کشمیر پاکستان کی شہ رگ کیوں ؟
18 اگست 2019 2019-08-18

ذرا اپنے دل پہ ہاتھ رکھیں ، ہچکچائیں نہیں ، دل پر ہاتھ رکھیں اور بتائیں کیا آپ واقعی چاہتے ہیں ۔ کشمیر پاکستان کا حصہ بن جائے ؟کیا یہ آپ کے دل سے اٹھتی خواہش ہے ۔ اگرہاں ، تواب اپنے دل سے ہاتھ اٹھا کر اپنے سر کو سہلائیں اوراگلا سوال اپنے دماغ سے پوچھیں ۔ اگر کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانا آپ کی خواہش ہے تو اس کی تکمیل کے لیے آپ نے انفرادی اور آپ کی ریاست نے اجتماعی طور پر اب تک کیا کیا ؟ آپ نے پچھلے بہتر برس میں ایسی کیا تیاری کی کہ آپ کا خواب حقیقت بن جائے ۔کیونکہ کسی مقصد کے حصول کے لیے صرف خواہش کرلیناکافی نہیں ، اسے پانے کا یقین ہونا بھی ضروری ہے ۔ مجھے یقین ہے ، کشمیر بنے گا پاکستان ؟ خالی خولی کہنے سے بھی کام نہیں بنے گا ۔ اس یقین کو پانے کے لیے تیاری لازمی ہے ۔وہ تیاری جسے عمل کہاجاتاہے ، علامہ اقبال کی زبان میں عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی ۔اہم بات بھی بتادوں ۔ بند ذہنوں کی بنجر زمین میں یقین اور حوصلہ نہیں اگتا، یقین کے لیے ذہنی کشادگی چاہیے ۔ اب ذرااپنے ذہن سے دوبارہ سوال پوچھ لیتے ہیں ۔ کیا آپ کو یقین ہے ، کشمیر بنے گا پاکستان ؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو ذرااپنی تیاری پر بھی نظر ڈال لیں ۔ جواب ہاں میں ہے یانہ میں ، خود جانچ لیں ۔ بس اتنا جان لیں ۔ جتنی کوشش ہمیں اپنی کمزوریوں کو قبول کرنے کیلئے درکارہے ، زندگی میں اونچا مقصد پانے کے لیے بھی اتنی ہی کوشش چاہیے ہوتی ہے ۔خوددار فرد ہو یا قوم ، وہ اپنی خواہش کو یقین کے سانچے میں ڈھال کر اسے پورا کرنے میں جت جاتی ہے ۔ کمزور فرد اور قوم بہانے تراش کو خالی خولی خواہش کو حسرت بنالیتے ہیں ۔زندگی بھر کے لیے پچھتاوا۔

