تصویریونان میں رنگ
18 اگست 2020 (22:32) 2020-08-18

یونان سے متعلق سلسلہ مضامین میں ابھی تک تو ہم یونان ِقدیم کی عورت ہی کو دیکھ سکے ہیں ۔اب یونان کے سفرنامے میں یونان جدید کی عورت سے بھی تعارف ہوجائے کہ زندگی کی طرح خطوں کی تصویرمیں بھی رنگ، عورت ہی کے وجود سے ہوتاہے ۔اس لیے نہیں کہ اس سفرنامے کے مصنف کوحلقہ قرات بڑھانے کے لیے اپنے سفرنامے میں کچھ خواتین ،کچھ میموں،کچھ رنگینیوںکو ڈالناہے ایسی میمیں جنھیں سفرنامے سے نکالنے کے مطالبے پر کرنل محمدخان نے کہاتھا کہ’ جسے بھی نکالتاہوں روتی بہت ہے‘ …وہ جو مسافرکو کہیں جہازمیں یا ایرپورٹ پر ہی مل گئی ہوں اور پھر دوران سفر پریوں کی طرح اس کی نگہداشت کرتی رہی ہوںاور منزل پر پہنچ کر توگویا درختوں سے پتوں کی طرح لٹکی ہوئی ہوں۔ سفیر پاکستان جناب خالدعثمان قیصر نے جب مجھے اپنی یونانی سیکریٹری نکی سے ملوایا تو مجھے اس کی شخصیت کے آئینے میں جدید یونانی خاتون کو دیکھنے کا موقع ملا۔وہ ایک سرتاپا عملیت پسند( Pragmatic)شخصیت دکھائی دی۔سفیرصاحب کا کہناتھاکہ وہ مردانہ وارکام کرتی ہے ۔Nikki Vasillou گزشتہ پندرہ برس سے یونان کے پاکستانی سفارت خانے میں سفیرپاکستان کی پرسنل سیکریٹری کے طور پر برسرکار ہے، اس نے لندن سے معاشیات میں ماسٹرزکی ڈگری حاصل کی ہے ۔وہ منظم ، ذمہ دار اور پیشہ ورانہ سوچ کی حامل خاتون ہے۔دوسروں کے ساتھ اس کا رویہ نہایت خوش گوار، مودبانہ اور ہمدردانہ ہوتاہے۔وہ قواعدوضوابط کی پابندی کرتی ہے اور دوسرے یورپی لوگوں کے برعکس اگر اسے دفتری اوقات کے علاوہ یا چھٹی کے دنوں میں بھی کوئی کام کہاجائے تو وہ ماتھے پر بل ڈالے بغیراسے خوش دلی سے انجام دیتی ہے ۔خاندانی رشتوں ،ناتوں پر یقین رکھنے والی یہ خاتون سفیرصاحب کے خیال میں یونان کے پاکستانی سفارت خانے کا سرمایہ ہے۔

یہ تواس کے بارے میں سفیرصاحب کے خیالات تھے ،قیام یونان کے دوران ،اس کی خوش گوار شخصیت اور ہمدردانہ رویے کا تجربہ بھی ہوا۔سفیرصاحب نے نکی کوبلاکرمجھ سے ملاقات کروائی تواسے میرااورحذیفہ کا ٹکٹ بنوانے کاکام بھی سونپا۔ میں اور حذیفہ ایتھنزسے اٹلی جاناچاہتے تھے اورعام پاکستانیوں کی طرح ایسی فلائٹ کے خواہش مندتھے جوہماری مطلوبہ تاریخوں میں ہو، اچھی ہواوراس کے ساتھ سستی بھی ہو ۔ہم عام طورپر جس دفتری رویے سے آشناہیں اس میں تو ایسے مطالبے کے جواب میں کچھ اس طرح کی رکاوٹیں اورمشکلات بیان کی جاتی ہیں کہ آپ کا سفرپرجانا ہی ناممکن دکھائی دینے لگتاہے ۔جب آپ کے پیروں تلے سے زمین نکل جائے تو پھردفتری عملے کا وہ رکن جس سے کوئی کام کہاجاتاہے، ازرہِ مہربانی کہتاہے کہ’ تاہم دیکھتے ہیں،کوشش کرتے ہیں‘۔ نکی نے ایسا کچھ بھی نہیں کہااور ہنستے مسکراتے کام بھی کردکھایا۔اس نے نہایت مناسب قیمت پرہمارے دیے ہوئے شیڈول کے مطابق ایتھنزسے روم کی فلائٹ بک کروائی۔یہ ہماری خواہش کے مطابق ،ایک اچھی اور خوش گوار فلائٹ ثابت ہوئی۔ یہی نہیں اس نے سفیرصاحب کی ہدایت کے مطابق روم میں پاکستانی سفارت خانے کے بالکل سامنے ایک اچھے ہوٹل میں ہماری بکنگ بھی کروادی۔

