حکومت اور اپوزیشن دونوں مشکل میں
18 اگست 2018 2018-08-18

ملک کی 15 ویں قومی اسمبلی نے حلف اٹھاکر کام شروع کردیا ہے۔وفاق اور صوبوں میں اسپیکر ، ڈپٹی اسپیکراور قائدین ایوان کے انتخاب کے نتائج حسب توقع ہیں۔صوبائی گورنرز کا تقرر بھی ہو گیا اور ا فسر شاہی کی اکھاڑ پچھاڑ کے لیے فہرستیں بھی تیار ہو چکیں ،لیکن لگتا ہے کہ سیاسی کھیل کا الٹا سفربھی ساتھ ہی شروع ہوچکا ہے جو جمہوریت کے لیے کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔ یہ سفر ہمیں وہیں لے کر جارہا ہے جہاں سے ہم الزام تراشیاں کرتے ہوئے لوٹے ہیں۔ جو سیاسی منظرنامہ بن رہا ہے اس میں حکمران جماعت اور اپوزیشن دونوں شدید مشکلات میں ہیں۔ عمران خان پر دباؤ سب سے زیادہ ہے۔ وہ 25 جولائی کو پولنگ ختم ہونے تک مقبولیت کے نصف النہار پر تھے۔ گنتی شروع ہوئی تو متنازع ہونے لگے، اور نتائج آنے پر انہیں کامیابی اس الزام کے ساتھ ملی کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ نے دھاندلی کرکے کامیابی دلائی ہے۔ عوام نے ان سے بے پناہ توقعات باندھی ہوئی ہیں لیکن مشکلات نے ان کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے ہیں۔ ان کے لیے سب سے پہلا امتحان ایک اچھی ٹیم کا انتخاب ہے، بدقسمتی سے ان کا کوئی ہوم ورک نہیں ہے۔ قومی اسمبلی میں اسپیکر کے لیے اسد قیصر کی نامزدگی اس کی مثال ہے کہ اس سے پہلے کبھی صحافتی یا سیاسی حلقوں کے علاوہ تحریک انصاف کے اندر بھی یہ نام کبھی زیر غور نہیں آیا۔ کے پی کے میں وہ ایک نیم کلین اور مجبوری کا وزیراعلیٰ لاسکے ہیں۔ انہیں اس ٹیم کے ساتھ ملک کی انتظامی معاشی اور سفارتی مشکلات حل کرنا ہیں، جو ایک مشکل کام ہے۔
عمران خان کا دوسرا کام اپنے پارٹی منشور پر عمل کرتے ہوئے آگے بڑھنا ہے۔ یہ کام تبھی ہوسکتا ہے جب پارٹی مضبوط اور جمہوری روایات کی حامل ہو۔ عمران خان پاناما کیس میں کہتے تھے کہ مسلم لیگ (ن) خود اپنے سربراہ کا احتساب کرے، اُس سے پوچھے کہ اُس نے منی لانڈرنگ کرکے پارٹی کو مشکل میں کیوں پھنسایا ہے؟ اب عمران خان کی باری ہے۔ پارٹی کے اندر سے کسی نے نہیں پوچھا کہ کل تک کے دہشت گرد الطاف حسین اور اُن کی آپ کے اپنے بقول دہشت گرد اور بھتا مافیا تنظیم کے ساتھ آپ نے انتخاب کے اگلے دن ہی اتحاد کیسے کرلیا! سپریم کورٹ سے نااہل ہونے والے جہانگیر ترین کو وفاق اور صوبوں میں حکومت بنانے کے لیے آزاد ارکان کو توڑنے اور خریدنے کی ذمے داری کس نے اور کیوں سونپی؟ بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے لیے جام کمال کا نام جہانگیر ترین نے کیسے اور کیوں پیش کردیا؟ اور یہ کام بلوچستان تحریک انصاف کو نظرانداز کرکے کیوں کیا گیا؟ لیکن پارٹی کے اندر سے کسی نے یہ سوالات پوچھنے کی جرأت نہیں کی، کہ پارٹی جمہوری بنیادوں پر استوار ہی نہیں ہے۔ یہ سوالات اُن مخالفین نے اٹھائے جو ماضی میں یہ سب کچھ کرتے رہے تھے۔ عمران خان کو وزراء نامزد کرتے ہوئے زیادہ مشکلات پیش آئیں گی۔ ہوم ورک موجود نہیں ہے، اسٹیبلشمنٹ اور الیکٹ ایبلز کا دباؤ واضح ہے، اور منتخب ہونے والی لاٹ میں مسٹر کلین مشکل ہی سے مل سکیں گے ۔
