موٹروے پولیس تُم بھی۔۔؟
18 اگست 2019 2019-08-18

پاکستان میں پہلی موٹرو ے کا بننا ایک انقلاب تھا، بات صرف سفری سہولتوں کی نہیں جس نے لاہور سے کہیں زیادہ سرگودھا، میانوالی اور چکوال کی حالت بدل دی بلکہ یہ ہمارے جنگی جہازوں کے لئے ایک رن وے بھی ہے۔ موٹروے کو دیکھنا ایک تفریح بھی تھا اور وطن سے محبت میں اضافے کا سبب بھی ۔ میں نے خود دیکھا کہ انقرہ سے استنبول کے درمیان موٹروے بالکل ہماری موٹروے جیسی ہے اور اسی موٹروے کے ساتھ موٹروے پولیس کا تحفہ ملا تھا۔ لال نیلی بتیاں جلاتی بجھاتی گاڑیاں، خوش اخلاق اور سمارٹ افسران، جدید کیمرے اور بہت کچھ۔ ہم فخر سے کہتے تھے کہ موٹروے پولیس پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ممکن ہی نہیں اور یہ کہ موٹروے پولیس اسی وقت روکتی ہے جب آپ نے کوئی غلطی یا جرم کیا ہو۔۔ یہ پنجاب پولیس نہیں ہے۔

موٹروے پولیس کی یہی خوبیاں تھیں کہ اسے جی ٹی روڈ، ملتان روڈ اور اس طرح کی دیگر مصروف سڑکوں پر بھی تعینات کر دیا گیا،یقینی طور پر اس کے لئے افسران کی اچھی تنخواہوں پر تقرریاں ہوئیں، انہیں فنڈز دئیے گئے، گاڑیاں دی گئیں اور سمجھا گیا یہ ہائی ویز پر بھی موٹرویز کی طرح کی کارکردگی کا ہی مظاہرہ کریں گے مگر یوں ہواکہ وہ بھی ہمارے روایتی ٹریفک پولیس والے بن گئے ۔مجھے اس وقت جی ٹی روڈ کا رونا، رونا ہے۔ آپ لاہور سے راولپنڈی اسلام آباد جانے کے لئے روانہ ہوں تو گوجرانوالہ کینٹ گزرنے تک آپ کو فرق ہی محسوس نہیں ہوگا کہ آپ شہر کی کسی سڑک پر موٹرسائیکلوں، ویگنوں، چنگ چیوں اور ٹرکوں سے بچتے بچاتے ڈرائیو کر رہے ہیں یا کسی ہائی وے پر ہیں۔ لاہور کے راوی پُل سے دریائے چناب کے پُل تک گاڑیوں سے کم از کم سے نوے روپے جاتے ہوئے اور نوے روپے واپس آتے ہوئے وصول کئے جاتے ہیں مگر سڑک انتہائی ناہموار بلکہ بہت سارے مقامات پر انتہائی خطرناک ہے۔ یہ 180 روپے ان تمام ٹیکسوں کے علاوہ ہیں جو میں ایک گاڑی خریدتے ہوئے رجسٹریشن فیس، ٹوکن ٹیکس، ڈرائیونگ لائسنس، پٹرول ہی نہیں بلکہ انجن آئل اور بہت سارے دوسرے سپیئر پارٹس کی قیمت کے ساتھ ادا کرتا ہوں۔

آپ کہہ سکتے ہیں کہ سڑک ناہموار ہے تواس میں موٹروے پولیس کا کیا قصور ہے مگر کیا ٹریفک کو کسی ضابطے میں رکھنابھی موٹروے پولیس کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اگر آپ غلطی سے شاہدرہ کے راستے لاہور میں داخل ہو رہے ہیں یا باہر نکل رہے ہیں تو جابجا تجاوزات اور سلوموونگ وہیکلز کی غلط ڈرائیونگ آپ کا بلڈ پریشر ہائی کر دے گی مگر مجال ہے کہیں موٹرویزاینڈ ہائی ویز پولیس کے بندے نظر آجائیں۔ آپ کو فیروزوالا، کالاشاہ کاکو، مریدکے، سادھوکے، کامونکے، چن دا قلعہ، گوجرانوالہ کینٹ اور پھر گکھڑ تک ڈبل بلکہ ٹرپل پارکنگ ملے گی۔ آپ کو ٹرک مسلسل اوور ٹیکنگ لین میں اور چنگ چی رکشے سوکلومیٹر والی لین میں دوڑتے ہوئے نظر آئیں گے۔ آپ کو اسی جی ٹی روڈ پر ڈائیورشن کا انتہائی خوفناک نظام ملے گا جس میں یوٹرن پر اچانک سب سے اوپر والی لین ختم ہوجائے گی۔ یاد آیا، گوجرانوالہ کی حدود میں ، میں نے ایک ٹرک ڈرائیور کو انتہائی خوفناک انداز میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے دیکھا، ذہن میں قانون پسندی کا کیڑا کلبلایا اور میں نے130 پر کال کی تو حیرت انگیز جواب ملا کہ ہائی ویز پر ٹرک تو ہوں گے اور اگر آپ ڈرتے ہیں تو پھر آپ کو ہائی وے پرآنا ہی نہیں چاہئے۔ 130 پر کال کا دوسرا واقعہ موٹروے کا ہے ، اسلام آباد سے واپسی پرایک بس نے تیزی سے اوورٹیک کیا۔ میری سپیڈ 120کلومیٹر فی گھنٹہ تھی اور مجھے یوں لگا کہ یہ بس کم و بیش170 کلومیٹر پر جا رہی ہے اورسنگین حادثے کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے میری شکایت سن لی مگر وہ بس کسی بھی جگہ روکی گئی نظر نہیں آئی۔

