Ata Sb, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
18 اپریل 2021 (11:21) 2021-04-18

وفاقی وزارت اطلاعات و نشریات کے منصب پر باردگر فائز ہونے کے بعد فواد چودھری صاحب نے جس سب سے اہم خبر سے قوم کو مطلع کیا ہے وہ یہ ہے کہ تحریک لبیک ختم ہو گئی ہے… سبب اس کا ایک یہ ہے کہ ان کی حکومت کی جانب سے اس تنظیم کو غیرقانونی اور کالعدم قرار دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جس کے حتمی نفاذ کے لئے سمری سپریم کورٹ کوبھیجی جا رہی ہے… دوسرا سبب غالباً یہ ہے اس مرتبہ اس تنظیم کی جانب سے برپا کردہ تمام تر ملک گیر احتجاج اور ایک مرتبہ پیشتر راستے اور سڑکیں بند کر کے رکھ دینے کے باوجود حکومت وقت کی چولیں ہلا کر رکھ دینے والی صورت حال نہیں پیدا ہوئی جس کی وجہ سے اس نے 2018 میں فیض آباد کا دھرنا منعقد کر کے ناصرف پورے ملک کے اندر خوف اور دہشت پیدا کر دی تھی بلکہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو اکھاڑ پھینکنے میں فوری مددگار بنی تھی… بالاتر قوتوں کے لئے من پسند سول حکومت لانے کی خاطر راہ ہموار ہوئی تھی… جہاں تک پہلے نکتے کا تعلق ہے کہ خلاف قانون یا کالعدم قرار دیئے جانے کی وجہ سے تحریک لبیک کی موت واقع ہو گئی ہے تو یہ بات اپنے آپ کو جھوٹی تسلی اور قوم کو دلاسہ یا جھانسہ دینے کے علاوہ کوئی حقیقت نہیں رکھتی… تحریک لبیک پہلی دہشت گرد یا آج کے حکمرانوں کے پیرایہ اظہار میں فساد برپا کرنے والی جماعت نہیں جو اس انجام سے دوچار ہوئی ہے… اس سے قبل 79 یا اس سے زیادہ تنظیمیں ایسی وجود میں آئیں جنہیں ہمارے ملک پر کارفرما قوتوں نے اپنے دست غیبی کے ذریعے وجود بخشا یا پروان چڑھنے میں مدد دی… انہیں مطلوبہ مقاصد کے لئے استعمال کیا گیا… پس پردہ رہ کر خوب حوصلہ افزائی کی گئی… وسائل بلکہ نقد امداد سے بھی مالا مال کیا… کھوکھلے اور دلفریب نعروں کو مقبول بنا کر چندے جمع کرنے کی بھی کھلی چھٹی دی گئی… ان تنظیموں کی قیادت کے ذریعے اسٹیبلشمنٹ کی نامطلوب اور زیادہ تر آئین دوست و جمہوریت پسند جماعتوں اور قائدین کو زخموں سے چور چور کر کے رکھ دینے کی ہرممکن تدبیر اختیار کی گئی… انہیں انتخابی میدان میں لا کر مین سٹریم جماعتوں کے ووٹ تقسیم کرنے کی بھرپور سعی کی گئی… انہوں نے اپنے اپنے طریق سے دہشت گردی کے کمالات فن دکھائے… جب اہداف حاصل ہو گئے تو انہیں دھکیل کر پیچھے پھینک دیا گیا… یہ کالعدم ہو گئیں لیکن پھر جب چاہا نام بد کر سامنے آنے یا سو کر دوبارہ اٹھ جانے میں مدد فراہم کی گئی… یہ غیرقانونی قرار دیے جانے کے باوجود بالاتر قوتوں کا اثاثہ بنی رہیں… ان کے ساتھ نہ نظر آنے والے روابط اکثروپیشتر قائم رہے… یہ بھی ہر حالت میں اور حسب ضرورت اپنی خدمات پیش کرنے کی خاطر حاضر سروس رہیں… نام ان سب کے گنوانے کی اس لئے ضرورت نہیں کہ اہل وطن کو ازبر ہو چکے ہیں… جہاں اور جس طرح انہوں نے فساد مچایا لوگوں کو سب یاد ہے… اس لئے کہ دور کی بات نہیں بلکہ ہماری قریب کی بلکہ جاری تاریخ کا سیاہ ترین باب ہیں… تحریک لبیک ان میں تازہ ترین اضافہ ہے کہ 2016 میں اس نے جنم لیا… 2018 میں ختم نبوت کے مقدس ترین عقیدے کی آڑ لے کر وہ کچھ کر دکھایا جو ہمارے یہاں کی بالاتر قوتوں کو منظور تھا… جمہوری عمل کو کاری ضرب لگائی… آئین کی شقوں کو پامال کیا… جذباتی تقریروں کے ذریعے مسلمانان پاکستان کی معتد بہ تعداد کے جذبات کو بھڑکایا گیا… املاک لوٹی گئیں… جانیں ضائع کی گئیں… اہل ایمان میں سے ان لوگوں کو جنہیں ذلیل و رسوا کر کے رکھ دینا خاکی حاکموں کو مطلوب تھا کافر اور مرتد بلکہ گردن زدنی ٹھہرایا گیا… اہداف پورے ہو گئے تو ان سے توقع تھی 

