نئے الیکشن سے مائنس عمران فارمولا ،،،اپوزیشن بھی یوٹرن کی رسیا نکلی!
18 دسمبر 2019 (00:09) 2019-12-18

حزب اختلاف کو یہ حقیقت مان لینی چاہئے کہ جہاں مفادات میں ٹکراو¿ ہو وہاں اتحاد نہیں بنا کرتے

حافظ طارق عزیز

جیسے اونٹ کی کوئی کل سیدھی نہیں ہوتی، اسی طرح پاکستانی سیاست میں بدلاو¿ اور کسی نئے پن کا یقین سے تعین نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں دشمن کب دوست اور دوست کب دشمن بن جائیں.... شائد سیاسی دوستی اور دشمنی کرنے والے بھی نہیں جانتے، کیونکہ ہماری سیاست کے ”گرو“ ایک سٹینڈ لے کر اس پر جم جانے کے گُر سے اوقف ہی ہیں، ان کی نظریں اگر کسی ایک چیز پر ہمیشہ ٹکی رہتی ہیں تو وہ ہے اقتدار۔ اقتدار یا اس میں حصہ مل گیا تو سب ٹھیک ورنہ الیکشن میں دھاندلی کا ”محبوب“ نعرہ تو ہے۔ جہاں اچھا خاصا مینڈیٹ رکھنے والی اپوزیشن جماعتیں ایک ایسی جماعت کے رہنما کی انگلیوں پر ناچنا شروع کریں جس کی ووٹ حاصل کرنے کی اوسط کبھی بھی دو یا ڈھائی فیصد سے زیادہ نہیں رہی تو پھر آپ سیاسی بصیرت، پالیسیوں میں استحکام اور رویوں میں ٹھہراو¿ کہاں سے تلاش کریں گے۔ یہاں آج حکومت کو دھاندلی زدہ قرار دے کر نئے انتخابات کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو کل یہ ڈیمانڈ ان ہاو¿س تبدیلی کا راگ پر منتج ہوتی ہے۔

آج کل بھی کچھ ایسی ہی صورتحال بنی ہوئی ہے، جس میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت سے چھٹکارا پانے کے خواہش مند اب مائنس عمران کی باتیں کر رہے ہیں۔دیکھا آپ نے کہ اپوزیشن جماعتیں جو وزیراعظم عمران خان پہ یوٹرن لینے کا الزام عائد کرتی ہیں، اب جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا ہے وہ خود یوٹرن لیتی دکھائی دیتی ہے۔

کل تک اپوزیشن جماعتوں نے ملک میں فوری نئے انتخابات کرانے کا ڈھول پیٹنا شروع کیا ہوا تھا لیکن آج اپوزیشن لیڈر شہباز شریف لندن میں بیٹھ کر مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان ہاﺅس تبدیلی بہت ضروری ہے۔ چند دنوں میں ایسا کیا ہوا کہ اپوزیشن کی کایا ہی پلٹ گئی اور اس نے نئے انتخابات کا راگ چھوڑ کر ان ہاﺅس تبدیلی لانے کے بارے میں بحث چھیڑ دی ہے حالانکہ مولانا فضل الرحمٰن کی سربراہی میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس میں طے پایا تھا کہ اپوزیشن ان ہاﺅس تبدیلی کے بجائے اب صرف ملک میں نئے انتخابات کا مطالبہ کرے گی۔

ان ہاﺅس تبدیلی کا یہ مطالبہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے علاج کے لیے بیرونِ ملک روانگی اور آرمی چیف کی تقرری کے حوالے سے عدالت ِ عظمیٰ کی طرف سے پارلیمان میں قانون سازی کی ہدایات کے بعد سامنے آیا ہے جس سے بظاہر یہی نظرآرہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو فوری طور پہ ملک میں نئے الیکشن کا انعقاد عملی طور پہ ممکن نظر نہیں آتا۔ اب تو الیکشن کمیشن بھی غیر فعال ہو چکا جبکہ چیف الیکشن کمشنر اور دو ارکان کی تقرری کی بیل بھی آسانی سے منڈھے چڑھتی نظر نہیں آرہی۔ موجودہ حکومت اور بالخصوص وزیراعظم عمران خان سے جان چھڑانے کی اب اپوزیشن کو ایک ہی صورت نظر آرہی ہے کہ ان ہاﺅس تبدیلی لائی جائے۔