بات یہاں تک ہی نہیں اس سے بھی آگے کی ہے کہ موٹروے پولس نے کمائی کا کم و بیش وہی طریقہ اختیار کر لیا ہے جو پنجاب پولیس اورروایتی ٹریفک پولیس کا تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ یہ انتہائی دھڑلے سے ایک رسید بھی آپ کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔ جی ٹی روڈ پر حد رفتار سو کلومیٹر فی گھنٹہ ہے اورلاہور سے پنڈی جاتے ہوئے گکھڑمنڈی کراس کر کے آپ یہ سپیڈ لے سکتے ہیں مگر عیدکے موقعے پر جب میں رات دو بجے خراماں ، خراماں سنسان سڑک پر اسلام آباد کی طرف گامزن تھا کہ گھُپ اندھیرے میں اچانک سادہ کپڑوں میں ایک نوجوان اچھل کر گاڑی کے سامنے آیا اور’ سٹاپ ‘کا ایک بورڈ بھی لہرا دیا۔ ایک لمحے کے لئے خوف محسوس ہوا مگر قانون پسندی غالب آگئی، سوڈیڑھ سومیٹر پر بریک لگائی، ڈبل اشارے لگائے اور گاڑی واپس کی، پوچھا، جناب کیا مسئلہ ہے تو جواب میں بتایا گیا کہ میں اوور سپیڈنگ کر رہا تھا، استفسار کیا کہ جناب میری سپیڈ کیا تھی، اطلاع دی گئی کہ اکانوے کلومیٹر فی گھنٹہ۔ میرے منہ سے گہری سانس نکلی اور عرض کیا، جناب کیا جی ٹی روڈ پر حد رفتار سو کلومیٹر فی گھنٹہ نہیں۔ جواب ملا کہ آپ مندرہ کے قریب ہیں اور یہاں حد رفتار پچاس کلومیٹر گھنٹہ ہے لہٰذا آپ کو750 روپے دینے ہوں گے۔ ڈرائیونگ کرتے ہوئے میں انتہائی اطمینان کے ساتھ گاڑی میں موجود اپنے بزرگوں کے ساتھ گفتگو میں مصروف تھا اور میرے آگے پیچھے گاڑیوں کی یہی رفتار تھی مگر سمیع اللہ نامی اہلکارنے صرف میرا انتخاب کیا تھا تاہم یہ کوئی دلیل نہیں تھی لہٰذا رقم ادا کی اور انکشاف ہوا کہ یہ لوٹ مار کا ایک باقاعدہ منظم اور قانونی انداز ہے اور اس کے لئے رات کا وقت مثالی ہے جب ڈرائیوروں کو رفتار کی حد تبدیل ہونے کے بورڈ بھی واضح نظرنہیں آتے۔ موٹروے کے پبلک ریلیشنز آفیسر عمران کو واٹس ایپ کیا ور پوچھا کہ کیا موٹروے پولیس یہ جرمانہ بطور ادارہ خود رکھتی ہے اور کیا اس میں جرمانہ کرنے والے کا بھی شیئر ہے تو جواب ملا کہ وہ سعودی عرب میں ہیں ۔ اندازہ ہوا کہ موٹروے پولیس میں بھی ٹھیکیداری کا ظالمانہ نظام آچکا، یہ پولیس بھی اب نمک کی کان میں نمک ہو چکی ہے۔

کیا آپ ہائی وے پر 50کلومیٹر فی گھنٹہ کی لمٹ رکھ سکتے ہیں اور کیا یہ لمٹ فالو ہوتی ہے۔ پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چیئرمین ہوں یا آئی جی موٹرویز، وہ سو کلومیٹر کی رفتار سے کبھی پچاس کلومیٹر فی گھنٹہ پر نہیں آتے ہوں گے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ این ایچ اے اورموٹروے پولیس ہائی ویزکو ٹریفک کے لئے محفوظ اور آرام دہ بنائیں، ہیوی وہیکلز سے لین اور لائن کی پابندی کروائیں، ناجائز پارکنگ اور تجاوزات کا خاتمہ کریں مگر انہوں نے آسان اور کمائی والا حل ڈھونڈا ہے کہ جگہ جگہ سپیڈ لمٹ کو آدھا کردیاہے۔مجھے بہت سارے دوستوں نے بتایا کہ جی ٹی روڈ پر رات کے وقت کمائی کی یہ پریکٹس عام ہے۔میں نے سوچا کہ ڈکیتی کیا ہوتی ہے کہ آپ کسی کی جیب سے اسلحے کے زور پر روپے نکلوا لیں جس کا کوئی جواز نہ ہو اوریہی نوسر بازی ہوتی ہے کہ آپ دھوکے سے لوٹ لیں۔ موٹروے پولیس نااہلی میں ہی نہیں بلکہ لوٹ مار میں بھی پنجاب پولیس سے دو ہاتھ آگے ہو گئی ہے کہ اس نے اپنے فرائض سرانجام دینے کے بجائے دیہاڑی کو قانونی شکل دے دی ہے۔ موٹروے پولیس کو ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے تھا کہ یہی تو حقیقت میںنئے پاکستان کی نقیب تھی۔


ای پیپر