مستقبل عوام کا !
18 اگست 2018 2018-08-18

روایتی سیاستدانوں کی سمجھ میں اب بھی اگر یہ بات نہ آئے کہ ’’ریاست بچاؤ خوشحال ہوجاؤ‘‘۔ پروگرام پر عملدرآمد ہوچکا ہے تو یہ ان کی ہٹ دھرمی ہوگی۔ جس کا نقصان انہیں سیاسی ومعاشی دونوں طرح سے ہوگا ہورہا ہے۔ پھر وہ اس حقیقت سے منحرف دکھائی دیتے ہیں کہ ملک ایک بڑی تبدیلی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ !
روایتی سیاستدان اب بھی پُر امید ہیں کہ وہ اگلی مرتبہ ضرور عام انتخابات میں کامیاب ہوں گے اور اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھیں گے۔ اسی طرح اپنی خواہشوں کی تکمیل کریں گے جس طرح ماضی میں کرتے رہے ہیں ۔ مگر نہیں یہ ان کی خوش فہمی میں مبتلا ہے ان کا ماضی پلٹ کر نہیں آئے گا۔ اقتدار واختیارات ان لوگوں کے ہاتھ میں ہوں گے جوعوام کو انسان تصور کریں گے ان کے خوابوں کو پورا کریں گے۔ اور ان کی زندگیوں میں آسانیاں اور راحتیں لائیں گے۔ ہاں اگر وہ ایسا کرسکتے ہیں تو پھر کہا جاسکتا ہے کامیابی ان کے گھر کے سامنے کھڑی مسکرا رہی ہوگی۔ مگر یہ جذبہ ان میں نہیں، عوام کو اہم سمجھنا ان کے ذہن میں موجود نہیں لہٰذا وہ دوبارہ ایوانوں میں تو ہوں گے مگراختیارات جو ریاست کسی کو دیتی ہے ان سے محروم ہوں گے۔ انہیں ان سے محروم ہونا بھی چاہیے کہ وہ طویل عرصہ تک عوام پر حکمرانی کرتے رہے مگر ڈھنگ کا کوئی کام نہیں کیا۔ لوٹ مار کے علاوہ ان کی تمام سرگرمیاں غیرعوامی ہوتیں۔
ملک کے اثاثوں کو ان میں کچھ نے اس بے دردی وبے رحمی سے ہتھیایا کہ آج بھی دل سے ایک ہوک اٹھتی ہے۔ بے چارے ہاری، مزارع کسان اور محنت کش صبح شام محنت کرتے رہے اب بھی کررہے ہیں مگر انہیں ان کے عشر عشیر بھی سہولتیں حاصل نہیں تھیں۔ کیوں۔ آخر کیوں ؟
اب جب ان کے حمایتی دانشور، لکھاری اور تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ انہوں نے جمہوریت کی بڑی خدمت کی ہے اور ایک عوامی جمہوری عمل کو آگے بڑھایا ہے تو افسوس ہوتا ہے اور سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے۔ ان روایتی سیاستدانوں اور حکمرانوں نے ایک فیصد بھی جمہوریت کی خدمت نہیں کی اور نہ ہی ایسی کوئی کوشش کی۔ معذرت کے ساتھ یہ تو آمرانہ سوچ کے حامل ہیں ان کے لہجے درشت، بارعب تحکمانہ اور گرجدار ہیں لہٰذا لوگوں نے انہیں کبھی بھی پسند نہیں کیا مگر چونکہ انہیں سیاسی دھارے میں بہتے رہنا ہے لہذا وہ ان کے گرد جمع رہے ہیں یعنی آج بھی وہ ان سے مانوس ہیں تو یہ ان کی مجبوری ہے کیونکہ ابھی ان کے مدمقابل عوامی جمہوریت پر یقین رکھنے والے سیاستدانوں کی کھیپ تیار نہیں ہوسکی۔ ہاں مگر اب پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی خواہش اور کوشش ہے کہ روایتی طرز سیاست وحکمرانی کا خاتمہ ہونا چاہیے ابتدا انہوں نے اپنے طرز عمل اور رویے سے کردی ہے۔ اس پر بھی ان کے حریف سیاستدان اور لکھاری و دانشور تلملا رہے ہیں انہیں نجانے عمران خان سے کس بات پر اختلاف ہے جبکہ وہ بدعنوانی پر معترض ہیں دکھوں کے خاتمے کا کہتے ہیں، عزت نفس کی بحالی کا عزم رکھتے ہیں اس سفاک نظام کو بدلنے کی بات کرتے ہیں تعلیم، صحت اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ !
