Source : File Photo

حالات کے مطابق کسی بھی پارٹی سے اتحاد کیا جاسکتا ہے، پیپلز پارٹی
18 دسمبر 2018 (20:24) 2018-12-18

اسلام آباد:پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ حالات کے مطابق کسی بھی پارٹی سے اتحاد کیا جاسکتا ہے، موجودہ کٹھ پتلی حکومت اداروں کو بدنام کررہی ہے، انیل مسرت عمران خان کے خلیفہ ان کا گھر چلاتے ہیں۔

 احتساب کے نام پر انتقام کی سیاست کی جارہی ہے ، پیپلزپارٹی کو ضیا ئ، مشرف دبا ومیں نہیں لاسکا یہ آج کے وزیراعظم کس طرح دبا ومیں لاسکتے ہیں،جے آئی ٹی کے حوالے سے ان کو خبریں کون دیتا ہے کہ جے آئی ٹی بنی گالہ میں بیٹھی ہے، پاکستان کے اداروں کو کہتے ہیں کہ حکومت کو ایسے اقدامات سے روکیں جس سے تصادم پیدا ہو،موجودہ حکومت اداروں کو مفلوج کرنے کے ساتھ پارلیمنٹ کو بھی مفلوج کرنے کی کوشش کررہی ہے، آصف علی زرداری کی ہمشیرہ ان کو نظر آتی ہے تو وزیراعظم کی ہمشیرہ ان کو نظر کیوں نہیں آتی۔

ان خیالات کا اظہارپیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر مولا بخش چانڈیو اور ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات نفیسہ شاہ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی بے نظیر بھٹو کی گیارہویں برسی منا رہی ہے بے نظیر بھٹو نے اس ملک کیلئے بہت قربانیاں دیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ آمریت کے خاتمے اور جمہوریت کیلئے کام کیا۔ اور اٹھارہویں ترمیم پاس کی تاریخ میں کم ایسے صدور ملیں گے جنہوں نے اپنے اختیارات پارلیمنٹ کو دیئے ہوں۔ موجودہ کٹھ پتلی حکومت اداروں کو بدنام کررہی ہے انیل مسرت عمران خان کے خلیفہ ان کا گھر چلاتے ہیں۔

خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرکے پارلیمنٹ کو مفلوج کیا جارہا ہے۔ سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ حکومتیں ایسے کام کرتی ہیں جس سے عوام کیلئے آسانیاں پیدا ہوں۔ موجودہ حکومت کو ابھی تک پتہ نہیں چلا کہ وہ حکومت میں آئے ہیں۔ اپنے منشور پر عمل نہیں کررہے۔ پیپلزپارٹی نے اپنے خون سے جمہوریت کی تاریخ لکھی ہے موجودہ حکومت نے تھوڑے ہی ٹائم میں عوام کی خوشیاں ختم کردی ہیں مہنگائی کا طوفان برپا کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا لہجہ دیکھیں اور پنجاب کے وزیر اطلاعات کی اوقات دیکھیں اور ان کے بیانات دیکھیں۔

احتساب کے نام پر انتقام کی سیاست شروع کی گئی ہے اور سیاسی پارٹیوںکو دبا ومیں لانے کی کوشش کی جارہی ہے پاکستان پیپلزپارٹی کو ضیا ءمشرف بھی دبا ومیں نہیں لاسکا یہ آج کے وزیراعظم کس طرح دبا ومیں لاسکتے ہیں۔ یہ عدلیہ افواج اور نیب کو متنازعہ بنا رہے ہیں کہتے ہیں کہ ایسے لگتا ہے کہ جیسے سارے ادارے ان کے کہنے پر چل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بتایا جائے کہ جے آئی ٹی کے حوالے سے ان کو خبریں کون دیتا ہے کہ جے آئی ٹی بنی گالہ میں بیٹھی ہے۔ پیپلزپارٹی کو کمزور نہ سمجھا جائے ہم جانیں دینا بھی جانتے ہیں۔ اگر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ ان کو نظر آتی ہے تو وزیراعظم کی ہمشیرہ ان کو نظر کیوں نہیں آتی۔

حکومت جتنی بھی طاقت ور ہے لیکن ہمیں عوام پر بھروسہ ہے اور ہم عدلیہ افواج پاکستان اور ملک کے دیگر اداروں کا احترام کرتے ہیں ،کیانیب صرف پاکستان پیپلزپارٹی کیلئے ہی کھلی ہے انہوں نے کہا کہ ساری توپوں کا رخ پیپلزپارٹی کی طرف کردیا گیا ہے کیا کبھی کسی نے سوچا کہ کسی کیس میں ایک سال کے بچے کو بھی بلایا جائے گا۔

بلاول بھٹو زرداری پر جو کیس بنایا گیا وہ اس وقت ایک سال کے بچے تھے۔ پہلے بھی آصف علی زرداری پر کیسز بنائے جاتے رہے اب بھی بنا کر دیکھ لیں تصادم کی سیاست سے حکمران جماعت کو فائدہ نہیں ملے گا موجودہ حکومت کو صوبائی خود مختاری کو ختم کرنا ہوگا وقت سے پہلے انتخابات نہیں ہونے چاہیں عوام نے موجودہ حکومت کو طاقت دی اور اپنے پانچ سال پورے کرے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسائل کا حل پارلیمنٹ ہے برطانیہ کی مثال سب کے سامنے ہے۔ سیاسی پارٹیاں حالات کے مطابق ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے ایسے فیصلے کرتی ہیں اور اتحاد کرتی ہیں۔


ای پیپر