آگے بڑھنے سے پہلے تھوڑا پیچھے چلتے ہیں ۔ بھارت میں ہندوتوا کی دعوے دار آرایس ایس کا سیاسی چہرہ بھارتیہ جنتا پارٹی ہے ،کسے علم نہیں ۔ جب پانچ سال پہلے بی جے پی اقتدار میں آئی تو اس کے عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں تھے ۔ اٹل بہاری واجپائی جیسے اعتدال پسند کو پہلے ہی گھر بٹھادیا گیا تھا ۔ شدت پسند ایل کے ایڈوانی کو بھی زبردستی پارٹی کی اگلی صفوں سے پیچھے دھکیل دیا گیا ۔ انتہا پسند نریندرمودی اور امیت شا کی جوڑی کے سامنے تب کے پارٹی سربراہ راج ناتھ کو بھی سرتسلیم خم کرنا پڑا ۔ گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کرکے نریندرمودی نے رام راج کے خواہش مندوں کو بتادیا تھا ۔اب موہن داس گاندھی کے قاتل گوڈسے کی پارٹی راج کرے گی ۔ ہندوستان میں اب ہندوراج چلے گا۔ساڑھے آٹھ سوسال تک ہندو اکثریت کو محکوم رکھنے والے اقلیتی مسلمانوں کو اچھوت بناکر بدلہ لیں گے ۔ مسلمانوں کے پاس یہی آپشن بچے گا۔ مارکھاتے کھاتے مر جائیں، ہندوستان سے چلے جائیں یا خدائے واحد کو چھوڑ کر دوبارہ رام نام جپنا شروع کردیں ۔ بی جے پی کے فاشسٹ ایجنڈے کو جان کر بھی اگر کوئی خواب غفلت میں رہا ۔ وہ پاکستانی قوم اور حکمران تھے ۔ اگر کسی طبقے نے باخبری دکھائی بھی تو فقط اتنی کہ انتہا پسندی کی جانب مائل ہندوستان میں رہنے والے مسلمانوں اورقیام پاکستان پر انگلیاں اٹھاتے لبرلز کو اب دو قومی نظریے کی سمجھ آئے گی ۔جذباتی سوچ کوتھوڑی دیرکے لیے پرے رکھ دیں ، اگر ہم تازہ ترین صورتحال پر ٹھنڈے دماغ سے غور کریں تو شایدحقائق ہمیں اپنی جاری پالیسی پر نظرثانی کرنے پر مجبورکردے ۔ قیام پاکستان سے اب تک ہم نے کشمیر لینے کے لیے کئی جارحانہ منصوبے بنائے ۔ انیس سو اڑتالیس کی لڑائی ، آپریشن جبرالٹر اور کارگل وار جیسے کئی ایڈوینچر کیے لیکن کوئی بھی منصوبہ مطلوبہ نتائج نہ دے پایا ۔مطلوبہ نتائج مطلب ، کشمیر کی آزادی ۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلح جدوجہد کی حمایت نے مسئلے کو اجاگر تو کیے رکھا لیکن فائدہ زیادہ نہیں ہوا ۔ الٹا بھارت کو یہ موقع ملا کہ وہ عالمی سطح پر یہ پروپیگنڈا کرسکے کہ مقبوضہ کشمیر میں جو ہورہا ہے ، وہ پاکستان کرارہا ہے ۔ اس دوران ایک آواز جو پاکستان سے مسلسل سنائی دیتی رہی ۔ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی اور سفارتی سطح پر حمایت جاری رکھے گا۔ مختلف فورمز پر بارہا یہ آواز اٹھا کرداد پائی گئی لیکن جب مودی سرکار نے اچانک مقبوضہ کشمیر میں مزید اڑتیس ہزار اہلکاروں کو بھجوایا ۔ مختلف علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کیے ۔دفعہ ایک سو چوالیس لگا کر چار یا چار سے زیادہ افراد کے جمع ہونے کو جرم قرار دیا ۔ احتجاج والے شہروں میں کرفیو لگانا شروع کیا ۔تب ہرطرف بے چینی ضرور پھیلی لیکن کوئی یہ نہ جان سکا کہ نریندر مودی ، امیت شاہ ، اجے دوول اور راج ناتھ کاگٹھ جوڑآخر کرنا کیا چاہتا ہے ۔سب اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے نظرآئے ۔ مودی نے بھارتی آئین پر ترشول چلاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر سے خصوصی درجہ چھین لیا اور لداخ کو الگ کرکے تقسیم در تقسیم کی بنیاد رکھی توپاکستانی ردعمل دیکھ کر لگا ۔ دلی میںپتہ ہلنے کی آواز سن لینے کا دعویٰ کرنے والوں کو خبر تک نہیں ہوپائی ۔ دن دہاڑے دلی نے کشمیر لوٹ لیا ۔

