Amira Ehsan, column writer, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
18 اپریل 2021 (11:16) 2021-04-18

گیارہ ماہ نفس اور شیاطین جن و انس کے خلاف نبردآزما مومن ، تھکا ہارا، پیاسا سفر کرتا، شعبان تک پہنچتا ہے تو آسمان پر آثارِ رحمت کی تلاش میں نظریں جما دیتا ہے ۔اللھمَّ بلِّغنا رمضان! اللہ رمضان کے نخلستان میں پہنچادے ۔ہلالِ رمضان رحمت ، مغفرت اور نجات کی نوید بن کر طلوع ہوتا ہے۔عنایاتِ ربِ تعالیٰ سمیٹنے کے لیے اپنی تنگ دامانی کی فکر لگ جاتی ہے۔وہ تو مائل بہ کرم ہے ! اللہ تعالیٰ رمضان کے لمحے لمحے سے فیض یاب ہونے کے  لیے ہمیں کشادگی عطا فرمائے ۔لاقوۃ الاباللہ!

رمضان اس کیفیت میں آرہا ہے کہ مسلم دنیا سیکولر ازم کے ہیضے میں مبتلا ہے ۔سالہا سال مسلط رہنے والی روشن خیالی نے معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔پہلے تو صرف’’ سیکولر ‘‘ہی سیکولر ہوا کرتے تھے اب بکثرت اسلامی سیکولر اگنا شروع ہوگئے ہیں۔جو عملی زندگی کے ہر شعبے میں اسلام کے انطباق پر جھلا اٹھتے ہیں۔مثلاً نظامِ تعلیم کو اف نہ کہو۔ چپ چاپ اولادو ں کو او لیول ، اے لیول کراتے جائو۔خواہ دورانِ تعلیم مکمل بے خدا دنیا کی تعلیم ان کے رگ و پے میں اتار دی جائے ۔صرف ایک نمونہ ملاحظہ ہو۔استانی بچو ں کو ایک موضوع دے کر اس پر مضمون لکھنے کو کہتی ہے ۔شرط یہ عائد کرتی ہے کہ آپ کو دو گھنٹے کے لیے یہ فرض کرنا ہے کہ’’خدا نہیں ہے ‘‘۔(یہ دو گھنٹے کی مشق کام یاب ہوگئی تو دورانیہ بڑھتے بڑھتے 24 گھنٹوں پر محیط ہوجائے گا!)۔ اقبالؔ اول تو نصاب سے نکل گیا۔تاہم اگر ہے تو اس کا تیا پانچہ یوں کردیا کہ  ’’ کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آلباسِ مجاز میں !‘‘ کی تشریح کرتے ہوئے’’حقیقتِ منتظر‘‘ عشقِ مجازی ہوگیااور اقبالؔ کو کسی حرافہ کا منتظر قرار دے دیا گیا!طالبہ کے احتجاج پر ڈپٹ دیا گیا کہ اب یہی پڑھانے کا حکم ہے!یہ محض دیگ کا ایک دانہ ہے۔ڈگری، نوکری مل جائے، مال مل جائے ،پلاٹ گاڑی مل جائے ،کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے ،آخرت بنے مگر دنیا کی قیمت پر نہیں!

رمضان میں شاید افاقہ ہوجائے کہ مومنانہ بصیرت قرآن کے ذریعے ارزاں ہوجاتی ہے۔آنکھوں سے قرآن پڑھا اور راتوں کو کانوں سے سنا جاتا ہے ۔لہٰذا وہ بنیادی سبق تازہ کیے لیتے ہیں جو عہدِ بندگی استوار کرنے اور اس کے عملی تقاضوں کا ہے۔سورۃ توبہ اس دنیا میں ہماری زندگی کی حقیقت اور اللہ کے ساتھ ہمارے عہد؍حلف کوآیت ۱۱۱ میں بیان کرتی ہے :

(ترجمہ) ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے اور مرتے ہیں ان سے (جنت کا وعدہ) اللہ کے ذمے ایک پختہ وعدہ ہے توراۃ اور انجیل اور قرآن میں اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کا پورا کرنے والا ہو؟ پس خوشیاں مناؤ اپنے اس سودے پر جو تم نے خدا سے چکا لیا ہے، یہی سب سے بڑی کامیابی ہے‘‘۔

