سلگتا کشمیر
18 اگست 2019 2019-08-18

جب مقبو ضہ کشمیر میں جا ری کر فیو کی پا بند یا ں مز ید سخت کر دی گئیںتوسا بق بھا ر تی وز یرِا عظم ڈا کٹر منمو ہن سنگھ بھی خا مو ش نہ رہ سکے اور انہو ں نے مطا لبہ کر دیا کہ کشمیر یو ں کی آ وا ز سنی جا ئے ۔اسی تنا ظر میںیعنی بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے اور نہتے کشمیریوں پر جارحیت کے خلاف پاکستان سمیت کشمیری قوم نے دنیا بھر میں بھارت کا یوم آزادی بطور یومِ سیاہ منایا۔ کالے پرچم لہرائے گئے، قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلے کے تحت بھارت کے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ، غیر آئینی اقدام اور مظالم کے خلاف ملک بھر میں ریلیاں نکالی گئیں، عمارتوں پر آزاد کشمیر کے پرچم بھی لہرائے گئے، قومی پرچم سرنگوں رہا۔ ریلیوں کے شرکا بازوئوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کرتے رہے، انہوں نے بھارتی جبر و ستم کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی۔ ملک کی مین سٹریم سیاسی جماعتوں نے آزاد کشمیر میں جلسے منعقد کیے، جلوس نکالے گئے۔ حریت کانفرنس نے بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے مظاہرہ کیا۔ بیرون ملک مقیم پاکستانی اور کشمیری بھی احتجاج میں شامل رہے۔ جلوسوں اور ریلیوں میں شریک عوام کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ برصغیر کی سیاسی تاریخ اور عالمی سطح پر کشمیر کاز کے حق میں اس سے زیادہ توانا صدائے احتجاج پہلے کبھی بلند نہیں کی گئی۔ اس سے ایک روز پہلے صدر مملکت عارف علوی نے پاکستان کے 72 ویں یوم آزادی کے موقع پر اپنے پیغام میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری امن پسندی کو بھارت کمزوری نہ سمجھے۔ ہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ تھے، رہیں گے۔ صدر نے کہا کہ جنگ مسلط کی گئی تو اس کے دنیا پر اثرات پڑیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کرکے آخری کارڈ کھیل لیا، آگے کشمیر کی آزادی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35-A ختم کرکے اپنے آئین، سپریم کورٹ اور جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے فیصلہ کی خلاف ورزی کی ہے۔ ہمیں اطلاع ہے کہ بھارت نے زیادہ خوفناک منصوبہ بنایا ہوا ہے۔ بھارت نے جس طرح پلوامہ واقعہ کے بعد بالا کوٹ پر حملہ کیا اب وہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے آزاد کشمیر پر بھی حملہ کرنا چاہتا ہے۔ لیکن بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا۔ افواج پاکستان اور قوم اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ بدھ کے روز آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ہمارا مذہب ہمیں جنگ میں پہل اور جارحیت کی قطعاً اجازت نہیں دیتا، لیکن آزادی کے لیے جنگ میں شرکت کرنے والے شہداء کا بڑا رتبہ ہے۔ مسلمان کم تعداد میں ہونے کے باوجود بڑی افواج کو شکست دے چکے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جب کرفیو اٹھے گا تو پتہ چلے گا کہ کیا کیا چیزیں سامنے آتی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں پہلے فوج میں اضافہ کیا گیا پھر طلبہ اور ہندو یاتریوں کو نکالا گیا، وہ یہ سب کرکے ایسا کیا کرنے جارہے تھے جسے چھپانا ضروری تھا۔دریں اثنا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے اور کشمیر پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ نتائج کی پروا کیے بغیر ظلم کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنے ایک ٹویٹ میں یوم آزادی اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے موقع پر جنرل قمر جاوید باجوہ کا جو پیغام جاری کیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان بھارت کے مخاصمانہ عزائم کے خلاف کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ہمیشہ کھڑا رہے گا چاہے اس کی کوئی بھی قیمت چکانی پڑے۔ پاک فوج کشمیر کاز کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہے گی۔ ہم نتائج کی پروا کیے بغیر ظلم کے خلاف کھڑے ہوں گے۔ 1947ء میں کاغذ کا ٹکڑا کشمیر کی حیثیت تبدیل کرسکا اور نہ ہی موجودہ غیرقانونی اقدام اس کی حیثیت تبدیل کرسکتا ہے۔