گھر بیٹھ جائیں گے ان کا خون مگر گرم تھا… لہٰذا فرانسیسی سفیر کو نکال بھیجنے کے معاہدے کی حکومت سے تکمیل کرانے کا مطالبہ لے کر دوبارہ سڑکوں پر آ نکلے… مگر اب حکومت ان کے سرپرستوں کی اپنی لائی ہوئی ہے اسے کبھی کبھار جھنجھوڑ کر تو رکھا جا سکتا ہے اکھاڑ پھینکنا مقصود نہیں لہٰذا تھوڑا بہت ہنگامہ برپا کرنے کی مہلت دے کر تحریک لبیک کو بھی کالعدم کرنے کے پردے میں اس وقت تک چھٹی پر چلے جانے کے لئے کہا گیا جب تک دوبارہ ضرورت نہ پڑ جائے… پھر بلوا لیا جائے گا… موجودہ شکل یا نام بدل کر دوبارہ ڈیوٹی سنبھال سکتی ہے…یہ سب کچھ بالادستوں کی سٹرٹیجی کا حصہ ہے…

2018 کے برعکس اس مرتبہ جلد ٹھس ہو جانے کا دوسرا سبب یہ ہے تحریک کے اصل قائد اور شعلہ بیان مقرر خادم حسین رضوی صاحب اس دنیا سے چلے گئے ہیں… فرانسیسی سفیر کو پاکستان سے نکال دینے کا وعدہ موجودہ حکومت نے ان ہی کے ساتھ کیا تھا… موصوف نے چند روز بعد آخری سانس لیا… غیرمعمولی طور پر بڑا جنازہ ہو ا جو ایک خاص لیکن بڑے مذہبی طبقے میں ان کی جذباتی تقریروں اورنعروں کی مقبولیت کی دلیل تھا… زندگی کے آخری تین برسوں میں ان کی شخصیت دیکھتے ہی دیکھتے کرشماتی روپ اختیار کر چکی تھی لہٰذا ایک اشارے پر بڑے مجمعے کو اکٹھا اور اس کے اندر جذبات کا تلاطم پیدا کر کے متحرک کر دینا خادم رضوی صاحب کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا ان کے اچانک انتقال کے بعد بیٹے نے باپ کی گدّی سنبھالی تو وراثت میں بلاشبہ عوامی مذہبی جذبات کا خزانہ آ گیا… فوری طور پر والد کے خلا کو پُر کرتے ہوئے عقیدت مندوں کی وابستگی کا محور تو بن گئے لیکن مولوی مدن کی سی بات نہ بنی… بیٹا حافظ قرآن نہیں… خطابت کا جوہر پایا جاتا ہے لیکن علم و ذوق شعر و ادب سے محروم ہے… شخصیت کے بارے میں ناگفتنی باتیں بھی سننے کو آ رہی ہیں… ان ’’اوصاف‘‘ سے مالا مال ہو کر تحریک کی قیادت کرتے ہوئے اب جو سڑکوں پر آ نکلے ہیں تو ابتدائی کامیابی کے باوجود والد کے عہد والا تہلکہ نہیں مچا سکے… ریاستی اداروں کی مدد بھی حاصل نہ تھی… مقتدر اداروں کی وہ نمائندہ شخصیت جس نے اعلیٰ ریاستی حلقوں کے ساتھ فیض آباد کا دھرنا ختم کرنے کا باقاعدہ تحریری معاہدہ کر کے خادم حسین رضوی صاحب کے پیروکاروں کو باقاعدہ تھپکی دے کر گھر واپس جانے کے لئے نوٹ تقسیم کئے تھے اور اب اعلیٰ تر اور فیصلہ کن عہدے پر فائز ہو چکے ہیں… تاہم پہلے کی مانند شفقت بھرا ہاتھ رکھنے کے لئے تیار نہیں… الٹا حکومت کے ساتھ اداروں کی جانب سے بھی انہیں انتشار پھیلانے والے اور فسادی عناصر قرار دیا جا رہا ہے… موجودہ سربراہ سمیت کئی ایک قائدین کو جیلوں میں پھینک دیا گیا ہے… جیبیں بھرنے اور تھپکی دینے کی بجائے سخت ترین سزائوں کی تنبیہ کی گئی ہے … لہٰذا ان تمام عوامل نے مل کر موجودہ وزیر داخلہ شیخ رشید کو شکر ادا کرنے کا موقع مل گیا ہے کہ ہماری حکومت نے وہ کام کر دکھایا ہے جو پچھلی سے نہیں ہو سکا… خادم حسین رضوی صاحب پاکستان کے آئینی و جمہوری عمل پر فالج کا حملہ ثابت ہوئے تھے… اس نظم حکومت کی جگہ ایک لولا لنگڑا سول نظام لانے میں اس سرزمین کی اصل حاکم قوتوں کے لئے مددگار ثابت ہوئے… بیٹے کے اندر نہ باپ کی سی صلاحیت ہے نہ بالاتر قوتوں کو نئے خادم حسین رضوی کی چنداں ضرورت خواہ اس کا بیٹا ہی کیوں نہ ہو اس لئے فواد چودھری اور شیخ رشید جیسے دونوں اہم وفاقی وزراء اپنی اپنی جگہ مطمئن ہیں… ایک کے نزدیک تحریک لبیک ختم ہو کر رہ گئی ہے یا آخری سانسیں لینے پر مجبور ہے اور دوسرے کو خوشی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے برعکس تحریک انصاف کی حکمرانی کے لئے زیادہ بڑا چیلنج نہیں بن پائی…