عمران خان کو حکومتیں بنانے کے بعد اگلا چیلنج اپنے منشور پر عمل کرنے کے سلسلے میں درپیش ہوگا، اور محسوس یہ ہوتا ہے کہ وہ اگلے پانچ سال (اگر اتنے عرصے اقتدار میں رہ گئے تو) منشور کی کاپی پر نظر بھی نہیں ڈال سکیں گے۔ عمران خان کو سب سے بڑی مشکل یہ درپیش ہوگی کہ وہ ماضی میں جن امور پر تنقید کرتے رہے ہیں اور جو دعوے اور وعدے کرتے رہے ہیں اُن پر کتنا عمل درآمد کرتے ہیں۔ اِس وقت تک تو صورتِ حال یہ ہے کہ اپنی پہلی تقریر میں انہوں نے وزیراعظم ہاؤس استعمال نہ کرنے اور چاروں گورنر ہاؤس عوام کے لیے کھولنے کا اعلان کیا مگر اب اس معاملے میں لیت و لعل اور بہانہ سازی ہورہی ہے ۔ انہوں نے اداروں کی بالادستی کی بات کی اور انصاف کے سب سے بڑے ادارے سے نااہل ہونے والا شخص اس تقریر کے دوران اور بعد کے معاملات میں سب سے آگے اور عملاً ڈپٹی وزیراعظم کا کردار ادا کررہا ہے۔ انہوں نے اس تقریر میں کہا کہ جہاں جہاں دھاندلی کی شکایت ہے ہم مدد کریں گے، لیکن خود ان کے لاہور کے حلقے کی دوبارہ گنتی شروع ہوئی تو دوڑ کر سپریم کورٹ سے اسے رکوانے کا حکم لے آئے۔ اقتدار سنبھالنے والی جماعت اور اس کے سربراہ کے لیے ایک اہم چیلنج یہ ہے کہ وہ سابقہ حکمرانوں کی غلطیوں سے کس طرح بچ پاتے ہیں، لیکن ایک تو کمزور ٹیم کی وجہ سے ایسا نہیں ہوسکے گا، دوسرے اسٹیبلشمنٹ اور اُس کے لائے ہوئے الیکٹ ایبلز ایسا ہونے نہیں دیں گے۔ اس لیے وہ ایک قدم آگے بڑھنا چاہیں گے تو شاید دو قدم پیچھے آنا پڑے۔
دوسری جانب اپوزیشن ہے جو غیر شفاف انتخابات اور اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے یک نکاتی مؤثر ایجنڈے کے باوجود منتشر ہے۔ تحریک انصاف اور اس کی اتحادی قاف لیگ اور عوامی مسلم لیگ کے سوا اس ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نے انتخابات میں دھاندلی کا الزام گنتی کے دوران ہی لگادیا تھا۔ دو دن بعد ایک مؤثر اے پی سی بھی بلالی تھی۔ لیکن شاید اہلِ سیاست ایک دوسرے کے ساتھ اپنے سابقہ حساب بے باق کرنا چاہتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے اس مطالبے کو تمام جماعتوں نے اسی روز مسترد کردیا کہ اپوزیشن کے منتخب ارکان بطور احتجاج حلف نہ اٹھائیں۔ سب نے پارلیمنٹ میں جانے کا راستہ اپنایا۔ اگلی اے پی سی میں فضل الرحمن کے سوا تمام مرکزی قیادت غائب تھی۔ جی ڈی اے اور بلوچستان کی اپوزیشن جماعتیں تحریک انصاف کے ساتھ آچکی ہیں اور اب اپوزیشن پر آخری ہتھوڑا آصف زرداری چلا رہے ہیں۔انھوں نے کسی صورت شہبازشریف کو ووٹ نہ دینے کا اعلان کرکے اور پنجاب میں سپیکر کے لیے اپوزیشن امیدوار کو ووٹ نہ دیکر یہ کام کر دیا ہے ایم ایم اے بھی عملا ٹوٹ چکی ہے اب اپوزیشن علامتی
طور پر بھی متحدہ اپوزیشن کا تاثر نہیں دے سکے گی۔ یہ صورتِ حال اسٹیبلشمنٹ کو تو سوٹ کرتی ہے لیکن حکومت اور اپوزیشن کو ہرگز نہیں۔ ابھی تو انتخابی عذرداریوں کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے جس میں سب سے زیادہ دباؤ حکمران جماعت پر ہوگا۔ نیب کی کارروائیاں حکومت اور اپوزیشن دونوں کو پریشان کریں گی اور ان پر حکومتی سمجھوتا حکومت کی اخلاقی حیثیت کو تباہ کرکے رکھ دے گا۔ ایسے میں اگر نوازشریف اور مریم ضمانت پر رہا ہوجائیں تو حکومت کو دھرنوں جیسی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے لگتا یہی ہے کہ حکومت اور اپوزیشن مشکلات میں اپنا وقت گزاریں گی۔ عوام کو کوئی بنیادی تبدیلی نہیں ملے گی، البتہ اسٹیبلشمنٹ اور الیکٹ ایبلز موجیں کریں گے۔ حکومت مضبوط ہوئی تو اپوزیشن فارورڈ بلاکوں کے نام پر سکڑتی جائے گی، اور اگر ناکام ہوئی تو اس کے ارکان ٹوٹتے جائیں گے۔ کوئی اصولی سیاست اور انتظامی استحکام تو ’’ہنوز دِلّی دور است‘‘ والا معاملہ نظر آتا ہے۔


ای پیپر