گھر کی پہلی اینٹ!
18 اگست 2018 2018-08-18

یہ 2013ء کے انتخابات سے ایک ماہ پہلے کی بات ہے میں نئی دہلی میں تھی۔ جس کی فضاؤں میں سنجے دت کی سزا کا ہیجان پایا جاتا تھا۔ جنتا گو سنجے کی سزا کے حق میں نہ تھی، مگر قانون کی بالادستی اور عدلیہ کی خود مختاری کے لیے وہ انصاف کے ادارے کے ساتھ کھڑی تھی۔ ان دنوں ہریانہ کے وزیراعلیٰ چوٹالہ، مایا دیوی، ملک کے کچھ بڑے صنعتکار اور چند بڑے سیاست دانوں کے بچوں پر کرپشن اور اختیارات کے غلط استعمال کے مقدمات عدالتوں میں تھے اور بھارتی جنتا اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ طاقتوروں کا احتساب دیکھ رہی تھی۔ میری جب بھی کسی بھارتی سے بات ہوتی تو وہ فخر سے اپنی عدالتوں کی مضبوطی کا ذکرتا اور آنے والے دنوں میں اپنے عدل و انصاف کے ادارے کے مزید مستحکم ہونے کی امید کا اظہار کرتا۔ ہمارے قومی انتخابات کے متعلق رائے کا اظہار کرتے ہوئے بھارتیوں کی اکثریت میاں نواز شریف کے حق میں دکھائی دیتی تھی اور ان کے مقابلے میں عمران خان کو کم زور امیدوار کا درجہ دیتی تھی۔ اکثر پڑھے لکھے لوگوں سے بات چیت کے دوران یہ بات سننے کو ملتی کہ ویسے تو دونوں ممالک میں تھرلڈ ورلڈ کے مسائل تقریباً ایک جیسے ہی ہیں مگر ہمیں دو طرح سے پاکستان پر برتری حاصل ہے، اول یہ کہ ہم تعلیم میں آپ سے آگے ہیں، ہمارا لٹریسی ریٹ مجموعی لحاظ سے 60 فیصد ہے اور دوئم ہماری عدالتیں اب اپنے پاؤں پر کھڑی ہو رہی ہیں۔ یعنی ہم گھر کی دیواریں اٹھا کر اس پر چھت ڈال چکے ہیں بس اب اس گھر کا پینٹ پالش اور تزئین و آرائش باقی ہے جس کے بعد ہم اس منزل کی طرف بڑھ جائیں گے جہاں بڑی قوموں کو پہنچنا ہوتا ہے۔ یہ بات کرنے کے بعد بظاہر ہمدردی سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہہ دیا جاتا تھا، مگر آپ لوگوں نے تو ابھی گھر بنانے کی ابتدا بھی نہیں کی ، پہلی اینٹ بھی نہیں اٹھائی، آپ کا لٹریسی ریٹ اور آپ کا عدالتی نظام اس بات کی گواہی ہے کہ آپ اس راستے سے کوسوں دور کھڑے ہیں جو منزل کی نشاندہی کرتا ہے ۔ جب تک آپ کا تعلیمی نظام اور قانون و انصاف کے ادارے مضبوط نہ ہوں گے آپ ترقی کی جانب ایک قدم نہیں بڑھا سکتے!
