جام و سُبو
18 دسمبر 2018 2018-12-18

ہماری طرح مہاتیر محمد عمران خان کی بھی مثالی شخصیت ہے۔ یہ انکشاف ملائیشیا کے حکمران مہاتیر محمد کی بیگم صاحبہ نے عمران خان کے دورئہ ملائیشیا کے دوران تصویر اتراتے ہوئے اور پاکستانی وزیراعظم کا ہاتھ پکڑ کر ان سے اجازت مانگی کہ کیا میں آپ کا ہا تھ پکڑ سکتی ہوں‘ انہوں نے جواب دیا کہ Sure، اس کی وضاحت خاتون اوّل نے یوں کی کہ عمران خان اس سے قبل بھی جب وہ کھلاڑی تھے، تب بھی وہ ان کے گھر ملنے آجایا کرتے تھے اور یہ کہ عمران خان ان کے بچوں کے برابر ہیں۔

ان کے حالیہ دورئہ ملائیشیا سے مجھے معلوم ہوا کہ عمران خان نے آخر کیوں قوم کو سو دن کے سراب کے پیچھے لگائے رکھا؟ دراصل ملائیشیاکے حکمران نے بھی اپنی قوم کو سدھارنے اور سنوارنے کیلئے سو دن مانگے تھے۔ اسی طرح ترکی کے ایک صحافی کو انٹرویو دیتے ہوئے جنرل مشرف نے کہا تھا ”اتاترک“ میرے آئیڈیل ہیں اور اسی حسن ظن میں انہوں نے ایک کتے کے بچے کو بھی گود میں تو خیر نہیں لیا تھا‘ بس اٹھا لیا تھا۔

حالانکہ اتاترک وہ شخصیت تھی کہ جنہوں نے سلطنت عثمانیہ کے دور کے رسم و رواج اور شعائر اسلامی کی روایات کی پاسداری کی بجائے جدید مغربیت کے احیاءکی عمل داری کیلئے نہ صرف کلیدی کردار ادا کیا بلکہ اتاترک کا اصل کمال یہ تھا کہ اس نے ترک خواتین کے منہ سے فوج اور پولیس کی مدد سے نقاب اور عبایہ زبردستی اتروا کر سکرٹ اور پینٹ پہنا دی۔

اور اب وہاں کی صورتحال دیکھیں کہ ترکی کے اردوگان امت مسلمہ کی بخوبی رہنمائی کررہے ہیں۔ طیب اردوگان تحریک انصاف کے تو نہیں مگر ان کی انصاف پسندی انتہائی قابل تعریف ہے۔ سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل کے مجرمان کو ترکی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور بانگ دہل یہ کہا ہے کہ صحافی کے قتل میں براہ راست سعودی عرب کے ولی عہد ملوث ہیں۔ ہمارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی لندن میں کہتے ہیں ہمیں نہ تو سعودی صحافی جمال خشوگی سے تعلق ہے نہ ہی کسی اور سے۔ طیب کہتے ہیں کہ شہزادہ محمد نے براہ راست قتل کا حکم دیا تھا اور ترکی کے پاس تمام شواہد اور ثبوت موجود ہیں لہٰذا صحافی کا قتل چونکہ ترکی میں واقع ہوا ہے لہٰذا اس کا مقدمہ بھی ترکی ہی میں چلے گا‘ اتاترک کے ظلم و زیادتی کے باوجود بھی اتاترک والے ترکی کے باسی اسلام کے پیروکار اور دل و جان سے مسلمان ہیں۔ ترکی کے بالکل برعکس ایران شہنشاہ کے زمانے میں مغرب کو مکمل اپنے معاشرے میں سموئے ہوئے تھا لیکن امام خمینی نے نہ صرف اپنے افکار اور احکامات کی گرمی اور جوش میں ایرانی خواتین کو دوبارہ چادروں میں لپیٹ دیا بلکہ امت کی قیادت پہ بھی متحارب گروپ بن گئے۔

