مزارات کی تباہی اور مکافات عمل
18 دسمبر 2018 2018-12-18

کہتے ہیں کہ یہ دنیا مکافات عمل ہے، انسان جو عمل کرتا ہے وہی اس کے سامنے آ جاتا ہے، یہ مثال ہماری موجودہ حکومت بالخصوص وزیر اعظم عمران خان پر پورا اترتی ہے۔ کیونکہ پاکستان تحریک انصاف نے حکومت بنانے کے بعد جو سب سے پہلا کام کیا وہ تجاوزات کے خلاف آپریشن تھا۔ یہ آپریشن اتنی بے رحمی سے کیا گیا کہ اب یہ ایک انسانی المیہ بن چکا ہے اور ملک بھر میں لاکھوں لوگ بے گھر اور اپنے کاروبار سے محروم ہو چکے ہیں۔ آپریشن کرنے والوں کے قہر سے کوئی عام شہری بھی محفوظ نہیں رہا اور نہ ہی قبرستانوں میں آباد اولیاءاللہ کے مزارات پر ستم ڈھانے میں کوئی عار محسوس کی گئی۔ اسی طرح اس آپریشن سے وزیراعظم عمران خان کی والدہ شوکت خانم اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کی قبروں پر مشتمل احاطہ بھی نہ بچ سکا. مجموعی طور پر اس آپریشن کے باعث سب سے زیادہ عام آدمی متاثر ہوا ہے، کوریج کے دوران دکھ اور تکلیف سے بھری ایسی ایسی داستانیں سامنے آئی ہیں کہ سننے اور دیکھنے والے کا کلیجہ پھٹ کر رہ جائے اور اب تجاوزات کے نام پر بزرگان دین اور اولیاءاللہ کے مزارات کی تباہی کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔ قارئین کو یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ ایک آپریشن وہ ہے جو حکومت وقت کی جانب سے شہری آبادیوں میں کیا جا رہا ہے اور دوسرا لاہور ہائیکورٹ کے حکم سے قبرستانوں میں کیا گیا ہے۔ جس کا آغاز میانی صاحب قبرستان سے کیا گیا اور اب یہ سلسلہ لاہور کے تمام قبرستانوں تک پھیل چکا ہے۔ سب سے پہلے تو عدالتی حکم کی آڑ میں لاہور کے دو سب سے قدیمی اور بڑے قبرستان میانی صاحب اور میاں میر میں تجاوزات کے خلاف جو آپریشن کیا گیا ہے اس کے نتیجے میں پھیلنے والی تباہی کا ذکر ضروری ہے۔ آپریشن کے نام پر میانی صاحب قبرستان میں چار سو سالہ قدیمی دربار طاہر بندگی، درویش شاعر ساغر صدیقی سمیت اہم مزارات کی چار دیواریاں مسمار کر دی گئیں۔ اسی طرح میاں میر قبرستان میں درجن سے زائد قدیمی مزارات کی شدید بے حرمتی کی گئی ہے، جن مزارات کی چاردیواری کو پامال کیا گیا ہے ان میں سب سے قدیمی مزار حضرت بابا نتھے پاک سرکار کا ہے جو کہ حضرت میاں میر کے مرید خاص تھے ،حضرت میاں میر نے کم و بیش 400سال قبل اپنے دست مبارک سے حضرت بابا نتھے پاک کی تدفین میاں میر قبرستان میں کی تھی۔ اسی طرح حضرت سائیں عبدالعزیز المعروف بابا بالم قلندر سرکار، ڈاکٹر شا ہ محمد ظفر مدنی، حضرت یعقوب قادری، حضرت پیر سید محمد سلیم شاہ گیلانی قادری، حضرت قبلہ سید سعید احمد چشتی نظامی صابری، صوفی محمد عاقل کاظمی، حضرت سا ئیں محمد علی، حضرت ڈاکٹر طارق عباس درانی، سید محمود الحسن شاہ صابری فریدی کے مزارات شامل ہیں۔ مزارات کے خلاف اس آپریشن کی زد میں آ کر شہریوں کے پیاروں کی قبریں بھی ٹوٹ پھوٹ گئیں، بھاری بھرکم مشینری اور قدیمی دور کی بنی دیواروں کو ڈھانے کے دوران ملبہ قبروں پر گرنے سے متعدد قبریں ننگی ہو چکی ہیں۔ تاریخ کی کتابوں میں یہ بات درج ہے کہ میاں میر قبرستان حضرت میاں میر رحمتہ اللہ کی ذاتی اراضی پر واقع ہے جو شہزادہ دارا شکوہ نے انھیں ہدیہ کی تھی۔ 1960ءمیں محکمہ اوقاف پنجاب نے اس خانقاہ کا انتظام و انصرام اپنی تحویل میں لیا تھا۔ یہ تمام صورتحال دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ یہ آپریشن تجاوزات کے خلاف نہیں بلکہ مزارات کے خلاف تھا۔ مزارات کی بے حرمتی کے باعث ہزاروں عقیدت مندوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ قارئین کی یاد دہانی کے لیے یہ بات واضح کرتا چلوں کہ یہ آپریشن لاہور ہائیکورٹ کے ایک فاضل جج کے حکم پر ہو رہا ہے، لیکن اس حکم کی آڑ میں ناتجربہ کار افسران نے تباہی مچا دی ہے اور وہ کچھ بھی کر گزرے جو عدالتی حکم کا حصہ نہیں تھا۔ انتظامیہ نے حکم کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے احاطوں کے نام پر معروف اولیاءکے مزارات کی شدید بے حرمتی کی اور اس بنیادی بات کو بھی نظر انداز کر دیا گیا کہ کیا ان مزارات اور احاطوں کی دیواریں مسمار کرنے سے مزید قبروں کی کوئی گنجائش بھی نکلے گی یا نہیں ۔اس صورتحال نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ مملکت خداداد پاکستان میں مزارات کی حفاظت کا ذمہ دار کون ہے۔ کیا عدالتی حکم سے آگے بڑھ کر یہ کارروائی کرنے والے بھی کسی عدالت میں جوابدہ ہوں گے. یہ صورت حال عوام الناس میں اشتعال پیدا کر رہی ہے اور خدشہ ہے کہ کہیں آنے والے دنوں میں یہ کارروائی مذہبی اشتعال انگیزی کا سبب نہ بن جائے۔ حیرت انگیز طور پر یہ تمام کاروائی اس موقع پر کی گئی ہے جب سعودی عرب، شام، یمن، لیبیا، ہندوستان اور پاکستان میں بھی مزارات اور مقدس مقامات کی بے حرمتی کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ مذہبی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ اسلام کے آثار اور اس کی تاریخ کو مٹانے کا سلسلہ ہے۔ اس لئے حکومت کو اس مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھنے کے ساتھ ساتھ مزارات کی بحالی کیلئے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ عقیدت مندوں کا کہنا تھا کہ آپریشن کرنے والی اس ٹیم نے جہاں بزرگان دین کے مزارات کو نہیں بخشا وہیں وزیراعظم عمران خان کی والدہ اور ننھیالی رشتہ داروں کی قبروں کا احاطہ بھی مسمار کرنے میں جھجک محسوس نہیں کی اور شاید یہی مکافات عمل ہے۔

فارسی کا شعر ہے

گندم از گندم بروید و جو زجو

از ” مکافات ِ عمل “ غافل مشو

گندم بونے سے گندم ہی نکلتی ہے اور جو بونے سے جو ہی نکلتے ہیں ، بندے کو مکافات عمل سے غافل نہیں رہنا چاہیے۔


ای پیپر