اور قارئین بھارتی جنتا کا طنز و تضحیک سے بھرا لہجہ ، اور میرے ملک کو کم تر سمجھنے کا رویہ، برسوں میرے دل میں چبھتا رہا۔ میاں نواز شریف کی طویل جلا وطنی کے بعد وطن واپسی، اور بھاری مینڈیٹ (جس پر دھاندلی کا الزام چسپاں تھا) سے میری بڑی امیدیں تو ہرگز وابستہ نہ تھیں، مگر میں تعلیمی نظام کی درستگی اور عدل و انصاف کے ادارے کی مضبوطی اور بالادستی کے حوالے سے ضرور پر امید تھی، مگر ان کے چار سالہ دور اقتدار میں نت نئے بجلی
منصوبے، نئی سڑکیں، نیلی پیلی ٹرینیں ، روزگار سکیمیں، آشیانہ ہاؤسنگ جیسی عوام کو آشیانے فراہم کرنے والے جعلی منصوبے وغیرہ تو بدرجۂ اتم دکھائی دیئے، مگر تعمیری اور حقیقی ترقی کی ایسی اسکیمیں جو عوام کے بنیادی حقوق اور بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے کوئی مثبت کردار ادا کرتیں، کہیں دکھائی نہ دیں اور رہے قانون و انصاف کے ادارے تو ان کی خرید و فروخت کی داستانیں اس ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے ۔ اگر صرف پولیس کے ادارے کا ہی ذکر کریں تو اس کے لیے کئی کالموں کی طوالت درکار ہے۔ ایلیٹ فورس کے 3800 جوانوں کی جاتی امرا کی حفاظت پر تعینات کر کے جاہ و حشم اور طاقت کا مظاہرہ کرنے والے سابقہ حکمرانوں نے ہو سکتا ہے اس طرح جمہوریت کو بچانے کا اہتمام کیا ہو مگر اس جمہوریت نے عوام کو کیا دیا؟ کیا ہم اس گھر کی ایک اینیٹ بھی رکھ سکے جسے ہمسایہ ملک تعمیر کرنے کا دعویٰ کرتا ہوا ہمیں طنز و تضحیک سے دیکھنے کا عادی ہو چکا تھا؟
اسی بے ثمر جمہوریت کو بچانے کے لیے نواز شریف جی ٹی روڈ پر نکلے اور مجھے کیوں نکالا کا واویلا مچایا، جب یہ وار ناکام ہوا تو اس ووٹ کی عزت بچانے نکل کھڑے ہوئے، جسے گزشتہ چالیس برسوں میں سب سے زیادہ بے عزت اسی خاندان نے کیا ہے، جو اس وقت ووٹ کو عزت دو کا سیاسی نعرہ بیچنے کی کوشش کر رہا ہے مگر کیا یہ نعرہ بک سکا؟ بدبودار اور تعفن زدہ سیاسی نظام کی بیساکھیوں پر کھڑے ہو کر جس نعرے کو یہ بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں، وقت کی منڈی میں اب یہ ٹکا بھاؤ بھی نہیں بکنے والا۔ ملک اب اس کیچڑ سے نکل رہا ہے، جس میں یہ لوگ اسے گردن گردن دھنسا چکے تھے۔ یہ آج بھی خود کو اس ملک، جمہوریت اور جمہور کے لیے ناگزیر ماننے پر مصر ہیں۔ اپنی شکست کو تسلیم کرنے کے بجائے یہ تبدیل ہو چکے وقت کا انکار کر رہے ہیں جبکہ یہ ملک اور قوم اب انہیں مڑ کر دیکھنے کے بھی روادار نہیں۔ جس جذبے اور جوش کا مظاہرہ یوم آزادی پر اس دفعہ دیکھنے کو ملا، وہ اس لحاظ سے مثالی ہے کہ اس میں رسمی انداز کے بجائے حقیقی جذبات کا اظہار دکھائی دیتا تھا۔ یہ قوم اب ملک کی جڑیں کم زور کرنے والوں کو مسترد کر کے آگے بڑھنا چاہتی ہے۔ ملک میں جمہوری تبدیلی جس کو عوام کی پر زور حمایت حاصل ہے،آچکی ہے۔ یہ سطور لکھتے ہوئے ٹی وی کھولا تو اسکرین پر نئے وزیراعظم کی حلف برداری تقریب چل رہی تھی، جس میں نئے سیاسی منظر نامے پر طلوع ہونے والے نئے چہرے دکھائی دے رہے تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بائیس سالہ جدوجہد کے بعد اس مقام تک پہنچے ہیں۔ ان کے کردار فرشتوں جیسے اجلے اور پاکیزہ ہوں یہ ممکن نہیں کہ یہ انسان ہیں اور انسان بشری کمزوریوں سے ہرگز مبرا نہیں ہو سکتے، چنانچہ بشری کمزوریوں سے انہیں مبرا سمجھنا بجائے خود ایک غلطی ہے۔ مگر بہرحال یہ بددیانت، خائن اور بے رحم لوگوں کی قطار میں بھی نہیں کھڑے دکھائی دیتے اور ہمارے لیے یہی بات امید افزا ہے اور ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ خدا نخواستہ ان لوگوں کے اندر سے کسی اسحاق ڈار، احد چیمہ، انور مجید، اویس ٹپی ، فواد حسن فواد، سعد رفیق، حسین لوائی جیسے نے جھانکنے کی کوشش کی تو ان کا لیڈر خود اس کوشش کو ناکام بنا دے گا کہ عمران خان جس شخص کا نام ہے، اس کے کردار پر بد دیانتی اور خیانت کا کوئی داغ ہے نہ دھبہ، مالی بے ضابطگیوں، لالچ اور ذاتی اغراض و مقاصد جیسی بیماریوں سے وہ مکمل طور پر بچا ہوا ہے اور یہی وہ بات ہے جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔ پاکستان کو اس وقت ایک ایسی ہی قیادت کی ضرورت ہے، جو اسے نہ صرف معاشی مشکلات کی دلدل سے نکالے بلکہ عام آدمی کو انصاف بھی فراہم کرے اور بنیادی حقوق بھی۔ کیا عمران خان یہ کر پائیں گے؟ ورثے میں کرپٹ بیوروکریسی ، وائٹ کالر جرائم کرنے والے طاقت ور سیاستدانوں اور سرمایہ داروں کا مافیا، توانائی بحران، گوناگوں تعلیمی نظاموں کی کھچڑی، محکموں کو لگی ہوئی رشوت خوری کی بیماری، کام چور ،سست اور بے رحم پولیس اور بے لگام میڈیا کے علاوہ اس نظام کے تارو پود کو ہمہ وقت درہم برہم کرنے والے مسترد سپاہیوں کا بپھرا ہوا ٹولہ، کیا عمران خان کے وژن کو پھلنے پھولنے کا موقع دے گا؟ یہ سوال اس وقت ہم سب کے سامنے ہے گرچہ ہوائیں تند اور مخالف ہیں مگر میں جو اپنی قومی تاریخ کے زوال سے ہمیشہ دل گرفتہ رہتی تھی، اس وقت ہرگز بھی دل گرفتہ نہیں، بلکہ بہت پر امید ہوں آنے والے وقت سے اس لیے کہ ہم اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ عدلیہ کو اپنے پاؤں پر کھڑا دیکھ رہے ہیں جس نے احتساب کے معاملے میں طاقتوروں کو گھیر رکھا ہے اور وہ اس معاملے میں کسی سے نرمی برتنے کے موڈ میں دکھائی نہیں دیتی۔ آنے والے دنوں میں اس ضمن میں بہت کچھ ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور یہی وہ امر ہے جو خوش آئند اور امید افزا ہے۔
اگر ہم عدل و انصاف کے ادارے مضبوط کر لیتے، احتساب بلا امتیاز رنگ و نسل ہونے لگا تو سمجھیئے ہم نے اس گھر کی پہلی اینٹ رکھ دی، جسے بنانے کے لیے قائداعظمؒ منتشر لوگوں کی ایک بھیڑ کو لے کر نکلے تھے، قوم بنانے کے لیے مگر رہبر پہلی منزل پر ہی جان ہار گیا اور منتشر لوگوں کی بھیڑ قوم بنتے بنتے رہ گئی۔ کہ قوم بننے کے بنیادی لوازم میں عدل و انصاف سر فہرست ہے۔ جب تک کسی ملک کی عدالتیں سچا انصاف نہیں لکھتیں۔ اس وقت تک نہ تو ملک ترقی کر سکتا ہے نہ ہی اس میں رہنے والے شرفِ آدمیت حاصل کر سکتے ہیں!!


ای پیپر