یونان جانے سے پہلے یونانی خواتین کے بارے میں میری معلومات انگریزی شاعر پوپ کی نظم ’’ مسزولیم ‘‘ تک محدودتھیں جوبہ قول سیدضمیرجعفری’ تکلم میں پرانی بلبلوں کو مات کرتی تھی‘ جو’ جوانی میں بکھنگم کی حسیں ملکانیوں جیسی ‘تھی…اور

وہ آنکھیں بحراطلانتک کے نیلے پانیوں جیسی 

بدن یونانیوں جیسا ، نظر مصرانیوں جیسی

اتفاق ہے کہ’ مصرانیوں‘ کی نظریں تو ان سطور کے راقم نے بہت دیکھیں بلکہ انھیں تعلیم بھی دی ۔یہ الگ بات کہ ان میں سے کوئی اسے گھائل نہ کرسکی ۔جہاں تک مصرع ثانی کے ابتدائی حصے کا تعلق ہے تو اس سے یونانی عورت کے وہی خد وخال ابھرتے تھے جومرزاادیب کی ’’صحرانوردکے خطوط‘‘ میں بکھرے پڑے ہیں ۔یہ غالباً افلاطون اورارسطو کے عہدہی کی عورت تھی۔خیال تھاکہ جس سرزمین نے دنیاکو جدید جمہوریت کا پیغام دیا وہاں تو آزادی کی نیلم پری ،جمہوری قبامیں پاکوبی نہیں کررہی ہوگی۔ وہاں کی عورت تو صدیوں سے انسانی اورجمہوری حقوق گرہ میں باندھے بیٹھی ہوگی اور یورپ سے بڑھ کرآزادوخودمختار ہوگی کہ بالآخر یونان ، مغربی تہذیب کا مولد ومنشاہے لیکن یہاں آکر پتہ چلاکہ چراغ تلے اندھیراکیسے ہوتاہے۔ معلوم ہواکہ ۱۸۴۴ء تک تو یونانی عورت اوریونانی مرد قانون کی نظر میں یکساں ہی نہیں تھے۔ جوڈیڑھ ہزاربرس پہلے کاخطبہ حجۃ الوداع پڑھ کریونان آیاہواس کے لیے یہ کتنے تعجب کی بات ہوگی۔بیسیویں صدی تک یونانی عور ت کو ووٹ کا حق بھی 

حاصل نہیں تھا ،وہ کسی پبلک آفس کی سربراہی کے بھی قابل نہیں سمجھی جاتی تھی ۔یہ حقوق اسے ۱۹۵۲ء میں ملے بلکہ تمام یونانیوں کی برابری کا حق بھی عملا ً اس کے بعد ہی تسلیم کیاگیا ۔یونانی عورت روایتی طور پر مشرقی معاشروں کی طرح گھریلوامورانجام دینے کی ذمہ دارہے، برون خانہ فرائض اور فراہمیِ روزگار کا ذمہ دارمردہے ۔اس لیے ۱۹۵۲ء کی آئینی اصلاحات کے باوجود ملکی سیاست میں اس کا حصہ نہ ہونے کے برابر رہا۔یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق یونانی معاشرے کے کاروبار حیات میں عورت کا حصہ تیس فیصد سے زیادہ نہیں۔ اب بھی جبکہ صورتِ حال بہت تبدیل ہوچکی ہے، یونانی پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی بیس فیصد سے زیادہ نہیں ہے ۔پاکستان کی صرف قومی اسمبلی میں بیس فیصد خواتین موجودہیں ۔واضح رہے کہ پاکستان دوایوانی مقننہ کا حامل ملک ہے اور اس کے ایوان بالا سینیٹ کی بیس خواتین ارکان ،قومی اسمبلی کی بیس فیصد خواتین کے علاوہ ہیں۔اور پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں خواتین؛ قائدحزب اختلاف،ڈپٹی چیرپرسن سینیٹ،ڈپٹی اسپیکرقومی اسمبلی،سپیکرقومی اسمبلی اوروزیراعظم جیسے مناصب پر فائزرہ چکی ہیں ۔