لگتا یہ ہے کہ ہمارے سیاسی کلچر نے دانش و دانائی کی ایک خاص مقدار کو بھی اپنے حصار میں لے رکھا ہے لہٰذا وہ ان کے ہی گن گاتی ہے جو عوام کو اذیت سے دوچار رکھنا چاہتے ہیں ان کا استحصال جاری وساری رکھنے کے لیے قوانین وضع کرتے ہیں عوام کو دھوکا دے کر ان کے حصے کا سرمایہ اپنی تجوریوں میں انڈیلنا اپنا حق تصور کرتے ہیں۔ شرم اس کو مگر نہیں آتی !
بہرحال اب جب تبدیلی کا بگل بج چکا ہے تو انہیں حیرانی اور پریشانی ہورہی ہے کہ یہ کیسے ہوا اور کیوں ہوا۔ وہ تو ان مفلوک الحالوں کو ہمیشہ کے لیے یرغمال بناکر رکھنا چاہتے تھے مگر یہ نسیم صبح کے جھونکے کہاں سے آنے لگے۔ اب تو وہ احتساب کی آندھیاں بھی چلتے ہوئے دیکھ رہے ہیں جو اکہتر برس میں کبھی بھی نہیں چلی تھیں۔ جب میں یہ تحریر رقم کررہا ہوں تو پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری ہوچکے ہیں۔ یہاں میں یہ عرض کردوں کہ احتساب ماضی میں بھی ہوا مگر وہ مشروط تھا اب ایسا نہیں ہے۔ واقعتاً احتساب ہورہا ہے لوٹ کا مال بھی واپس لانے کی تیاریاں ہورہی ہیں وجہ اس کی یہی ہے کہ ملک کی معاشی حالت انتہائی گفتہ بہ ہے، سماجی ڈھانچہ ہو یا انتظامی بھی بری طرح سے متاثر ہیں یہ تو پی ٹی آئی کے سربراہ کو کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے مایوس لوگوں کو حوصلہ دیا ہے اور ایک قوم بنانے کے لیے چند نعرے بھی ۔۔۔ جس کے نتیجے میں وہ وزیراعظم بن چکے ہیں اگرچہ ان کی مخالف دوبڑی سیاسی جماعتیں ان کو بطور وزیراعظم قبول کرنے میں ہچکچا رہی ہیں اور بددلی کا تاثر دے رہی ہیں ایسا اس لیے ہے کہ ان کے منصوبوں پر اوس پڑ چکی ہے وہ تو تاحیات کبھی تم کبھی ہم فارمولے کے تحت حکمران رہنا چاہتی تھیں۔ عوام کی انہیں اس لیے پروا نہیں تھی کہ انہیں تو ان کے آشیر بادی سینہ زور، تھانے، پٹوار خانے اور سرکاری ادارے کنٹرول کیے ہوئے تھے۔ آئندہ بھی کرلیتے مگر بات پھر وہی حالات نے پہلو بدلا کمزوروں کی آہیں بلند ہوئیں اور پھر ان کے آپس کے تضادات ومفادات نے ان کو آپس میں دست وگریباں کر دیا۔ لہٰذا ان لوگوں کو بھی آگے آنے کا موقع مل گیا۔ جو عوامی جمہوریت کے حامی تھے۔ خیر یہ بات یقین کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ وہ دن گئے جب خلیل خان فاختہ اڑایا کرتے تھے مگر میں حیران ہوں کہ روایتی سیاستدانوں کو اس کی خبر کیوں نہیں۔ ؟
