حافظ عزیر احمد کی غزلیں اور کشمیر میں بھارتی غنڈہ گردی؟
18 اگست 2019 2019-08-18

ہم گائوں کے رہنے والے ہیں۔لاہور شاید بتیاں دیکھنے آئے تھے کہ یہیں کے ہو کر رہ گئے … اب ہمارا گائوں جانے کو دِل تو چاہتا ہے مگر گرمیوں میں اے-سی اور سردیوں میں چلغوزے ہمیں گائوں جانے سے روکتے ہیں۔ یہ سب بتانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ امی جان شہر میں جب گرمیاں جا رہی ہوتی تھیں بارہ پندرہ ’’نو مولود‘‘ چوزے بازار سے منگوا کر ڈبے میں بند کر لیتیں … اُن کی خوب خاطر مدارت ہوتی اور سردیوں میں ہم ’’ دیسی انڈے‘‘ کھا کھا کر اُکتا جاتے۔ مرغیاں اس ’’خاطر مدارت‘‘ کے بدلے میں ہمیں خوب انڈوں سے نوازا کرتی تھیں۔ ہم نے امی کو دیکھا وہ گرمیوں کے آخر میں مرغیوں کو جب وہ جوانی کی حدود پار کر رہی ہوتی تھیں بادام تک اپنے ہاتھوں سے کھلاتیں … پھر جب سردیوں میں وہ انڈے دے دے کر تھک جاتیں … تو ان کو چھری پھیری جاتی … مت پُوچھیں کس قدر لذیز ہوتی تھی وہ ’’بزرگ‘‘ مرغیوں کی چکن کڑاہی … امی جان مرغیوں کو جب ثقیل غذا کھلا کھلا کر تھک جاتیں تو ہلکی ہلکی بچ جانے والی روٹیوں سے اُن کی تواضع کرتیں جس نے مرغ مسلم کھائے ہوں اُس کے حلق سے بھلا سوکھی روٹیاں کیسے اترتی ہیں …؟!آپ کی اطلاع کے لیے پھر بتاتا چلوں کہ چند ماہ پہلے سندھ اسمبلی کے سپیکر محترم سراج درانی صاحب کے لاکرز سے صرف نو کلو سونا برآمد ہوا تھا … ایسے ہی یاد آیا لیبیا کے کرنل قذافی کا سورج جب طلوع ہوا تو ان کی بیوی کے ’’گودام‘‘ سے اٹھائیس ٹن سونا برآمد ہوا … پہلے زمانوں میں ’’قارون‘‘ (امیر زادے) کی وفات پر اُس کو جب دفن کیا گیا تو اُس کا مال دولت بھی ’’ قارون‘‘ کے ساتھ ہی دفنا دیا گیا … آج صدیاں گزرنے کے باوجود بچے ( ناولوں،افسانوں) میں قارون کے خزانے کی باتیں شوق سے پڑھتے ہیں اور حیرت زدہ ہو جاتے ہیں … سنا ہے تاریخ اِس لئے پڑھائی جاتی ہے کہ اُس سے سبق سیکھا جائے …؟؟شکر ہے ہمارے بہت سے دوستوں نے تاریخ پڑھی ہی نہیں...مگر افسوس ہم سبق نہیں سیکھتے …؟؟(میری غلطی کہہ لیں یا شوخا پن کہ میں نے تاریخ میں بھی ایم اے کی ڈگری لے رکھی ہے اورتاریخ مجھے اکثر ڈراتی بھی رہتی ہے ۔ اور میرا چونکہ اپنا بھی ارادہ ہوتا ہے اِس لئے میں تاریخ سے ہر موڑ پر سبق سیکھنے کی کوشش کرتا ہوں ) …

’’قارون‘‘ خزانے والے کے پیروکار آج بھی دنیا میں عربوں کی تعداد میں موجود ہیں … جو دولت سے، مال و زر سے محبت کرتے ہیں۔ اور جب مرتے ہیں تو خالی ہاتھ دفن کر دیئے جاتے ہیں …؟!! یہاں لفظ عربوں غلطی سے لکھا گیا …؟ ’’سوری‘‘ …

