پہلی آزمائش
18 اگست 2018 2018-08-18

عمران خان نے بڑی آسوں اور امیدوں کے بعد اپنی منزل حاصل کر لی ہے۔ پرسوں جمعہ کے روز قومی اسمبلی کے ایوان میں وزارت عظمیٰ کا انتخاب جیت لیا۔ کل بروز ہفتہ ایوان صدر کی تقریب میں حلف بھی اُٹھا لیا۔ وہ کتنے کامیاب یا ناکام وزیراعظم ثابت ہوں گے یہ آنے والا وقت بتائے گا۔ ملک کے اندر اُن کے حامیوں، خیر خواہوں اور کامیابی کی امیدیں یا تمنائیں رکھنے والوں کی کمی نہیں۔ ان کی نظروں میں آئیڈیل ہیں ۔ اس کے ساتھ ایسے افراد بھی قلت نہیں پائی جاتی جو خان موصوف کے شدید ناقد ہیں۔ بطور سیاستدان اُن کے بارے میں مثبت آراء نہیں رکھتے ہیں۔ پوری انتخابی مہم کے دوران اور اس سے قبل بھی ڈٹ کر مخالفت کرتے رہے اور ابھی سے پیشین گوئیاں شروع کر دی ہیں کہ کرکٹ کا ورلڈ کپ جیتنا اور شوکت خانم ہسپتال بنا لینا اپنی جگہ مگر حکمرانی کار دگر است۔ قوم کی رائے بٹی ہوئی ہے۔ اسی لیے انہیں اپنے دو پیشرؤں یوسف رضا گیلانی کے 264 اور نواز شریف 242 سے اوپر کے مقابلے میں 176 ووٹ ملے ہیں۔ ان میں بھی اگر ساتھ دینے والی جماعتوں اور دیگر کے 25 ووٹ شامل نہ ہوتے تو موصوف کو سادہ اکثریت بھی نہ مل پاتی۔ اگرچہ ایک طبقے کا خیال یہ بھی ہے کہ ہمارے عظیم کھلاڑی کو جب تک مقتدر طبقوں کی سرپرستی اور خوشنودی حاصل رہے گی بھلے اُن کے پاس زیادہ اکثریت نہ بھی ہو کام چلتا رہے گا اور وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہیں گے لیکن اگر کسی مقام یا موقع پر شیشے میں بال آ گیا تو جیسا کہ ماقبل وزرائے اعظم یہاں تک کہ دو تہائی اکثریت والوں کا انجام بتاتا ہے کہ ہماری تاریخ کے 22 ویں وزیراعظم کوبھی گھر کی راہ لیتے دیر نہ لگے گی۔ ان سب باتوں سے قطع نظر بطور لیڈر اور مدبر سیاستدان جناب کو پہلی آزمائش سے اس وقت گزرنا پڑا جب انہیں قومی اسمبلی کے اندر اپنے حق میں ووٹ لیتے ہی مخالف نعروں کے طوفان کا سامنا تھا۔ موصوف غصے میں آ گئے اسی عالم میں جو پہلی تقریر کی اس نے وزیراعظم کی بجائے ان کے اندر کے اور منتقامانہ جذبات رکھنے والے سیاستدان کو نمایاں کر دیا۔ سننے والے حیران ہوئے، مبصرین کو تعجب ہوا کیونکہ 25 جولائی کی کامیابی کے بعد انہوں نے قوم سے جو خطاب کیا تھا اس میں وہ فی الواقع ایک مدبر اور بردبار قومی رہنما کے طو رپر ابھرے تھے۔ تاہم باقاعدہ تیار شدہ تقریر تھی۔ اس کا ایک ایک لفظ سوچ سمجھ کر اور مشاورت کے ساتھ لکھا گیا تھا ۔ اس کی تحسین بھی ہر جانب سے ہوئی ٹھنڈے جذبات کے ساتھ اور پر سکون ماحول کی اس تقریر کے برعکس جب خان بہادر کو پہلی آزمائش کا سامنا کرنا پڑا اور بطور لیڈر ان کے امتحان کا مرحلہ شروع ہوا تو وہ اپنے خلاف اٹھنے والے نعروں کی گونج برداشت نہ کر سکے۔ جذبات پر کنٹرول نہ رہا۔ غصے کی حالت میں وہ باتیں کر گئے جو وقت موقع اور محل کے لحاظ سے موزوں نہ تھیں اور کسی طور پارلیمنٹ جیسے مقدس ایوان میں کھڑے نو منتخب وزیراعظم کے شایان شان نہ تھیں انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو ڈاکو اور چور کہا۔ فرمایا این آر او نہیں ہونے دوں گا اور کہا کہ پہلے کام کے طور پر ان کا سخت احتساب کا کروں گا کیونکہ ملک کا پیسہ لوٹ کر باہر لے گئے ہیں۔ ان کا نشانہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے ساتھی تھے۔ نواز ان کی بیٹی اور داماد پہلے ہی جیل میں ہیں۔ کئی مقدمات میں پھنسا کر رکھ دیئے گئے ہیں اس کے باوجود جناب عمران سے غصہ تھوکا نہیں جا رہا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کے اراکین اور کارکنان اس وقت جو نعرے لگارہے تھے۔ وہ 2018ء کے انتخابات میں ہونے والی شدید دھاندلیوں کے خلاف تھے۔ وہ عمران کان کو ملنے والے مینڈیٹ کو جعلی قرر دے رہے تھے اس کے خلاف سراپا احتجاج تھے لیکن نعرے تو بلاشبہ مسلم لیگی اراکین ارو کارکنوں نے لگائے مگر اپنی جماعت سمیت ان کا ساتھ نہ دینے والے بلاول بھٹو
نے بھی اُٹھ کر تقریر کے دوران انتخابی دھاندلیوں پر پر زور انداز میں تنقید کی۔ اور عمران خان کو منتخب کی بجائے Select یعنی کسی کا چنیدہ وزیراعظم قرار دیا۔ یہ موقع تھا کہ خان موصوف غیر معمولی تحمل، برداشت، اور تدبر سے کام لیتے۔ وہ وزیراعظم منتخب ہو چکے تھے۔ اب صرف اپنی جماعت کی نمائندگی نہیں کر رہے تھے پورے ایوان کی عزت اور وقار ان کے ہاتھ میں تھا ایوان میں کھڑے ہو کر پوری قوم کی نمائندگی کر رہے تھے۔ ساری دنیا اسے دیکھ رہی تھی۔ ان سے توقع تھی کہ قومی لیڈر کے طور پر زخموں پر مرہم اور پٹی لگانے کی کوشش کرتے اور غیر معمولی فراخدلی کا مظاہرہ کرتے کیونکہ یہ موقع پھر کبھی نہیں آنا تھا۔ سیاسی جذبات اور مخالفت پر مبنی خیالات کا اظہار وہ پہلے بھی کرتے رہے ہیں۔ بعد میں بھی کئی مواقع مل سکتے ہیں یہ لمحہ تو آگے بڑھ کر پوری قوم کے نمائندوں اور وہاں بیٹھے حامیوں اور مخالفوں سمیت سب کو گلے لگانے کا تھا۔ جسے بہت افسوس ناک طریقے سے ضائع کر دیا گیا۔ ایک قومی رہنما اور اہل پاکستان کے منتخب نمائندے کے طور پر یہ ان کی پہلی آزمائش تھی جس پر پورا نہ اترے۔ شاید اسی لیے ان کے دست راست اور پارٹی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کو کھڑے ہو کر وضاحت کرنا پڑی کہ عمران خان تقریر کچھ اور کرناچاہتے تھے مگر مکالفانہ نعروں کے ردعمل کا شکار ہو کر کہہ کچھ گئے۔ یعنی ان کے قریب ترین با اعتماد ساتھی نے بھی جو اپنی جگہ ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں اعتراف کیا کہ ان کا لیڈر جذبات کی رو میں بہہ گیا اور جو کچھ کہنے کا ارادہ رکھتا تھا اُسے بھول گیا۔
ہمارے نئے وزیراعظم کو آئندہ بھی ایسے کئی بحرانوں اور طوفانون کا سامنا کرنا پڑے گا کیا وہ اسی قسم کے طرز عمل کا مظاہرہ کرتے رہیں گے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عمران خان اور اُن کے قریبی ساتھیوں اور مشیروں کے دل و دماغ میں 22 سالہ محنت کے بعد وزیراعظم بن جانے کی خوشی اور جوش و جذبے کے وفور نے انہیں مناسب تیاری اور غور و فکر کا موقع فراہم نہ کیا۔ ایسی غفلت اور لاپروائی کا مظاہرہ اگلے دن ایوان صدر کے اندر منعقد ہونے والی انتہائی پروقار تقریب میں بھی دیکھنے میں آیا جب قومی زبان اردو میں حلف کے الفاظ اور فقروں کی ادائیگی کرتے وقت کھلاڑی نے شدید غلطیاں کیں۔ درست تلفظ کی ادائیگی نہ کر سکے۔ لکھے ہوئے فقروں کو روانی کے ساتھ پڑھ نہ سکے۔ جیسا کہ ہر حلف کی تقریب میں ہوتا ہے صدر مملکت ہر لفظ اور فقرہ ٹھہر ٹھہر کر ان کے سامنے پڑھتے گئے، عمران خان کو تو صرف انہیں دہرانا تھا۔ اگر انہیں اردو کے چند ثقیل الفاظ یا خاتم النبین جیسی تراکیب پڑھنے میں مشکل پیش آ سکتی تھی تو اس کا اندازہ موصوف کے مشیروں کو پہلے ہونا چاہیے تھا۔ اس سے ایک دو روز پہلے حلف پڑھنے کی مشق کرائی جا سکتی تھی اور اتنی پروقار قومی تقریب میں قوم کے منتخب وزیراعظم کو مذاق بننے سے روکا جا سکتا تھا۔ جس کی جانب دھیان نہ کیا گیا اور خان بہادر بغیر مناسب تیاری کے شیروانی پہنے خوشی سے تمتماتے چہرے کے ساتھ ایوان صدر میں آن وارد ہوئے۔ ایک باعث تعجب بات یہ ہوئی کہ حلف اٹھانے کے بعد صدر مملکت اور نئے وزیراعظم کے ایک دوسرے کے ساتھ مصافحہ نہین کیا جو ایک مسلمہ روایت ہے۔ میں نے نیو ٹی وی پر رواں تبصرہ کرتے ہوئے ناظرین کی اس جانب توجہ دلائی۔۔۔ معلوم نہیں اس کے پیچھے کیا بات چھپی ہوئی تھی۔ یہاں سے فراغت کے بعد وزیراعظم صاحب اپنے اصل مستقر وزیراعظم ہاؤس میں پہنچے۔ وہاں پر اپنے اعلانات کے مطابق انہوں نے رہنا ہے یا نہیں لیکن ایک مرتبہ تو جانا تھا۔ دستور اور رسم زمانہ کے مطابق وہاں گاڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ پوری قوم نے ٹیلی ویژن پر اس نظارے کو دیکھا مگر یہاں بھی خان اعظم کو جس روایتی وقار اور اپنی شخصیت کے منضبط ہونے کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا وہ نہ ہوا۔ موصوف بے پناہ خوشی اور وزیراعظم بننے کی سرشاری کے عالم میں ادھر ادھر دیکھتے رہے۔ ہاتھ کی انگلی میں آویزاں انگوٹھی سے کھیلتے رہے۔۔۔ ایک سربراہ حکومت کے طور پر گاڈ آف آنر کا معائنہ کرنے کے جو کم از کم آداب تھے ان کا پاس و لحاظ نہ کر سکے انہیں ہرگز یاد نہ رہا کہ وہ یہ کام اپنی ذات کے طور پر نہیں بلکہ وزیراعظم کی حیثیت سے پوری قوم کے نمائندے کی حیثیت سے کر رہے ہیں۔ دیکھنے والوں کو اس سے بھی مایوسی ہوئی اور ٹیلی ویژن چینلوں پر تبصرہ کرنے والوں نے ان کی حالت زار کو منتخب تنقید اور پر لطف فقروں کا موضوع بنایا۔ جو ہوا سو ہوا آئندہ راہ اختیاط!وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے عمران خان صرف اندرون ملک کی تقریبات میں نہیں جانا ہو گا۔ پاکستان کے اعلیٰ ترین نمائندے کی حیثیت سے بیرونی ممالک کے دورے بھی کرنا ہوں گے وہاں گاڈ آف آنر بھی ہوتے ہیں اور دیگر مہمانی و میزبانی سے متعلقہ دیگر کئی مراحل سے گزرنا ہوتا ہے جن کے اپنے اپنے آداب و اطوار ہوتے ہیں۔۔۔ مہینہ ڈیڑھ مہینہ بعد انہیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے لیے نیو یارک جانا ہے۔۔۔ جہاں کئی ایک سربراہان مملکت و حکومت موجود ہوں گے۔۔۔ جن میں سے کچھ کے ساتھ باقاعدہ ملاقات اور مذاکرات متوقع ہیں۔۔۔غیر ملکی دنیا اگرچہ عمران خان کے لیے نئی نہیں برطانیہ ان کے لیے دوسرے گھر کا درجہ رکھتا ہے لیکن اعلیٰ سفارتی سطح پر عالمی حکمرانوں سے ملنے اور مذاکرات کرنے کا انہیں پہلا موقع ملے گا۔ لازم ہے وہ دیگر حکومتی فرائض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سفارتکاری کے آداب اور پروٹوکول کی اداؤ ں سے بھی کماحقہٗ واقفیت حاصل کریں۔ بلکہ ان کی مشق کا پوری سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ اہتمام کریں تا کہ ذرا سی لغزش کی بنا پر ملک کے وقار پر کسی قسم کا حرف نہ آنے پائے۔


ای پیپر