رمضان اس عہد کو تازہ کرنے ، اس کی آب یاری کرنے کا مہینہ ہے ۔گیارہ ماہ میں پڑجانے والی خواہشاتِ نفس کی دھول ، پر فریب آرزوئوں، امنگوں کے زنگ دور کرنے کا مہینہ ہے۔خود پسندی، غفلت کے قفل کھولنے کا مہینہ ہے ۔قرآن اللہ کے احکام ، اوامر و نواہی تازہ کرے گا۔ہمیں ہماری بھاری بھرکم ذمے داریوں کی یاددہانیاں کروائے گا۔کرونا کی آڑ میںمساجد پر پابندیاں ،اعتکاف کی بندش کی خبر پریشان کن ہے ۔ یادش بخیرحبیب بورقیبہ نے تیونس میں ایسے ہی ایک رمضان میں ٹیلی ویژن پر بھرے دن میں قوم کے سامنے آکریہی اعلان کیا تھااورروزے کو قوم کی معاشی ترقی کے لیے نقصان دہ قرار دیا تھا اور پھرڈٹ کر ’’روزہ‘‘ ّ(اگر تھاتو) توڑ کر دکھایا تھا۔تیونس کی ترقی تو حبیب بورقیبہ جیسوں کے بینک اکائونٹ اور محلات کی ترقی تھی ۔یہ تو جملۂ معترضہ تھا جو درمیان میں دکھی دل سے آن ٹپکا۔یہ آیات عہدِ بندگی کی یاد دہانی کراتی ہیں ۔یہ عہد اللہ کے ہاتھ اپنا آپ (جان ، مال ، قوتیں ،صلاحیتیں ، اوقات)بیچ کر جنت پکی کروانے کا عہد ہے ۔ یہ جنت کا سودا ہے ۔ رمضان (Stock Taking)احتساب کا بھی مہینہ ہے ۔مغفرت و نجات تو ایمان و احتساب والے روزوں سے نتھی ہے ۔کیا میں نے اللہ کا روبوٹ ؍غلام بن کر زندگی کا گزشتہ سال گزارا؟اور آئندہ مہلت بھی اسی طرح گزارنے کا عہد ہے ؟میری مرضی ، میری چاہتیں ، سب اللہ کی رضا کے تابع ہوجائیں۔مرضیٔ مولیٰ از ہمہ اولیٰ ۔ دنیا میں اللہ کی پسندو ناپسند کی نمائندگی مسلمان کرتا ہے۔قرآن کے نصاب سے گزار کر اسے اس نمائندگی کے لیے ہر سال رمضان میں ازسرِ نو اسباق پکے کرائے جاتے ہیں۔ قرآن ہمہ گیر رہ نمائی دیتا ہے۔سورۃ فاتحہ میں دوٹوک دعاکرواتا ہے ۔ ’’انعام یافتہ لوگوں کا راستہ عطا فرما اور مغضوب (یہودی) ، ضالین(عیسائی) کا راستہ نہیں‘‘ ۔بقرۃ سے اسباق شروع ہوجاتے ہیں ۔سود کی ممانعت کے احکام کے ساتھ یہودیوں کی (کلمے سے ) بدعہدی کی تمام داستانیں سناتا ہے۔اللہ کی طرف سے مذموم و مقہور ہو کر ان کا رہ جانا۔جہاد سے جی چرانا ،اپنے ہی لوگوں کو گھروں سے بے گھر کرنا۔اس کے عوض پیسہ بٹورنا،بتاتا ہے۔آلِ عمران میں غزوہ ٔ احد پر تبصرہ ۔النسائمیں منافقین پر نکیر، ان کی پہچان ۔انجام بتایا گیا۔جہاد کا سبق یہاں بھی دیگر معاشرتی احکام کے ساتھ ساتھ موجود ہے ۔المائدہ میں یہودیوں ، عیسائیوں ، کی دوستی رفاقت سے (آلِ عمران کے بعد) دوبارہ منع فرمایا۔شریعت قائم کرنے پر بھرپور رزق کا وعدہ فرماتا ہے۔بنی اسرائیل پر لعنت کی وجوہ بیان فرماتا ہے۔یعنی ا للہ کے نازل کرد ہ قانون سے پہلوتہی کا جرم ۔سرکشی ، نافرمانی ، ایک دوسرے کو برے اعمال سے نہ روکنااور اہلِ ایمان کی بجائے کفار کی حمایت اور رفاقت اختیار کرنا۔سورۃ الانعام توحید کے تمام اسباق پکے کرواتی ہے۔موت کے وقت کا واضح نقشہ بیان ہوا جو لرزہ خیز ہے ۔جمہوریت کا رد’’اگر تم 

لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلو تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے ‘‘ کی تفصیل آیت 116 میں موجود ہے ۔سورۃ اعراف آخرت کے نقشے ، انبیاء کے قصائص ، حیا اور لباس بیان کرتی ہے۔اہم ترین یاد دہانی کہ مخلوق اللہ کی ہے اس پر حکم خالق ہی کا چلے گا بہ صراحت موجود ہے۔سورۃ الانفال غزوہ بدر کو بیان کرتی ہے۔قاری حضرات جس کی تلاوت بعد از نزول، جہاد کی صفوف میں کرتے رہے۔اس پر لپک کر مجاہدین نے لیلائے شہاد ت کے حصول کے لیے سرکٹائے۔جو کفار و منافقین پربھاری رہی۔ نصابوں سے نکالی گئی۔سورۃ توبۃ کفر کے خلاف شمشیرِ برہنہ اور منافقین کی مکمل پہچان دیتی ہے ۔یہ تو صرف ایک تہائی قرآن کامختصرترین خلاصہ ہے۔اندازہ کیجیے آیت در آیت پڑھتے سنتے ، پورا رمضان کس طرح بندۂ مومن کو نصاب کی مکمل دہرائی کرواتا ، کرن کرن نورِ ایمانی اندر اتارتا اور تاریکیاں چھانٹ کر رکھ دیتا ہے۔قد تبیّن الرشد من الغی۔ دنیا کی پھیلائی گم راہیاں ، دور کرکے ہدایت کو بین ، واضح کر دیتا ہے۔اگر ٹی وی والا 

شیطان بھی بند رہے تو دونوں (ابلیسِ اکبر و اصغر)کی عدم موجودی میں حق کے اسباق پکے کرنے کی یہ نادر ترین مہلت ہے۔بالخصوص قرآن میں مذکور یہود ی رویوں پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔آج کا مسلمان عین ان ہی گم راہیوں میں مبتلا ہے۔کفر، فسق، شرک، نفاق، نام بد ل کر ہمارے اندر سرایت کررہا ہے سیکولر ازم کے بظاہر بے ضرر نام سے ۔یہاںسالِ گزشتہ کی ماننداس مرتبہ بھی ترکی ڈرامے کا(ایمان آزمانے کو)حکومتی تحفہ پیش کیا جا رہا ہے۔سینیٹر فیصل جاوید کے اعلان کے مطابق۔ آنکھ کان میں دوا ڈالنے بارے فتوی ٰ طلب یہ سوال نہیں پوچھتے کہ آنکھ میں حسیناوَںکا حسن اور کان میں سریلی آواز ڈالنے سے روزے پر کیا گزرتی ہے!کرونا چھپٹے نہ تو کیاہو۔کالی سکرینوںسے لطف اندوزیاںرمضان کی مبارک گھڑیاں اور قیمتی راتیں نگل جاتی ہیں۔      

 رحمان اور شیطان ، حق و باطل کے مابین اس معرکے میں ایک بات توجہ طلب ہے۔رحمان کے نظام میں زندگی کے ہر معاملے میں شور شرابا نہیں۔گھن گرج نہیں۔دکھاوا، واویلا نہیں۔نرم رو،خاموش، پرسکون، عافیت بخش راحت ہے جو اندر تک اتر جاتی ہے۔غم دھو دیتی ہے۔حزن و ملال دور کردیتی ہے ۔حتیٰ کہ مغفرت اور نجات کے عشرے میں خاموش، چپکے چپکے بہتے آنسو، پیچھے سکون اور ٹھنڈک چھوڑ جاتے ہیں۔دوسری جانب(شیطان کے گھر میں) بلند آہنگ (کھوکھلے) قہقہوں کے پیچھے سسکتی ، بلکتی تشنہ روح ہے ۔بظاہر بڑی Thrillہے ۔ہنگامہ بھری خوشیاں ہیں ۔مثلاً شادی بیاہ، شوشا، رعب داب، پانی کی طرح بہتا پیسہ ، بلند آہنگ موسیقی ، سیریں ، دعوتیں ،گلدستے ، ویڈیو، تصاویر،بعد از آں لڑائیاں ، جھگڑے ، شادی سے پہلے محبت کے بے پایاں مظاہر (جب تک رشتہ شرعی حدود سے باہر تھا)۔ شادی کے بعد ہنگامہ ، فساد، تو تو میں میں ،جب کہ دوسری جانب کم خرچ بالا نشین ، مہذب ، شائستہ ، سادہ ، پرسکون ۔یہی فرق رمضان کی پرسکون ، راحت بخش ساعتوں میں ہر بنِ مو میں اترتی رحمت کا ہے۔سجدے میں آزادی و خود مختاری سے دست بردار ہوکر رب تعالیٰ کی بندگی کے اظہار کا ہے ۔(پسِ پیشانی) دماغ کا یہ حصہ (Frontal Lobe)انسان کی آزاد مرضی (Free Will)کا مرکز ہے ۔جسے ہم ان اللہ اشتریٰ کے عہد میں اللہ کے ہاتھ بیچ دیتے ہیں۔اس سودے او رسجود ہی میں تمام خوشیوں کا ارتکاز ہے ۔دنیا میں طمانیت ، آخرت میں عیشِ دوام ! اللہ ہمیں یہ سب عطا فرمادے ۔اپنے عہد میں سچائی۔ اللہ کے وعدے تک رسائی!


ای پیپر