سیمینار سے ویبینار تک
18 اگست 2020 (22:30) 2020-08-18

زندگی میں تبادلے، تخیلاتی، تکنیکی یا لسانیاتی ہوں، ہر دور میںہوتے ہیں۔ ان تبدیلیوں میں ڈھلنا بھی فطری امر ہے۔ اللہ کریم نے انسان کو ماحول کے مطابق سلیقہ اپنانے کی صلاحیت دی ہے، کسی بھی مشکل میں جدت آمیز راستہ ایجاد کر لیتا ہے۔ ابلاغ کے اعتبار سے بات کریں تو قدرت کی عطاء کردہ نعمت دماغ کی مدد سے ایک دوسرے سے کلام کرنے کے لئے زبان بھی ایجاد کی، اسے تحریری شکل میں ڈھالا، اورپھر دور دراز مقامات تک اپنی بات پہنچانے کے لئے آلات بھی ایجاد کیے ۔ 

ایک دور تھا جب کتب بینی کے لئے خاص طور پر کتب خانوں کا رخ کیا جاتا تھا، وہاں قائم مختلف حصوں سے ضرورت کے تحت کتابوں کو چنا جاتا۔ پھر کہیں علم کی طلب کو پورا کرنے کی کوشش کامیاب ہوتی۔ دور ِ جدیدنے اس انداز کو بھی تبدیل کر دیا، اب مطالعہ کرنے کے لئے کاغذی صفحات پر مشتمل کتاب کی ضرورت نہیں، اب کمپیوٹر، لیپ ٹاپ یا موبائل فون، کسی پر بھی پی ڈی ایف (انتقال پذیر دستاویز کی شکل- Portable Document Format) کی صورت میں پڑھا جا سکتا ہے۔ 

کورونا وبا سے قبل حالات معمول کے مطابق تھے۔ اکٹھ، اجتماعات، مجالس سب اپنی اوقات اور بساط کے مطابق منعقد ہوا کرتی تھیں۔ لیکن اس عالمی وبا نے اجتماعی تقاریب پر مجبوراََ پابندی لگوا دی۔ اس عمل سے نا صرف سماجی بلکہ تمام تر ثقافتی ، سیاسی اور مذہبی اجتماعات متاثر ہوئے۔اسی طرح تدریسی جامعات، غیر سرکاری تنظیمیں اور کاروباری سطح پر سیمینار(کسی موضوع پر تبادلہِ خیال یا فنی ، تعلیمی، کاروباری تربیت کے حصول کے لئے اجتماعی سطح پر مجلس)کا انعقاد ہوا کرتا تھا۔ لیکن یہ سرگرمیاں بھی اس ہی کی نذر ہو گئیں۔

زندگی کو معمول پر لانے کے لئے مختلف طرز کے 

احتیاطی طریقہ ِ کار اپنائے گئے، تعلیم کے عمل کو برقرار رکھنے کے لئے آن لائن کلاسز کا اہتمام کیا جانے لگا۔ دفاتر میں گھروں سے کام کرنے کی تکنیک پر عمل درآمد کیا گیا۔ ایسے ہی ہم نے بڑے بڑے سیمینارز کو ویبینارز میں منتقل ہوتے دیکھا۔ یہ اندازِ مجلس انتہائی عمدہ پایا گیا۔پہلے ہم کہیں بھی سیمینا ر کا انعقاد ممکن بنانے کے لئے جگہ کا تعین کرتے تھے، وہاں تاریخ طے کرنے کے بعد سجاوٹ پر پیسے خرچ کرتے، فلیکسز، بینرز اور خاص طور پر ہائی ٹی کا انتظام ضروری سمجھا جاتا۔ سب سے اہم بات مہمانوں سے ان کا وقت لیا جاتا۔اتنی ساری تیاریوں کے بعد سیمینار کامیابی سے ہم کنار ہوتا( مذکورہ گفتگو میں ذاتی سجاوٹ کا حصہ طوالت کے باعث حذف کرنا بہتر ہے)۔اب ذرا ویبینار کے عملی انعقاد کا جائزہ لیتے ہیں۔

