Czech Republic, Russian Embassy staff, blast case, ammunition depot explosion
18 اپریل 2021 (13:31) 2021-04-18

ماسکو: جمہوریہ چیک نے 18 روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔

انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق ان سفارت کاروں پر 2014 میں ہتھیاروں کے ایک گودام میں دھماکے میں‌ ملوث ہونے اور جاسوسی کا الزام عائد کیا گیا ہے ۔

چیک وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ چیک انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اس دھماکے میں روسی فوجی ایجنٹوں کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت فراہم کیے تھے ، جس میں دو افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔

روسی سفارتکاروں کو 48 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے ۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی صدر جو بائیڈن نے صدارتی انتخاب میں مداخلت اور وفاقی ایجنسیز کی ہیکنگ کے الزام میں روس پر نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے امریکا سے 10 سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے تھے ۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ان پابندیوں میں ماسکو کی رقم قرض لینے کی صلاحیت کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے اور اب امریکی مالیاتی اداروں کو روسی اداروں سے براہ راست بانڈز خریدنے سے بھی روک دیا گیا ہے ۔

انتظامیہ کی جانب سے کئی ہفتوں تک محیط یہ اقدامات ، ہیکنگ کے الزام میں کریملین کے خلاف پہلے مزاحمتی ردعمل کی نشاندہی کرتے ہیں ، جسے سولر ونڈز بریچ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ اس مداخلت کے حوالے سے مانا جاتا ہے کہ روسی ہیکرز نے وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والے سافٹ ویئر کو وائرس پر مبنی کوڈ سے متاثر کیا تھا جس کے نتیجے میں انہوں نے امریکی ایجنسیز کے نیٹ ورکس تک رسائی حاصل کی ۔


ای پیپر