نئی معاشی، عسکری اور مالیاتی سرد جنگ کا آغاز؟
18 دسمبر 2018 (00:06) 2018-12-18

امتیاز کاظم:

پاپوانیوگِنی کے وزیراعظم پیٹراونیل نے سترہ اور اٹھارہ نومبر کو دُنیا بھر سے آئے ہوئے ممالک کے سربراہان کا استقبال کیا کیونکہ 30 واں ایپک (APEC) اجلاس یہاں پر ہی ہونا قرار پایا تھا۔ APEC یعنی ”ایشیا پیسفک اکنامک کوآپریشن“ 1989ءمیں بننے والی اس تنظیم کے رُکن ممالک کی تعداد 21 تک پہنچ چکی ہے۔ ایپک فورم دراصل ایشیا پیسفک ریجن میں ”فری ٹریڈ“ پر زور دیتا ہے اور خطے کے معاشی معاملات سدھارنا چاہتا ہے۔ جنوری 1989ءمیں 12 رُکن ممالک سے شروع ہونے والے اس فورم میں اب تک 21 ممالک شامل ہو چکے ہیں۔

قیام تو جنوری 1989ءمیں ہو گیا تھا لیکن اس کا پہلا باقاعدہ اجلاس چھ سے سات نومبر 1989ءمیں آسٹریلیا کے شہر ”کینبرا“ میں ہوا اور ”پرائم منسٹر باب ہاک“ نے اس کی میزبانی کی۔ ایپک دراصل بحرالکاہل کے ساحلوں پر واقع ممالک میں فری ٹریڈ/ آزادانہ تجارت میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک بڑا فورم اور ہر دفعہ روائتی طور پر اجلاس کے آخر میں ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جاتا ہے جو کہ اس دفعہ نہ ہو سکا، وجہ امریکہ اور چین کا مخاصمتی رویہ قرار دیا جاسکتا ہے۔

17نومبر کو اجلاس شروع تو بڑے خوشگوار انداز میں ہوا لیکن 18نومبر کے اختتام پر اس میں اُس وقت بہت بدمزگی پیدا ہو گئی جب امریکہ ایک ایسے مشترکہ اعلامیہ پر اختتام چاہتا تھا جس میں آزادانہ تجارت پر زور دیا گیا ہو اور اختلافات پر مذاکرات ہوں لیکن چینی حکام کا وفد میزبان ملک کے وزارت خارجہ کے دفتر میں گھس گیا اور زبردستی سرکاری اعلامیہ کو تبدیل کرنے پر زور دیا۔ یہ عمل اگرچہ سفارتی آداب کے منافی تھا لیکن بیجنگ، واشنگٹن خلیج کا وسیع ہوتا ہوا عمل اس کی ترجمانی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ دراصل چین، امریکہ مالیاتی عسکری معاشی آمناسامنا ہے اور ایک طرح سے سردجنگ کا آغاز ہے۔

اگرچہ یہ آغاز بہت پہلے سے ہی ہوچکا ہے لیکن ٹرمپ دور میں اس کی شدت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ چینی صدر ژی جن پنگ بھی اب بیک فٹ پر جانے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتے جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بذات خود ایپک اجلاس میں شامل نہ ہونا بھی یہ ثابت کرتا ہے کہ ٹرمپ، پنگ تعلقات معمول پر نہیں ہیں بلکہ ٹرمپ چین کے خلاف کتنا سخت، غیرلچک دار اور سخت گیر پالیسی رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ یہ روزِروشن کی طرح عیاں ہو گیا ہے کیونکہ ٹرمپ پنگ آمنا سامنا نہ ہونا بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اس 30 ویں ایپک اجلاس میں امریکہ کی نمائندگی امریکی نائب صدر مائیک پینس نے کی۔ چین کا سفارتی آداب کے منافی رویہ دوٹوک موقف کی تائید کر رہا ہے اور یہ رویہ خطے میں امریکی بالادستی کو چیلنج کر رہا ہے۔ اس واقع کے بعد چین کا امریکہ کو چیلنج کرتا ہوا رویہ کچھ اور بھی واضح شکل اختیار کر گیا۔