بھارتی منصوبے کی بھنک نہ پڑنے کے بعد جو سفارتی محاذ پر ردعمل سامنے آیا ۔ اس نے یہ کہنے پر مجبور کردیا ہے کہ دشمن کے نرغے میں اپنی شہ رگ ہونے کے باوجود پہلے سے کوئی پلاننگ نہیں کی گئی ۔یہ کبھی سوچا ہی نہیں گیا کہ اگر بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی اور اسے بھارت میں ضم کرنے کا اعلان کردیا تو پاکستان کامربوط لائحہ عمل کیا ہوگا ۔ ہم بھارتی اقدام کے جواب میں کیا ردعمل دیں گے ؟پاکستانی قوم اور مقبوضہ کشمیر والوں کو کیا پیغام دیں گے ؟ عالمی سطح پر ہمارا ایکشن پلان کیا ہوگا ؟فی الحال تو ہمارے محترم کپتان اپوزیشن لیڈر سے استفسار کررہے ہیں کیا میں بھارت پر حملہ کردوں ؟ وہ بھارت کو یہ پیغام دیتے نظر آئے کہ پاکستان پرحملے کا سوچا تو منہ توڑ جواب ملے گا ۔ بنا معذرت کپتان جی !ہمیں بتادیں کیا مقبوضہ کشمیر پر جارحانہ اقدام پاکستان پر حملہ نہیں ؟ اگر آپ کو میرے اس نقطہ نظر سے اختلاف ہے تو بڑے احترام کے ساتھ مجھے سمجھادیں ۔ اتنے دن گزرگئے کیا پاکستانی قوم کو بتادیا گیا ہے کہ اس نے کیا کرنا ہے ؟ اچھا یہ ہی بتادیں کیا پاکستانی اور کشمیری یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کے اقدامات سے بھارت میں بے چینی پھیل چکی ہے اور پاکستان میں اطمینان کی لہر دوڑ رہی ہے ؟اگر عام پاکستانی اور کشمیری چھوڑیں انٹیلی جینشیا بھی ابھی تک کنفیوژن کا شکارہے تو ماننا پڑے گا حکومت اپنوںکے دلوں کو ہی نہیں چھو پائی جب یہ عالم ہو تو خود سوچیں عالمی برادری کو ہم کیسے اپنا ہم نوا بناپائیں گے ؟ ماضی ہو یا حال ۔ افسوس یہ ہے ہم نے کشمیر کمیٹی کے فورم کو مذاق بنائے رکھا ۔ وہاںحکمران اپنے کسی ایسے اتحادی کو نوازتے رہے جس کیلئے یہ تک ضروری نہیں سمجھا گیا کہ وہ کشمیر پر پاکستانی موقف سے بھی اتفاق کرتا ہے یا نہیں ۔ کیا کشمیر حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والوں کا یہ رویہ ہوتا ہے ؟ ہائے اس زودپشیماں کا پشیماں ہونا ۔ ابھی آپ کو دل چھوڑنے کی ضرورت نہیں ۔ کشمیر کا مقدمہ ابھی ختم نہیں ہوا۔سیاسی اور عسکری قیادت کو ادراک ہے کہ پاکستانی قوم میں بے چینی بڑھتی جارہی ہے ۔ کشمیر ہی ہے ، جس کی وجہ سے پاکستانی اپنی معاشی ترقی کو دفاعی ضروریات پر قربان کررہے ہیں ۔ سقوطہ ڈھاکہ کے بعد کوئی اور سقوط قوم کوہرگز قبول نہیں۔ دیکھا جائے تو بھارتی اقدام کے بعد پاکستان وقتی سکتے اور حیرانی سے نکل کر اب سنبھل کر جوابی اقدامات کر رہا ہے ۔ نئے پاکستان کے حکمرانو!اتنا یاد رکھو ، پاکستانی قوم کی کشمیر پانے کی خواہش کو حسرت میں بدلنے سے روکنے کیلئے اب غفلت کی کوئی گنجائش باقی نہیںرہی۔جب جنگ کا بگل بج جائے توفلسفیانہ تقرریں کام نہیں کیا کرتیں۔ دنیا اسے امن کی خواہش نہیں ،آپ کی کمزور سمجھتی ہے ۔آخری فیصلہ دشمن کو چکرا دینے والی چالیں اور ہتھیاروں کی گن گرج کرتی ہے ۔

(جاری ہے )


ای پیپر