تاہم اصل حکمرانوں کے لئے اس کی حتمی موت واقع نہیں ہوئی…ماقبل کی دہشت گرد تنظیموں کی مانند اس کے جسد خاکی کو جس کے اندر جان کی رمق باقی ہے سپردخاک کرنے کی بجائے سردخانے میں رکھ دیا جائے گا … جس دن جب اور جس طرح دوبارہ ضرورت پڑی اس میں نئی جان ڈال کر اور نئے پیراہن سے آراستہ کر کے تازہ دم گھوڑے کی مانند میدان میں لا کر کھڑا کیا جا سکتا ہے… لہٰذا چند جہاندیدہ مبصرین کا یہ جو کہنا ہے کہ ریاستی ادارے اپنے ہی پیداکردہ تضادات میں الجھے ہوئے ہیں زیادہ درست معلوم نہیں ہوتا… یہ الجھائو صرف ہمیں نظر آ رہا ہے… آنکھوں کا دھوکا صرف ہمارے لئے پیدا کیا گیا ہے… جنہوں نے ایسی تنظیموں کو فروغ پانے میں مدد دی… خواہ شدت پسند مذہبی ہوں، انتہا درجے کی فرقہ وارانہ اور دوسری جانب انتہا درجے کی لسانیت زدہ بھتہ خور اور سڑکوں کو انسانی خون سے لت پت کر دینے والی علاقائی جماعتیں یہ سب کی سب کالعدم ہوں یا متحرک ان کے محفوظ خزانے کا درجہ رکھتی ہیں جنہیں کسی بھی ضرورت کے موقع پہ حسب منشا استعمال کیا جا سکتا ہے… آئین ان تنظیموں کے سامنے فرسودہ اوراق سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا اور پاکستان میں حقیقی جمہوریت کے تصوراتی محل کو حقیقی وجود میں آنے سے پہلے ہی اُڑا کر رکھ دینے میں یدِطولیٰ رکھتی ہیں… آئین مخالف قوتوں کے لئے ان سے زیادہ مفید اثاثہ کیا ہو سکتا ہے خواہ کالعدم قرار دی جائیں یا نا… ان کے لیڈروں کو وقتی طور پر سزائوں کا مستوجب قرار دیا جائے یا گھروں میں نظربند کر دے تھوڑے روز آرام سے زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا جائے… یہ نگاہِ آئینہ ساز میں عزیز تر ہی رہتی ہیں…


ای پیپر