۔۔۔ سرخ گلابوں کے لہو سے روشن
18 اگست 2018 2018-08-18

ان دنوں بہت سے اہم واقعات یکجا ہیں۔ یوم آزادی منایا گیا۔ جمہوریت کے سفر میں پارلیمنٹ اگلے مراحل طے کر رہی ہے۔ ہمراہ عشرہ ذی الحج چل رہا ہے۔ امت ، پوری دنیا سے کھینچ کھینچ کر مقناطیسی کشش رکھنے والے روئے زمین کے مرکز ، بیت اللہ میں پروانہ وار کفن کی دو چادریں اوڑھے طواف کر رہی ہے۔ ہمیں یہ یاد دلاتے ہوئے کہ ہم ۔ عام انسان نہیں ہیں۔ یکے از ساڑھے چھ ارب نہیں ، یکے از ڈیڑھ ارب ہیں۔ اور حج ان ڈیڑھ ارب کے نمائندوں کی تربیت گاہ ہے۔ بے جہت ، لاعلم ، اپنی شناخت ، اپنے ازل اپنے ابد سے بے بہرہ باقی دنیا کی ہدایت پر مامور۔ راشد ہی مرشد ہوا کرتا ہے۔ سو مرکز رشد و ہدایت سے ایمان کی جھولیاں بھرنے امت کا ایک حصہ سربسجود ہے۔ رہے ہم تو ہمارا حال تو بہ زبان اقبال یہ ہے کہ : نشان راہ دکھاتے تھے جو ستاروں کو ، ترس گئے ہیں کسی مرد راہ داں کیلئے۔ آزادی کے نام پر کیا کچھ نہیں ہوا۔ سارا پاکستان روشنیوں میں نہا گیا۔ نئے پاکستان کو بھی 21 توپوں کی سلامی ملی۔ ہلالی پرچم لہرانے کی تقریبات شہر شہر ہوئیں۔ لڑکے ، لڑکیاں سبز کپڑے پہنے شانہ بہ شانہ قومی ترانہ گاتے رہے۔ مزار قائد و اقبال پر حاضریاں اور گارڈ کی تبدیلیاں بھی ہوئیں۔ مگر ! یہ سب باقی ہیں تو باقی نہیں ہے۔ پاکستان کے جھنڈے کی ہریالی خشک دریاؤں کے ہاتھوں ماند پڑ چکی ہے۔ یہ شعر تو جا بجا لکھا پڑھا گیا۔ خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے ، وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو۔ لیکن فضل گل تو جس پانی (بلکہ خون جگر) کی مرہون منت ہے وہ بدترین دشمن دن دہاڑے چرا کر لے گیا۔ وہ ڈیم پر ڈیم بناتا رہا اور ہم ڈیم فول بنے منہ تکتے رہے۔ اسی سے لہسن ، آلو ، پیاز ، ٹماٹر مہنگا منگا کر کھاتے رہے۔ اب سوئے ہوئے اٹھے ہیں تو چندہ برائے ڈیم ! چندہ کر کے جھنڈا تو خریدا جا سکتا ہے مگر ڈیم؟ ہاں یہ ضرور ہے کہ اب نئے پاکستان کے ارب پتی حکمران نہایت محب وطن ہیں تو شاید ڈیم والا چندے کا ڈبہ بھر جائے۔ حتی کہ ’چائے والا‘ ممبر قومی اسمبلی بھی کروڑ پتی ہے، دو گھروں اور زرعی زمین کا مالک۔ ارب پتیوں، طیارہ برداروں میں غریب ممبر! (36 امیر ترین با اثر خاندانوں کی بہنیں ، بہوئیں ، بیٹیاں ، بھی مقروض غریب قوم کی نمائندگی کر رہی ہیں۔) یوم آزادی پر آتش بازی سرکاری و نجی سطح پر ہوئی۔ چھتوں پر نوجوان حسب توفیق پٹاخے انار پھاڑ رہے تھے۔ ہوائی فائرنگ ، بگل، لڑکے لڑکیوں کی گلا پھاڑ چیخیں (اظہار مسرت) جاری تھا کہ نجانے کیوں شدید کڑک چمک کے ساتھ آسمان ٹوٹ کر برسا! شاید ۔۔۔ *** نیلی فام کو وہ مناظر ہجرت یاد آ گئے۔ چوڑیاں ٹوٹ کے بکھری تھیں ہر اک آنگن میں ، اک کنواں تھا کہ تمناؤں سے بھر رکھا تھا۔ راہ تھی سرخ گلابوں کے لہو سے روشن ، پاؤں رکھا نہیں جاتا تھا مگر رکھا تھا! آزادی پر سطحی ، ظاہری ، (بعض جگہ سفلی) زبانی جمع خرچ رہا۔ غریب ، قرضوں میں ڈوبے ملک ، بند صنعتوں دگرگوں معیشت میں عالمی گاؤں کے سیٹھوں ، چوہدریوں کی نقالی میں اس پیسے کو آگ لگا کر آتش بازی سے لمحاتی ، جذباتی خوشیاں کشید کرنا، جس سے خط غربت کے نیچے سسکتوں کو روٹی اور تن ڈھانپنے کو کپڑا فراہم کیا جا سکتا تھا۔ بلڈنگوں پر روشنیوں کی لڑیاں پرونے والے ہاتھ، کسی بے روزگار کے فاقوں پر بہتے بچوں کی آنسوؤں کی لڑیاں پونچھ سکتے تھے۔ معلوم ہے کہ اس پر جھوٹی آن بان شان اور وقتی خوشیوں کے دلدادہ تپ اٹھیں گے۔ لیکن کیا کیجئے کہ برسرزمین حقائق نہایت تلخ ہیں۔ اس جشن ہائے ہاؤہو سے لوٹیں گے تو ملکی اعداد و شمار کے حقائق ہمارا منہ مزید چڑا رہے ہونگے۔ دیار کذب میں یہ ارتکاب حق گوئی
، یہ جرم ہے تو مجھے بار بار کرنا ہے! قومیت کے شکنجے میں مشرف نے پاکستان کو جکڑ دیا۔ ورنہ نظریہ پاکستان تو چیزے دیگر است! مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا۔ اور ہر ملک ، ملک ماست کہ ملک خدائے ماست۔ صرف پاکستان پر اکتفا؟ یہ ہمارا محبوب گھر ہے۔ باقی پوری دنیا کی زمین کو اللہ نے ہمارے لئے مسجد بنایا ہے۔ اور مسجد کی امامت غیر کے ہاتھ میں نہیں ہو سکتی۔ جو دنیا پر جبرو استحصال اور ظلم بے پناہ کو روا رکھے۔ بے حیائی اور فحش کاری دنیا کی معاشرت اور تہذیب بن جائے۔ جھوٹ فکر و فریب اور ضمیروں کی خریداری اور ملکی خزانوں کی لوٹ مار کا نام سیاست ہو۔ آج ملکوں ملکوں جھنڈے پر چاند تارے یا صلیب یا اشوکا چکرا (بھارتی) کی جگہ ملک کی کرنسی ہونی چاہئے۔ ڈالر ، ین ، یورو، روپیہ! حقیقت تو مال ، روپے پیسے کی خدائی اور حکمرانی ہی ہے۔ یا پھر کرسی! اسی کے لئے جینا مرنا، اسی کے خوابوں میں شب و روز ایک کر دینا! 14 اگست کو بنگلہ دیش نے ہمارے یوم آزادی کی مناسبت سے مزید پانچ افراد کو پاکستان سے وفاداری کی سزا ، پھانسی سنا دی ہے۔ یہ پھانسیوں کا تسلسل بظاہر غیور اور آزاد ہونے کے دعویدار عمران خان کے لئے بھی امتحان ہے۔ خارجہ پالیسی کیا نئے پاکستان میں بھی منقار زیر پر ہی رہے گی؟ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی والا وعدہ پورا ہو گا؟ داخلہ پالیسی کا لٹمس ٹیسٹ، ختم نبوت ہو گا۔ کیونکہ وزیر اعظم کا حلف آئین کی پاسداری اور اسلامی نظریہ حیات کے تحفظ کا بھی عہد کرتا ہے جس پر یہ ملک تخلیق ہوا۔ یہ حلف رب تعالیٰ کو گواہ بنا کر 18 کروڑ عوام کے سامنے اٹھایا جاتا ہے اور اس کی ابتداء ہی عقیدے (توحید ، رسالت ، قرآن ، آخرت ، ختم نبوت اور ضروریات دین پر پختہ ایمان) کے اظہار سے ہوتی ہے۔ اس کی پرکھ ہر قدم برسرزمین بھی ہو گی اور ** اللہ بھی۔ کوئی زائچے ، علم الاعداد ، قسمت ، احوال شناسی کے دعویٰ دار زندگی کے اگلے مرحلے پر ساتھ نہ دے سکیں گے! لیلیٰ مجنوں نے بھی قبر کی پہلی رات کے لئے یہ وعدہ لیا دیا ہوتا کہ میں مر جاؤں تو قبر پر ساری رات ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہنا ، تنہا نہ چھوڑنا ۔ تو ایسا ممکن نہ تھا ! مجنوں اتنا بھی مجنوں نہ تھا۔ پاکستان جیسے ملک کا عہدہ حلف اٹھا لینا استروں کی مالا ہے! وہ ملک جس کے پیدائش سرٹیفکیٹ پر نام ، اسلام ، پیدائش پر خون کی ان گنت بوتلیں چڑھی ہوں اور مقصد وجود ، لا الہ الا اللہ لکھا ہو۔ اس کی حکمران کے حق کی ادائیگی اور جوابدہی کی شدت احساس موجود ہوتی تو ہر وزیر اعظم حلف اٹھاتے ہوئے غش کھا کر گر پڑتا! مگر بھنگڑوں، آتش بازیوں ، دیگوں ، کیکوں ، مٹھائیوں کے نجلغلے میں ایسی کڑوی گولی کھلانے کے درپے ہونے والا ہی دیوانہ قرار دیا جائے گا! تا ہم۔ خلقت پس دیوانہ و دیوانہ بکارے! عشرہ ذی الحج۔۔۔ کی کہانی ، قربانی کے ذریعے قرب الٰہی کی منزلیں مسلسل سر کرنے کی کہانی ہے۔ قرآن نے زندگی کی ابتداء کی کہانی تخلقیق آدم علیہ السلام والی سنائی۔
فرعون کے مقابل سربکف کلیم اللہ کی کہانی سنائی۔ تا ہم ہمارے باپ ابراہیمؑ کی کہانی سنا کر چھوڑ نہیں دیا۔ بلا لیا۔ آؤ اور اس کہانی کے ایک ایک جز سے گزرو سیدنا ابراہیمؑ کی حنیفیت (یکسوئی) اسماعیلؑ کی فدویت اور فدائیت اپناؤ۔ ہاجرۂ کا توکل ، تسلیم و رضا اور مامتا کی سعی کو سلامی پیش کرو۔ کیونکہ فتنہ دجال میں تم سے یہ سارے سوال پوچھے جائیں گے۔ مادیت اور مادہ پرستی سے لتھڑی دنیا میں نماز وطواف کی یکسوئی، اطاعت، پروانہ وار نچھاور ہونے کی ہمت کرو گے؟ دین پر استقامت (اسلام مذہب نہیں دین ہے، تمام شعبہ ہائے زندگی پر محیط) پرکھی جائے گی۔ ابراہیمؑ کے بیٹوں کے لئے بھی نارنمرود بھڑکائی جائے گی۔ حرقوۂ۔۔۔ (جلا ڈالو) کی پکار ملکوں ملکوں سنو گے۔ (اور ہم نے سنی۔ کابل ، بغداد، دمشق، غزہ ، سری نگر، ارکان) لارجمنک۔۔۔ پتھر مار مار کر تجھے مار ڈالوں گا۔ تم بھی سنو گے۔ ڈرون ، ہیل فائر ، میزائل ، فاسفورس بیرل بم ، کیمیائی حملوں سے مار ڈالوں گا۔ تم بھی سنو گے۔ کہو تکبیر تشریق! دل کی سچائی سے اللہ کی کبریائی بیان کرو۔ (بمشکل امام صاحب کے پیچھے نہ پڑھو۔ دل سے کہو۔ بگو از روئے جاں!) تو پھر دیکھو میں تمہارے ساتھ ۔ ہوں گا۔ بے شک ان کی مدد کی جائے گی۔ یہ ہمارا لشکر ہے یہی غالب رہے گا ، (الصفت) (دبے پاؤں سپر پاور افغانستان میں اعتراف شکست کرتی ہوئی مذاکرات کی میز پر آ بیٹھی) اللہ کی بے آواز لاٹھی کو برستا دیکھنا ہو تو کیلی فورنیا کو جہنم زار بناتی، 314,925 ایکڑ کو نگلتی آگ دیکھ لیجئے۔ گھروں ، گاڑیوں ، اثاثوں کو چاٹتی راکھ بنا کر چھوڑتی ، دھویں کے خوفناک بادل تانے آگ ! مسلمانوں کے جلتے ملکوں ، غم سے دہکتے سینوں سے نکلتے شرابے بھی حترقوہ ، (جلا ڈالو) کا حکم صادر کرتی آگ بن گئے! بگولوں ، آندھیوں ، طوفانوں ، سیلابوں اور شدید گرمی کے شکار (ہم سے برسرپیکار رہنے والے) غریبوں کے صحنوں میں اترتے عذابوں کو دیکھ لیجئے۔ سائنس ٹیکنالوجی صرف بربادی کے اعداد و شمار اور ویڈیوز دکھانے پر قادر ہے۔ نیوجرسی کے سیلاب میں دلہنوں کی طرح دمکتی گاڑیاں کیچڑ بھرے پانی میں کھلونوں کی طرح تیرتی ٹکراتی چور ہو گئیں۔ سمندروں سے گھرا امریکہ آگ پر قابو نہیں پا سکا۔ بگولوں طوفانوں کی آمد پر ۔۔۔ آبادی ۔۔۔ نقل مکانی پر مجبور ہے۔ دربدری کے سوا کوئی مداوا نہیں! اللہ اکبر اللہ اکبر لا الاہ الا اللہ واللہ اکبر وللہ الحمد


ای پیپر