دباؤ رکھنا ہو گا
18 اگست 2019 2019-08-18

پانچ اگست سے اب تک تمام سیاسی ، اخلاقی اور سفارتی آپشن استعمال کیے جاچکے۔ لیکن بھارت ابھی تک ٹس سے مس نہیں ہوا۔ لہٰذا اب سوچنا یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا۔یہ بات تو طے ہے کہ موزی مودی نے جو کچھ کیا۔ وہ اس کی تیاری بہت پہلے سے کر چکا تھا۔اگر اس کو موقع ملتا تو وہ یہ غیر آئینی اقدام بہت پہلے کر چکا ہوتا۔ لیکن بی جے پی کو دو ہزار تیرہ کے انتخابات میں مطلوبہ اکثریت نہ مل سکی۔ ایک رکاوٹ بھارتی راجہ سبھا بھی رہی جہاں اس کو قانون سازی کیلئے مطلوب اکثریت حاصل نہ تھی۔ جو اب بھی نہیں۔ لیکن وہ ب?رحال پہلے سے بہتر پوزیشن میں ہے۔ اس کی اصل کامیابی یہ ہے کہ بھارت میں ایسا جنونی ماحول پیدا ہوا کہ چھوٹی موٹی علاقائی جماعتوں کو اس لہر کے خلاف ووٹ ڈالنے کی ہمت ہی نہ ہوئی۔ دوسرا فائدہ قضیہ کشمیر کے اہم ترین فریق پاکستان کی اندرونی صورتحال سے فائدہ اٹھانا ہے۔ مودی نے الیکشن سے بہت پہلے تجزیہ کرلیا تھا کہ اقتصادی کمزوری اور سیاسی تفریق کے سبب قضیہ کشمیر کا وکیل پاکستان حالت ضعف میں ہے۔ لہٰذا اس وقت کوئی بھی واردات کی جاسکتی ہے۔ مودی موزی کو اپنی انتخابی کامیابی کا اتنا یقین تھا کہ اس رواں سال ماہ فروری میں ہی طے کرلیا تھا کہ کون کس عہدے پر فائز ہوگا۔ سفارتکاروں کی ٹیموں کو مختلف دارالخلافوں میں اہم ترین شخصیات کو رام کرنے کا ٹاسک سونپ دیا گیا۔ ہمارے ارباب اختیار اندرونی فتوحات بشمول سینٹ وغیرہ میں مشغول رہے۔ اور مودی بہتر منٹوں میں وہ کر گزار جو بڑے بڑے دبنگ حکمرانوں کو کرنے کا حوصلہ نہ ہوا۔ پاک بھارت چار جنگوں میں بھی کسی بھارتی نیتا کو ایسی جرات نہ ہوئی۔ یہ فیصلہ تاریخ کرے گی کہ اس قومی ضعف کا ذمہ دار کون ہے۔ بہر حال اب آگے دیکھنا ہے۔ آج کے دن تک مسئلہ کشمیر اور بھارتی جبر کا شکار کشمیریوں کی آواز اگر گلوب کے ہر کونے میں پہنچ چکی تو اس کا کریڈٹ اہل پاکستان کی لازوال محبت کو جاتا ہے۔ جو ڈٹ کر کھڑے ہوگئے اور حکمرانوں کو تذبذب اور ہچکچاہٹ کی گرفت سے نکالا۔ ورنہ حکمران تو واشنگٹن سے بڑبولے ٹرمپ کی خوشنودی کا ورلڈ کپ جیت کر ہی لڈیاں ڈالتے تھکتے نہیں تھے۔ وہ تو حالات ہی ایسے تھے کہ جلد ہی یہ خوشیاں ماند پڑ گئیں۔ ورنہ شاید یہ رقص مسرت جاری ہوتا۔ بہر حال اب دیکھنا یہ کہ آگے کیا ہوگا۔ آسان راستہ تو یہ ہے کہ قلمکار بھی سفارتی کامیابیوں کا چورن فروخت کر کے عافیت پائے اور ساون بھادوں کے موسم میں برستی بارشوں کے رومانس میں پناہ ڈھونڈے۔ لیکن دارالحکومت سے چند سو کلومیٹر دور ایل او سی کے اس پار قیامت صغرٰی برپا ہے۔ ایک کروڑ کے قریب مظلوم کشمیری یرغمال ہیں۔ کرفیو اور جبر ناروا کی آہنی دیوار کے پیچھے وحشت کا شیطانی کھیل جاری ہے۔ اب تک کتنی لاشیں اٹھ چکیں۔ کتنی عفت مآب دختران کشمیر سرمایہ عصمت لٹا چکیں۔ کتنی آنکھوں کی بینائی چھن چکی۔ کتنے جوان رعنا زندانوں کی تاریکیوں میں دھکیل دیئے گئے۔ کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ کرفیو کی پابندیاں اٹھیں گئی تو کچھ معلوم ہوگا۔ اطلاع ہے کہ بین الاقوامی دباؤ اور میڈیا کی بے باکی نے بھارتی تکبر میں کہیں ڈینٹ ڈالا ہے۔ شاید جزوی طور پر کرفیو کی پابندیاں اٹھانے کا سلسلہ شروع ہو جائے۔ کوئی ملک کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو ۔ اس کیلئے عملی طور پر ممکن نہیں ہوتا کہ وہ لامحدود مدت کیلئے ہر گھر کہ سامنے فوجی کھڑا کردے۔ لہٰذا پسپائی بھارت کا مقدر ہے۔ اصل امتحان کرفیو اٹھنے کے بعد شروع ہوگا۔ کشمیری عوام کی مزاحمت کی آگ کا شعلہ جتنا بلند ہوگا۔ بھارت اتنی ہی تیزی سے پیچھے ہٹے گا ۔کشمیری عوام کا رد عمل شدید اور دائمی ہوا تو آنے والے چند مہینوں میں بہت کچھ ریورس ہوسکتا ہے۔ اب تک پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی سربراہاں کو فون بھی کئے جا چکے۔ پارلیمنٹ کے جائنٹ سیشن کی متفقہ قرارداد بھی منظور ہوچکی۔ قومی سلامتی کمیٹی کے دو اجلاس بھی ہوچکے۔ کور کمانڈر کا اجلاس اپنی کمٹمنٹ دے چکا۔ پاکستان نے یوم آزادی کو کشمیریوں کے نام بھی کردیا۔ عید الآضحی بھی کشمیریوں کے نام رہی۔ ساری قومی قیادت عید کے روز کوہالہ پار اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑی تھی۔ دنیا بھر میں یوم سیاہ بھی منایا گیا۔ قومی قیادت نے قومی کشمیر کمیٹی بھی قائم کردی۔ جس کا اجلاس بھی ہوچکا۔ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مشاورتی اجلآ س بھی منعقد ہوچکا۔ یہ درست ہے کہ پہلے مرحلے میں سلامتی کونسل کا اجلاس بے نتیجہ رہا۔ کوئی قرارداد نہیں آئی۔ لیکن رکن ممالک کا مشاورتی اجلاس بھی سفارتی کامیابی ہے۔ اس اجلاس کے انعقاد کیلئے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑے۔ کس طرح سے فرانس کو نیوٹرل کیا گیاط۔ ورنہ ساٹھ بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا بوجھ بہت ہوتا ہے۔ کس طرح سے روس کی حمایت حاصل کی گئی۔ کس طرح برطانیہ عین وقت پر ساتھ کھڑا ہوا۔ امریکہ کیوں مانا۔ اکیلا چین ہوتا تو اجلاس کبھی ممکن نہ ہو پاتا۔یہ بھی درست ہے کہ کوئی اعلامیہ نہیں آیا۔ البتہ چین کے نمائندے کی پریس کانفرنس اور ملیحہ لودھی کی میڈیا ٹاک نے سب کچھ بتا دیا۔اس اجلاس کا انعقاد بھارتی سفارت کاری کی ناکامی ہے۔ آج نہیں تو کل اس تیار پچ سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔اگلے ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہے۔ اس اجلاس میں بھر پور تیاری کے ساتھ بڑے تجربہ کار وفد کے ساتھ جانا چاہیے۔ وزیر اعظم صاحب فی الحال بچت بھول کر چند روز پہلے نیو یارک پہنچیں۔ سربراہان اور عالمی راہنماؤں سے ملاقات کریں۔ پاکستانی کشمیری عوام کو متحرک کیا جاے۔ وہ لاکھوں کی تعداد میں پہنچیں اور پر امن احتجاج کریں۔ تاکہ دنیا کو اس مسئلہ کی حساسیت سے آگاہ کیا جاسکے۔ اگر اگلے چندمہینوں میں یہ ٹیمپو برقرار رکھا گیا تو بھارت پانچ اگست کے کشمیری کش فیصلہ سے دست بردار ہونے پر مجبور ہوگا۔راستے موجود ہیں۔ اس وقت بھارت پر بین الاقوامی دباؤ بہت ضروری ہے۔ ورنہ بھارت سرحد پر کوئی مہم جوئی کرسکتا ہے۔ اس کا جواب بھر پور طریقہ سے دیا جاے گا لیکن بھارت پر دباو بہت ضروری ہے۔ یہ کام پاکستان کے عوام ، کشمیری مظلوم اور دنیا بھر کی سول سوسائٹی کرسکتی ہے۔ اسی طریقہ سے ارباب اختیار کی سمت درست رکھی جاسکتی ہے۔قضیہ کشمیر تاریخی دوراہے پرکھڑا ہے۔ کوئی بھی غلطی اس موقع کو ضائع کرسکتی ہے۔ لہٰذا الرٹ رہنا ہوگا۔ بھارتی جارحیت سے بھئی اور بین الاقوامی ریشہ دوانیوں سے بھی۔


ای پیپر