چینی صدر ژی جنگ پنگ نے شمالی کوریا کے لیڈر ”کم ژونگ اِن“ کی طرف سے شمالی کوریا کے دورے کی دعوت قبول کرنے پر غور شروع کر دیا جب کہ شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں مذاکرات پر بات چیت چل رہی ہے، ایسے میں یہ مذاکراتی عمل متاثر ہونے کا خدشہ اپنی جگہ موجود ہے اور ماہرین اس کو معاشی عسکری اور مالیاتی سرد جنگ قرار دے رہے ہیں۔ امریکہ کا چین پر معاشی پابندیاں عائد کرنا شاید اُس کی اپنی معاشی ساکھ متاثر کر دے جب کہ امریکہ آج کل زیادہ تر اپنے داخلی امور کی طرف متوجہ ہے لیکن اس کے باوجود مائیک پینس کے وفد میں نیشنل سکیورٹی کونسل میں چینی پالیسی کے سربراہ ”میتھیوپوٹنگز“ کی شمولیت اس بات کی عکاس ہے کہ ٹرمپ نے ایک سخت گیر وفد روانہ کیا ہے کیونکہ یہ شخص چین کے بارے سخت گیر موقف کا حامل ہے جب کہ گزشتہ ماہ مائیک پینس کی ایک سخت گیر موقف والی تقریر سے امریکہ، چین تعلقات میں مزید دراڑ پڑ گئی تھی۔

چین اور امریکہ در حقیقت اپنا عالمی اثرورسوخ بڑھانے کے لیے بہت پُرجوش دکھائی دے رہے ہیں اور اس سلسلے میں ایک دوسرے پر تنقید کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں مثلاً مائیک پینس چین کے انفراسٹرکچر پراجیکٹ (OBOR) ”ون بیلٹ ون روڈ“ کو ”ون وے روڈ“ قرار دیتے ہیں جس پر صدر ژی جن پنگ نے اس کا بھرپور دفاع کیا اور کہا کہ ”اوبور“ پراجیکٹ کو چین کی خارجہ پالیسی میں مرکزی حیثیت حاصل ہے اور یہ منصوبہ نہ تو کسی کو الگ کرتا ہے اور نہ ہی غیر رُکن ممالک کے لیے دروازے بند کرتا ہے جب کہ یہ کسی کو ٹریپ کرنے کا منصوبہ بھی نہیں ہے۔

دوسری طرف چین، امریکہ کو حدفِ تنقید بناتا ہے کہ امریکہ خطے کے دیگر مالک جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ مل کر اتحاد قائم کر رہا ہے اور پاپوانیوگِنی کی معاشی ترقی میں مدد کر رہا ہے اور ایک جزیرے MANUS-ISLAND میں ایک ”نیول پورٹ“ بھی بنا رہا ہے جب کہ دوسری طرف چین بھی کم وبیش یہی کر رہا ہے یعنی صدر ژی جن پنگ ایپک اجلاس سے دو دن پہلے ہی نیوگِنی پہنچ گئے تھے تاکہ اُس سڑک کو دیکھ سکیں جو نیوگِنی میں چین تعمیر کر رہا ہے اور پچاس ملین ڈالرز سے ایک کنونشن سنٹر کی تزئین وآرائش کروا رہا ہے۔ مائیک پینس بھی اس اجلاس میں پیچھے نہ رہے۔ مائیک پینس نے کہا کہ امریکہ خطے میں اپنے کردار میں اضافہ کرے گا۔ آسٹریلیا اور جاپان کے ساتھ مل کر پاپوانیوگِنی کی 70 فیصد آبادی کو بجلی فراہم کرے گا جب کہ امریکہ MANUS-ISLAND میں نیول پورٹ سمیت ایک ”ڈیپ سی فورٹ“ (گہرے پانی کی بندرگاہ) بھی تعمیر کر رہا ہے۔ یہ جزیرہ آسٹریلیا سے ایک ہزار میل کی دُوری پر ہے لیکن اس جزیرے کی اہمیت اس لیے بھی امریکہ کے لیے زیادہ ہے کیونکہ دوسری عالمی جنگ میں اس جزیرے نے جاپان کو شکست دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا جب کہ چین، امریکہ کے ان جزائر میں کردار کو پسند نہیں کرتا۔

