ہار جیت !

18 اگست 2018

توفیق بٹ

جمہوریت کا ایک اور مرحلہ پایہ¿ تکمیل تک پہنچ گیا ، قومی وصوبائی اسمبلیوں کے ارکان نے حلف اُٹھالیے۔ اس کے علاوہ قومی وصوبائی اسمبلیوں کے سپیکروں اور ڈپٹی سپیکروں کے انتخابات بھی مکمل ہوگئے۔ اب ہمیں اپنے ”شکوک وشبہات “ پر تھوڑا قابو پانا چاہیے۔ کچھ عرصہ قبل ہم پورے” یقین“ کے ساتھ یہ ”شک “ کررہے تھے انتخابات نہیں ہوں گے، شک کرنے کی کچھ وجوہات بڑی جائز بھی تھیں جن میں ایک بڑی وجہ اچانک دوبارہ شروع ہونے والی دہشت گردی بھی تھی، مگر چیف جسٹس آف پاکستان کے اس بیان کے بعد کہ انتخابات کسی صورت میںبھی ملتوی نہیں ہوں گے شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی تھی، ویسے بھی اس ملک کے ”اصل طاقتوروں“ کو اب یہ احساس بلکہ یقین ہوگیا ہے جمہوریت ہی بہترین نظام ہے جسے وہ آسانی سے کنٹرول کرسکتے ہیں، لہٰذا باقاعدہ مارشل لاءوغیرہ لگاکر منہ کالا کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟ اور سچ بھی یہی ہے ہزار خامیوں کے باوجود یہی نظام ملک کے لیے بہتر ہے۔ اس بار اس نظام کے تحت ایک خوشخبری یہ بھی ملی تیس چالیس برسوں سے کسی نہ کسی صورت میں اقتدار پر قابض کچھ کاروباری سیاستدانوں سے کسی حدتک نجات مل گئی۔ پاکستانی عوام کو دنیا ایک ”ہجوم“ کا درجہ دیتی تھی۔ تبدیلی کی پہلی قسط کے طورپر اس ”ہجوم“ نے خود کو ”عوام“ ثابت کردیا۔ اگلی قسط میں ممکن ہے یہ عوام باقاعدہ طورپر ایک ”قوم “ کی صورت میں سامنے آجائیں جس کے بعد حکمران بھی اس قوم جیسے ہی ہوا کریں گے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ”جیسی قوم ہوگی ویسے حکمران اس پر مسلط کردیئے جائیں گے“۔ عمران خان جیسے دیانتدار شخص کے وزیراعظم بننے سے کم ازکم ایک بات ضرور ثابت ہوگئی کہ یہ ”قوم“ اب بننے جارہی ہے۔ یہ ملک اس بار تبدیلی کی پہلی سیڑھی چڑھ گیا ہے۔ ہم دعا گو ہیں اس کے بعد ترقی کی پہلی سیڑھی بھی چڑھ جائے۔ تاکہ دنیا میں ہم شرمندہ شرمندہ سے نہ پھرا کریں۔ قومی وصوبائی اسمبلیوں میں اس بار کئی نئی چہرے سامنے آئے۔ کئی پرانے چہرے دیکھ دیکھ کر دل اُکتا گیا تھا جن سے اب نجات مل گئی، خصوصاً مولانا فضل الرحمن سے نجات ملنا یقیناً ایک ”معجزہ“ ہے۔ ایسے ”معجزے“ ہوتے رہے مجھے یقین ہے جمہوریت ہرقسم کی ملاوٹوں سے پاک ہوجائے گی بلکہ حکومت اور سیاست بھی ہرقسم کی ملاوٹوں سے پاک ہو جائے گی۔ اور اگر نئے چہروں نے بھی پرانے چہروں جیسا کردار ہی ادا کیا تو اس نئے نظام کی ساری اُمیدوں پر پانی پھر جائے گا جس کا خواب کئی برسوں سے عمران خان نے دیکھ رکھا ہے۔ یہ بات اگلے روز میں اپنے چھوٹے بھائیوں فیصل آباد سے پہلی بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے فیض کموکا اور فرخ حبیب سے بھی کہہ رہا تھا۔ فیض کموکا کا تو پھر ایک سیاسی بیک گراﺅنڈ تھا۔ اثرورسوخ بھی تھا۔ فرخ حبیب کو تو شاید خود اپنی جیت کا یقین نہیں تھا مگر اپنے لیڈر کی طرح اللہ پر اس کا ایمان بھی بڑا مضبوط ہے، جتنی اس نے محنت کی، اور جتنی اپنے حلقے کے لوگوں سے محبت کی، جس طرح ایک ایک دروازے پر وہ گیا، کم ازکم مجھے اس کی جیت یقینی نظر آرہی تھی۔ میں نے عمران خان سے کہہ بھی دیا تھا فیض کموکا اور فرخ حبیب پر آپ نے جو اعتماد کیا ہے وہ اس پر پورا اُتریں گے۔ باقیوں کا مجھے پتہ نہیں ان دونوں نوجوانوں کے بارے میں، میں پورے وثوق پورے دعوے سے کہہ سکتا ہوں عمران خان کے خوابوں کو تعبیر دینے میں ان کا کردار بڑا امیر ہوگا۔ فرخ حبیب نے نہ پانی نہ بجلی کے وفاقی وزیر مملکت عابد شیر علی کو ہرایا جو کاروباری سیاستدانوں کا قریبی عزیز ہے اور اپنی طرف سے اپنی جیت کا سارا سامان بلکہ ”سازوسامان “ مکمل کرکے بیٹھا ہوا تھا۔ مجھے یقین ہے اس کی شکست پر سب سے زیادہ خوشی فیصل آباد کے مشہور ومعروف ” مہر جوس “والے کو ہوئی ہوگی جو بے چارہ کئی برسوں اس کی ”مفت بری“ کا شکار ہورہا تھا۔ اس کے قریبی کچھ دوست بتارہے تھے الیکشن ہارنے کے بعد وہ ایسے دھاڑیں مارمار کر روتا رہا موقع پر موجود کچھ لوگوں نے اسے مشورہ دیا اپنے نام سے ”شیر“ نکال کر کوئی اور جانور وغیرہ ڈال دے۔ یہ بھی اللہ کی قدرت ہے پہلی بار لوگوں نے ”شیروں“ کو روتے دیکھا ورنہ ان کی فطرت ہمیشہ دوسروں کو رُلانے کی ہے۔ عابد شیرعلی جی کو یہ دکھ شاید نہ ہو وہ الیکشن ہار گیا۔ اس کا اصل دُکھ یہ
ہے ایک ایسے نوجوان سے وہ شکست کھا گیا جس کی کوئی سیاسی بیک گراﺅنڈ تھی نہ ہی مال وزر تھا جس کی بنیاد پر نکمے سے نکمے لوگ بھی آسانی سے الیکشن جیت لیتے ہیں۔ .... جس طرح قومی وصوبائی اسمبلیوں کے کچھ امیدواروں کی جیت کی کوئی توقع نہیں تھی، اسی طرح کچھ امیدواروں کی شکست کی بھی کوئی توقع نہیں تھی، مثلاً چودھری نثارعلی خان کے بارے میں کچھ لوگوں کو پورا یقین تھا وہ ”آسانی“ سے الیکشن جیت جائیں گے، یہ شاید ویسی ہی ”آسانی “ تھی جس کی دعا کچھ ناقابل علاج مریضوں کی تکلیف دیکھ کر لوگ کرتے ہیں کہ اللہ اس کے لیے آسانی پیدا فرما دے “۔....یوں محسوس ہوتا ہے وہ کچھ زیادہ ہی دلبرداشتہ ہو گئے ہیں، اُن کے حوالے سے کہا جاسکتا ہے دلبرداشتہ ہونے میں زیادہ فرق نہیں ہوتا، سنا ہے اُنہوں نے صوبائی اسمبلی کی رُکنیت کا حلف بھی نہیں اُٹھایا حالانکہ اہلیت اور کارکردگی کے اعتبار سے ان کا زیادہ سے زیادہ مقام یہی بنتا ہے، کچھ عرصہ پہلے وہ وزیرداخلہ تھے۔ اگلے روز ایک ریٹائرڈ سیکرٹری داخلہ ان کے بارے میں بتا رہے تھے اُن کی ”قوت فیصلہ“ اس حدتک کمزور تھی بعض اوقات وہ یہ فیصلہ کرنے کے لیے بھی گہری سوچ میں ڈوب جایا کرتے تھے کہ چائے میں چینی کتنی ڈالنی ہے؟ ۔ الیکشن سے کچھ عرصہ پہلے تک ان کے بارے میں خوا مخواہ ہی یہ تاثر پیدا ہوگیا تھا وہ شاید اگلے وزیراعظم ہوں گے۔ شکر ہے وہ وزیراعظم نہیں بنے ورنہ اپنی کابینہ کا فیصلہ انہوں نے اس وقت کرنا تھا جب اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کے قریب ہوتی، ....اسی طرح سیالکوٹ کے سیاسی خواجہ کی جیت کا بھی کوئی امکان نہیں تھا۔ 2013ءکا الیکشن اس نے اپنی طرف سے ایڑی چوٹی کا پورا زور لگاکر شاید بیس ہزار ووٹوں سے جیتا تھا۔ حالیہ الیکشن وہ اس سے زیادہ زور لگاکر چند سو ووٹوں سے ہی جیت سکا، جتنی شریف برادران کی کاسہ لیسی اُس نے کی، اور ان کی آشیرباد سے قومی اداروں، خصوصاً افواج پاکستان کی جتنی توہین اس نے کی اس کے نتیجے میں اُس کا یہ ”حق بنتا تھا قومی اسمبلی میں چھوٹے شریف وزیراعظم کے امیدوار کے طورپر خود کو خود بخود آگے کرنے کے بجائے اسے آگے کردیتے۔ شریف برادران کی ہر عہدہ یا اختیار اپنے گھر میں رکھنے کی خواہش یا ہوس اللہ جانے کب ختم ہوگی؟ اس ”علت“ نے انہیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ انہیں چاہیے اپنی اس روایت پر اب قابو پائیں۔ صرف اسی صورت میں کچھ عزت آبرو اُن کی بحال ہوسکتی ہے !

مزیدخبریں