مرد مومن۔۔۔مردِ حق۔۔۔!‘‘

18 اگست 2018

ساجد حسین ملک

17اگست 1988ء کو جب بہاؤلپور کے قریب دریائے ستلج کے کنارے بستی لال کمال کی فضاؤں میں پاک فضائیہ کا C-130طیارہ حادثے کا شکار ہوا اور طیارے میں سوار صدرِ مملکت جنرل محمد ضیاء الحق کے علاوہ تیس افراد جن میں چیئرمین جوائنٹسٹاف کمیٹی جنرل اختر عبدالرحمن سمیت پاک فوج کے دیگر اعلیٰ افسر اور امریکی سفیر رافیل اور ملٹری اتاشی برگیڈئیر جنرل واسم شامل تھے ، جان کی بازی ہار گئے۔ اُس وقت سے اب تک تیس برسوں میں پُلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چُکا ہے۔ حالات و واقعات کے پیش منظر میں بھی بہت ساری تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ تاہم جنرل محد ضیاء الحق کے حوالے سے کچھ حقائق ایسے ہیں جنہیں تاریخ کے اوراق سے نکالنا شاید ممکن نہیں ہوگا۔ جنرل محمد ضیاء الحق 5جولائی 1977ء کو ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ اُلٹنے کے بعد برسرِ اِقتدار آئے اور کم و بیش 11سال تک ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہے۔ وہ عرفِ عام میں ایک فوجی آمر تھے۔ اُنہوں نے اِقتدار پر غاصبانہ قبضہ کیا ۔ اِس بنا پر بہت سے لوگ اُن پر کڑی تنقید کرتے ہیں۔ اور اُنکے دور کو ظالمانہ اور جابرانہ قرار دیتے ہیں۔ لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ آج ضیاء الحق کی شہادت کو جب تین عشرے ہو چکے ہیں اور ایک نئی نسل پروان چڑھ چکی ہے اور ماضی بالخصوص ضیاء الحق کے دور کے بہت سارے حالات و واقعات کو اپنے حقیقی سیاق و سباق اور صحیح تناظر میں بیان نہ کرنے اور خلط ملط کرنے کا رواج عام ہو چکا ہے ۔پھر بھی ملک میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو آج بھی ضیاء الحق کا نام سامنے آئے تو ’’ مرد ِ مومن ، مرد ِ حق ۔۔۔ضیاء الحق ، ضیاء الحق‘‘ کا نعرہ لگانے پر تیار ہو جاتے ہیں۔
جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کیا تھے اور کیا نہیں تھے؟ اِن میں کون سی شخصی خوبیاں اور کمزوریاں پائی جاتی تھیں؟ اِن کا نظامِ حکومت کیسا تھا اور اس میں کتنا جبر تھا؟ اُن کی حکومتی پالیسیاں کیا تھیں اور اِن سے پاکستان کو کتنا استحکام ملا اور پاکستان کتنا عدم استحکام سے دو چار ہوا؟ اُن کے دور میں عالمی برادری میں پاکستان کا کیا مقام تھا اور عالمِ اسلام میں پاکستان کو کتنی اہمیت حاصل تھی۔ اُن کی افغان پالیسی اورسوویت یونین کے خلاف جہادِ افغانستان میں شرکت کا فیصلہ کس حد تک درست تھا یا نہیں تھا؟ اُنہوں نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھانے میں کیا کردار ادا کیا؟ اُن کے دور میں بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی نوعیت کیا تھی اور وہ بھارت کو عالمی سطح پر کس حد تک نیچا دِکھانے میں کامیاب رہے تھے؟ اُنہوں نے ملک میں اسلامی نظام کو رائج کرنے اور اسلامی تعلیمات کے فروغ کے لئے کتنی سنجیدہ کوششیں کیں یا محض دِکھلاوے کے لئے اسلام کا نام لیتے رہے؟ اُن کے دور میں عوام کس حد تک آسودگی سے شب و روز بسر کر رہے تھے اور اشیائے ضروریہ کس حد تک دستیاب تھی؟ اُن کے دور میں امن و امان کی صورت حال کیا تھی۔۔۔؟ یہ سارے سوالات، موضوعات اور پہلو ایسے ہیں جن کے بارے میں قوم کے مختلف طبقات کی مختلف آراء ہو سکتی ہیں۔ لیکن ایک پہلو بہرکیف ایسا ہے جس کے بارے میں ضیاء الحق کے متفقین اور مخالفین سبھی کا اِتفاقِ رائے سامنے آئے گا کہ ضیاء الحق میں بہت ساری شخصی خوبیاں پائی جاتی تھی۔ وہ بڑی حد تک عاجزی ، انکساری، مروت اور دوسروں کا احترام کرنے اور اُن کی عزتِ نفس کا پاس کرنے کی صفات سے بہرہ ور تھے۔ صوم و صلوٰۃ کی پابندی، اسلامی تعلیمات سے لگاؤ اور مشرقی اقدار و روایات کی پاسداری اُن کی گھٹی میں پڑی ہوئی تھی۔ بلا شبہ اُنہوں نے ملک میں نظامِ صلوٰۃ، عشر و زکوٰۃ اور حدود قوانین کے نفاذ کے لئے سنجیدہ کوششیں کیں۔
ضیاء الحق کا دور بلا شبہ معروف معنوں میں آمرانہ دور تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کسان، مزدور، تاجر، صنعت کار، سرکاری ملازمین، بزرگ شہری، سابقہ فوجی اور ریٹائرڈ سرکاری ملازمین سمیت عوام کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ بعد کے ادوار کے مقابلے میں نسبتاً آسودہ زندگی بسر کر رہے تھے۔ زرعی اجناس کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ اور قومی نمو میں بہتری کے آثار نمایاں تھے۔ عالمی برادری بالخصوص عالمِ اسلام میں پاکستان کی ایک عزت اور مقام تھا۔ بھارت کے مقابلے میں پاکستان بہتر ڈپلو میسی پر عمل پیر ا تھا۔ باقی وزیر اعظم اندرا گاندھی اور بعد میں اُس کے بیٹے راجیو گاندھی کی طرف سے ضیاء الحق سے بے اعتنائی کا رویہ اپنانے کے باوجود مختلف عالمی فورمز پر اُنہیں ہر گام ضیاء الحق کے مقابلے میں خفت کا سامنا کرنا پڑتا رہا۔ پاکستان نے غیر جانبدار ممالک کی تنظیم کی رُکنیت ہی حاصل نہ کی بلکہ بھارت کی روایتی چوہدراہٹ کو بھی ختم کیا۔ جہادِ افغانستان میں پاکستان کی بھرپور شرکت اور روسی قیادت کی طرف سے سنگین نتائج کی دھمکیوں کے باوجود ضیاء الحق کا ثابت قدم رہنا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ لیکن اس سب کے باوجود ضیاء الحق شاید ہمارے نام نہاد لبرز اور بائیں بازو کے دانشور طبقات کے معیار پر پورا نہیں اُترتے تھے۔ یہ طبقات جو ضیاء الحق کے دور میں ہر طرح کی مراعات ، نواشات اور اسائشوں سے بہرہ مند ہوتے رہے آج بھی اُن کو تنقید کا نشانہ بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ہیں۔
ضیاء الحق پر ایک بڑا اعتراض اُن کی افغان پالیسی کے حوالے سے کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے اُنہیں روسیوں کے خلاف افغانیوں کی تحریک مزاحمت جسے جہادِافغانستان کا نام دیا جاتا ہے میں حصہ نہیں دینا چاہیے تھا اور نہ ہی لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ دینی چاہیے تھی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے کلاشنکوف کلچر کو رواج ملا اور دہشت گردی کا آغاز ہوا۔ معترضین اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ دسمبر 1979کو روسی افواج افغانستان میں دَر آئیں تو یہ آج کا پیوٹن کا روس نہیں تھا۔ یہ برزنیف ، چرنکو اور آندرے پوف کا طاقت اور غرور کے گھمنڈ میں بدمست سوویت یونین تھا جس نے وسط ایشیاء کی وسیع و عریض رقبوں پر پھیلی مسلم ریاستوں پر ہی قبضہ نہیں کر رکھا تھا بلک ہنگری اور پو لینڈ سمیت مشرقی یورپ کے کئی ممالک کو بھی تاراج کر رکھا تھا۔ افغانستان میں اگر اُس کی مزاحمت نہ کی جاتی تو وہ افغانستان کو روندنے کے بعد بحیرۂ عرب کے گرم پانیوں تک پہنچنے کے لئے اپنے صدیوں پرانے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے پاکستان کی سرحدوں کو بھی پامال کر سکتا تھا۔پھر سقوطِ مشرقی پاکستان کا بدلہ چُکانا بھی ہم پر واجب تھا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بھارت کے ساتھ سوویت یونین بھی برابر کا شریک تھا۔ پھر افغانیوں کے ساتھ اسلامی اخوت کا رشتہ بھی تھا کہ اُن کا ساتھ دِیا جاتا۔ پھر یہ حقیقت بھی تھی کہ پاکستان کی حکومت افغانیوں کو بطورِ مہاجر پاکستان میں آنے سے روکتی تب بھی انہوں نے نہیں رُکنا تھا۔ پاکستان کے قبائلی علاقے اُن سے پٹ جاتے۔ لہٰذا حالات و واقعات ا ور زمینی حقائق کا تقاضا یہی تھا کہ پاکستان افغانیوں کی تحریکِ مزاحمت جو حقیقتاً چند سال قبل ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں شروع ہو چکی تھی اس میں سرگرمی سے شریک ہوتا۔ پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ افغان جہاد کی آڑ میں پاکستان نے اپنے ایٹمی پروگرام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
آخر میں ضیاء الحق کے حوالے سے ایک مشہور واقعے کا ذکر بیجا نہ ہوگا جس کا تذکرہ بھارت کے آنجہانی وزیر اعظم راجیو گاندھی کے سیکرٹری نے بھی کچھ سال قبل چھپنے والی اپنی کتاب میں بھی کیا ہے ۔بھارت نے 1987ء کے شروع میں ’’براس ٹیک‘‘ فوجی مشقوں کے نام پر دو لاکھ فوج پاکستان کی سرحد پر لا کھڑی کی۔ بھارت شاید پاکستان پر حملہ کرنا چاہتا تھا یا کوئی اور بات تھی، کہ ضیاء الحق نے پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان اُن دِنوں کھیلی جانے والی ایک روزہ سیریز کا جے پُور میں کھیلا جانے والا وَن ڈے میچ دیکھنے کا فیصلہ کیا۔ ضیاء الحق دہلی کے ہوائی اڈے پر پہنچے تو بھارتی وزیر اعظم راجیو گاندھی نے سرد مہری اور بے رُخی سے اُن کا استقبال کیا۔ ضیاء الحق جے پور سے میچ دیکھ کر واپس دہلی آئے تو راجیو گاندھی کا رویہ بدستور ویسا ہی تھا لیکن ضیاء الحق نے اس کی کوئی پرواہ نہ کی البتہ روانگی سے قبل انہوں نے راجیو کو ایک طرف لے جا کر اتنا کہا کہ بھارت پاکستان پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو ضرور کرے لیکن اتنا یاد رکھ لے کہ میں اسلام آباد پہنچتے ہی فائر کا حکم دوں گا جس سے بھارت میں وہ تباہی مچے گی کہ جس کا تصوربھی نہیں کیا جا سکتا۔ ضیاء الحق واپس اسلام آباد پہنچے تو بھارت کی طرف سے پاکستان کی سرحد سے فوجوں کی واپسی کے احکامات جاری ہو چکے تھے۔

مزیدخبریں