دوسری طرف امریکہ چین پر الزام عائد کرتا ہے کہ چین اپنے ہمسایہ ممالک کے خلاف اور بحیرہ جنوبی چین کے حوالے سے جارحانہ عزائم رکھتا ہے۔ دونوں طاقتوں کی یہ سردجنگ دُنیا میں ”معاشی خوف وہراس“ کا باعث بن رہی ہے اور اب اس کا اکھاڑہ پاپوانیوگِنی کا ایپک اجلاس بنا ہے جس میں پہلی دفعہ ایک مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہو سکا۔ دراصل ڈرافٹ تیار کرنے والے ایک امریکی اہلکار اور خطے کا ایک سفارت کار تھا۔ اس میں چین شامل نہ تھا اور یہ ڈرافٹنگ پاپوانیوگِنی کے وزیرخارجہ رمبنک یاٹو کے دفتر میں ہو رہی تھی، جب چار چینی عہدیدار دفتر میں گھس آئے تاہم سکیورٹی اہلکاروں کو طلب کرنے پر یہ چاروں خود ہی دفتر سے نکل آئے۔ دراصل چین کو اس ڈرافٹ کے دو پیراگراف سے اختلاف ہے۔ ایک پیراگراف میں یہ کہا گیا ہے کہ APEC ممالک غیر منصفانہ تجارتی پریکٹس کے خلاف نبردآزما ہونے پر متفق ہو گئے ہیں جب کہ دوسرے پیراگراف میں کہا گیا ہے کہ ”گروپ کے ممبر ممالک ”ورلڈٹریڈ آرگنائزیشن“ (WTO) کے تنازعات طے کرنے، انہیں مانیٹر کرنے اور مذاکرات میں بہتری لانے کے لیے مل جل کر کام کریں گے“۔ یہ دونوں پیراگراف دراصل امریکہ کے حق میں زیادہ جاتے ہیں اور چین کو آئسولیٹ (الگ تھلگ) کرتے نظر آتے ہیں، اس لیے چین ان پیراگراف کی مخالفت کر رہا ہے۔ امریکہ اور اُس کے حواری یہ خیال کرتے ہیں کہ چین کی تجارتی اور معاشی پالیسیاں غیر منصفانہ ہیں اور اس ایپک اجلاس میں دونوں ممالک کا تجارتی اور معاشی رویہ کھل کر سامنے آیا ہے۔

دوسری طرف یہ صورت حال میزبان ملک کے لیے بڑی تکلیف دہ ہے کیونکہ 1989ءسے 2018ءتک 30 سالوں میں یہ کبھی نہیں ہوا کہ مشترکہ سرکاری اعلامیہ جاری نہ کیا جا سکا ہو جب کہ اس دفعہ یہ ہوا ہے۔ ایپک کا دوسرا اجلاس 29 سے 31 جولائی 1990ءکو سنگاپور میں ہوا تھا۔ تیسرا اجلاس 12 سے 14نومبر 1991ءمیں جنوبی کوریا کے شہر ”سیﺅل“ میں ہوا تھا۔ آئندہ اکتیسواں (31واں) اجلاس 16 سے 17نومبر 2019ءمیں ”چلی میں ہو گا“۔ 32 واں اجلاس 2020ءمیں ملائیشیا میں جب کہ 33 واں اجلاس 2021ءمیں نیوزی لینڈ میں ہو گا۔ ایپک کا 5 واں اجلاس 19 سے 20 نومبر 1993ءمیں امریکہ میں ہوا تھا جس کی میزبانی صدر بِل کلنٹن نے کی تھی جب کہ 13واں اجلاس 20 سے 21 اکتوبر 2001ءمیں چین میں ہوا تھا جس کی میزبانی صدر جیانگ زیمن نے کی تھی۔ آسٹریلیا، جنوبی کوریا، انڈونیشیا، جاپان، کینیڈا، ملائیشیا، نیوزی لینڈ، امریکہ، چین، جنوبی کوریا، انڈونیشیا، جاپان، کینیڈا، ملائیشیا، نیوزی لینڈ، میکسیکو، روس، سنگاپور، فلپائن، ویت نام، تھائی لینڈ، برونائی اس کے اہم ممالک میں شامل ہیں۔

ایپک دراصل ”آسیان“ (ASEAN) (ایسوسی ایشن آف ساﺅتھ ایسٹ ایشین نیشن) سے متاثر ہو کر بنایا گیا تھا اور اس پلیٹ فارم کو پیسفک رِم کے 21 ممالک اپنی معاشی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ زیادہ تر ہدف زعی پیداوار اور خام مال کو یورپ سے آگے تک لے جانا ہے، اس کا ہیڈکوارٹر سنگاپور ہے۔

معاشی اور تجارتی سرگرمیاں ہی دراصل کسی ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور ان سرگرمیوں میں امریکہ اور چین کا بڑھتا ہوا عالمی کردار یہ طے کرے گا کہ دُنیا اب یونی پُول (Unipole) نہیں رہی بلکہ ملٹی پول ہو رہی ہے۔ سپر طاقت امریکا کا کردار سمٹتا ہوا نظر آرہا ہے جس سے امریکہ کو پریشانی لاحق ہے لیکن یہ سب کچھ اس کا اپنا کیا دھرا ہے جس کے لیے امریکہ کسی کو اگر موردِالزام ٹھہراتا ہے تو یہ حرکت حماقت کے سوا کچھ نہیں ہوگی ۔

٭٭٭


ای پیپر