جاوید خیالوی اس حوالے سے کہتا ہے کہ انہیں سب معلوم ہے کہ پکڑ دھکڑ اور باز پرس ہوگی اور ہرصورت ہوگی مگر وہ مزاحمت کی پالیسی اپنا کر خود کو محفوظ بنانے کی حکمت عمل پر پیرا ہیں یہ ان کی خام خیالی ہے کیونکہ ریاست اکہتر برسوں میں عوام سے ہونے والے ان کے حسن سلوک کی مزید متحمل نہیں ہوسکتی۔ اگر اسی طرح یہ سب چلنا تھا تو کیا ضرورت تھی چین، روس اور ایران کے ساتھ تعلقات گہرے کرنے کی اور امریکہ سے خراب کرنے کی۔ لہٰذا یہ ممکن نہیں رہا کہ ایک ایسے تسلسل کو آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے جو عوام کی حالت سدھار سکا نہ ملک کو مضبوط وتوانا بناسکا۔ جس سے اس کی یہ حالت ہوگئی کہ وہ چلے تو لڑھکر ا جائے۔ مگر اب ایسا نہیں ہے وہ خود کو تروتازہ محسوس کررہا ہے اس میں توانائی آرہی ہے۔ کیونکہ اس کا سربراہ یہ ارادہ ظاہر کررہا ہے کہ وہ وطن عزیز کو ایسا ملک بناکر دم لے گا جس کا پاسپورٹ دیکھ کر کوئی اپنا رخ موڑے گا نہیں اس کی طرف رشک بھری نگاہوں سے دیکھے گا۔ اس کے نوجوانوں کو باہر نہیں جانا پڑے گا یہیں سے انہیں روزگار ملے گا۔ !
بہرکیف اگلے پانچ برس کے لیے جناب عمران خان وزیراعظم منتخب ہوگئے ہیں انہیں ایک طرف احتسابی عمل کو جاری رکھنے میں اداروں کو اپنا تعاون پیش کرنا ہے اور بلاامتیاز وتفریق کرنا ہے لہٰذا امید کی جاسکتی ہے کہ ان سنہرے خوابوں کو پورا ہونا ہے جو کروڑوں عوام نے ہجرت کرتے وقت دیکھے تھے۔ جنہیں روایتی سیاستدانوں (جاگیرداروں، وڈیروں ، سرداروں، زمینداروں، نوابوں، ٹوانوں اور سرمایہ داروں نے مکاری اور سینہ زوری سے مجسم نہیں ہونے دیا۔ وقت اب بدلا ہے تو وہ بھونچکا گئے ہیں اور ان کے خون کی گردش تیز سے تیز تر ہوتی جارہی ہے کہ ان کے سپنے تو بکھرنے والے ہیں اب وہ کیا کریں گے کہاں جائیں گے تاریخ بتاتی ہے کہ بادشاہوں کو تخت سے نیچے آنا پڑا ہے وہ سدا بادشاہ نہیں رہے لہٰذا اب نسل درنسل منتقلی کی خواہش سے دستبردار ہوکر سیاست کرنا ہوگی عوام اب عوام ہیں رعایا نہیں ہیں کہ وہ اپنے اوپر مسلط ہونے والوں کو دل وجان سے قبول کرلیں اور ان کی کسی بھی غلطی و کوتاہی کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے آپ کو تپتی دھوپ میں جھلسائیں لہٰذا ضروری ہے کہ حالات کا جائزہ لیا جائے جو اس پوزیشن میں نہیں کہ عوامیت سے چشم پوشی اختیار کی جائے۔ مستقبل اسی کا ہے۔


ای پیپر