اگر صرف قائدِ ایوان کی تبدیلی کی بات کی جائے تو اپوزیشن جماعتیں یقیناً یہ کسی طور نہیں چاہیں گی کہ عمران خان کی جگہ تحریک انصاف کا ہی کوئی اور رہنما وزیراعظم منتخب ہو۔ ایسی صورت میں جہاں یہ ثابت ہو جائے گا کہ اپوزیشن کسی اصول، نظریے یا ملکی مفاد کی بنیاد پہ نہیں بلکہ صرف ذاتی پرخاش کی وجہ سے مائنس عمران خان حکومت چاہتی ہے کیونکہ جس حکومت کو اپوزیشن نااہل اور نالائق گردانتی ہے وہ عمران خان کی تبدیلی سے کیسے اہل اور لائق ہو جائے گی۔ اگر کسی کو یہ گمان ہے کہ کل کو خان کو کوئی عدالت نا اہل قرار دینے کا فیصلہ سنا دے گی تو نئی قیادت تحریک انصاف کی باگ ڈور سنبھال سکتی ہے تو یہ بھی نا ممکنات میں سے ہے کیونکہ عمران خان کی ذات کی نفی کے ساتھ ہی اس تحریک کا وجود بھی دم توڑ جائے گا۔

اب دوسری صورت میں اگر اپوزیشن یہ تصور کرتی ہے کہ وہ ان ہاﺅس تبدیلی کے ذریعے اپنا قائدِ ایوان لا سکتی ہے تو اس ناممکن کو ممکن بنانے کے لیے اسے قومی اسمبلی میں اپنی عددی برتری ثابت کرنا ہوگی۔ اگرچہ آئین کے تحت اپوزیشن کی طرف سے تحریک عدم اعتماد کی منظوری کی صورت میں بھی حکومت کو ہی استحقاق حاصل ہوگا کہ وہ اپنی طرف سے نئے قائدِایوان کو نامزد کر کے منتخب کرا لے تو اس موقع پہ اپوزیشن اپنی طرف سے نامزد امیدوار کو کامیاب کرا کے اپنا وزیراعظم منتخب کرا سکتی ہے لیکن پھر معاملہ وہیں پہنچ جاتا ہے کہ یہ تب ہی ممکن ہے اگر حکومت کی اتحادی جماعتیں اس کا ساتھ چھوڑ کر اپوزیشن کے امیدوار کے حق میں ووٹ دیں۔

یہاں یہ ذکر ضروری ہے کہ عام انتخابات کے بعد اگست 2018ءمیں عمران خان قومی اسمبلی میں 176ووٹ لے کر قائدِ ایوان منتخب ہوئے تھے جس میں بیس ووٹ اتحادی جماعتوں کے تھے۔ ان کی وزارتِ عظمیٰ محض پانچ ووٹوں کی عددی اکثریت سے قائم ہوئی۔ اس وقت ان کی اتحادی جماعتوں میں ایم کیو ایم پاکستان کی قومی اسمبلی میں 7، مسلم لیگ ق کی 5، بلوچستان عوامی پارٹی کی 5، بی این پی مینگل کی 4، جی ڈی اے کی تین، جمہوری وطن پارٹی اور عوامی مسلم لیگ کی ایک ایک نشستیں جبکہ دو آزاد امیدوار ان کے ہمرکاب ہیں۔

بی این پی مینگل صرف ایشوز کی بنیاد پہ حکومت کی اتحادی ہے جسے تاحال اپنے مطالبات پورا نہ ہونے پہ سخت تحفظات ہیں اور سردار اختر مینگل حکومت سے علیحدہ ہونے کی دھمکی بھی دے چکے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی قومی اسمبلی میں اپنی 156نشستیں ہیں جبکہ حکومت اور اتحادی جماعتوں کی مجموعی نشستیں 184ہیں۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کی عددی پوزیشن دیکھی جائے تو مسلم لیگ ن کی 84، پیپلز پارٹی کی 55، ایم ایم اے کی 16، اے این پی کی ایک اور آزاد ارکان کی دو نشستیں ہیں، یوں اپوزیشن جماعتوں کی مجموعی نشستیں 158ہیں جو حکومت اور اتحادیوں کے مقابلے میں 26کم ہیں۔

