مقبوضہ کشمیر’’ آل از ہیل‘‘
18 اگست 2019 2019-08-18

جنت ارضی کے مکین مودی کی لگائی آگ میں جل رہے ہیں، بچپن سے ایک نغمہ سنتے آئے ہیں اب تک سن رہے ہیں۔

میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن

ستم شعار سے تجھ کو چھڑائیں گے اک دن

70 سال ہوگئے ستم شعار کے پنجہ استبداد میں اور سختی آگئی، ایک بھارتی شاعر نے کہا تھا کہ ’’ظلم و تانا شاہی اب بھی عام ہے ،کون کہتا ہے کہ ہٹلر مر گیا‘‘ 21 ویں صدی کے بڑے شیطان اور ہٹلر ثانی نے کشمیری مسلمانوں پر زندگی تنگ کردی، مجبور و بے کس کشمیری کیا کریں ’’شیطان اکبر‘‘ کو پتھر مارے جا رہے ہیں۔ جواب میں گولیاں زندگی چاٹ جاتی ہیں۔ بھارت کے سماجی کارکنوں کو مقبوضہ وادی کے دورے پر بھیجا گیا تاکہ دنیا کو پیغام دیا جائے کہ مودی کے ناگہانی اقدامات سے کشمیری خوش ہیں۔ سماجی کارکنوں نے وہاں کی صورتحال کو جہنم قرار دے دیا۔ کہا کہ ’’آل از ویل نہیں آل از ہیل ‘‘ کا سماں ہے ،کرفیو مسلسل 15 روز سے جاری، لوگ گھروں میں محصور، 900 سیاستدان گرفتار، بچے بوڑھے خواتین زندگی سے عاجز، زندہ رہنے کے آثار معدوم، بھارتی فوجی جانے کون سی نسل سے ہیں جن کے دلوں میں رحم کی رمق نظر نہیں آتی، مودی بڑھکیں مار رہا ہے کہ اس نے 70 دن میں وہ کام کردیا جو دیگر حکومتیں 70 سالوں میں نہ کرسکیں مودی کا نظریہ ہے کہ دعویٰ جھوٹا قبضہ سچا۔ اس نے چشم زدن میں مسئلہ کشمیر حل کردیا۔ اس کے انتخابی منشور میں شامل تھا۔ کوئی سیکرٹ ایجنڈا نہیں تھا۔ ہمیں بھی اس ایجنڈے کا علم تھا۔ اسی لیے ہم نے کہا تھا کہ مودی منتخب ہوگیا تو مسئلہ کشمیر حل ہوجائے گا۔ کیا واقعی ایسا ہے؟ اگر ہے تو رونا کس بات کا۔ سب کچھ امریکی اسکرپٹ کے مطابق ہی تو ہو رہا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ حل ہوگیا۔ افغانستان کا بھی اسی طرح حل ہوجائے گا۔ اہل درد کہتے ہیں کہ پھر ہماری باری آئے گی۔ اللہ اپنی امان میں رکھے۔ بیانات، پریس کانفرنسوں اور قرار دادوں سے کبھی مسائل حل نہیں ہوئے۔ نعرے بازی، جوش وجذبے کے لیے ضروری ،بحمدللہ ہماری قوم نعرے بازی میں ہمیشہ سے خود کفیل ،جذبہ ملی جو ایک صدی قبل حضرت علامہ اقبال پیدا کر گئے تھے وہ دبی ہوئی راکھ میں چنگاری کی صورت ابھی تک دہک رہا ہے۔ چند پھونکوں سے بھڑک اٹھتا ہے۔ یوم آزادی اور اس سے اگلے دن یوم سیاہ (ہم نے بھارت کے یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر منایا) کے مواقع پر سڑکوں، بازاروں میں نکلنے والے جلوسوں، ریلیوں کے دوران جس جوش و جذبہ کا مظاہرہ کیا گیا وہ دیدنی تھا۔ لیکن بقول حضرت علامہ ’’دریائوں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفاں‘‘ شاذ و نادر ہی نظر آیا۔ 1965ء والا جوش و جذبہ کہاں سے لائیں، پلوں کے نیچے سے بہت سا بلکہ سارا پانی بہہ گیا۔ کنکر پتھر باقی بچے ہیں پوری قوم ان ہی کنکروں اور پتھروں پر چل رہی ہے۔ بقول غالب۔

