18 اگست 2018 2018-08-18

بحیثیت قوم روشن مستقبل کی نوید سنانے والی خوشیوں کا ذکر کریں تو ہر مدوجزر سے ہٹ کر پاکستانیوں کو اس بات کا قوی یقین ہے کہ جتنی شد و مد کے ساتھ ہمارا ملک پانی کی کمی کا شکار ہے نئے آبی ذخائر کی شکل میں آنے والے چند سالوں میں ہم اس مسئلے سے نمٹ لیں گے۔

دوسری جانب اقتصادی لحاظ سے صحیح معنوں میں ایشین ٹائیگر بننے کے لیے پاک چین اقتصادی راہداری جیسا منصوبہ خطے کی روش سے متعلق آگاہ کررہا ہے۔

یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ پاکستان گزشتہ چند برسوں سے دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ لڑ رہا ہے جس میں اسے خاطر خواہ کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں لیکن تمام تر کوششوں اور قربانیوں کے باوجود دہشت گردی کا عفریت اختتام پذیر ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ آپریشن ضربِ عضب کو ہی لے لیجئے جس کے ذریعے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے، سہولت کار اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ کردیا گیا ہے۔ جس کے بعد روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی دہشت گردی ہفتوں اور پھر مہینوں کی طوالت اختیار کرگئی۔ اور اس دوران ایک وقت ایسا آیا کہ دہشت گردی کے واقعات تھم سے گئے۔ اور یہ تاثر تقویت پکڑنے لگا کہ اب دہشت گردی کا خاتمہ کردیا گیا ہے۔ باقی رہی دور دراز کے علاقوں میں ان دہشت گردوں کی سہولت کاری وہ بھی جلد دم توڑ جائے گی۔ پورے ملک میں خوشی کا احساس ابھرا کراچی، لاہور، پشاور جیسے بڑے شہروں کی رونقیں پھر سے لوٹ آئیں۔ تجارتی اور معاشی سرگرمیوں میں بھی تیزی دیکھنی میں آئی۔ سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کو کنٹرول کرنے کے لیے ناقابلِ تصور پاک افغان بارڈر پر باڑ کی تنصیب بھی کی گئی۔ اس کے کچھ حصے پر اس وقت بھی کام جاری ہے۔ لیکن پھر پاکستان میں الیکشن کی تاریخ اور سیاسی گہما گہمی کا آغاز ہوگیا۔ ہماری خوشیاں دشمن کو کب راس آتی ہیں یا شاید عارضی خاموشی کے پیچھے چھپے ہوئے دہشت گردی کے طوفان کی شدت کا اندازہ کسی کو نہیں ہوسکا۔ بلوچستان میں دہشت گردی کی اِکا د±کا ہونے والی وارداتوں سے یہ احساس ہمیشہ اجاگر رہا کہ امن کے دشمن اس علاقے میں اپنے آپ کو محفوظ جانتے ہوئے اپنی قوت ایک بار پھر سے اکٹھی کررہے ہیں۔

واقعے سے زیادہ اگر واقعے کے محرکات پر غور کیا جائے تو دوست دشمن کی پہچان ہونا مشکل نہیں ہے۔ ملک میں آنے والے متوقع آبی بحران سے نمٹنے کے لیے چیف جسٹس سپریم کورٹ کی جانب سے کوششوں کے آغاز کے بعد دہشت گردی کے عفریت نے جھرنوں، پہاڑوں اور خوبصورت وادیوں سے مزین علاقے گلگت بلتستان کو دہشت زدہ کرنے کی کوششوں کا آغاز کردیا ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقے گلگت اور بلوچستان میں چاغی کے علاقے دالبندین میں 11 اگست کو رونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعات سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوا کہ پاکستان کے دشمن اب تک سرگرمِ عمل ہیں۔

حالیہ واقعات میں دہشت گردوں نے 3 اگست کو گلگت بلتستان کے علاقے دیامر اور ملحقہ علاقوں میں درجنوں اسکولوں کو نذرِ آتش کردیا جس میں زیادہ تعداد لڑکیوں کے اسکولوں کی تھی۔ پھر چند دنوں بعد گلگت کے کارگاہ نالہ کے قریب پولیس چوکی پر حملے میں دہشت گردوں نے تین پولیس اہلکار شہید اور دو زخمی کردیے۔ جس پر پولیس نے جوابی کاروائی کی اور اس میں کالعدم تنظیم کے کماندڑ خلیل الرحمان سمیت دو حملہ آور مارے گئے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق یہ افراد دیامر بھاشا ڈیم اور اس کے ملحقہ علاقوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کے لیے بھرپور منصوبہ بندی کررہے تھے۔