آپ کہیں گے اُدھر جنگ کے بادل آسمان پر منڈلارہے تھے اُدھر موصوف نے نو کلو سونے کا ذکر چھیڑ دیا چلیں آپ کو اِک اپنی آزاد نظم پڑھاتے ہیں … آپ کہیں گے اِس وقت شہر میں شاعر ایسے نکل رہے ہیں جیسے برسات میں مینڈک (ڈڈوُ؟) حافظ عزیر احمد گڑھی شاھو والے بھی دھڑا دھڑ شاعری کر رہے ہیں اور پچھلے دنوں انہوں نے عطاء الحق قاسمی کے سامنے اپنی اِک غزل سنائی … میں حیران ہوا … کیونکہ عطاء الحق قاسمی صاحب بڑی توجہ سے حافظ عزیر احمد کی غزل سن بھی رہے تھے … انجوائے بھی کر رہے تھے …؟!! بہرحال میری تازہ نظم ملاحظہ فرمائیں …بھارت کے نامور ادیب اور شاعر جناب جاوید اختر کی اِک غزل ملاحظہ کریں جو انہوں نے مودی کو بھی مخاطب کر کے لکھی ہوگی …

نیا حکمنامہ

کسی کا حکم ہے…ساری ہوائیں ہمیشہ چلنے سے پہلے بتائیں کہ اُن کی سمت کیا ہے؟… (کدھر جا رہی ہیں)…ہوائوں کو بتانا یہ بھی ہوگا…چلیں گی جب تو کہاں نثار ہونگی …کہ آندھی کی اجازت اب نہیں…یہ کاغذ کے محل جو بن رہے ہیں…حفاظت اِن کی کرنا ہے ضروری… اور آندھی ہے پرانی اِن کی دشمن…یہ سب بھی جانتے ہیں …کسی کا حکم ہے…ردیا کی لہریں ذرا یہ سرکشی کم کر لیں اپنی حد میں بھڑیں…ابھرنا پھر بکھرنا اور بکھر کر پھر ابھرنا…غلط ہے اُن کا یہ ہنگامہ کرنا…یہ سب ہیںضرب وحشت کی علامت… بغاوت کی علامت… بغاوت تو نہیں برداشت ہو گی… یہ وحشت تو نہیںبرداشت ہو گی… اگر لہروں کو ہے دریا میں رہنا…تو ان کو ہوگا اب چُپ چاپ بہنا…کسی کا حکم ہے…گلستاں میں …بس اِک رنگ کے ہی پھول ہونگے…کچھ افسرہوں گے جو یہ طے کر یں گے…گلستاں کس طرح بننا ہے کل کا…یقیناّ پھول یک رنگی تو ہونگے مگر یہ رنگ ہوگا کتنا گہرا …یہ افسرطے کریں گے…کسی کو یہ کوئی کیسے بتائے…گلستاں میں کہیں بھی پھول …یک رنگی نہیں ہوتے…کبھی ہو ہی نہیں سکتا…کہ ہر اِک رنگ میں چھپ کر …بہت سے رنگ رہتے ہیں …جنہوں نے… یک رنگی بنانا چاہتے ہے…اُن کو ذرا دیکھو کہ جب اِک رنگ میں …وہ اب کتنے پریشان ہیں… وہ کتنے تنگ رہتے ہیں…کسی کو یہ کوئی کیسے بتائے… ہوائیں اور لہریں کب کسی کا حکم سنتی ہیں ہوائیں حاکموں کی مُٹھیوں میں ہتھکڑیوں میں قید خانوں میں نہیں رکتی… یہ لہریں روکی جاتی ہیں تو دریا کتنا بھی ہو پرسکون بے تاب ہوتا ہے… اور اس بے تابی کا اگلا قدم سیلاب ہوتا ہے…

بھارت میں اس وقت ہوائوں کو بند کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔یک رنگی باغ لگانے کی کوشش شروع ہے اور مذہب کے نام پر دہشت گردی اپنے عروج پر ہے کہ شاید لہروں کا رُخ مڑ جائے۔ اور کشمیر میں نوجوانوں کے سروں کی پکی ہوئی فصل کاٹ ڈالی جائے …؟!

خوفناک ترین بات یہ ہے کہ بھارت میں غیر ملکی سیاحوں کو ملک چھوڑ جانے کا حکم دیا جا چکا ہے اور آئین میں دفعہ 370 کو بدلا جا چکا ہے کہ اب مقبوضہ وادی میں جہاں پہلے ہندو سکھ پراپرٹی نہیں خرید سکتے تھے۔اب اُن کو قانونی طور پر اِس بات کی چھوٹ دے دی گئی۔تاکہ اکثریت کو اقلیت میں آسانی سے بدلا جا سکے …!

کہاں گئے وہ ٹرمپ کی ثالثی کے وعدے اور مکر جانا نریندر مودی کا اِک عالمی سطح پر کئے گئے وعدے سے ؟!!

یہ ہے وقت کا سب سے اہم اور مشکل سوال؟!!


ای پیپر