آزادیاں ہی آزادیاں! 
18 اگست 2020 2020-08-18

پاکستان کے یوم آزادی پر مختلف دوستوں، عزیزوں اور جاننے والوں کی جانب سے جشن آزادی کے پیغامات موصول ہورہے تھے، آزادی کی صحیح قدر مجھے مہذب ملکوں میں جاکر ہوتی ہے، میں جب یورپ، امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا یا گوری دنیا کے دیگر ملکوں میں جاتا ہوں میرے لیے وہاں زیادہ عرصہ قیام کرنا مشکل ہوجاتا ہے، کیونکہ جس طرح کی ” آزادیاں“ مجھے میرے ملک میں حاصل ہیں، دنیا کے جتنے ممالک میں نے دیکھے ہیں، وہاں کہیں مجھے نصیب نہیں ہوئیں، پاکستان میں سب سے بڑھ کر آزادی مجھے بطور ایک صحافی لوگوں کی پگڑیاں اُچھالنے، اُن کی ذاتی زندگیوں میں مداخلت کی ہے، مہذب ممالک میں ایسی آزادی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، یہی وجہ ہے مہذب ممالک میں ہم جیسے لوگ مختصر قیام ہی کرسکتے ہیں، میںجب برطانیہ، امریکہ ، یورپ کے اکثر ممالک خصوصاً کینیڈا کے کچھ صحافیوں سے ملتا ہوں، مجھے اکثر اُن سے یہ سوال پوچھنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، جب آپ یہاں کسی کی پگڑی ہی نہیں اُچھال سکتے، بغیر تصدیق کے کسی کے خلاف خبر ہی نہیں چھاپ سکتے، نہ اُس طرح نوٹ چھاپ سکتے ہیں جیسے ہم اپنے ملک میں چھاپ لیتے ہیں، کسی کی اجازت کے بغیر اُس کی تصویر تک کسی اخبار یا میگزین میں شائع نہیں کرسکتے، بلیک میلنگ کا تصورتک آپ کے ہاں نہیں ہے، پھر آپ کا گزارا کیسے ہوتا ہے؟ آپ کے گھر کا خرچا کیسے چلتا ہے؟ ایک برطانوی صحافی نے ایسے ہی ایک سوال پر مجھے بتایا ”یہاں ایک پاکستانی صحافی اُس کا دوست ہے، وہ اُس سے اُدھار وغیرہ لے کر گزارا کرلیتا ہے، میں نے پوچھا آپ کا پاکستانی صحافی دوست آپ کو اُدھار دے دیتا ہے؟ وہ بولا ” ہاںاِس شرط پر دے دیتا ہے جتنی رقم اُدھار لی ہے واپسی اُس سے دُگنی کروں گا، .... 1994ءمیں، میں جب پہلی بار ناروے گیا میرا خیال تھا سڑکوں پر سرعام تھوکنے کی یہاں بھی ویسی ہی آزادی ہوگی جیسی پاکستان میں ہے، پاکستان میں اب کسی سڑک کسی گلی یا کسی مقام پر زیادہ پانی کھڑاہو یہ اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا ہے، یہ پانی بارش کی وجہ سے کھڑا ہے، سوریج بند ہونے کی وجہ سے کھڑا ہے یا لوگوں کے زیادہ تھوکنے کی وجہ سے کھڑا ہے؟، ہمارے ہاں لوگ اب اتنا کھاتے نہیں ہیں جتنا تھوک دیتے ہیں، تھوکنے اور بھونکنے کی جتنی آزادی پاکستان میں ہمیں حاصل ہے شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک کے لوگوں کو حاصل ہو، سپین میں میری ایک گورے سے ملاقات ہوئی، میں بارسلونا کے جس گھر میں ٹھہرا ہوا تھا وہ اُس کے بالکل ساتھ والے گھر میں قیام پذیر تھا، اُس کا کتابڑا ”کیوٹ“ سا تھا، میری اُس سے دوستی ہوگئی، جس روز مجھے واپس پاکستان آنا تھا وہ بہت اُداس دکھائی دیا، وہ اُونچی اُونچی بھونک رہا تھا، اُس کا مالک اُس کی زبان سمجھتا تھا، میں نے اُس سے پوچھا ” یہ کیا کہہ رہا ہے؟ ۔ اُس نے بتایا ” یہ اصل میں آپ کے ساتھ پاکستان جانا چاہتا ہے“۔ میں نے عرض کیا ”یہاں کتوں کی اتنی عزت ہے، گورے اپنی اولاد سے زیادہ اُن سے پیارکرتے ہیں، اُنہیں چومتے چاٹتے ہیں، اُن کی صحت اُن کی خوراک کا خیال رکھتے ہیں، جبکہ پاکستان میں تو کتوں کے ساتھ تقریباً وہی سلوک ہوتا ہے جو انسانوں کے ساتھ ہوتا ہے، پھر یہ میرے ساتھ پاکستان کیوں جانا چاہتا ہے؟ ، گورے نے بتایا یہ اِس لیے آپ کے ساتھ پاکستان جاناچاہتا ہے یہ اکثر گھر میں ٹیلی وژن لگاکر پاکستانی چینل دیکھ رہا ہوتا ہے، اِس کا خیال ہے بھونکنے کی جتنی آزادی پاکستان میں ہے دنیا کے اور کسی ملک میں نہیں ہے“،.... میں اُس کتے کو پاکستان تو نہیں لاسکا پر اُس کے لیے دعا ضرور کی اُسے بھی بھونکنے کی ویسی آزادی میسر آجائے جیسی پاکستان میں ہے، پاکستان میں مختلف اقسام کی بداخلاقیاں جس بدترین مقام پر آکر کھڑی ہوگئی ہیں وہاں بولنے اور بھونکنے میں کوئی فرق ہی نہیں رہا، پاکستان میں شائستگی سے یا آہستہ آواز میں بات کرنے والے کو اب گونگا تصور کیا جاتا ہے۔ اُونچی آوازوں کی آلودگی پاکستان میں بڑھتی جارہی ہے، .... ان پڑھوں کوتوچھوڑیں بڑے بڑے پڑھے لکھے لوگ اس معاملے میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوششوں میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں، ابھی کل میرا ایک انتہائی پڑھا لکھا دوست گھر کا کھلا دروازہ دیکھ کر بغیر بیل دیئے اچانک نہ صرف میرے گھر میں داخل ہوگیا بلکہ سیدھا میرے بیڈ روم میں آگیا، میں اُس وقت بیڈ روم میں پڑی سٹڈی ٹیبل پر بیٹھا مختار مسعود کی کتاب ”آواز دوست“ پڑھ رہا تھا، جو پہلے بھی کئی بار میں پڑھ چکا ہوں، اُس بے تکلف دوست نے اپنی طرف سے سرپرائز دے کر خوش کرنے کی کوشش یہ کی دبے دبے پاﺅں بیڈروم میں داخل ہوکر اچانک میرے قریب آکر میرے کان میں اتنی اُونچی آواز میں ”واﺅ“ کیا، میرا” تراہ“ نکل گیا، بلکہ ”تراہ“ بھی نکل گیا، کتنی دیر دھڑکن ہی سنبھلے نہیں پائی، اُس وقت میرا جی چاہا ایک زوردار طمانچہ اُس کے منہ پر میں ماردوں، پر میں اِس لیے لحاظ کرگیا ایک تووہ میرے گھر میں موجود تھا دوسرے پرانا دوست تھا،.... ویسے ہم پاکستانیوں کی ”شرارتیں“ بھی ہماری مادرپدر آزادی کے عین مطابق ہی ہوتی ہیں، یہ جو میں نے اچانک دبے دبے پاﺅں قریب آکر انتہائی اُونچی آواز میں کسی کو ”واﺅ“ یا ”ہا“ کرکے ڈرانے کی پرانی عادت یا شرارت کا ذکر کیا ہے گوری دنیا میں ایسی کسی عادت یا شرارت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ اس کے نتیجے میں دل کی دھڑکن بعض اوقات بے قابو ہوکر جان تک چلی جاتی ہے، پاکستان میں ایک آزادی ہمیں کسی کی جان لینے کی بھی حاصل ہے، چھوٹی چھوٹی، معمولی معمولی باتوں اور جھگڑوں پر ایک دوسرے کی جان تک لینے کے عمل سے ہم اس لیے گریز نہیں کرتے ہمیں پتہ ہے پاکستان میں قانون اتنا کمزور ہے کوئی بھی طاقتور بڑے سے بڑا جرم کرکے قانون کو آسانی سے اپنے حق میں استعمال کرسکتا ہے، ہماری عدلیہ کو قانون کے مطابق فیصلے کرنے میں اتنی آزادی حاصل نہیں جتنی آزادی خلاف قانون فیصلے کرنے میں حاصل ہے، ہم ابھی تک اپنی اس ”قدیم شناخت“ سے جان نہیں چھڑواسکے”وکیل کی کرنا اے جج ای کرلو“ .... جیسے بے شمار گناہ کرنے کے بعد ہم سوچتے ہیں ”عمرہ کی کرنا اے حج ای کرلو“.... مجھے یقین ہے روز محشر ایک حساب ہم پاکستانیوں سے زیادہ حج وعمرے کرنے کا بھی لیا جائے گا۔ میں کچھ ایسے لوگوں کو جانتا ہوں اپنے غریب ملازمین کی چار چار ماہ کی تنخواہیں مارکر بیٹھے ہیں پر ہرسال حج ضرورکرتے ہیں، بیچ میں کہیں کہیں عمرہ بھی کر آتے ہیں، حج وعمرہ کرنے کی آزادی کے غلط استعمال کا حساب بھی ایسے لوگوں کو اِک روز دینا پڑے گا !!


ای پیپر