اسی روز بلوچستان کے ضلع چاغی میں سینڈک منصوبے کے ملازمین کی بس پر مبینہ خودکش حملے میں تین چینی انجینئروں سمیت چھ افراد زخمی بھی ہوگئے۔ ڈڈر کے مقام پر گاڑی میں سوار مبینہ خود کش حملہ آور نے سینڈک ملازمین کی بس کے قریب اس وقت دھماکہ کردیا جب وہ انہیں لے کر سینڈک سے دالبندین ایئرپورٹ جارہی تھی۔

گلگت بلتستان میں ہونے والی دہشت گردی اور بلوچستان میں چینی انجینئروں کو نقصان پہنچانے اور خوفزدہ کرنے کا مقصد واضح طور پر پاک چین اقتصادی منصوبے اور آبی ذخائر کی تعمیر کو ناکام بنانا ہے اور یہ دونوں اہداف ایسے ہیں جنہیں بھارت کی مودی حکومت اعلانیہ طور پر اپنے مقاصد میں شامل بتاتی رہی ہے۔ جبکہ پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر کے منصوبوں کو متنازعہ بنانے میں بھارت کا کردار کوئی راز نہیں ہے۔ یعنی انسان افغان کا اور مال ہندوستان کا پاکستان کے امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ دوسری جانب، بھارتی حکمران پاکستان کی نئی سیاسی قیادت کو مبارکباد کے پیغام تو بھیج رہی ہے اور خوشگوار باہمی تعلقات کے نئے دور کے آغاز کی خواہش کا اظہار بھی کیا جارہا ہے۔ جبکہ افغانستان کے اشرف غنی جو کبھی بھی اپنے وعدے کے دھنی نہیں رہے پرامن اور دوستانہ طرزِ ہمسائیگی پاکستان کے ساتھ استوار رکھنا چاہتے ہیں مگر پاکستان کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کے مترادف نہیں تو اور کیا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ پاکستان اور ہمسایہ ممالک کے درمیان سلامتی، استحکام اور خوشحالی کا واحد راستہ باہمی تنازعات کو نیک نیتی کے ساتھ حل کرنے میں ہے۔ ایک دوسرے کو غیر مستحکم کرنے کی روش مکمل طور پر ترک کرکے پورے خطے کی ترقی کی راہیں کشادہ کی جاسکتی ہیں۔ لیکن اس کے لیے قول اور عمل میں ہم آہنگی ضروری ہے۔ پاکستان کے نئے وزیراعظم کھلی بانہوں کے ساتھ دوستی کا قدم بڑھا چکے ہیں۔

کوئی شک نہیں پاکستان کا جھکاو¿ امریکہ سے ہٹ کر روس اور چین کی جانب بڑھ رہا ہے۔ لیکن ہمسایوں کی جانب سے لگائی گئی آگ کو ہمیں اپنی حکمت خارجہ اور زورِ بازو سے ہی قابو کرسکتے ہیں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ نئی آنے والی پاکستانی حکومت دہشت گردی کی عفریت سے نمٹنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کرتی ہے۔ امن دشمنوں کی تازہ کارروائیاں، پاکستان کے سیاسی قائدین اور تمام ریاستی اداروں کو متنبع کررہی ہیں کہ ملکی بقا اور سلامتی کے لیے باہمی تصادم اور کشیدگی کا خاتمہ فی الفور لازمی ہے۔

پاکستان کے سکیورٹی اداروں کو گلگت بلتستان اور بلوچستان میں وزیرستان اور سوات کی طرز کا سخت ایکشن درکار ہے تاکہ دہشت گردوں کے بیرونی پشت پناہوں کو بھی ملک خداد کی جانب سے یہ واضح پیغام پہنچ جائے کہ پاکستان اب تمہارا تختہ مشق نہیں رہا۔


ای پیپر