 یونان کی خواتین بڑی زورآور اور دوسروں پر چھاجانے کی صلاحیت رکھنے والی ہوتی ہیں ۔شایدیہی وجہ ہے کہ عام طورپر ان کی شادیاں کامیاب نہیں ہوتیں کیونکہ دوسری طرف ان کے مرد بھی اسی طرح غالب اور زورآور رہنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ یہ خیال سفیرپاکستان کی اہلیہ بیگم عاصمہ خالدعثمان قیصرکاتھا ،جو یونان سے پہلے یورپ کے کچھ اور ممالک جرمنی، برطانیہ اور ہنگری وغیرہ میں بھی رہ چکی ہیں۔ان کا کہناتھا کہ یونانی خواتین اعلی تعلیم یافتہ اور اپنی تاریخ اور تہذیب سے بخوبی واقف ہوتی ہیں، صرف یہی نہیں وہ اپنی تاریخ پر فخربھی کرتی ہیں ۔عام روابط میںان کا رویہ بہت دوستانہ ہوتاہے۔ میںنے ان سے کہا کہ آپ کا تجربہ تو یونانی معاشرے کے بالاتر طبقے (اپر کلاس) کی خواتین سے متعلق رہاہوگا۔اونچے گھرانوں سے تعلق رکھنے والی یہ خواتین تو بڑی بڑی پارٹیوں میں شرکت کرتی اور ڈپلومیٹک دوائر میں سیاست اور معاشرت پر باتیں بگھارتی اور چائے کی پیالی میں طوفان اٹھانے والی ہوتی ہیں۔ان کی زندگی وطرزعمل کا اطلاق یونان کیاکسی بھی معاشرے کی عام عورت پر نہیں کیاجاسکتا ۔عام کارکن عورت تو وہ ہوگی جو زندگی کی گاڑی کو آگے بڑھانے کے لیے ملازمت یامحنت مزدوری کرتی ہے،جس کے سامنے اپنے ملک کی گرتی ہوئی معیشت بھی ہے اور اپنے خاندانی نظام کی بقابھی، اسے شوہر اور بچوں کی ذمہ داریاں بھی نبھانی ہیں، سسرال کی توقعات پر بھی پورا اترناہے اور اپنی شخصیت کے استحکام کا بھی خیال رکھناہے ۔وہ ایک زندگی نہیں بیک وقت کئی زندگیاں گزارتی ہے ۔مثال کے طور پر آپ کے گھر میں جو یونانی خواتین کام کرتی ہیں ان کی شخصیت کے آئینے میں ہم اس عام یونانی عورت کو دیکھ سکتے ہیں ۔میرے اس تاثر نماسوال پر بیگم قیصر کا کہناتھا کہ مجھے جتنے ملکوں میں رہنے اور گھریلو خادمائوں سے کام کروانے کا اتفاق ہواہے اگر میں ان سب کا موازنہ کروں تو یونان کی کارکن خواتین کو سب سے بہترقراردیاجاسکتاہے ۔عام یورپی معاشروں کی طرح یہ بھی گھنٹوں کے حساب سے کام کی اجرت لیتی ہیں لیکن کام، نہایت ذمہ داری اور پوری دیانت داری سے کرتی ہیں۔ کوئی بھی موسم ہو وہ چھٹی نہیں کرتیں، ان کے کیے ہوے کسی کام کی کوالٹی کے بارے میں شکایت نہیں ہوتی، البتہ ان کی ازدواجی زندگی بھی انھی مسائل کا شکار رہتی ہے جو مسائل ،آپ کے بہ قول، ا پرکلاس کی خواتین کو درپیش رہتے ہیں، یعنی شوہر اور بیوی کی شخصیتوں میں تصادم اور نتیجتاًطلاق کی کثرت ۔اسی وجہ سے یہاں کی خواتین غیرملکی مردوں سے شادیاں کرنا پسندکرتی ہیں اور یہی حال مردوں کا بھی ہے۔ میرے گھر کام کرنے والی خادمہ خود یونانی ہے لیکن اس کا شوہر روسی ہے۔ عام طور سے یونانی خواتین کا یہی حال ہے ۔