اگر دیکھا جائے وزیراعظم عمران خان کو اس وقت ایوان میں کوئی بہت بڑی اکثریت حاصل نہیں، انہیں اپوزیشن کی نسبت فقط 13زیادہ نشستوں کی حمایت حاصل ہے جس کو پاٹنا اپوزیشن کے لئے مشکل امر نہیں ہے کیونکہ اسے بھی سادہ اکثریت کے لیے قومی اسمبلی میں 13نشستوں کی ہی ضرورت ہے۔ اگر اپوزیشن ان ہاﺅس تبدیلی کو ممکن بنانے کے لیے اپوزیشن کو حکومتی اتحادیوں میں شگاف ڈالنا ہو گا لیکن فی الوقت بی این پی مینگل کے علاوہ کسی اتحادی جماعت کو حکومت سے اس حد تک تحفظات نہیں ہیں کہ وہ حکومت سے علیحدہ ہو کر اپوزیشن کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہو جائے۔ دوسری بات جو ہم اوپر کر چکے ہیں کہ کون اہے جو تنی آسانی سے اقتدار سے ملا ہوا حصہ چھوڑکر اپوزیشن کا ساتھ دے گا۔ موجودہ صورتحال میں جب سپریم کورٹ کی ہدایت پہ پارلیمان نے اہم قانون سازی کرنی ہے تو اس دوران ان ہاﺅس تبدیلی کا نیا پنڈورا باکس کھلنے کا ویسے ہی کوئی امکان نہیں ہے اور اگر عمومی تاثر کے مطابق اپوزیشن اس قانون سازی کی حمایت کچھ لو کچھ دو کی بنیاد پہ کرتی ہے تو کیا وہ مستقبل قریب میں ان ہاﺅس تبدیلی کے عوض اسی الیکشن اور اسی اسمبلی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار ہو جائے گی جس کو وہ آج تک جعلی مینڈیٹ سے تعبیر کرتی ہے۔

اب جب اپوزیشن متحد ہو کر نئے انتخابات کی بجائے ان ہاو¿س تبدیلی کے مطالبے کا یوٹرن لے چکی ہے تو جاننے والے جانتے ہیں کہ شہباز شریف کو اس مطالبے پر گھر کے اندر سے بھی حمایت حاصل نہیں ہے۔ اس لئے یہ بات کہنے میں کوئی تردد نہیں ہونا چاہئے کہ اپوزیشن کی تمام جماعتیں متحد نہیں ہو سکتیں، کیونکہ اگر ایسا ہوجاتا ہے، ان ہاو¿س تبدیلی آ بھی جاتی ہے تو اس سے بھلا مولانا فضل الرحمن کو کیا فائدہ ہوگا، وہ مولانا جو اقتدار میں حصے کے بغیر زندگی کو ہی نامکمل سمجھتے ہیں، انہیں اپوزیشن اس ایشو پر کیسے رضامند کر پائے گی۔

اپوزیشن نے یوٹرن لے کر عوام کو تو ٹرک کی نئی بتی کے پیچھے لگا دیا لیکن حقیقت یہی ہے کہ کچھ یقین دہانیوں کے عوض اپوزیشن نئے انتخابات کے مطالبے سے دستبردار ہو کر اسی پرانی تنخواہ پہ نوکری کرنے پہ راضی ہو چکی ہے۔ اور اگر یہ یوٹرن لے لیا ہے تو کل کلاں حکومت کو موجودہ سیٹ اپ کے ساتھ قبول کر کے مدت پوری کرنے کی مہلت دینے کا یوٹرن بھی تو لیا جا سکتا ہے۔ اور ان ”ہمدردان قوم“ سے ایسا کرنا بعید بھی نہیں۔ ویسے بھی ایک بڑی اپوزیشن جماعت کی قیادت بیرون ملک ہے اور ان کی باقیات وہاں پہنچنے کیلئے پر تول رہی ہیں۔ ان حالات میں اگر مسلم لیگ نواز خاموش ہو جاتی ہے تو پیپلزپارٹی اکیلی کہاں تک دوڑ لگا سکے گی، آخر اس کا بھی تو یوٹرن پر اتنا ہی حق ہے جتنا وزیراعظم عمران خان یا کسی اور کا۔


ای پیپر