دراصل کسی بھی ملک کے سربراہ کی آئیڈیالوجی اور اس کے عقیدے کا اطلاق کبھی رسمی اور کبھی جبری طور پر اس ملک کے عوام پر فوراً ہوتا ہے۔ ایوب خان کا دور تھا تو ہم ترقی کے پانچ سالہ منصوبے نصاب کی کتابوں میں بھی پڑھتے رہے اور آنکھوں سے بھی دیکھتے رہے‘ گواس وقت میں سکول کی ابتدائی کلاسوں میں تھا لیکن اس وقت کے حالات و واقعات میرے ذہن میں نقش ہوچکے ہیں۔ ان کے دور میں چینی قدرے مہنگی ہوئی تو لوگوں نے جلوس نکالنے شروع کردیئے۔ ایک خاص بات یہ تھی کہ ان کے خلاف صرف طالب علم میدان میں نکلے اور حبیب جالب نے لوگوں کا دل گرمایا‘ جیسے نواز دور میں ینگ ڈاکٹرز نکلتے تھے۔

اپنی خدمات کے صلے میں یہ سلوک دیکھ کر جنرل ایوب خان دل برداشتہ ہوگئے اور انہوں نے اپنی آخری نشری تقریر میں یہی کہا تھا کہ گلیوں اور چوراہوں میں ملکی مسائل کی باتیں ہورہی ہوں تو پھر مجھے حکمرانی کرنے کا کوئی جواز نہیں رہتا اور پھر یحییٰ خان نے آ کر ملک کو دو ٹکڑے کردیا اور پھر نظر بند ہوکر گھر میں اکیلے فٹ بال کھیلتے یا پھر جام و سیو سے ہر وقت کھیلتے رہتے مگر فوجی ہونے کے ناطے فوجی اعزاز کے ساتھ دفنائے گئے۔

ابوب خان اب اگر وہ شاہراہ دستور‘ پارلیمنٹ کے باہر لالک جان چوک اور لبرٹی وغیرہ میں ملکی اور خانگی مسائل حل ہوتے دیکھتے اور راگ و رنگ کے ساتھ احکاماتِ اسلامی کا نفاذ دیکھتے تو شاید ویسے ہی مر جاتے جب وہ شیخ الاسلام کو بھی دھمال ڈالتے ہوئے دیکھتے۔ خیر ایوب خان کو ڈیڈی کہنے والے ذوالفقار علی بھٹو کا دور آیا تو شراب پینا عام ہوگیا‘ حتیٰ کہ اس کا ذکر وزیر اعظم اپنی تقریروں میں بھی کرنے لگے کہ اگر میں اٹھارہ گھنٹے کام کے بعد تھکاوٹ دور کرنے کیلئے تھوڑی سی پی لیتا ہوں تو کیا فرق پڑتا ہے۔ یحییٰ خان کو شیشے میں اتار کر وہ دنیا کی سیاسی تاریخ کے پہلے سول مارشل لاءایڈمنسٹریٹر بن بیٹھے۔ بات صرف یہیں تک محدود نہیں رہی تھی‘ وزیراعظم نے ایک دفعہ قذافی سٹیڈیم میں ایک جلسے میں تقریر کرتے ہوئے بہن کی گالی بھی ”مخالفین جام و سُبو “ پر جڑ دی تھی جو کہ براہ راست نشر ہورہی تھی‘ دیگر پاکستانیوں کی طرح میں بھی پی ٹی وی پر وہ تقریر سن رہا تھا جب بھٹو صاحب نے پاکستان ٹیلی ویژن والوں کو کہا کہ یار یہ گالی کاٹ دو‘ جیسے آج کل سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر جن کا میں بھی بڑا مداح ہوں‘ اکثر کہتے ہیں کہ ارکان کی اور خصوصاً فواد چوہدری اور مراد سعید کی تقریر میں سے یہ الفاظ حذف کردیں۔ اس کے بعد جنرل ضیاءالحق مرحوم کا دور آیا تو تھری پیس سوٹ کی جگہ واسکٹ‘ اچکن اور شیروانی نے لے لی۔ شلوار قمیض کا دور دورہ تھا‘ ٹی وی پر خبریں پڑھنے کیلئے ہم نے بھی واسکٹیں سلوا لی تھیں‘ دفتروں میں نماز کے اوقات کا وقفہ ہونے لگا اور نماز کی تلقین سربراہ نہ صرف تقریر میں کرتا بلکہ عملی طور پر اس کا مظاہرہ ہونے لگا‘ عسکری اداروں میں مساجد کی تعمیر اور خطیبوں کا تقرر ہونے لگا۔