بیگم عاصمہ قیصرسے یہ سب کچھ جاننے کے بعد مجھے کسی ایسی یونانی خاتون سے بات کرنے کاخیال آیا جس نے کسی غیرملکی سے شادی کی ہو.مجھے جلد ہی مرینہ نکولائیدس (Marina Nikolaidis)سے مکالمے کا موقع مل گیا ،انھوںنے ایتھنزیونی ورسٹی سے نفسیات میں ماسٹرزکی ڈگری حاصل کی اور آج کل ایک اسکول میں ماہر نفسیات کے طور پرخدمات انجام دے رہی ہیں۔ انھوںنے ۲۰۱۴ء میں ایک پاکستانی نوجوان،خالدمغل سے شادی کی. خالدمغل یونان کے Asylum Seekersکے ادارے میں ترجمان کی حیثیت سے منسلک ہیں ۔ میںنے مرینہ نکولائیدس سے پوچھاکہ کسی جذباتی لمحے میں ایک یکسرمختلف خطے اور مختلف ثقافت کے شخص کے ساتھ شادی کا فیصلہ ،مستقبل میں کیسا ثابت ہو ا…؟ میرے اس قدرے ذاتی سوال پرانھوںنے بڑی صاف گوئی اور سادگی سے گفتگو کی۔ ان کا کہناتھا کہ بڑی رکاوٹیںدو تھیں، ایک مذہب کا مختلف ہونا دوسری کلچر کا مختلف ہونا۔ میں رومن کیتھولک عیسائی ہوں اور میراشوہر مسلمان ہے اور اسلام کے بارے میں ہمارے معاشرے میں کوئی اچھا تاثر نہیں پایاجاتا،اسی لیے میری والدہ ہمارے اس فیصلے سے زیادہ خوش نہیں تھیں لیکن شادی کے بعد مجھے معلوم ہواکہ اسلام اور پاکستان کے بارے میں اہل یونان کے بیشتر خیالات غلط فہمیوں پرمبنی ہیں ۔میںنے اپنے پاکستانی شوہر کو’ ونڈر فل ہسبنڈ‘ پایا اور اب میری والدہ ان سے اتنی خوش ہیںکہ کسی بھی معاملے میںوہ میری رائے پر ان کی رائے کو فوقیت دیتی ہیں۔ وہ اپنے دو بچوں کے ساتھ ایتھنزمیں خوش و خرم زندگی گزاررہی ہیں۔ مجھے یہ جان کرتشویش ہوئی کہ ان کے بچے اردوسے ناواقف ہیںاور ان کے گھر میں یونانی زبان بولی جاتی ہے۔ میںنے خالدمغل صاحب سے اس بات کا شکوہ کرتے ہوئے کہاکہ اس طرح آپ کی آئندہ نسل اپنی تاریخ، تہذیب اور تمدن سے بیگانہ ہوکررہ جائے گی۔ صرف یہی نہیں کہ مرینہ اردونہیں جانتیں میرے لیے یہ بات بھی حیرت کا باعث ہوئی کہ ایک مسلمان کے ساتھ زندگی گزارتے ہوئے وہ اسلام کی بنیادی تعلیمات سے بھی واقف نہیں ہیں۔ میںنے انھیں بتایا کہ اہل اسلام ،سیدناحضرت عیسیٰ علیہ السلام اور سیدہ مریم سلام اللہ علیہاکے بارے میں کیسی عقیدت اور محبت کے جذبات رکھتے ہیں، ان پر ایمان لائے بغیر ہماراایمان ہی مکمل نہیں ہوتا اور یہ کہ قرآن حکیم نے کہاہے کہ خدانے حضرت عیسیٰ بن مریم کو ہدایت اور نورپرمشتمل انجیل عطاکی وَآتَیْْنَاہُ الإِنجِیْلَ فِیْہِ ہُدًی وَنُورٌ.(۵:۴۶) اور اسے توریت کی تصدیق کرنے والی بتایا اورخودتوریت کو ہدایت اور نصیحت کی کتاب قراردیا اوریہ کہ خدانے اپنے نبی ؐکو حکم دیاکہ وہ اہل کتاب کو دعوت دیں کہ آئو ہم ان باتوں پر اکٹھے ہوجائیں جو ہمارے اور تمھارے درمیان مشترک ہیں (۳:۶۴َ)٭۔ان کے لیے یہ باتیں انکشاف کی طرح تھیں ۔وہ یہ سن کر حیران ہوئیں۔ میںنے ان سے کہا کہ وہ قرآن کے سولھویں پارے میں موجود اس کے انیسویں باب کا ضرور مطالعہ کریں۔ وہ دیکھیں گی کہ قرآن نے سیدہ مریم سلام اللہ علیہا کے نام سے پوراایک باب (سورہ) منسوب کیا ہے اور یہ حضرت مریم ؑ کا وہ امتیازہے جو ہمیں بائبل میں بھی دکھائی نہیں دیتا ۔


ای پیپر