ویبینار میں دو سہولیات کی اشد ضرورت ہے۔ایک ،اچھی انٹرنیٹ سہولت کی اوردوسرا تکنیکی استعمال سے آشنائی( گوگل زوم) کی۔ آپ ویبینار کا انعقاد مندرجہ بالا سہولیات کے ذریعے ممکن بنا سکتے ہیں۔ اس میں مہمانوں کی شرکت میں سفری مسائل نہیں ہیں نہ ہی ریاستی حدود و قیود ، کسی بھی ملک سے کوئی بھی شخص آپ کی آن لائن تقریب میں حاضر ہو سکتا ہے۔ صرف ان کا آن لائن شرکت کا وقت درکار ہوگا۔ جب کہ دیگر شرکا کو خاص تیاری کی ضرورت نہیں ہے، ویبینار میں شرکت کے لئے حاضر دماغی اور انٹر نیٹ کی دستیابی ہی ضرورت ہے۔

چند روز قبل ایک غیر سرکاری تنظیم کے توسط سے’ مشترکہ بین الاقوامی حساب دانی کا جائزہـ‘  پر ویبینار میں اردو مترجم کی حیثیت سے شرکت کا موقع ملا، ڈیڑھ گھنٹے پر مشتمل ویبینار میں کینیا ، نیپال، بھارت سمیت دیگر ممالک سے ماہرین نے شرکت کی۔ ویبینار میں گفتگو سنتے اور ترجمہ کرتے ہوئے ایسے محسوس ہوا جیسے ہم سب ایک ہی مقام پر موجود ہیں، ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہوئے قطعاََ محسوس نہ ہوا کہ ہم سب بہت دورایک دوسرے سے محو ِ گفتگو ہیں۔ اس طرح ایک موضوع پر وسیع آرا میسر آئیں اور سیر حاصل گفتگو مکمل ہوئی۔ سارا منظر دیکھتے ہوئے گلوبل ویلج کی اصطلاح پر یقین ِ کامل ہو گیا ۔

اس امر میں انٹرنیٹ کے استعمال میں اضافہ دیکھنے میں آ یا ہے۔ پیشہ ور، طلبا، کاروباری، اساتذہ نیز سب ہی جدت کی جانب گامزن ہیں۔ لیکن ایک مسئلہ جس کی سب نے نشاندہی کی ہے، اس کو تمام تر عملی سرگرمیوں میں سب سے بڑی رکاوٹ کہا جا رہا ہے،وہ انٹرنیٹ تک تکنیکی و معاشی دسترس ہے۔ پی ٹی اے کے مطابق جون 2020ء تک 8کروڑ 10لاکھ تھری جی/فور جی سبسکرائیبر اور 8کروڑ 30لاکھ براڈبینڈ سبسکرائیبر سامنے آئے۔مذکورہ اعداد و شمار میں پنجاب ، سندھ اور خاص طور پر بلوچستان کے ترقی پذیر اضلاع شامل نہیں ہیں۔ وہاں سے طلباء و اساتذہ کی خواندہ سرگرمیوں میں شرکت نا ممکن ہو جاتی ہے۔ سیمینارز/ویبینارز میں دور دراز کے اضلاع میں مقیم افراد وہ تربیت یا آگہی حاصل نہیں کر پاتے ، جو اِن سرگرمیوں میں شرکت سے ممکن ہے۔

دستیابی تو دور انٹرنیٹ پیکیجز کے دام ،صرف صاحب استطاعت کی ہی دسترس میںہیں۔ موبائل پر لگنے والے پیکیجز طویل ویبینارز برداشت نہیں کر سکتے کیوں کہ اس میں آڈیو اور ویڈیو فیچر ز ،پیکج جلد اختتام پذیر کر دیتے ہیں۔پنجاب فری وائی فائی کا سرکاری منصوبہ بھی موم کا آخری قطرہ ثابت ہوا ۔تکنیکی خرابیوں کی بنا پراس منصوبے سے استعفادہ حاصل کرنا دشوار تھا۔مسائل ہماری جان چھوڑیں تو ہم بھی کچھ کر یں۔شاعر ِ مشرق علامہ اقبالؔ کے بقول ــ، تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں۔ جب نوجوانوں کو بنیادی سہولت ہی نہیں ملے گی تو کہاں سے ہم بلندی کو چھو سکیں گے، ہماری ترقی تو وہیں منجمد ہو جائے گی۔ علمی سطح پر مقابلہ کرنے کے لئے ہمیں انٹرنیٹ جیسی سہولت کو بنیادی تصور کرنا ہوگا اور حکومت ِ وقت کو اس ضمن میں عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔


ای پیپر