خیر اس کے بعد بے نظیر صاحبہ کا دور آیا تو پھر پاکستانیوں نے عورت کی آزادی کا شاندار مظاہرہ راجیو گاندھی کی پاکستان آمد پر دیکھا‘ جہاں اسلام آباد میں آزادی کشمیر کے حق میں لکھے گئے بینرز اور تحریریں راتوں رات مٹا دی گئیں‘ مسکراہٹ خفیف و عمیق کا تبادلہ ہوا اور پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے گاندھی خاندان سے کئی پشتوں سے خاندانی مراسم چلے آرہے ہیں۔

اس کے بعد میاں نواز شریف مسند اقتدار پر جلوہ افروز ہوئے‘ جمعہ کی چھٹی جو ذوالفقار علی بھٹو شہید کے دور سے چلی آرہی تھی‘ بند کردی گئی‘ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک خوشحالی کی راہ پر سرپٹ دوڑنا شروع ہوگیا‘ بلکہ ایک دفعہ تو منہ کے بل گرنے سے بچا۔ میاں صاحب نے کہا کہ یہ ملک تین دن کی چھٹی یعنی جمعہ‘ ہفتہ اور اتوار کا متحمل نہیں ہوسکتا اور پھر خدا کا کرنا یہ ہوا کہ لوگوں کے کاروبار بھی بند ہونا شروع ہوگئے۔

اور میرے چھوٹے بیٹے نے مجھ سے پوچھا کہ ابو جمعہ کی نماز ہم اتوار والے دن نہیں پڑھ سکتے؟ جماعت اسلامی والے اور دیگر جماعتیں بحالی ناغہ جمعہ کا مطالبہ کرکے تھک ہار کر ہمیشہ کیلئے خاموش ہوگئیں‘ یا پھر لگتا ہے دستبردار ہوگئی ہیں‘ حتیٰ کہ صدر رفیق تارڑ بھی اس معاملے میں صدر ممنون اور صدر عارف علوی ثابت ہوئے۔ اس کے بعد گارڈ آف آنر کے شوقین مشرف ڈنکے کی چوٹ اور دل کے کھوٹ کے ساتھ تشریف لائے‘ جن کا ہر کام ”وقت طلب“ ہوتا ہے جس کا شاندار مظاہرہ پاکستانی ان کے قوم سے پہلے خطاب کی صورت میں ساری رات تک جاگ کر دیکھ چکے ہیں۔ صحافی‘ کالم نویس اور دانشور یہ سوال کرکے تھک گئے کہ جنرل صاحب کے آنے اور ہر ایک کا احتساب کرنے کا نعرہ لگانے پرکیا تبدیلی آئی ہے لیکن ان کا فرمان تھا کہ تبدیلی کے ثمرات آہستہ آہستہ ظاہر ہوں گے لیکن امریکی صدر نے کہا تھا کہ ہم نے رات کے دو بجے جنرل مشرف کو جگا کر پوچھا تھا کہ ہمارے آپ سے پانچ مطالبے ہیں‘ ان میں سے کوئی ایک آپ قبول کرلیں‘ مگر ہم حیرت زدہ بلکہ دم بخود رہ گئے جب جنرل مشرف نے فوراً ہمیں جواب دیا کہ مجھے تو آپ کے پانچوں مطالبے قبول ہیں۔

تاریخ نے اب اپنے آپ کو پھر دہرایا ہے۔ ہمارے وزیر خزانہ جناب اسد عمر نے لندن میں آئی ایم ایف سے بھیک مانگنے اور خود کو نہیں قوم کو خودکشی پہ مجبور کردینے کیلئے‘ بغیر آئی ایم ایف کے کہے اپنے روپے کی قیمت چار‘ پانچ بار اپنی مرضی سے گھٹا دی اور ابھی انہو ںنے رہی سہی قدر آئی ایم ایف کے کہنے پر گھٹانی ہے.... آگے آپ خود سمجھدار ہیں‘ اسی لئے تو تحریک انصاف کو ووٹ دیا تھا۔ اسد عمر کو علامہ اقبالؒ مشورہ دیتے ہیں کہ

فطرت کو دکھایا بھی ہے‘ دیکھا بھی ہے تو نے

آئینہ فطرت میں دکھا‘ اپنی خود بھی!


ای پیپر