بھارتی حکام دعوے کرتے ہیں کہ پابندیاں نرم کی جارہی ہیں مگر بھارت پر ان کشمیر یو ں کی جا نب سے اسقد ر مز ا حمت کا خو ف طا ر ی ہے کہ وہا ںکسی کو پر مارنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ 45 ارکان برطانوی پارلیمینٹ نے مطالبہ کیا کہ اقوام متحدہ مداخلت کرے۔ پولش وزیر خارجہ نے پاکستان اور بھارت کے ہم منصب سے رابطہ کیا اور کشیدہ صورتحال پر تشویش ظاہر کی۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے رابطہ ہوا۔ لاروف کو کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ایم کیو ایم کے تحت اظہار یکجہتی کشمیر ریلی کا انعقاد کیا گیا جبکہ ملک بھر میں سیاسی، سماجی، مذہبی اور فلاحی تنظیموں اور شہری اداروں نے پاکستان اور کشمیر کے پرچم مل کر لہرائے۔ رینجرز کی گاڑیوں نے گشت کے دوران دونوں پرچم سربلند رکھے۔ پاکستان نے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں پر احتجاج کیا ہے اور بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو بھی طلب کیا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ آج کشمیریوں پر انتہائی مشکل وقت ہے۔ ہمیں آر ایس ایس کے خوفناک نظریے کا سامنا ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں مسلمانوں سے بدلہ لینا ہے۔ راجہ فاروق حیدر اپنی تقریر کے دوران آبدیدہ ہوگئے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کو سیز فائر لائن (سی ایف ایل) قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے جلد آزاد کشمیر حکومت نوٹیفیکشن جاری کرے گی۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی، قائد ایوان شبلی فراز، صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان، وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور، معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، چیئرمین کشمیر کمیٹی فخر امام، گورنر کے پی کے شاہ فرمان، وزیر اعلیٰ کے پی کے محمود خان، گورنر گلگت بلتستان سمیت اہم شخصیات نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ کشمیری رہنمائوں نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان نے ظلم و ستم کی انتہا کردی ہے جس کی مہذب دنیا میں آج تک کوئی مثال نہیں ملتی۔ ادھر بھارت کے صدر رامناتھ گووند نے اپنے صدارتی پیغام میں مہاتما گاندھی کا ذکر کیا۔ کہا کہ گاندھی جی کی معنویت برقرار ہے۔ رام ناتھ نے دفعہ 370 کی منسوخی اور کشمیر کی جبری تقسیم کو تاریخی قرار دیا۔ عجیب بات ہے کشمیر میں دہشت کی فضا طاری ہے اور بھارتی صدر کا کہنا ہے کہ ہندوستانی سماج ہمیشہ فطری اور خوشگوار رہا ہے۔ انہوں نے نام نہاد جمہوریت اور سیکولرازم کے سقوط کے سائے میں بھارتیوں سے کہا کہ وہ جیو اور جینے دو کے اصول پر چلیں، کیونکہ یہی عمل انہیں آگے بھی کرنا پڑے گا۔ جبکہ نریندر مودی نے اپنا بیان لال قلعہ سے جاری کیا۔ مودی نے ون نیشن ون کانسٹی ٹیوشن سے لے کر کئی نعرے یکجا کرکے بھارتی عوام سے کہا کہ انہوں نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کا خواب مکمل کیا۔ تاہم بھارتی عوام کو بھارتی حکمران یہ زمینی حقیقت بتانے کے لیے تیار نہیں کہ کشمیر میں جو لاوا پک رہا ہے اس نے خطے کی ساری بساط سیاست بدل دینی ہے۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اب کشمیریوں کو صرف وقت کی للکار کا انتظار ہے۔


ای پیپر