ہوئے ہیں پائوں ہی پہلے نبرد عشق میں زخمی

نہ بھاگا جائے ہے مجھ سے نہ ٹھہرا جائے ہے مجھ سے

مایوسی گناہ بلکہ قوموں کی زندگی میں گناہ کبیرہ، حضرت علامہ کی زبان میں ’’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی‘‘ سب کچھ درست لیکن ساقی فیصلہ سے عاری، کوئی مبالغہ نہیں زمینی حقائق ہیں کہ ہم نے نعرے، تقریریں، قراردادیں سبھی کچھ تو کر کے دیکھ لیا۔کشمیریوں کی تقدیر بدلی نہ ہمارے دن پھرے ،ہم نے ستم شعار سے وادی کشمیر کو چھڑانے کا عہد کیا تھا۔ تکمیل پاکستان کے لیے کشمیر ناگزیر، ہماری شہ رگ ،ظالم مودی نے ہماری شہ رگ کاٹ دی ہے۔ ہم 72 سال بعد بھی نا مکمل جسم لیے نعرے لگا رہے ہیں۔ ہندو بنیا ہماری تقریروں سے متاثر ہوا نہ ریلیوں، جلوسوں اور قرار دادوں سے مرعوب، کشمیر کے مسئلہ پر اقوام متحدہ کی گیارہ قرار دادیں بھی اسے اپنی فتنہ پردازی سے نہ روک سکیں۔ بلکہ اس نے عالمی فتنہ پردازوں سے ساز باز کر کے قصہ ہی تمام کر ڈالا۔ اپنے ہی آئین کی شق 370 اور 35 اے ختم کر کے پنڈت نہرو اور دیگر بڑوں کے نظریات کا جنازہ نکال دیا۔ ارتھی اٹھادی۔ تاہم ان نظریات کی ارتھی کو مقبوضہ کشمیر میں آگ دکھائی اور پوری مقبوضہ وادی کو شمشان گھاٹ بنا دیا۔ 15 دن ہونے کو آئے پوری وادی کے چنار جل رہے ہیں۔ انسانیت سوز مظالم کا شکار لاکھوں کشمیری چیخ رہے ہیں کہ ’’گھٹ کے مر جائیں یہ مرضی مودی صیاد کی ہے‘‘ بہت پہلے کہا تھا ٹرمپ دوغلی شخصیت اور دو رخی پالیسی کا مالک، ایسا دائو چلے گا کہ چاروں خانے چت کردے گا۔ جبکہ مودی رام رام کرنے کی بجائے بغل میں چھپی چھری سے مسلمانوں کا قتل عام کرے گا۔ گجرات کے قصائی کو اسی لیے دوبارہ منتخب کیا گیا یا کرایا گیا کسی کی سمجھ میں نہ آیا ہم قصیدہ گو اب تک قصیدے پڑھ رہے ہیں۔ امریکا اور بھارت کے مشترکہ اسکرپٹ کو کوئی نہ سمجھ پایا۔ جس نے سمجھا اس نے سمجھانے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ ٹرمپ اور مودی کی ملی بھگت، مودی نے مسئلہ کشمیر حل کردیا۔ ٹرمپ ہمارے ذریعہ افغان مسئلہ حل کرنے کی کوشش میں ہے۔ افغانستان سے فوجوں کے انخلاء پر مذاکرات، پوری فوج افغانستان سے نکل کر کہاں جائے گی۔ آس پاس، پاس پڑوس ہی میں قیام کرے گی اسی لیے ٹرمپ ہمارے وزیر اعظم کا ہاتھ دبا دبا کر خلوص کا مظاہرہ کرتا رہا۔ ہم سب ایک پیج پرہیں ہم نے مودی کو دھمکی دے دی ہے کہ بندے کے پتر بن جائو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے اس نے دوسرے ہی دن ہمارے جوان شہید کردیے ہم نے اس کے بنکر تباہ کردیے۔ اگلے روز پھر بنکروں سے گولہ باری شروع ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہی بھارت کے وزیر دفاع نے ایٹمی حملے کی دھمکی بھی دے دی۔ کیا ہونے جا رہا ہے۔ ہم بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہمیں احساس ہے کہ بھارت اس کے بعد آزاد کشمیر میں کارروائی کا ارادہ کیے بیٹھا ہے۔ ایٹمی حملے کی دھمکیاں مل رہی ہیں، ہماری بہادر افواج دشمن کے مقابلے کے لیے الرٹ کھڑی ہیں تو پریشانی کس بات کی ہے۔ شہباز شریف سے کیوں کہا جا رہا ہے کہ کیا آپ کے کہنے سے بھارت پر حملہ کردیں۔ جنگی حکمت عملی کو اپوزیشن کے ساتھ مل کر حتمی شکل دی جائے تاکہ عالمی سطح پر قومی یکجہتی کا پیغام جاسکے۔ صورتحال اچھی نہیں، سلامتی کونسل میں جانے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ماضی کے تجربات کو پیش نظر رکھا جائے جب بھی معاملہ اقوام متحدہ تک گیا نتیجہ میں جنگ مسلط کی گئی۔ 1965ء 1970ء پوری تاریخ بھری پڑی ہے۔ سلامتی کونسل کیا کرے گی کچھ کرنا ہوتا تو عالمی ادارے کی 11 قراردادوں پر عملدرآمد کرانے کے لیے بھارت کو مجبور کرتی۔ بھارت پر پابندیاں عائد کر کے اس کے اثاثے منجمد کر کے یا اقوام متحدہ کی فوج مقبوضہ کشمیر میں کارروائی کر کے مسئلہ حل کرسکتی تھی لیکن 50 سال بعد بھی ایک گھنٹہ 20 منٹ کے اجلاس میں ’’مودی حل‘‘ پر صرف صلاح مشوروں پر اکتفا اور غور و خوض ،ہمارے تھنک ٹینکوں کے لیے غور طلب ہے۔ کوئی اعلامیہ نہ کوئی قرار داد صرف صلاح مشورے اور وہ بھی ہماری بربادیوں کے صلاح مشورے، قرار داد پیش ہوئی تو صرف چین پاکستان دوستی کا ثبوت دے گا۔ روسی مندوب ہاتھ کھڑا کرنا بھول جائے گا۔ امریکا چپ رہے گا۔ فرانس ویٹو کردے گا ٹائیں ٹائین فش ،کہنے لگے سلامتی کونسل کا اجلاس عالمی برادری کے ضمیر کا امتحان ہے عالمی برادری کا ضمیر کہاں ہے۔ 1967ء سے عرب رو پیٹ رہے ہیں فلسطین کے سینے میں اسرائیلی خنجر گھونپ دیا گیا۔ عالمی ضمیر کہاں تھا ،70سالوں سے کشمیری جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ عالمی ضمیر آنکھ جھپک کر نہیں دیکھ رہا۔ سلامتی کونسل میں مسئلہ کشمیر کا ذکر ہماری سفارتی فتح، بالکل بجا ،ہمارے پرانے تجربہ کار وزیر خارجہ کی کوششیں رنگ لائیں بھارت کا چہرہ وقتی طور پر فق ہوا لیکن مودی بہروپیہ رنگ بدلنے میں ماہر ہے ایک چہرے پر کئی چہرے سجا لیتا ہے تاہم عالمی ضمیر کب جاگے گا۔ سب اپنے مفاد کے غلام، امریکا کے حلیف، اقوام متحدہ امریکا کا تنخوادار ادارہ ،عالمی چوہدری کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہوگا۔ اہل نظر اس خطرے کا اظہار کر رہے ہیں کہ بھارت ہم پر محدود جنگ مسلط کرے گا چند روز بعد ٹرمپ کے حکم پر بند کردے گا ہم انشاء اللہ اپنا دفاع کریں گے سب کچھ سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا۔ بھارت کو یاد رکھنا چاہیے۔

ہم ہیں اک زندہ و جاوید روایت کے امیں

ہم کوئی شام کا سورج ہیں کہ ڈھل جائیں گے؟


ای پیپر