی تار کا متن یہ تھا:

از:گورنر

برائے: صدر پاکستان

چونکہ آخری فیصلے کی ذمہ داری آپ نے مجھ پر ڈال دی تھی، اس لیے میں آپ کی اجازت سے حسب ذیل دستاویز اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل مسٹر پال ہنری کے حوالے کر رہا ہوں۔

-1 پاکستانی افواج مشرقی پاکستان میں جنگ چھیڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھیں لیکن حالات ایسے ہو گئے کہ انہیں مجبوراً دفاعی اقدامات کرنے پڑے۔ حکومت پاکستان درحقیقت شروع سے ہی مشرقی پاکستان کے مسئلے کو سیاسی طریقے سے حل کرنا چاہتی تھی جس کے لیے مذاکرات جاری تھے۔

-2 مسلح افواج بے شک کٹھن حالات سے دوچار ہیں مگر وہ اب بھی پوری دلیری سے جنگ جاری رکھ سکتی ہیں مگر مزید خون خرابے اور بے جا جانی نقصان کو روکنے کے لیے میں مندرجہ ذیل تجاویز پیش کرتا ہوں تاکہ موجودہ کشمکش کو سیاسی طریقے سے ختم کیا جاسکے۔

(الف) میں صدر پاکستان کی طرف سے دیئے گئے اختیار کے تحت مشرقی پاکستان کے منتخب نمائندوں کو ڈھاکہ میں پُرامن طریقے سے حکومت قائم کرنے کی دعوت دیتا ہوں۔

(ب) میں سمجھتا ہوں کہ مشرقی پاکستان کے باشندوں کی عزت نفس اس بات کا تقاضا کرے گی کہ بھارتی افواج بھی ان کی سرزمین سے نکل جائیں۔

(ج) لہٰذا میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ پ?


ای پیپر